حضرت عمر کے مناقب وفضائل کا بیان

Mishkaat-al-Masabih · Chapter 189 · 23 hadiths · Page 2 of 2

6002Mishkaat-al-Masabih

دین وملت کی غم گساری

وعن المسور بن مخرمة قال : لما طعن عمر جعل يألم فقال له ابن عباس وكأنه يجزعه : يا أمير المؤمنين ولا كل ذلك لقد صحبت رسول الله صلى الله عليه و سلم فأحسنت صحبته ثم فارقك وهو عنك راض ثم صحبت أبا بكر فأحسنت صحبته ثم فارقك وهو عنك راض ثم صحبت المسلمين فأحسنت صحبتهم ولئن فارقتهم لتفارقنهم وهم عنك راضون . قال : أما ما ذكرت من صحبة رسول الله صلى الله عليه و سلم ورضاه فإنما ذاك من من الله من به علي وأما ما ذكرت من صحبة أبي بكر ورضاه فإنما ذلك من من الله جل ذكره من به علي . وأما ما ترى من جزعي فهو من أجلك وأجل أصحابك والله لو أن لي طلاع الأرض ذهبا لافتديت به من عذاب الله عز و جل قبل أن أراه . رواه البخاري

اور حضرت مسور ابن مخرمہ کہتے ہیں حضرت عمر فاروق (ابو لؤلؤ کے خنجر سے) زخمی ہوئے تو کرب یا بےچینی کا اظہار کرنے لگے (یعنی ان کی عیادت کے لئے آنے والوں کو ایسا لگتا تھا جیسے فاروق اعظم زخم کی اذیت سے شدید کرب اور بےچینی میں ہیں جس کا اظہار کراہ وغیرہ کی صورت میں ہورہا ہے) چناچہ حضرت عبداللہ ابن عباس نے (یہ صورت دیکھ کر) گویا حضرت عمر کو فزع اور بےصبری کی نسبت دی (یا یہ کہ حضرت عمر کو تسلی وتشفی دی) اور کہا کہ امیرالمؤمنین! یہ سب (یعنی جزع وفزع اور بےقراری وبے صبری کا اظہار آپ کی شان کے شایاں) نہیں ہے آپ تو وہ ہستی ہیں جس کو رسول کریم ﷺ کی صحبت ورفاقت کا شرف حاصل ہوا اور بہت اچھی صحبت حاصل ہوئی (بایں طور کہ) آپ نے رفاقت رسول کا کامل حق ادا کیا اور تمام تر آداب و شرائط پورے کرکے آنحضرت ﷺ کی صحبت و خدمت سے فیضیاب ہوئے اور رسول کریم ﷺ اس حال میں آپ سے ہوئے کہ آپ سے راضی وخوش تھے (جس کا ثبوت یہ ارشاد رسول ﷺ ہے کہ فرمایا اگر میرے بعد کوئی نبی ہوتا تو وہ عمر ہوتے) پھر ابوبکر کی رفاقت ومجالست آپ کو نصیب ہوئی اور ان کے ساتھ بھی آپ کی رفاقت بہت اچھی رہی یہاں تک کہ جب وہ آپ سے جدا ہوئے تو آپ سے خوش تھے۔ اس کا ثبوت یہ ہے کہ انہوں نے آپ ہی کو اپنا نے جانشین نامزد فرمایا اور پھر (اپنی خلافت کے زمانہ میں) آپ مسلمانوں کو خدمت ورفاقت کا موقع ملا اور ان کی خدمت ورفاقت کا فریضہ بھی آپ نے بڑی اچھی طرح نبھایا (کہ مسلمانوں کے ساتھ عدل و انصاف، رعایا پروری اور کامیاب ترین حکمرانی میں آپ کے نام کا ڈنکا چار دوانگ عالم میں بج اٹھا) اب اگر مسلمانوں سے جدا ہونگے تو اس حال میں جدا ہوں گے کہ تمام مسلمان آپ سے راضی وخوش ہیں۔ فاروق اعظم نے ( یہ سن کر) فرمایا (اے عباس) تم نے آنحضرت ﷺ کی صحبت اور آپ ﷺ کی رضا و خوشنودی کا جو ذکر کیا ہے یہ اللہ تعالیٰ کا ایک بڑا احسان ہے جو اس نے محض اپنے فضل و کرم سے مجھ پر کیا ہے، اسی طرح تم نے حضرت ابوبکر کی صحبت ورفاقت اور ان کی خوشنودی کا جو ذکر کیا ہے تو وہ بھی اللہ تعالیٰ ہی کا ایک بڑا احسان ہے جس کے ذریعہ اس نے محض اپنے فضل و کرم سے مجھے سرفراز کیا۔ رہی میری بےصبری وبے قراری جو تم دیکھ رہے ہو تو (اس کا تعلق زخم کی تکلیف اور درد وبے چینی پر جزع ونزع سے نہیں ہے بلکہ درحقیقت) یہ تمہارے اور تمہارے دوستوں اور ساتھیوں کے سبب سے ہے۔ خدا کی قسم اگر میرے پاس تمام زمین کے برابر سونا ہو تو میں اس کو اللہ کے عذاب کے بدلے میں قربان کردوں اس سے پہلے کہ میں اللہ کو (یا اللہ کے عذاب کو) دیکھوں۔ (بخاری) تشریح حضرت ابن عباس نے گویا اس طرف اشارہ کیا کہ جب اللہ کا رسول آپ سے راضی وخوش گیا اللہ کے رسول کا چہیتا آپ سے راضی وخوش ہے اور آپ اپنے اللہ سے راضی وخوش ہیں اس صورت میں تو آپ اس ارشاد ربانی کی بشارت کا مصداق ہیں یایتہا النفس المطمئنۃ ارجعی الی ربک راضیۃ مرضیۃ۔ اے اطمینان والی روح تو اپنے پروردگار (کے جوار رحمت) کی طرف چل اس طرح سے کہ تو اس سے خوش اور وہ تجھ سے خوش۔ پھر آپ اتنا پریشان کیوں ہیں، اتنی بےقراری کیوں ہے، اس زخم کی تکلیف نے آپ کو بےچین کردیا ہے یا موت کے تصور نے؟ موت تو مؤمن کے لئے تحفہ ہے وہ تحفہ جو مقام اعلی میں بندہ کو اپنے آقا سے ملائے گا، رضائے مولیٰ کی ابدی نعمتوں اور سعادتوں تک پہنچائے گا۔ حضرت عمر نے حضرت ابن عباس کو جو جواب دیا اس کا حاصل یہ تھا کہ محض تمہارا خیال ہے کہ میری بےچینی وبے قراری زخم کی تکلیف یا موت کے خوف سے ہے، درحقیقت میرا یہ سارا اضطراب اور اظہار کرب تم لوگوں (اہل اسلام) کے مستقبل کے بارے میں چند خطرات وخدشات کا احساساتی تاثر ہے۔ میں ڈرتا رہا ہوں کہ کہیں میرے بعد فتنے سر نہ ابھارنے لگیں، اختلاف و انتشار اور دین سے بےتوجہی کی خرابیاں مسلمانوں میں نہ درآئیں، فتنہ و فساد کے وہ دروازے جن کو میں نے ملت اسلامیہ پر بڑی مضبوطی سے بند کر رکھا تھا ڈھیلے نہ پڑجائیں علاوہ ازیں خود اپنے بارے میں آخرت کا خوف بھی میرے لئے کچھ کم اضطرب انگیز نہیں ہے بیشک حق تعالیٰ نے مجھے بڑی بڑی سعادتوں سے نوازا اور اس دنیا میں مجھ پر بےپایاں فضل و انعام فرمایا لیکن میں نے حق تعالیٰ کے حقوق کی ادائیگی میں جو جو کو تاہیاں کی ہیں ان پر آخرت میں مواخذہ بھی ہوسکتا ہے، اگر عدل الٰہی نے مجھے مستوجب عذاب گردان دیا تو کیا حشر ہوگا، استیعاب میں منقول ہے کہ حضرت عمر فاروق جب زخمی ہو کر گرے تو اپنے بیٹے حضرت عبداللہ ابن عمر کی گود میں سر رکھے پڑے تھے اور بار بار کہہ رہے تھے ظلوما لنفسی غیرانی مسلم اصلی صلاتی کلہا واصوم میں نے اپنے نفس پر بڑا ہی ظلم کرنے والا ہوں باوجودیکہ میں مسلمان ہوں، تمام نمازیں بھی پڑھتا ہوں اور روزے بھی رکھتا ہوں۔

6003Mishkaat-al-Masabih

قاتلانہ حملہ اور شہادت

مدینہ منورہ میں ایک پارسی غلام فیروز نام کا تھا جس کی کنیت ابولؤلؤ تھی، اس نے ایک دن حضرت عمر فاروق کی خدمت میں حاضر ہو کر اپنے آقا مغیرہ ابن شعبہ کی شکایت کی کہ انہوں نے مجھ پر بہت بھاری ٹیکس عائد کر رکھا ہے آپ کم کرا دیجئے۔ حضرت عمر نے اس ٹیکس کی مقدار اور اس کے کام کی صلاحیت وآمدنی وغیرہ کے بارے میں معلومات حاصل کر کے اس سے کہا کہ یہ ٹیکس کچھ زائد نہیں ہے، ابولؤلؤ یہ سن کر دل میں سخت ناراض ہوا اور حضرت عمر کے پاس سے واپس چلا گیا۔ دوسرے دن ابولؤلؤ ایک زہر الود دو دھاری خنجر لے کر اندھیرے منہ مسجد میں آکر ایک کونے میں چھپ گیا اور جب حضرت عمر فجر کی نماز کے لئے تشریف لائے اور امامت کے لئے آگے بڑھنے لگے تو اس نے دفعۃ ً گھات میں سے نکل کر ان پر خنجر کے چھ وار کئے، جن میں سے ایک ناف کے نیچے پڑا زخم اتنا کاری تھا کہ حضرت عمر تاب نہ لا کر فورًا گرپڑے، حضرت عبدالرحمن ابن عوف نے چھوٹی چھوٹی سورتیں پڑھ کر جلدی جلدی نماز پڑھائی، نماز کے بعد حضرت عمر کو اٹھا کر گھر لایا گیا۔ حملہ کے تین دن کے بعد حضرت عمر نے جان جاں آفریں کے سپرد کی اور محرم ٢٤ ھ کی پہلی تاریخ شنبہ کے دن مدفون ہوئے حضرت صہیب نے جنازہ کی نماز پڑھائی۔ بعض حضرات نے حملہ کا واقعہ ذی الحجہ ٢٣ ھ کی ٢٧ تاریخ چہار شنبہ کے دن کا لکھا ہے اور تاریخ مدفون ١٠ محرم ٢٤ ھ بروز یکشنبہ بیان کی ہے، حضرت عمر کی خلافت سارھے دس سال رہی اور عمر تحقیقی قول کے مطابق ٦٣ سال کی ہوئی، صحابہ اور تابعین کی ایک بڑی جماعت نے ان سے احادیث روایت کی ہیں جن میں حضرت ابوبکر اور باقی عشرہ مبشرہ صحابہ بھی شامل ہیں۔

6004Mishkaat-al-Masabih

حضرت عمر کی ایک بڑی کرامت

مستند کتابوں میں معتبر وثقہ راویوں کے حوالہ سے بیان کیا گیا ہے کہ جب مصر فتح ہوا تو وہاں کے عام (گورنر) حضرت عمر وبن العاص مقرر ہوئے ان سے ایک دن مصریوں نے آکر کہا کہ زمانہ قدیم سے دریائے نیل ہر سال ایک کنواری نوجوان لڑکی کی بھینٹ لیتا چلا آیا ہے، جب تک یہ بھینٹ نہیں دی جاتی پانی جاری نہیں ہوتا۔ اس کی صورت یہ ہوتی ہے کہ ہر سال چاند کی گیارہویں کی رات کو ایک نوجوان لڑکی کو اس کے والدین کی رضا مندی کے ساتھ بیش بہا کپڑے اور عمدہ زیور پہنا کر اور خوب بناؤ سنگھار کرکے دریا میں ڈال دیتے ہیں، اگر ایسا نہیں کیا جاتا تو دریا خشک ہونے لگتا ہے اور پھر شہروں اور دیہاتوں میں پانی کی کمی کے سبب قحط پڑجاتا ہے، حضرت عمروبن العاص نے مصریوں سے کہا کہ یہ ایک بےہودہ رسم ہے چونکہ اسلام میں اس طرح کی لغویات کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔ اس لئے میں اس کی اجازت نہیں دے سکتا چناچہ اس سال یہ رسم نہیں کی گئی اور دریائینیل تقریباً سوکھ گیا، پورے مصر میں قحط وخشک سالی کی سی کیفیت پیدا ہوجانے کے سبب اہل مصر ترک وطن پر مجبور ہونے لگے۔ حضرت عمر و بن العاص نے صورت حال کی تفصیلی رپورٹ حضرت عمر فاروق کی خدمت میں روانہ کی فاروق اعظم نے یہ رپورٹ دیکھی اور عمر وبن العاص کو لکھا کہ تم نے اس رسم پر عمل کرنے کی اجازت نہ دے کر بالکل ٹھیک کیا، واقعی اسلام اس طرح کی رسوم کی بیخ کنی کرتا ہے میں ایک پر چہ بھیج رہا ہوں تم اس کو دریائے نیل میں ڈال دینا اس پر چہ میں لکھا تھا۔ بسم اللہ الرحمن الرحیم بندہ اللہ عمر بن الخطاب امیر المؤمنین کی جانب سے دریائے نیل کے نام۔ بعد حمد وصلوۃ (اے دریائے نیل! ) اگر تو اپنے اختیار اور اپنی قوت سے بہتا ہے تو مجھ کو تجھ سے کچھ نہیں کہنا ہے اور اگر اللہ تعالیٰ کے حکم اور اس کی مرضی سے تو بہتا ہے تو میں اللہ واحدوقہار کے نام پر تجھ کو حکم دیتا ہوں کہ جاری اور رواں ہوجا، عمر و بن العاص عامل مصر نے اس پر چہ کو دریائے نیل میں ڈال دیا اور صبح اٹھ کر لوگوں نے دیکھا کہ ایک ہی رات میں دریائے نیل سولہ ہاتھ اوپر آگیا ہے اور پورے زور شور کے ساتھ رواں ہے اور پھر ہر سال چھ ہاتھ بڑھتا رہا۔ اس طرح اللہ تعالیٰ نے باشندگان مصر کی اس قدیم رسم کا خاتمہ کردیا اور اس دن سے اب تک دریائے نیل برابر جاری ہے۔