دکھلاوے کا نماز روزہ شرک ہے
وعنه أنه بكى فقيل له ما يبكيك ؟ قال شيء سمعت من رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول فذكرته فأبكاني سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول أتخوف على أمتي الشرك والشهوة الخفية قال قلت يا رسول الله أتشرك أمتك من بعدك ؟ قال نعم أما إنهم لا يعبدون شمسا ولا قمرا ولا حجرا ولا وثنا ولكن يراؤون بأعمالهم . والشهوة الخفية أن يصبح أحدهم صائما فتعرض له شهوة من شهواته فيترك صومه . رواه البيهقي في شعب الإيمان . ( حسن )
حضرت شداد بن اوس ؓ کے بارے میں منقول ہے کہ ایک موقع پر وہ رونے لگے پوچھا گیا کہ رونے کا سبب کیا ہے؟ انہوں نے جواب دیا کہ مجھے اس بات نے رلایا ہے کہ جو میں نے رسول ﷺ سے سنی تھی۔ اس وقت مجھے وہ بات یاد آگئی تو میں رونے پر مجبور ہوگیا اور وہ بات یہ ہے کہ آپ فرمایا کرتے تھے۔ میں اپنی امت پر شرک (یعنی شرک خفی) اور چھپی خواہشات سے خوف کھاتا ہوں۔ حضرت شداد ؓ کہتے ہیں کہ میں نے یہ سن کر عرض کیا کہ یا رسول اللہ! کیا آپ کی امت آپ ﷺ کے بعد شرک میں مبتلا ہوجائے گی؟ آپ ﷺ نے فرمایا۔ ہاں! یاد رکھو، میری امت کے لوگ سورج کو نہیں پوجیں گے، چاند کو نہیں پوجیں گے، پتھر کو نہیں پوجیں گے اور کھلم کھلا بت پرستی نہیں کریں گے (یعنی وہ شرک جلی میں تو نہیں مبتلا ہوں گے) لیکن لوگوں کو دکھلانے کے لئے نیک کام کریں گے۔ (اور یہ شرک خفی ہے جس میں وہ مبتلا ہوں گے (اور چھپی خواہش یہ کہ تم میں سے کوئی شخص روزہ کی حالت میں صبح کرے اور پھر اس پر نفسانی خواہشات میں سے کسی خواہش کا غلبہ ہوجائے جیسے کھانے کی خواہش غالب ہوجائے یا جنسی خواہش جاگ اٹھے اور وہ اس خواہش کے غلبہ کی وجہ سے کھانا کھا کر یا ہم بستری کر کے اپنا روزہ توڑ ڈالے جب کہ شرعی طور پر قابل اعتبار کسی ضرورت وحالت کے پیش آنے کے بغیر روزہ توڑنا حرام ہے۔ (احمد، بیہقی)
تشریح
مذکورہ خواہش کو چھپی خواہش اس اعتبار سے فرمایا گیا ہے کہ وہ روزہ کی نیت کے وقت گویا اس کے باطن میں پوشیدہ تھی، یعنی جب اس شخص نے روزہ کی نیت کی تھی اسی وقت اس نے اپنے نفس میں یہ خواہش چھپا رکھی تھی کہ اگر کوئی نفسانی تقاضا آیا تو روزہ توڑ دوں گا۔ واضح رہے کہ طیبی نے تو خواہش سے مراد کھانے وغیرہ کو قرار دیا ہے جیسا کہ اوپر بیان کیا گیا، لیکن زیادہ صحیح بات یہ ہے کہ چھپی ہوئی خواہش سے مراد نفسانی خواہشات میں خاص طور پر وہ نادرالوجود خواہش ہے۔ جو ہر وقت پیدا نہ ہوتی ہو بلکہ کسی خاص موقع پر اور کسی خاص وقت پیدا ہوجاتی ہو اور جب وہ خواہش سر ابھارتی ہو تو اس وقت اس کو پورا کرنے کا داعیہ طبعی طور پر اس طرح غالب آجاتا ہو کہ اس کی راہ میں کسی شرعی حکم کی مخالفت کا خوف بھی رکاوٹ نہ بناتا ہو، جیسا کہ روزہ کی مثال بیان کی گئی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا۔ ولا تبطولا اعمالکم۔ لیکن اس خواہش کی تکمیل کے لئے روزہ توڑنے والا یہ لحاظ نہ رکھے کہ میرے اس فعل کی وجہ سے اللہ کے حکم کی صریح نافرمانی ہوتی ہے۔ واضح رہے کہ از قسم عبادت وطاعت جو کام شروع کیا جاتا ہے وہ لازم ہوجاتا ہے اور اس کا پورا کرنا شرعا واجب ہوتا ہے۔
ریا کاری دجال کے فتنہ سے زیادہ خطرناک ہے
وعن أبي سعيد الخدري قال خرج علينا رسول الله صلى الله عليه وسلم ونحن نتذاكر المسيح الدجال فقال ألا أخبركم بما هو أخوف عليكم عندي من المسيح الدجال ؟ فقلنا بلى يا رسول الله قال الشرك الخفي أن يقوم الرجل فيصلي فيزيد صلاته لما يرى من نظر رجل . رواه ابن ماجه .
حضرت ابوسعید ؓ کہتے ہیں کہ ایک دن ہم لوگ آپ میں مسیح دجال کے فتنوں اور اس کے ابتلاء کا ذکر کر رہے تھے۔ کہ رسول کریم ﷺ آ کر ہمارے درمیان تشریف فرما ہوگئے اور پھر ہماری بات چیت سن کر فرمانے لگے کہ کیا میں تمہیں اس چیز کے بارے میں نہ بتلاؤں جو میرے نزدیک یعنی میری شرعیت اور میرے طریق میں تمہارے حق میں مسیح دجال کے فتنہ سے بھی زیادہ خوفناک ہے اور اس اعتبار سے اس کا لحاظ رکھنا اور اس سے اجتناب کرنا تمہارے لئے نہایت ضروری ہے ہم نے عرض کیا کہ ہاں یا رسول اللہ! اس چیز کے بارے میں ہمیں ضرور بتائیے آپ ﷺ نے فرمایا وہ چیز شرک خفی ہے اور شرک خفی اس چیز کو کہتے ہیں کہ مثلاً ایک آدمی نماز کے لئے کھڑا ہوتا ہے اور نماز پڑھتا ہے اور اس نماز کے تمام ارکان یا بعض ارکان میں کیفیت یا کمیت کے اعتبار سے غلو اور زیادتی کرتا ہے، محض اس لئے کہ کوئی شخص اس کو نماز پڑھتے دیکھ رہا ہے۔ (ابن ماجہ)
تشریح
ریاء کاری کی برائی کو دجال کے فتنہ سے زیادہ خوفناک اور پرخطر اس لئے فرمایا گیا ہے کہ دجال کے جھوٹے ہونے اور اس کی فتنہ انگیزیوں کو ظاہر کرنے کی نشانیاں اور علامتیں بہت ہیں اور بالکل کھلی ہوئی ہیں، جو صاحب صدق و ایمان کی اس سے محفوظ رکھنے کے لئے کافی ہوں گی۔ جب کہ ریاء کاری کا معاملہ نہایت پوشیدہ ہے اور جس کی برائی وفتنہ انگیزی میں ہر عمل میں ہر وقت اور ہر طرح سے معلوم نہیں ہوسکتی اور یہی وجہ ہے کہ اچھے اچھے لوگ بھی اس کے جال میں پھنس کر رہ جاتے ہیں۔
وعن محمود بن لبيد أن النبي صلى الله عليه وسلم قال إن أخوف ما أخاف عليكم الشرك الأصغر قالول يا رسول الله وما الشرك الأصغر ؟ قال الرياء . رواه أحمد . وزاد البيهقي في شعب الإيمان يقول الله لهم يوم يجازي العباد بأعمالهم اذهبوا إلى الذين كنتم تراؤون في الدنيا فانظروا هل تجدون عندهم جزاء وخيرا ؟ .
حضرت محمود بن لبید ؓ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا۔ مسلمانو! بہت زیادہ خوفناک چیز کہ جس سے میں تمہیں ڈراتا ہوں، شرک اصغر چھوٹے درجہ کا شرک ہے۔ صحابہ ؓ نے یہ سن کر عرض کیا کہ یا رسول اللہ! اور وہ شرک اصغر کیا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا۔ ریا۔ اور بیہقی نے شعب الایمان میں یہ الفاظ نقل کئے ہیں کہ اللہ تعالیٰ اس دن کہ جب وہ بندوں کو ان کے اعمال کا بدلہ دے گا۔ یعنی قیامت کے دن ریا کاروں سے فرمائے گا کہ تم ان لوگوں کے پاس جاؤ جن کو دکھلانے کے لئے تم عمل کرتے تھے اور دیکھو کہ تمہیں ان کے پاس جزا یا بھلائی ملتی ہے؟
وعن أبي سعيد الخدري قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم لو أن رجلا عمل عملا في صخرة لا باب لها ولا كوة خرج عمله إلى الناس كائنا ما كان .
حضرت ابوسعید خدری ؓ کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا۔ اگر کوئی شخص کسی ایسے بڑے پتھر کے اندر بھی کوئی نیک کام کرے کہ جس میں نہ تو کوئی دروازہ ہو اور نہ کوئی روشن دان، تو اس کا وہ عمل لوگوں میں مشہور ہوجائے گا خواہ وہ عمل کسی طرح کا ہو۔
تشریح
صخرۃ اصل میں تو بڑے پتھر کو کہتے ہیں لیکن یہاں اس لفظ سے مراد غار ہے۔ اور ہوسکتا ہے کہ اس لفظ سے اس کے اصل معنی یعنی بڑا پتھر ہی مراد ہو، اس صورت میں کہا جائے گا کہ مذکورہ مفہوم میں اس لفظ کا استعمال بطور مبالغہ ہے جس کا مفہوم یہ ہے کہ اگر یہ فرض کرلیا جائے کہ کوئی شخص پتھر کے اندر بھی گھس کر کوئی نیک کام کرے کہ جس میں نہ کوئی دروازہ ہوتا ہے اور نہ کوئی روشن دان اور اس طرح اس پتھر کے اندر نہ تو داخل ہو کر اور نہ باہر سے جھانک کر دیکھا جاسکتا ہے کہ اندر کون شخص کیا کام کر رہا ہے تو اس صورت میں بھی وہ شخص اپنے اس نیک کام کے ساتھ لوگوں میں بہت مشہور ہوجاتا ہے۔ کوہ یا کوۃ اس سوراخ کو کہتے ہیں جو دیوار و چھت میں ہوتا ہے۔ بعض حضرات نے اس لفظ کی یہ تفصیل بیان کی ہے کہ اگر وہ سوراخ آر پار ہو تو اس کو کوۃ (یعنی کاف کے پیش کے ساتھ) کہا جاتا ہے اور اگر آر پار نہ ہو تو کوۃ (کاف کے زبر کے ساتھ) کہلائے گا۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ اگر یہ لفظ حرف تاء کے ساتھ یعنی کوۃ ہو تو اس کے معنی اس سوراخ کے ہوں گے جو چھوٹا اور تنگ ہو اور اگر حرف تاء کے بغیر ہو یعنی کو ہو تو اس صورت میں اس کے معنی اس سوراخ کے ہوں گے جو بڑا اور کشادہ ہو اس روایت میں یہ لفظ چونکہ حرف تا کے ساتھ ہے اس لئے یہاں اس کے معنی اس سوراخ کے ہوں گے جو چھوٹا اور آر پار ہو اور حدیث کے مفہوم کے اعتبار سے یہی معنی مناسب بھی ہیں۔ بہرحال، حدیث کا حاصل یہ ہے کہ اچھے کام خواہ کتنے ہی پوشیدہ طور پر اور کیسی ہی تنہائی میں کیوں نہ کئے جائیں اور اس بات کی کتنی ہی کوشش کیوں نہ کی جائے کہ وہ اچھے کام لوگوں کے علم میں نہ آئیں مگر پھر بھی وہ لوگوں پر عیاں ہوجاتے ہیں پس اللہ تعالیٰ کی مصلحت اگر خود اس بات کا تقاضا کرتی ہے کہ نیک بندوں کے نیک عمل جو صدق و اخلاص کے ساتھ صادر ہوتے ہیں، لوگوں پر آشکارا ہوں، تاکہ ایک دوسرے کو اسی طرح نیک راہ اختیار کرنے کی ترغیب حاصل ہو تو پھر اس کی کیا ضرورت رہ جاتی ہے کہ کوئی شخص اپنے نیک عمل کو ظاہر کرنے کے لئے ریاکاری کی حد تک پہنچ جائے اور اس کی قبولیت وثواب سے خواہ مخواہ محروم رہے۔ یا حدیث کے یہ معنی ہیں کہ مخلص بندہ کو چاہئے کہ وہ اپنے اچھے کاموں کو چھپائے اور اخلاص حاصل کرنے میں زیادہ سے زیادہ احتیاط وسعی کرے کیونکہ بندوں کے نیک عمل ایسی جگہوں سے بھی ظاہر ہوجاتے ہیں جہاں سے ظاہر ہوجانے کی ان کو خبر بھی نہیں ہوتی اور جن کے آشکارا ہونے میں اس کے قصد و اختیار کو دخل بھی نہیں ہوتا۔
اللہ تعالیٰ ہر پوشیدہ اچھی یا بری عادت کو آشکارا کردیتا ہے
وعن عثمان بن عفان قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم من كانت له سريرة صالحة أو سيئة أظهر الله منها رداء يعرف به .
حضرت عثمان بن عفان ؓ کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا۔ جس شخص کے اندر کوئی اچھی یا بری عادت وخصلت چھپی ہوئی ہوتی ہے تو اللہ تعالیٰ اس عادت وخصلت کو نمایا کرنے والے کوئی ایسی چیز پیدا کردیتا ہے جس کے ذریعہ وہ شخص اس عادت وخصلت کے ساتھ شناخت کرلیا جاتا ہے۔
نفاق کی برائی نہایت خوفناک ہے
وعن عمر بن الخطاب عن النبي صلى الله عليه وسلم قال إنما أخاف على هذه الأمة كل منافق يتكلم بالحكمة ويعمل بالجور روى البيهقي الأحاديث الثلاثة في شعب الإيمان .
حضرت عمر بن الخطاب ؓ نبی کریم ﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا۔ میں اس امت (یعنی امت محمدیہ ﷺ کے بارے میں جس چیز سے ڈرتا ہوں وہ ہر منافق (یعنی ریا کار یا فاسق) کا شر ہے جو باتیں تو علم وحکم اور موعظت ونصیھت کی کرتا ہے، لیکن کام ظلم و زیادتی اور ناراستی کے کرتا ہے۔ ان تینوں روایتوں کو بیہقی نے شعب الایمان میں نقل کیا ہے۔
تشریح
یہ ان لوگوں کی خصلت بتائی گئی ہے جو لوگوں کو دیکھا نے کے لئے باتیں تو بڑی اچھی اچھی کرتے ہیں مگر خود ان باتوں پر عمل کرتے نہیں اور اسی چیز کو نفاق کہا جاتا ہے۔ چناچہ حضور ﷺ نے فرمایا کہ میں اپنی امت کے حق میں ایسے ہی لوگوں کے وجود اور اس کی بری خصلت سے ڈرتا ہوں کہ مبادا اس قسم کے لوگ میری امت میں پیدا ہوجائیں گے اور بری خصلت اس امت محمدیہ کے درمیان راہ پا کر مسلمانوں کو فتنہ و فساد اور آلام و مصائب میں مبتلا کر دے۔
وعن المهاجر بن حبيب قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم قال الله تعالى إني لست كل كلام الحكيم أتقبل ولكني أتقبل همه وهواه فإن كان همه وهواه في طاعتي جعلت صمته حمدا لي ووقارا وإن لم يتكلم رواه الدارمي .
حضرت مہاجر بن حبیب ؓ کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ میں عقلمند ودانشور کی ہر بات کو قبول نہیں کرتا (یعنی میرا دستور یہ نہیں ہے کہ عالم وفاضل اور علمند و دانا شخص جو بات بھی کہے اس کو قبول کرلوں) بلکہ میں اس کے قصد و ارادہ کو اور اس کی محبت ونیت کو قبول کرتا ہوں (یعنی یہ دیکھتا ہوں کہ اس نے جو بات کہی ہے وہ کس قصد و ارادہ اور کس نیت کے ساتھ کہی ہے) پس اگر اس کی نیت و محبت میری طاعت و فرمانبرداری کے تئیں ہوتی ہے تو میں اس کی خاموشی کو بھی اپنی حمد و ثنا اور اس کے حلم و وقار کے مرادف قرار دیتا ہوں اگرچہ وہ کوئی بات نہ کہے۔ (دارمی)
تشریح
مطلب یہ ہے کہ اللہ کے نزدیک محض گفتار کے غازی کی کوئی اہمیت نہیں ہے، وہاں تو یہ دیکھا جاتا ہے کہ بات کہنے والا دانش و حکمت سے قطع نظر اپنی نیت میں کتنا مخلص ہے۔ اگر وہ اللہ کی اطاعت و فرمانبرداری کی نیت اور اپنے دل میں اللہ کے احکام کی محبت و عظمت رکھتا ہے تو اس کی خاموشی بھی علم و وقار کا مایہ افتخار اور اللہ کے نزدیک مستحسن و محمود قرار پاتی ہے کہ اگر وہ زبان سے کچھ نہ کہے تو بھی وہ ایسا ہی سمجھا جاتا ہے۔ جیسا کہ اللہ کی حمد و ثنا میں رطب اللسان ہے۔ اور اگر اس کی نیت اللہ کی اطاعت اور فرمانبرداری کی نہ ہو اور اس کے دل میں احکام الٰہی کی عظمت و محبت کا فقدان ہو تو اس کی ہر بات لغو اور ناقابل اعتناء قرار پاتی ہے اگرچہ اس کے الفاظ ومعنی علم و حکمت سے کتنے ہی پر کیوں نہ ہوں کیونکہ اس صورت میں اس کے علاوہ اور کچھ نہیں سمجھا جاسکتا کہ وہ ریا کاری میں مبتلا ہے اور جو بھی بات کہہ رہا ہے، اس کا مقصد لوگوں کو دکھانا سنانا اور اس کے ذریعہ شہرت وناموری حاصل کرنا ہے۔