یمن اور شام اور اویس قرنی کے ذکر کا باب

Mishkaat-al-Masabih · Chapter 199 · 33 hadiths · Page 2 of 2

6321Mishkaat-al-Masabih

بعد کے زمانہ کے اہل ایمان کی فضیلت

وعن أبي هريرة أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : إن من أشد أمتي لي حبا ناسا يكونون بعدي يود أحدهم لو رآني بأهله وماله . رواه مسلم

اور حضرت ابوہریرہ ؓ راوی ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا حقیقت تو یہ ہے کہ میری امت میں مجھ سے نہایت شدید اور نہایت اچھی محبت رکھنے والے وہ لوگ ہیں جو میری وفات کے بعد پیدا ہوں گے ان میں کوئی تو یہ آ رزو کرے گا کہ کاش وہ مجھ کو دیکھ لے اپنے اہل و عیال اور اپنا مال وا ثاثہ سب کچھ مجھ پر قربان کر دے۔ (مسلم) تشریح یعنی میرے تئیں شدت محبت اس کو اس آرزو میں مبتلا رکھے گی کہ اگر میری زیارت اور میرے دیدار کا موقع اس کو نصیب ہوجائے تو وہ مجھ تک پہنچے اور اپنے اہل و عیال، اپنا گھر بار اپنا مال و اثاثہ سب کچھ مجھ پر فدا کر دے، واضح ہو کہ اس حدیث سے اور اس جیسی دوسری حدیثوں سے بظاہر یہ مفہوم نکلتا ہے کہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے بعد ہوسکتا ہے کہ بعضے لوگ ایسے اس امت میں پیدا ہوں جو فضیلت میں صحابہ کرام کے برابر ہوں یا ان سے بھی افضل ہوں چناچہ محدثین میں کی ایک مشہور شخصیت علام ابن عبد البر کا رجحان اسی طرف ہے انہوں نے اسی طرح کی حدیث سے استدلال کیا ہے۔ اس کا ذکر شیخ ابن حجر مکی (رح) کی صواعق محرقہ میں موجود ہے، لیکن جمہور علماء کا اجماع و اتفاق اسی پر ہے کہ امت کے افضل ترین افراد صحابہ کرام ہی ہیں کوئی بھی غیر صحابی خواہ دین و شریعت علم و معرفت، ولایت و بزرگی اور تقوی و تقدس میں کتنا ہی اونچا مقام رکھتا ہو، صحابی کی منزل اور اس کے مقام کو نہیں پہنچ سکتا، ان جمہور علماء نے ان احادیث کے بارے میں کہ جن سے ابن عبد البر نے استدلال کیا ہے کہا ہے کہ ان احادیث کے ذریعہ زیادہ سے زیادہ جو بات ثابت کی جاسکتی ہے وہ کسی غیر صحابی کی کسی ایک گوشہ سے جزوی فضیلت ہے لیکن جہاں تک کلی فضیلت کا تعلق ہے، کہ جو کثرت ثواب سے عبارت ہے تو وہ صرف صحابہ کے لئے ہے۔ ان علماء نے یہ بھی کہا ہے کہ اس گفتگو میں صحابہ سے مراد وہ خاص الخاص صحابہ ہیں جن کو آنحضرت ﷺ کی صحبت ومعیت میں طویل عرصہ تک رہنے کا شرف نصیب ہوا ہو، جنہوں نے آنحضرت ﷺ سے بہت زیادہ اکتساب علم وفیض کیا ہو اور جو آنحضور ﷺ کے ساتھ غزوات میں شریک ہوئے ہوں، رہے وہ عام العوام صحابہ جن کو ایک آ دھ ہی مرتبہ زیارت نبوی ﷺ کا موقع ملا ہو اور بعض تو ایسے بھی ہیں جن کو پوری عمر میں بس ایک ہی مر تبہ چہرہ اقدس کا دیدار نصیب ہوا تو ان کا مسئلہ محل توقف وتردد اور محل نظر ہے، لیکن حق یہ کہ آنحضرت ﷺ کی صحابیت کا وہ شرف و فضل جو کسی بھی صحابی کو کسی بھی غیر صحابی سے افضل و برتر مقام عطا کرتا ہے، ہر صحابی کو حاصل ہے، اگرچہ کسی صحابی کو صرف ایک ہی بار آنحضرت ﷺ کے چہرہ اقدس کے دیدار کا موقع ملا ہو اور اس فضل وشرف میں تو کوئی بھی کسی صحابی کا ہمسر و شریک نہیں ہوسکتا، ہا علمی وعملی فضیلت میں گفتگو کا دائرہ وسیع ہوسکتا ہے لیکن اس جہت سے بھی زیادہ بحث کی بجائے یہی کہنا اولی ہے کہ صحابہ پوری امت میں علی الا طلاق افضل و اشرف ہیں۔

6322Mishkaat-al-Masabih

یہ امت اللہ کے سچے دین پر قائم رہنے والوں سے کبھی خالی نہیں رہے گی

وعن معاوية قال : سمعت النبي صلى الله عليه و سلم يقول : لا يزال من أمتي أمة قائمة بأمر الله لا يضرهم من خذلهم ولا من خالفهم حتى يأتي أمر الله وهم على ذلك . متفق عليه وذكر حديث أنس إن من عباد الله في كتاب القصاص

اور حضرت معاویہ ؓ کہتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا میری امت میں ہمیشہ ایک گروہ ایسا رہے گا جو اللہ کے حکم پر قائم ہوگا، اس گروہ (کے دینی وجماعتی نظم اور معاملات کو) نہ وہ شخص نقصان پہنچا سکے گا جو اس کی تائید واعانت ترک کرچکا ہو اور نہ وہ شخص ضرر پہنچائے گا جو ( موافقت کی بجائے) اس کی مخالفت پر کمر بستہ ہوگیا ہو یہاں تک کہ اللہ کا حکم آن پہنچے گا اور وہ اپنے اسی راستہ پر یعنی احکام الٰہی اطاعت اور دین کی خدمت واعانت پر قائم ہوں گے۔ (بخاری ومسلم) اور حضرت انس ؓ کی روایت کردہ حدیث ان من عباد اللہ لو اقسم علی اللہ لابرہ کتاب القصاص میں نقل کی جاچکی ہے۔ تشریح اللہ کے حکم پر قائم ہوگا۔۔۔ یعنی اس گروہ کی اعتقادی اور عملی زندگی پوری عمارت ودینی فرائض اور شرعی احکام پر استوار ہوگی جو کتاب اللہ کو یاد کرنے حدیث کا علم حاصل کرنے کتاب سنت سے استباط کرنے، فی سبیل اللہ جہاد کرنے مخلوق اللہ کی خیر خواہی میں لگے رہنے اور جتنے فرض کفایہ ہیں سب کے تئیں اپنی ذمہ داری نبھا نے سے عبارت ہے اور جس کی طرف اللہ تعالیٰ کا ارشاد اشارہ کرتا ہے ولتکن منکم امۃ ید عون الی الخیر و یا مرون بلمعروف وینھون عن المنکر۔ اور تم میں ( ہمیشہ) ایک جماعت ایسی ہونا ضروری ہے جو ( دوسروں کو بھی) خیر کی طرف بلا یا کریں اور نیک کاموں کے کرنے کو کہا کریں اور برے کاموں سے روکا کریں۔ بہرحال اس حدیث سے وا ضح ہوا کہ روئے زمین ایسے صلحا اور پاکیزہ نفس لوگوں سے کبھی خالی نہیں رہے گی جو احکام خداوندی کی پیروی میں ثابت قدم رہتے ہیں، اللہ تعالیٰ نے جن چیزوں سے منع کیا ہے ان سے دور رہتے ہیں، دین و شریعت پر ہر حالت میں عمل کرتے ہیں اور بہر صورت اسلام کی بقاء وسر بلندی کے لئے سر گرم رہتے ہیں، خواہ مدد و اعانت کرنے والے ان کی مدد و اعانت کریں یا مخالفت پر کمربستہ لوگ ان کی مخالفت و برائی کریں۔ حتی یاتی امر اللہ (یہاں تک کہ اللہ کا حکم آن پہنچے گا) میں (امر اللہ) اللہ کے حکم) سے موت اور انقضائے عہد مراد ہے تاہم شارح نے اس سے قیامت مراد لی ہے لیکن اس قول پر اس حدیث کی رو شنی میں یہ اشکال واقع ہوتا ہے جس میں فرمایا گیا ہے لا تقوم الساعۃ حتی لا یکون فی الا رض من یقول اللہ (روئے زمین پر جب تک ایک بھی اللہ کا نام لیوا موجود رہے گا قیامت نہیں آئے گی) اسی طرح قائمۃ بامر اللہ ( اللہ کے حکم پر قائم ہوگا) کے معنی ایک شارح نے اللہ کے دین پر سختی سے عمل کرنا لکھے ہیں، نیز بعض حضرات نے لکھا ہے کہ حدیث میں مذکورہ گروہ سے مراد اہل علم کی وہ جماعت ہے جو ہر زمانہ میں حدیث کی تعلیم اور دینی علوم کی تدریس وا شاعت کے ذریعہ سنت کی ترویج اور دین کی تجدید و تبلیغ کا فریضہ سر انجام دیتی رہے گی اور ایک شارح کہتے ہیں گروہ سے مراد وہ لوگ ہیں جو ہمیشہ اور ہر حالت میں اسلام پر قائم رہیں گے۔ ایک اور شارح لکھتے ہیں، ہوسکتا ہے اس حدیث کا مطلب یہ ہو کہ روئے زمین سے اہل اسلام کی شوکت و عظمت کبھی فنا نہیں ہوگی۔ اگر روئے زمین کے کسی علا قہ اور کسی خطہ میں اسلام اور مسلمانوں کو ضعف واضمحلال لاحق ہوگا تو کسی دوسرے علاقہ اور خطہ میں اسلام کا بول بالا اور مسلمانوں کو شوکت و عظمت حاصل رہے گی جو اعلاء کلمۃ اللہ اور اسلام کا پرچم سر بلند کرنے میں مستعدی سے لگے ہوں گے اور اکثر اقوال کا خلاصہ یہ کہ گروہ سے مراد غازیان اسلام کی جماعت ہے جس کا کام دشمنان دین اسلام سے جہاد کر کے دین کو مضبوط و سر بلند کرنا ہے اور پھر یہی جماعت آخر زمانہ میں اسلامی سرحدوں کی حفا ظت و نگہبانی کرے گی، بعض روایتوں میں وھم بالشام کے الفاظ بھی آئے ہیں یعنی اس گروہ کا مستقر ملک شام ہوگا اور بعض روایتوں میں یہ الفاظ بھی ہیں حتی یقاتل اخر ھم مسیح الدجال ( یہاں تک کہ اس گروہ کے آخری افراد جال کو قتل کریں گے) گو یا یہ روایتیں اس بات پر دلالت کرتی ہیں کہ گروہ سے مراد غازیان اسلام ہی کی جماعت ہے لیکن حدیث کے ظاہری مفہوم سے جو بات ثابت ہوتی ہے وہ یہی ہے کہ عمومی طور پر ہر وہ جماعت اور ہر وہ طبقہ مراد ہے جو اللہ کے سچے دین پر قائم ہو اور اللہ دین کی خدمت و اشاعت میں اور اسلام کی سر بلندی کے لئے کسی بھی صورت سے مصروف عمل ہو۔

6323Mishkaat-al-Masabih

امت محمدی ﷺ کی مثال

عن أنس قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : مثل أمتي مثل المطر لا يدرى أوله خير أم آخره . رواه الترمذي

حضرت انس ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا میری امت کا حال بارش کے حال کی طرح ہے جس کے بارے میں معلوم نہیں ہوتا کہ اس کا اول بہتر یا اس کا آخر بہتر ہے۔ (ترمذی) تشریح بارش کی مثال کے ذریعہ آنحضرت ﷺ نے اپنی امت کا ذکر جس انداز میں کیا اس سے بظاہر تو شک وتردد اور عدم یقین اس میں سمجھا جاتا ہے کہ معلوم نہیں کہ اس امت کے پہلے لوگ بہتر تھے یا بعد کے لوگ بہتر ہیں، لیکن حقیقت میں حدیث سے یہ مفہوم مراد نہیں ہے بلکہ بارش کی مثال کے ذریعہ اس طرف اشارہ کرنا مقصود ہے کہ پوری امت اچھی ہے جیسا کہ سوکھے اور خشک موسم میں جب باران رحمت نازل ہوتی ہے تو وہ پوری بارش ہی اچھی اور نافع مانی جاتی ہے، اس طرح امت محمدی ﷺ میں پہلے زمانہ سے تعلق رکھنے والے اور بعد کے زمانوں کے سچے اور نیک مسلمان بھی خیر یعنی اچھا ہونے اور فائدہ پہنچانے کے اعتبار سے برابر ہیں، پس لفظ خیر دین کے اعتبار سے فضیلت ظاہر کرنے والے اسم تفصیل کے طور پر استعمال نہیں ہوا ہے۔ رہا یہ سوال کہ امت کے اول اور آخر دونوں سے تعلق رکھنے والے اچھا اور نافع ہونے میں برابر کیسے ہیں؟ تو وہ یوں کہ دور اول کے لوگوں نے رسول اللہ ﷺ کی صحبت ورفاقت کا شرف پایا، آنحضرت ﷺ کی ہر حالت میں اتباع کی، آپ ﷺ کی دعوت اسلام دوسروں تک پہنچائی، آپ ﷺ کی لائی ہوئی شریعت اور آپ ﷺ کے پیش کئے ہوئے دین کے فوائد و ہدایات کی بنیاد رکھی۔ آپ ﷺ کے دین متین کو اعانت وتقویت پہنچائی اور آنحضرت ﷺ کی ہر طرح سے مدد و حمایت کی تو بعد کے امتیوں نے آنحضرت ﷺ کی نبوت اور رسالت اور آپ ﷺ کی شریعت کو جو کا توں تسلیم کیا، رسالت و شریعت کے ہر جز پر مضبوط عقیدے کے ساتھ جمے رہے، آپ ﷺ کے دین کی حفاظت اور دین کو استحکام و رواج دیا دینی قواعد و ہدایات کی بنیاد کو پایہ تکمیل تک پہنچایا، یا دین و شریعت کے ارکان کو مضبوط ومستحکم کیا، اسلام کے جھنڈے کو سر بلند کیا، اسلام کی روشنی کو چار دانگ عالم میں پھیلایا اور اس کے برکات و اثرات تمام عالم پر ظاہر کئے اور اگر لفظ خیر کو اسم تفضیل کے معنی پر محمول کیا جائے تو بھی اس اعتبار سے درست ہوسکتا ہے کہ خیر (بہتر ہونے) کے وجوہ اور اسباب متعدد ہوتے ہیں جن اسباب و وجوہ کے اعتبار سے دور اول کے امتی بہتر تھے، ان کے علاوہ بعض اور اسباب و وجوہ سے بعد کے زمانہ کے امتی بہتر ہیں گو یا حاصل یہ نکلا کہ حدیث اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ نافع اور اچھا ہونے کے اعتبار سے پوری امت یکساں اور برابر ہے اور اس پر بھی دلالت کرتی ہے، کہ وجوہ و اسباب کے تعدد وا ختلاف کے مد نظر دور اول کے امتی اپنے اعتبار سے بہتر ہیں اور بعد کے زمانہ کے امتی اپنی نو عیت سے بہتر ہیں، لیکن جمہور علماء کے نزدیک یہ طے شدہ ہے کہ جہاں تک کلی فضیلت کا تعلق ہے وہ صرف دور اول کے امتیوں یعنی صحابہ کے لئے مخصوص ہے۔ اگرچہ یہ اس کے منافی نہیں ہے کہ کسی خاص درجہ و نوعیت کے تحت بعد کے امتیوں میں سے کسی کے لئے جزوی فضیلت ثابت کی جائے اور یہ بات ذہن میں رہے کہ کلی فضیلت سے مراد اللہ کے ہاں سب سے زیادہ ثواب پانا ہے۔ اور تور پشتی نے لکھا ہے یہ حدیث بعد کے امتیوں پر دور اول کے امتیوں کی فضیلت و برتری میں شک وتردد پر ہرگز محمول نہیں ہے کیونکہ قرن اول ( صحابہ کا زمانہ) تمام قرنوں سے بلا شک وشبہ افضل ہے پھر اس کے بعد کے قرن کے امتی اپنے بعد والے تمام قرنوں سے افضل ہیں اور پھر اس کے بعد کے قرن کے امتی اپنے بعد والے تمام قرنوں سے افضل ہیں پس اس حدیث کی مراد بس یہ بیان کرنا ہے کہ دین و شر یعت پھیلا نے کے اعتبار سے پوری امت نافع ہے۔ اسی طرح کی بات قاضی نے بھی ایک طویل عبارت میں لکھی ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ جس طرح بارش کے بارے میں یہ نہیں کہا جاسکتا کہ اس کا کون سا حصہ زیادہ مفید اور نفع بخش ہے اور کس وجوہ سے خیر کا وجود ہے اور کن افراد میں خیر کا وجود نہیں ہے، کیونکہ وجود خیر کی مختلف جہتیں اور مختلف نوعیتیں ہوتی ہیں اور اس اعتبار سے امت کا ہر دور اپنی اپنی حیثیت اور جہت سے وجود خیر کا حامل ہوگا، تاہم الفضل للمتقدم کے اصول کے تحت فضیلت انہی امتیوں کے لئے ہے جو دور اول میں تھے، یعنی صحابہ اور یہ حدیث بعد کے زمانے والے امتیوں کے لئے تسلی کا مصدر ہے جس میں اس طرف اشارہ ہے کہ اللہ رب العلمین کی رحمت کا دروازہ کھلا ہوا ہے اور اس کی بار گاہ سے حصول فیض کی توقع ہر حال میں باقی ہے۔ اس حدیث کی شرح میں طیبی لکھتے ہیں، امت کو بارش کے ساتھ مشابہت دی گئی ہے وہ محض ہدایت اور علم کو سامنے رکھ کردی گئی ہے جیسا کہ آنحضرت ﷺ نے ایک حدیث میں بارش کو ہدایت اور علم کے مشابہت دی ہے پس حدیث مذکورہ میں امت جس کو بارش کے ساتھ مشابہت دی گئی ہے اس سے مراد علماء کاملین ہیں کہ جو خود بھی کامل ہوتے ہیں اور دوسروں کو بھی درجہ کمال تک پہنچاتے ہیں، یہ وضاحت بھی گویا اس بات کا تقاضا کرتی ہے کہ خیر سے نفع کے معنی مراد لئے جائیں جس سے فضیلت میں پوری امت کا یکساں ہونا لازم نہیں آتا، خلا صہ کلام یہ کہ امت محمدی اپنے کسی دور میں خیر سے خالی نہیں رہے گی، جیسا کہ ایک حدیث میں آنحضرت ﷺ نے پوری امت کو امت مرحومہ فرمایا ہے اور یہ ثمرہ ہے اس بات کا کہ اس امت کا نبی نبی رحمت ہے بخلاف دوسری امتوں کے کہ ان کے ہاں خیر کا وجود صرف ابتدائی دور میں رہا اور پھر بعد والوں میں شر آگیا اور اس طرح آیا کہ انہوں نے اپنی مقدس آسمانی کتابوں تک کو بدل ڈالا اور تحریفیں کر کر کے اپنے دین کا حلیہ ہی بگاڑ دیا جس پر ان کے دور اول کے لوگ تھے۔

6324Mishkaat-al-Masabih

امت محمدی ﷺ کا حال

عن جعفر عن أبيه عن جده قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : أبشروا إنما مثل أمتي مثل الغيث لا يدرى آخره خير أم أوله ؟ أو كحديقة أطعم منها فوج عاما لعل آخرها فوجا أن يكون أعرضها عرضا وأعمقها عمقا وأحسنها حسنا كيف تهلك أمة أنا أولها والمهدي وسطها والمسيح آخرها ولكن بين ذلك فيج أعوج ليسوا ولا أنا منهم رواه رزين

حضرت امام جعفر صادق اپنے والد (حضرت امام محمد باقر) سے اور وہ امام جعفر کے دادا ( یعنی اپنے والد حضرت امام زین العابدین علی بن حسین بن علی) سے روایت کرتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا خوش ہوجاؤ اور خوش ہوجاؤ، بات یہ ہے کہ میری امت اجابت کے افراد کا حال ( حصول منفعت کے اعتبار سے) بارش کے حال کی مانند ہے جس کے بارے میں معلوم نہیں ہوتا کہ اس کا اخیر بہتر ہے یا اس کا اول بہتر ہے، یا میری امت کی مثال ایک باغ کی مانند ہے جس ( کے کچھ حصوں سے) ایک سال ایک جماعت نے کھایا یعنی نفع اٹھایا اور اس (کے کچھ حصوں سے) دوسرے سال ایک اور جماعت نے کھایا، ممکن ہے وہ جماعت جس نے آخر میں باغ سے کھایا ( پہلی جماعت کے مقابلہ میں) چوڑائی اور گہرائی میں زیادہ ہو اور خوبیوں میں بھی اس سے بہتر ہو، بھلا وہ امت کیونکر ہلاک ( یعنی نیست و نابود) ہو جس کا اول میں ہوں جس کے وسط میں مہدی ہوں گے اور جس کے آخر میں مسیح ہوں گے، ہاں ان زمانوں کے درمیان ایک کج رو ( یعنی گمراہ) جماعت پیدا ہوگی، اس جماعت کے لوگ میرے راستہ و طریقہ پر چلنے والے اور میرے متبعین میں سے نہیں ہوں گے اور نہ میں ان سے ہوں یعنی میں ان سے راضی اور ان کا حامی و مددگار نہیں بلکہ ان کی سرکشی اور ان کے فسق کے سبب ان سے اپنی نا راضگی اور بیزاری کا اظہار کرتا ہوں۔ (رزین) تشریح خوش ہو اور خوش ہو۔۔۔ یہ الفاظ آپ ﷺ نے دو بار یا تو تاکید کے لئے فرمائے یا اس تکرار میں یہ نقطہ ملحوظ تھا کہ ایک بشارت تو دین کے اعتبار سے ہے اور ایک بشارت آخرت کے اعتبار سے۔ چوڑائی اور گہرائی میں۔۔۔ یہاں چوڑائی اور گہرائی سے جماعت کی کثرت اور لوگوں کی بڑی تعداد کے معنی مراد ہیں، اس جملہ میں طول، (لمبائی) کا ذکر اس لئے نہیں ہے کہ عرض اور عمق طول کے بعد ہوتا ہے، جب عرض اور عمق کا ذکر آگیا تو گویا طول کا بھی ذکر ہوگیا۔

6325Mishkaat-al-Masabih

ایمان بالغیب کے اعتبار سے تابعین کی فضیلت

وعن عمرو بن شعيب عن أبيه عن جده قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : أي الخلق أعجب إليكم إيمانا ؟ قالوا : فالنبيون قال : ومالهم لا يؤمنون والوحي ينزل عليهم ؟ قالوا : فنحن . قال : ومالكم لا تؤمنون وأنا بين أظهركم ؟ قال : فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : إن أعجب الخلق إلي إيمانا لقوم يكونون من بعدي يجدون صحفا فيها كتاب يؤمنون بما فيها

اور حضرت عمرو بن شعیب اپنے والد سے اور وہ اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے ( ایک دن صحابہ سے) پو چھا! بتاؤ، ایمان کے اعتبار سے تم مخلوق میں کس کو زیادہ پسند کرتے ہو، یعنی اللہ کی مخلوقات میں کس مخلوق کے ایمان کو تم بہت قوی اور بہت اچھا سمجھتے ہو؟ بعض صحابہ نے جواب دیا، ہم تو فرشتوں کے ایمان کو بہت اچھا اور قوی سمجھتے ہیں! آنحضرت ﷺ نے فرمایا فرشتوں کے ایمان میں کیا عجوبہ پن ہے۔ وہ تو اپنے پروردگار کے پاس ہی رہتے ہیں یعنی فرشتے مقرب بارگاہ الٰہی ہیں اور عالم جبروت کے عجائب وغرائب کا ہمہ وقت مشاہدہ کرتے رہتے ہیں اگر ان کا ایمان قوی ہے تو اس میں کیا عجیب و غریب بات ہے۔ انہی صحابہ نے یا دوسرے بعض صحابہ نے عرض کیا! تو پھر وہ پیغمبر ہیں کہ ہمارے نزدیک ان کا ایمان بہت اچھا ہے اور قوی ہے۔ آنحضرت ﷺ نے فرمایا بھلا وہ شک و شبہ سے دور اور قوی ایمان کے حامل کیوں نہیں ہوں گے، آسمان سے وحی اترتی ہی ان کے اوپر ہے، اب صحابہ نے کہا! تو پھر ہم لوگ ہیں ( جو آپ ﷺ کے صحابہ ہیں، لہذا کہنا چاہئے کہ ہمارا ایمان اچھا اور قوی ہے) آنحضرت ﷺ نے فرمایا تمہارے ہی ایمان میں کیا عجوبہ پن ہے جب کہ میں تمہارے درمیان موجود ہوں۔ راوی کہتے ہیں کہ اس کے بعد رسول کریم ﷺ نے فرمایا! حقیقت یہ ہے کہ میرے نزدیک ایمان کے اعتبار سے تمام مخلوق میں بڑے اچھے لوگ وہ ہیں جو میرے ( زمانہ حیات) کے بعد پیدا ہوں گے ( یعنی تابعین اور ان کی اتباع کرنے والے کہ جو نسل در نسل قیامت تک اس درمیان میں آتے رہیں گے وہ لوگ احکام دین کے مجموعہ مصحف یعنی قرآن پاک پائیں گے اور اس میں جو کچھ مذکور ہے سب پر ایمان لائیں گے۔ تشریح جواب دینے والے صحابہ نے بہت اچھے اور بہت قوی ایمان کے اعتبار سے جو پہلے فرشتے کا ذکر کیا اور پھر انبیاء پر فرشتوں کی فضیلت لازم نہیں آتی۔ اللہ کے ہاں کثرت ثواب کے اعتبار سے جو فضیلت انبیاء کو حاصل ہے وہ اپنی جگہ مسلم ہے۔ اس میں شک وشبہ نہیں۔ آسمان سے وحی اترتی ہی ان کے اوپر ہے۔۔۔ یعنی انبیاء کرام (علیہم السلام) کو تو ایمان کا اور سب سے اچھا اور سب سے قوی ایمان کا حامل ہونا ہی چاہئے۔ کیونکہ اس دنیا میں ایمان اور دین وشر یعت کے اتر نے کا اصل ذریعہ وحی ہے اور وحی انبیاء ہی پر اترتی ہے فرشتہ روح الامین ( جبرائیل) آسمان سے آتا ہے اور حق تعالیٰ کا پیغام براہ راست ان کو پہنچاتا ہے۔ وہ فرشتوں کو اپنی آنکھوں سے دیکھتے ہیں اور ان کے انوار کا مشاہدہ کرتے ہیں۔ واضح ہو کہ لغت میں وحی کے معنی ہیں، پیغام، دل میں پو شیدہ بات ڈالنا ہر وہ چیز جو دوسرے کو معلوم ہونے کے لئے تم پیش کرو اور آواز اور اصطلاح شرع میں وحی اللہ کے اس پیغام کو کہتے ہیں جو جبرائیل امین (علیہ السلام) پیغمبروں کے پاس لائیں۔ جب کہ میں تمہارے درمیان موجود ہوں۔۔۔ اور تم وحی اور ایمان کے آ ثار و انوار کا مشاہدہ کرتے ہو، نبوت کی نشانیاں اور معجزے دیکھتے ہو، میرے جمال باکمال سے انوار حق کا دیدار کرتے ہو، میری صحبت وہم نشینی کے ذر یعہ تم میں اسرار حقیقت سرایت کرتے ہیں اور میرے باطنی تصرف اور میرے ارشاد و اقوال سے تمہارے ظاہر و باطن میں کمالات و کرامات پیدا ہوتے ہیں۔ ایسی صورت میں اللہ پر ایمان لا نے، اللہ کے اتارے ہوئے دین و شریعت کے احکام میں یقین رکھنے اور اللہ کے بتائے ہوئے اوا امر و نواہی کو ماننے میں تمہارے لئے شک وتردد کا کوئی موقع ہی نہیں ہے۔ سب پر ایمان لائیں گے۔۔۔ یعنی ان کا ایمان بالغیب ہوگا، نہ انہوں نے اپنے نبی کو دیکھا ہوگا، نہ نبی کی صحبت کے ذریعہ انوار حق کا مشاہدہ کیا ہوگا اور نہ نبوت کے آ ثار و معجزات کو اپنی نظروں کے سا منے پایا ہوگا۔ وہ اپنے بڑوں (صحابہ) سے اخبار و آثار کی صورت میں جو کچھ سنیں گے اسی پر اعتماد و یقین کر کے اللہ پر، اللہ کے رسول پر، اللہ کی کتاب پر اور اللہ کے اتارے ہوئے دین پر ایمان لائیں گے اور اس ایمان پر مضبوطی سے قائم رہیں گے۔ پس اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں جو یہ فرمایا ہے کہ یو منون بالغیب تو اس کی مراد بھی بعض تفسیری جہات سے یہی ہے اور اس کی تائید اس روایت سے ہوتی ہے جس میں بیان کیا گیا ہے کہ حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ کے ساتھیوں نے ان کے سامنے محمد ﷺ کے صحابہ اور ان کے ایمان کا ذکر کیا تو حضرت ابن مسعود ؓ نے فرمایا حق تو یہ ہے کہ محمد ﷺ کی حقیقت و حیثیت، ان کی دعوت اسلامی اور ان کا سارا معاملہ ہر اس شخص پر پوری طرح روشن اور واضح تھا جس نے آپ ﷺ کو دیکھا اور آپ ﷺ کی صحبت وہم نشینی کا شرف پایا، اس ذات کی قسم جس کے سوا کوئی معبود نہیں، کسی ایمان والے کا ایمان ایمان بالغیب سے افضل نہیں اور پھر حضرت ابن مسعود ؓ نے یہی آیت یو منون بالغیب پڑھی۔ بہر حال آنحضرت ﷺ کے زمانہ مبارک سے متصل ہونے کے سبب اور آنحضرت ﷺ کے بابرکت صحابہ کی رفاقت و صحبت پانے کی وجہ سے اگرچہ تابعین پر بھی آثار و انوار حقانیت ہویدا اور آنحضرت ﷺ کا صدق وا ضح تھا لیکن اس کے باوجود یہی کہا جائے گا کہ، ازدیدہ بسے فرق بود تا بشنیدہ۔ اور حاصل یہ کہ اگرچہ صحابہ کا ایمان بھی بالغیب تھا لیکن ان کا ایمان بالغیب انہی چیزوں میں تھا جن پر ایمان لازم فرض ہے، جیسے اللہ کی ذات، ملائکہ اور امور آخرت وغیرہ جب کہ اور بہت سی چیزیں ان کی آنکھوں دیکھی ہوئی تھیں ان کے مشاہدہ میں آئیں۔ ان کے برخلاف تابعین اور ان کے بعد اہل ایمان کا معاملہ یہ ہے کہ ان کا سارا ایمان بالغیب ہے کوئی چیز ان کی آنکھوں دیکھی ہوئی نہیں ہے، کوئی چیز ان کے مشاہدہ میں نہیں آئی پس اس اعتبار سے ان کے ایمان کو افضل اور پسندیدہ تر فرمایا گیا۔

6326Mishkaat-al-Masabih

ایک جماعت کے بارے میں پیشین گوئی

وعن عبد الرحمن بن العلاء الحضرمي قال : حدثني من سمع النبي صلى الله عليه و سلم يقول : إنه سيكون في آخر هذه الأمة قوم لهم مثل أجر أولهم يأمرون بالمعروف وينهون عن المنكر ويقاتلون أهل الفتن رواهما البيهقي في دلائل النبوة

اور حضرت عبدالرحمن بن علاء حضرمی کہتے ہیں کہ مجھ سے اس شخص نے یہ حدیث بیان کی جس نے نبی کریم ﷺ سے سنا تھا کہ آپ ﷺ نے فرمایا حقیقت یہ ہے کہ وہ ( زمانہ آ نے والا ہے جب اس امت کے آخری دور میں ایک جماعت ہوگی جس کا ثواب اس امت کے ابتدائی دور کے لوگوں ( یعنی صحابہ) کے ثواب کی مانند ہوگا، اس جماعت کے لوگ مخلوق اللہ کو (ان) شرعی امور کی تلقین و تبلیغ کریں گے ( جن کا وجود دین میں پایا جاتا ہے) اور ان باتوں سے باز رکھنے کی کوشش کریں گے جو خلاف شرع ہیں ( اور جن کا دین سے کوئی واسطہ اور تعلق نہیں) نیز وہ لوگ فتنہ پردازوں ( یعنی اسلام اور مسلمانوں سے منحرف ہوجانے والوں، خارجیوں، رافضیوں اور تمام بد عتیوں) سے لڑیں گے (خواہ اسلحہ و طاقت کے ذریعہ لڑیں خواہ زبان و قلم کے ذریعہ) ان دونوں روایتوں کو بیہقی نے دلائل النبوۃ میں نقل کیا ہے۔

6327Mishkaat-al-Masabih

آنحضرت ﷺ کو بغیر ایمان لا نے والے امتیوں کی فضیلت

وعن أبي أمامة أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : طوبى لمن رآني [ وآمن بي ] وطوبى لمن لم يرني وآمن بي . رواه أحمد

اور حضرت ابوامامہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا مبارک باد دی ہے اس شخص کو جس نے مجھ کو دیکھا اور مجھ پر ایمان لایا اور سات بار مبارک باد دی ہے اس شخص کو جس نے مجھ کو نہیں دیکھا اور پھر مجھ پر ایمان لایا، میری نبوت کی تصدیق کی۔ (احمد) تشریح اور سات بار مبارک باد دی ہے۔۔۔ اس سے ان امتیوں کی فضیلت ثابت ہوتی ہے، جو آنحضرت ﷺ کی ذات پر اور آپ ﷺ کی نبوت و رسالت پر غائبانہ ایمان رکھتے ہیں۔ لیکن یہاں سات کے عدد کا تعین کس معنی میں اس کا علم اللہ اور اللہ کے رسول ہی کے سپرد کرنا پڑتا ہے ایسے یہ کہا جاسکتا ہے کہ کسی بات کو زیادہ سے زیادہ بلیغ انداز میں بیان کرنے کے لئے اور اس کی تکثیر کی خاطر چونکہ یہی سات کا عدد بابرکت مشہور و متعارف ہے اس لئے آپ ﷺ کی ذات رسالت پناہ پر ایمان بالغیب رکھنے والوں کو سات بار مبارک باد دی ہے، پس اس عدد سے تکثیر مراد لینی چاہئے نہ کہ تحدید۔

6328Mishkaat-al-Masabih

زما نئہ رسالت کے بعد کے امتیوں کی فضیلت

وعن أبي محيريز قال : قلت لأبي جمعة رجل من الصحابة : حدثنا حديثا سمعته من رسول الله صلى الله عليه و سلم . قال : نعم أحدثكم حديثا جيدا تغدينا مع رسول الله صلى الله عليه و سلم ومعنا أبو عبيدة بن الجراح فقال : يا رسول الله . أحد خير منا ؟ أسلمنا وجاهدنا معك . قال : نعم قوم يكونون من بعدكم يؤمنون بي ولم يروني . رواه أحمد والدارمي وروى رزين عن أبي عبيدة من قوله : قال : يا رسول الله . أحد خير منا إلى آخره

اور حضرت ابن محیریز (رح) ( تابعی) بیان کرتے ہیں کہ میں نے حضرت ابوجمعہ سے جو صحابہ میں سے ایک شخص ہیں، درخواست کی کہ آپ ہمارے سا منے کوئی ایسی حدیث بیان کیجئے جو آپ نے خود رسول کریم ﷺ کی لسان مبارک سے سنی ہو، حضرت ابوجمعہ نے کہا ہاں میں تمہارے سا منے ایک بڑی عمدہ حدیث بیان کروں گا ( جو بہت فائدہ پہنچائے گی اور تمہیں خیر و فضیلت کی بشارت بھی عطا کرے گی، تو سنو) ایک دن ہم صبح کے کھانے پر رسول کریم ﷺ کے ساتھ تھے ہمارے درمیان ( مشہور صحابی) حضرت ابوعبیدہ بن الجراح بھی تھے ( جو عشرۃ مبشرہ میں سے ہیں) ابوعبیدہ ؓ نے ( نعمت الہیٰ کے شکر اور ذات رسالت پناہ کے انعام و احسان کے ذکر کے طور پر) کہا کہ یا (رسول اللہ! کیا کوئی شخص ہم سے بھی بہتر ہوسکتا ہے ہم تو وہ لوگ ہیں جنہوں نے ( آپ ﷺ کے ہاتھ پر) ایمان واسلام قبول کیا اور آپ ﷺ کے شانہ بشانہ دشمنان دین کے خلاف جہاد کیا، آنحضرت ﷺ نے (یہ سن کر) فرمایا ہاں تم سے بھی بہتر لوگ ہیں اور وہ لوگ وہ ہیں جو تمہارے بعد پیدا ہوں گے اور مجھ پر ایمان لائیں گے جب کہ انہوں نے مجھے دیکھا بھی نہیں ہوگا اس روایت کو احمد اور دارمی نے نقل کیا ہے، نیز رزین نے اس روایت کو حضرت ابوعبیدہ ؓ سے ان کے اپنے الفاظ سے آخر تک نقل کیا ہے ( یعنی رزین کی نقل کردہ حدیث میں ابن محیریز اور ابوجمعہ کے مکالمہ کا ذکر نہیں ہے۔ تشریح ہاں تم سے بھی بہتر لوگ ہیں یعنی وہ لوگ اس جہت سے تم سے بہتر ہیں کہ وہ مجھے بغیر دیکھے مجھ پر ایمان لائیں گے، اگرچہ اس حیثیت سے کہ تمہیں سبقت اسلام میری صحبت و زیارت اور میرے ساتھ جہاد میں شریک ہونے کی سعادت عظمی حاصل ہے ان لوگوں پر تمہاری فضیلت و برتری مسلم ہے۔

6329Mishkaat-al-Masabih

ار حدیث کی فضیلت

وعن معاوية بن قرة عن أبيه قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : إذا فسد أهل الشام فلا خير فيكم ولا يزال طائفة من أمتي منصورين لا يضرهم من خذلهم حتى تقوم الساعة قال ابن المديني : هم أصحاب الحديث . رواه الترمذي وقال : هذا حديث حسن صحيح

حضرت معاویہ بن قرۃ سے روایت ہے جو اپنے والد سے نقل کرتے ہیں کہ انہوں نے کہا کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا جب اہل شام تباہ ہوجائیں تو پھر تم میں بھلائی نہ ہوگی اور میری امت میں ہمیشہ ایک جماعت ایسی رہے گی جس کو ( دشمنان دین کے مقابلہ پر غالب رہنے کے لئے اللہ کی نصرت و تائید حاصل ہوگی، اس جماعت کو وہ شخص کچھ نقصان و ضرر نہ پہنچا سکے گا جو اس کی تائید واعانت ترک کر دے (کیو ن کہ اس جماعت پر اللہ تعالیٰ کی عنایت بیشمار ہوگی) تاآنکہ قیامت قائم ہو اور علامہ ابن مدینی (رح) ( جو اکابر محدثین میں سے ہیں) کہتے ہیں کہ اس جماعت سے مراد ارباب حدیث ہیں اس روایت کو ترمذی نے نقل کیا ہے اور کہا ہے کہ یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ تشریح حضرت معاویہ بن قرہ کے والد کا نام قرہ بن ایاس ہے جو صحابی ہیں۔ خود حضرت معاویہ بن قرہ (رح) ایک تابعی ہیں، ان کا شمار اہل علم و عمل میں ہوتا ہے۔ بلند پایہ فقیہہ کی حیثیت سے بھی مشہور ہیں جنگ جمل کے دن ان کی ولادت ہوئی تھی اور ١١٣ ھ میں واصل بحق ہوئے۔ تو پھر تم میں بھلائی نہ ہوگی۔۔۔ یعنی جب اہل شام میں بھی فساد و تباہی پھیل جائے گی تو اس وقت شام میں سکونت اختیار کرنا یا اپنے وطن سے ہجرت کر کے ملک شام میں جانے میں کوئی بھلائی نہیں رہے گی۔ اور حضرت شیخ عبدالحق محدث دہلوی (رح) نے یوں وضاحت کی ہے کہ ان الفاظ کی بظاہر مراد یہ ہے کہ آخر زمانہ میں اہل شام اللہ کے سچے دین پر قائم ہو نگے اور خیر امت ہونے کی حیثیت سے اپنے فرائض انجام دیں گے اور پھر آخر کار ان میں بھی تباہی آجائے گی اور یہ اس وقت ہوگا جب قیامت آئے گی تو اس دنیا میں صرف بدکار لوگ موجود ہوں گے چناچہ اہل شام کے تباہ ہونے کے ساتھ ہی اس روئے زمین سے خیر کا وجود اٹھ جائے گا جو اس بات کا نتیجہ ہوگا کہ اس وقت اہل خیر میں سے کوئی بھی اس دنیا میں باقی نہیں ہوگا۔ تا آ ن کہ قیامت قائم ہو۔۔۔ میں قیامت قائم ہونے سے مراد قائم ہونے کا وقت بالکل قریب آجانا ہے کیونکہ یہ تو اوپر ہی بتایا جا چکا ہے کہ جب قیامت قائم ہوگی تو اس وقت روئے زمین پر کوئی کلمہ گو باقی نہیں ہوگا۔ اس جماعت سے مراد ارباب حدیث ہیں۔۔۔ یعنی وہ محدثین اور اہل علم کہ جو حدیث کے حفاظ ہیں، حد یثوں کے راوی ہیں، سنت نبوی ﷺ پر جو کہ کتاب اللہ کی ترجمان اور شارح ہے عمل کرنے اور جو درس و تدریس، تصنیف وتا لیف، تعلیم و تبلیغ کے ذریعہ احادیث نبوی ﷺ اور علوم نبوی ﷺ کی خدمت اور اس کے سیکھنے سکھانے میں لگے ہوئے ہیں اور گویا وہ گروہ جن کو اہل سنت والجماعت سے تعبیر کیا جاتا ہے۔

6330Mishkaat-al-Masabih

اس امت سے خطا و نسیان معاف ہے

وعن ابن عباس أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : إن الله تجاوز عن أمتي الخطأ والنسيان وما استكرهوا عليه . رواه ابن ماجه والبيهقي

اور حضرت ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ نے میری امت سے خطاء و نسیان کو معاف کردیا ہے اور اس گناہ سے بھی معافی عطا فرما دی ہے جس میں زبر دستی مبتلا گیا ہو۔ بیہقی) تشریح خطا (جو مقصو اور ممدود دونوں طرح یعنی مد کے بغیر بھی اور مد کے ساتھ بھی آتا ہے) اپنے مفہوم میں صواب کی ضد ہے اس کے معنی میں چوک جانا چناچہ صراح میں لکھا ہے! خطاء بمعنی نا راست جو صو اب (درست وراست) کا برعکس مفہوم ہے۔ اسی مصدر سے نکلا ہوا لفظ خطیہ ہے جس کے معنی گناہ کے ہیں، یا ایک قول کے مطابق وہ گناہ جو غیر ارادی طور پر یعنی بلا قصد سرزد ہوا ہو اس کے لئے اخطاط کا لفظ استعمال کیا جاتا ہے۔ اسی طرح مخطی اس شخص کو کہتے ہیں جو ارادہ تو صواب یعنی راست و درست عمل کا کرے مگر مبتلا غیر صواب یعنی نا راست وغیر درست عمل میں ہوجائے۔ اس شخص نے خطا کی، یا اس شخص سے خطا ہوگئی، یہ بات ایسے آ دمی کے بارے میں کہی جاتی ہے جس نے قصدا ارادہ تو کسی درست عمل کا کیا تھا لیکن اچانک اس سے وہ عمل واقع ہوگیا ہو جو غیر درست تھا، مثلا اس نے شکار کو نشانہ بنا کر بندوق چلائی تھی مگر بندوق کی گولی اچانک کسی انسان کو لگ گئی اور اس طرح وہ اس انسان کے قتل خطا کا مرتکب ہوگیا، یا یہ کہ مثلاً وہ آ دمی روزہ سے تھا، کلی کرنے کے قصد سے اس نے منہ میں پانی لیا اور وہ پانی اچانک حلق میں اتر گیا، پس اس حدیث میں خطاء کے یہی معنی مراد ہیں۔ نسیان اپنے مفہوم میں حفظ کی ضد ہے اس کے معنی ہیں بھو لنا سہو کا لفظ نسیان کے معنی میں آتا ہے جیسے کہا جاتا ہے، اس شخص نے فلاں کام میں سہو کیا۔ یعنی وہ اس کام کو بھول گیا اس سے غافل رہا اس کا دھیان کسی اور کام میں الجھ گیا تھا، ان لفظی وضاحتوں کے بعد اب سمجھئے کہ حدیث میں جو یہ فرمایا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس امت سے خطاء ونسیان کو معاف کردیا ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر خطاء ونسیان کے تحت کوئی غیر درست ناروا فعل سرزد ہوجائے تو اس پر گناہ نہیں ہوتا، اس فعل کا مرتکب گناہ گار نہیں ہوگا، یہ مطلب نہیں کہ خطار ونسیا کے تحت سرزد ہونے والا ہر فعل دنیاوی طور پر بھی کسی شرعی قائدے و قانون کی گرفت میں نہیں آتا، چناچہ خود قتل خطاء پر دیت اور کفارہ کا واجب ہونا ثابت ہے، اسی طرح کسی ایسی چیز کا خطاء ارتکاب ہوجائے جس سے روزہ ٹوٹ جاتا ہے تو اس روزہ کی قضا واجب ہوتی ہے۔ ہاں نسیان کی صورت میں روزے کی قضاء واجب نہیں ہوتی کیونکہ خود اللہ تعالیٰ نے اس میں رعایت دی ہے جیسا کہ ایک حدیث میں آیا ہے کہ روزہ میں اگر بھولے سے کوئی چیز کھالی یا کوئی چیز پی لی تو اس کا روزہ نہیں ٹوٹتا۔ تم اپنے اس روزہ کو پورا کرو کیونکہ تمہارا وہ کھانا پینا اللہ ہی کی طرف سے ہے، نیز نماز میں اگر نسیان اور سہو واقع ہوجائے تو اس پر سجدہ واجب ہوتا ہے۔ اسی طرح کوئی شخص اگر کسی کا مال سہواً تلف کر دے تو اس پر ضمان ( معاوضہ) واجب ہوتا ہے۔ اور اس گناہ سے بھی معافی عطا فرما دی۔۔۔ اس جملہ میں وما استکر ھوا علیہ کا لفظ صیغہ مجہول کے ساتھ ہے، یعنی وہ گناہ جو زور و زبردستی سے کرائے گئے ہوں۔ مطلب یہ کہ اگر کسی شخص کو کسی ایسے فعل کے ارتکاب پر مجبور کیا گیا ہو جس کو وہ گناہ ہونے کی وجہ سے قطعی ناپسند کرتا ہوا اور اس کے ارتکاب میں اس کے اپنے قصد و ارادہ کو ذرا دخل نہ ہو تو وہ شخص گناہ گار نہیں ہوگا اگرچہ اس کو مجبور کرنے کے لئے قتل یا ضرب شدید جیسی کسی سخت دھمکی کا استعمال نہ کیا گیا ہو، تاہم اس ( زور و زبردستی سے کرائے گئے گناہوں اور جرائم کے) سلسلہ میں حق اللہ اور حق العباد کے تعلق سے شرعی احکام و قوانین کی الگ الگ نوعیتیں اور شقیں ہیں جن کی تفصیل اصول کی کتابوں میں مذکور ہے۔

6331Mishkaat-al-Masabih

اس امت کی انتہائی فضیلت

وعن بهز بن حكيم عن أبيه عن جده أنه سمع رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول في قوله تعالى : [ كنتم خير أمة أخرجت للناس ] قال : أنتم تتمون سبعين أمة أنتم خيرها وأكرمها على الله تعالى رواه الترمذي وابن ماجه والدارمي وقال الترمذي : هذا حديث حسن

اور حضرت بہز بن حکیم بن معاویہ بن حیدہ قشیری بصری اپنے والد (حضرت حکیم بن معاویہ) سے اور وہ بہز کے دادا ( اور اپنے والد حضرت معاویہ ابن حیدہ) سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے رسول کریم ﷺ کو اللہ تعالیٰ کے ارشاد کنتم خیر امۃ اخرجت للناس کی تفسیر میں یہ فرماتے ہوئے سنا کہ ( اے اہل اسلام) تم ستر امتیوں کو تمام کرتے ہو اور اللہ کے نز دیک تم ان امتوں میں سب سے بہتر اور گرامی قدر ہو۔ اس روایت کو ترمذی ابن ماجہ اور دارمی نے نقل کیا ہے اور ترمذی نے کہا ہے کہ یہ حدیث حسن ہے۔ تشریح کنتم خیر امۃ اخرجت للناس کا ترجمہ ہے امتوں میں سب سے بہتر امت تم تھے جسے لوگوں ( کی ہدایت و بھلائی) کے لئے پیدا کیا گیا۔ پس کنتم ( تم تھے) سے مراد یہ ہے کہ اپنی اس خصوصیت اور وصف کے ساتھ تم روز اول سے اللہ کے علم و ارادہ میں تھے جس کا ظہور اس دنیا میں اب میرے آ نے کے بعد ہوا ہے۔ یا یہ کہ لوح محفوظ میں اس وصف و خصوصیت کے ساتھ تمہارا ذکر روز اول ہی آگیا۔ اور یا یہ کہ گز شتہ امتوں کے درمیان تمہارا ذکر اسی وصف و خصوصیت کے ساتھ یعنی خیر امت کی حیثیت سے ہوتا تھا۔ بہر حال خیر امت میں اس امت سے مراد اس امت کے تمام ہی اہل ایمان مراد ہیں خواہ وہ عام امتیوں میں سے ہو یا خواص میں سے۔ حقیقت یہ ہے کہ حسن اعتقاد، ایمان کی راہ میں ثابت قدم رہنے، آنحضرت ﷺ کے تئیں بہت زیادہ محبت وتعلق رکھنے، ایمان سے نہ پھر نے، اسلام کی غلامی کے دائرہ سے اپنے کو باہر نہ رکھنے اور ان جیسی دوسری خصوصیات و صفت رکھنے کے سبب ہر امتی اس فضیلت میں شامل ہے جو پچھلی تمام امتوں کے مقابلہ میں اس امت مرحومہ کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے عطا ہوئی ہے، تاہم بعض حضرات کا یہ کہنا ہے کہ خیر امت کا مصداق مخصوص طور پر اس امت کی وہ جماعت ہے جو خواص سے تعبیر کی جاتی ہے یعنی علماء صادقین شہداء اسلام اور صالحین امت ان حضرات کے نز دیک خیر سے مراد خیر تامہ کا ملہ مخصوصہ ہے اسی طرح بعض حضرات نے اس کا مصداق مہاجرین کی جماعت کو قرار دیا ہے، لیکن یہ حضرات خیرامت کے مفہوم کو ایک محدود دائرہ تک کیوں رکھتے ہیں اور اس کے مصداق کو کسی خاص طبقہ میں منحصر کیوں کرتے ہیں اس کی وجہ ظاہر نہیں ہے۔ لہٰذا حق یہ ہے کہ خیر امت کے مفہوم کو مخصوص کرنے کے بجائے عام رکھا جائے۔ سترا امتوں میں ستر کا عدد تحد ید کے لئے نہیں، بلکہ تکیثر کے لئے ہے، کیونکہ اس عدد کا ذکر اظہار تکثیر کے موقعوں پر زیادہ آتا ہے اور یہ بھی کہا جاسکتا ہے کہ ستر امتوں سے مراد وہ گزشتہ امتیں ہیں جو بڑی بڑی تھیں اور جن کا عدد ستر تک پہنچتا ہے اور انہیں کے ضمن میں تمام چھوٹی چھوٹی امتیں بھی آجاتی ہیں۔ تم ستر امتوں کو تمام کرتے ہو۔۔۔ میں اتمام در اصل ختم کے معنی میں ہے مطلب یہ کہ جس طرح تمہارے پیغمبر ﷺ خاتم النبین اور تمام رسولوں کے سردار ہیں اسی طرح تم بھی تمام امتیوں کے خاتم، تمام امتوں سے زیادہ گرامی قدر اور اتم ہو، پچھلی تمام امتوں پر امت محمدی کی فضیلت و برتری کے اظہار کے لئے بغوی (رح) نے ایک اور روایت اپنی سند کے ساتھ بطریق مر فوع نقل کی ہے جس کے الفاظ ہیں۔ قال ان الجنۃ حرمت علی الانبیاء کلھم حتی ادخلھا و حرمت علی الا مم حتی تد خلھا۔ آنحضرت ﷺ نے فرمایا حقیقت یہ کہ جنت تمام انبیاء پر حرام ہے جب تک کہ میں اس میں نہ پہنچ جاؤں اور جنت تمام امتوں پر حرام ہے جب تک کہ میری امت اس میں داخل نہ ہوجائے۔ اور یہ چیز اس امت کے حسن خاتمہ کی طرف اشارہ کرتی ہے جو اس کے حسن بدأت پر مبنی ہے اس کی طرف اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد انالذین سبقت لھم منا الحسنی بھی اشارہ کرتی ہے پس یہ امت محمدی اس دنیا میں آ نے کے اعتبار سے اگرچہ سب کے بعد ہے لیکن فضل و شرف اور مقام و مرتبہ میں سب سے اعلی ہے والحمد للہ الذی جعلنا من اھل الا سلام وعلی دین نبینا ﷺ والحمدللہ الذی بنعمتہ تتم الصالحات و بشکرہ تزید البرکات والخیرات۔

6332Mishkaat-al-Masabih

خاتمہ کتا ب

یہ حدیث مشکوہ المصا بیح کی آخری حدیث ہے، مؤ لف مشکوٰۃ کا اپنی اس عظیم کتاب کو اس حدیث پر ختم کرنا گو یا اس بات کو ظاہر کرنے کے لئے ہے کہ کتاب کا تمام ہونا، ختم ہونا اور پایہ تکمیل کو پہنچنا درحقیقت ختم کرنے والے یعنی اللہ رب العزت کے کرم، اس کی عنایت، اس کی مدد اور توفیق کا ثمرہ ہے، نیز اس سے پہلے کی حدیث ان اللہ تجاوز عن امتی الخطاء والنسیان بھی کتاب کی تالیف و تحریر میں واقع ہونے والے کسی بھی سہو و نسیان سے معذرت کے ساتھ بڑی مناسبت رکھتی ہے ختم اللہ لنا بالحسن و تجاوز عنا ما وقع من السھو والنسیان بحرمۃ نبی اخر الزمان ﷺ وعلی الہ وا صحابہ ذوی الفضل والاحسان۔ وا ضح رہے کہ مشکوٰ ۃ کی شرحوں میں تو اسی حدیث پر مشکوٰۃ تمام ہوئی ہے، لیکن مشکوٰۃ المصابیح کے نسخوں میں اس حدیث کے بعد یہ عبارت بھی ہے۔ ثم قال مولف الکتاب شکر اللہ سعیہ واتم علیہ نعمتہ و وقع الفراغ من جمع الاحادیث النبویۃ ﷺ اخر یوم الجمعۃ من رمضان عند رو یۃ ھلال شوال سنۃ سبع وثلا ثین وسبع مائۃ بحمد اللہ وحسن توفیقہ والحمد للہ رب العلمین وا لصلو ۃ والسلام علی محمد والہ وصحبہ اجمعین۔۔۔

6333Mishkaat-al-Masabih

آخر میں کتاب مشکوٰۃ المصابیح کا مولف

اور اللہ اس کی سعی کی قدر دانی کرے اور اس پر اپنی تمام نعمتوں کو کامل فرمائے کہتا ہے کہ ان احادیث نبوی ﷺ کی جمع و ترتیب سے ٧٣٥ ھ کے رمضان کے آخری جمعہ کی آخری ساعتوں میں شوال کا چاند دکھائی دینے سے کچھ ہی پہلے اللہ کی حمد وثنا اور اس کی نیک توفیق کے ساتھ فراغت ہوئی۔ تمام تعریفیں اللہ ہی کے لئے ہیں جو عالموں کا پروردگار ہے اور درود وسلام محمد ﷺ پر آپ ﷺ کی اولاد پر، آپ ﷺ کے اصحاب پر سب پر الحمد اللہ کثیرًا مبارکاً فیہ۔ مظاہر حق کے مؤلف نواب قطب الدین دہلوی کہتے ہیں تمام ہوا یہ ترجمہ بکرم و عنایت پروردگار متعال کے اے مولیٰ میرے کیا بعید ہے تیری رحمت واسعہ سے کہ اس میری سعی کو قبول فرما دے اور اس عاجز و ضعیف ونحیف کی تقصیرات اور بھول چوک سے درگزر فرما دے اور مجھ کو اور میرے استاد اور ماں باپ کو روز قیامت بخش دے اور نہ ذلیل فرمایا رب العلمین مکرر سہ کرر یہی عرض ہے کہ مجھ شرم سار کو اور میرے استاد مولانا اسحق صاحب مہاجر فی سبیل اللہ (رح) کو اور میرے ماں باپ اور سب مسلمانوں کو مغفور و مرحوم کر اور تیری شان ستاری کا ظہور ہمارے حال پریشان بال پر ہو۔ اللھم اتنا فی الدنیا حسنۃ وفی الا خرۃ حسنۃ وقنا عذاب النار اللھم لا تدع لنا ذنباً الا غفرتہ ولا ھما الا فرجتہ ولا دینا الا قضیتہ ولا حاجۃ من حوائج الدنیا والاخرۃ الا قضیتھا یا ارحم الرحمین اللھم انا نسالک من خیر ماسالک منہ نبیک محمد ﷺ ونعوذبک من شر ما استعاذ منہ نبیک محمد ﷺ انت و المستعان وعلیک البلاع ولا حول ولا قوۃ الا باللہ العلی العظیم۔ بیت ازگدا یان توام شاہ بفر ما مددے کہ چون مرغان حرم درحرمت جا گیرم الھی نجنی من کل ضیقٍ بجاہ المصطفیٰ مولیٰ الجمیع وہب لی فی مدینتہ قرارًا بایمان و دفنٍ بالبقیع ربنا ھب لنا من ازوجنا وذریتنا قرۃ اعین واجعلنا للمتقین اماماً۔ اللھم صل وسلم علی سیدنا محمدن النبی الامی وعلی الہ وا صحابہ وا ھل بیتہ وبارک وسلم۔ اللھم صل وسلم علیہ وعلیھم اجمعین برحمتک یا ارحم الراحمین۔ مظاہر حق جدید کا مرتب عبداللہ جاوید بن مولا نا محمد عبد الحق غازی پوری، اللہ اس پر اپنی رحمتوں کا نزول فرمائے اس کی خطاؤں اور لغزشوں سے درگزر فرمائے، کہتا ہے کہ رب کریم کی عنایت اور اس کی مدد توفیق سے کتاب مظاہر حق جدید پایہ تکمیل کو پہنچی اور رمضان المبارک ١٤٠٠ ھ کے اٹھا رہویں روزے جمعہ کی شب میں اس کی تسوید سے فراغت ہوئی۔ پاک پروردگار اپنے محبوب ﷺ کے طفیل میں کہ جس کی طرف اس کتاب کے الفاظ ومعانی کی نسبت ہے، مجھ ناچیز کی اس سعی کو قبول فرمائے، مجھ کو میرے اساتذہ و شیوخ کو میرے ماں باپ کو، میرے اہل و عیال کو، میرے تمام اعزا وا حباب کو، اس کتاب کی ترتیب وتسوید اور طباعت و اشاعت میں میرے معاونوں اور رفیقوں کو اور اس کتاب کے قارئین کو روز حشر اپنے محبوب ﷺ کی شفاعت نصیب فرمائے اور اپنے فضل و احسان سے نوازے (آمین)