معاملات میں احتراز اور توقف کرنے کا بیان

Mishkaat-al-Masabih · Chapter 147 · 25 hadiths · Page 2 of 2

4941Mishkaat-al-Masabih

خدا کے ساتھ حسن ظن کی فضیلت

وعن أبي هريرة قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم حسن الظن من حسن العبادة . رواه أحمد وأبو داود

اور حضرت ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اچھا گمان رکھنا من جملہ بہترین عبادات کے ہے۔ (احمد، ابوداؤد) تشریح مطلب یہ ہے کہ جن اعمال کو عبادات حسنہ کہا جاتا ہے ان میں سے ایک بہترین چیز اور بہترین عبادت یہ بھی ہے کہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ اچھا گمان رکھا جائے لہذا ضروری ہے کہ عبادتوں کو ترک نہ کیا جائے واضح رہے کہ جاہل عوام یہ گمان کرتے ہیں کہ اللہ کے ساتھ حسن ظن کا مطلب یہ ہے کہ اگر عبادتیں ترک ہوتی ہیں تو ہونے دو۔ البتہ اللہ کی ذات پر اعتماد ہونا چاہیے کہ وہ کریم اور غفور ہے جو تارک عبادت کو بھی یقینا بخش دے گا یہ گمان نہایت گمراہی کا سبب ہے اور شیطان کے فریب میں پھنس جانے کا نتیجہ ہے علماء نے لکھا ہے کہ جو شخص عبادتوں کو ترک کرے اور معبود کے ساتھ حسن ظن کا دعوی کرے وہ یقینا مغرور و مردود ہے۔ یہ احتمال بھی ہے کہ اچھے گمان کا تعلق اللہ کے بجائے مسلمانوں کے بارے میں خیر و صلاح کا عقیدہ رکھنا من جملہ عبادات حسنہ کے ہے۔ یا یہ کہ یہ ایک ایسی صفت ہے جو عبادتوں میں حسن و کمال پیدا کرتی ہے اور ثواب کا درجہ بڑھاتی ہے اس کا حاصل یہ نکلا کہ جو شخص عبادات گزارو نیکوکار ہوتا ہے وہ دوسروں کے بارے میں ہمیشہ اچھا گمان اور نیک خیال رکھتا ہے اور بدگمانی رکھنے والا بدکار کے علاوہ اور کوئی نہیں ہوسکتا۔ بدگماں باشد ہمیشہ زشت کار نامہ خود خواند اندر حق یار

4942Mishkaat-al-Masabih

ایک زوجہ مطہرہ کی بد گوئی اور آنحضرت ﷺ کی ناراضگی

وعن عائشة قالت اعتل بعير لصفية وعند زينب فضل ظهر فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم لزينب أعطيها بعيرا . فقالت أنا أعطي تلك اليهودية ؟ فغضب رسول الله صلى الله عليه وسلم فهجرها ذا الحجة والمحرم وبعض صفر . رواه أبو داود . وذكر حديث معاذ بن أنس من حمى مؤمنا في باب الشفقة والرحمة

اور حضرت عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ ایک مرتبہ صفیہ ؓ کا اونٹ بیمار ہوگیا اس وقت زینب کے پاس ان کی ضرورت سے زیادہ سواری تھی یعنی ان کے پاس ایک اونٹ ضرورت سے زیادہ تھا لہذا رسول اللہ ﷺ نے زینب سے فرمایا کہ تم اپنا وہ اونٹ صفیہ ؓ کو دے دو زینب ؓ نے جواب دیا کہ بھلا میں اس یہودیہ کو اپنا اونٹ دوں گی، یعنی انہوں نے صفیہ ؓ کو اپنا اونٹ دینے سے انکار ہی نہیں کیا بلکہ ان کے بارے میں نازیبا الفاظ بھی بیان کئے چناچہ رسول اللہ ان سے سخت ناراض ہوئے یہاں تک کہ آپ نے ذی الحجہ اور محرم کے پورے مہینے اور ماہ صفر کے کچھ دنوں تک ان سے ملنا جلنا چھوڑے رکھا (ابوداؤد) اور حضرت معاذ بن انس ؓ کی روایت من حمی مومناالخ باب الشفعہ میں نقل کی جا چکی ہے۔ تشریح حضرت صفیہ ؓ ایک یہودی حی بن اخطب کا سلسلہ نسب چونکہ اوپر جا کر حضرت ہارون (علیہ السلام) سے مل جاتا تھا اس لئے ان کو ایک پیغمبر یعنی حضرت ہارون (علیہ السلام) کی اولا میں سے ہونے کا نسبی شرف بھی حاصل تھا حضرت صفیہ ؓ کی پہلی شادی ایک یہودی ابوالحقیق سے ہوئی تھی جب جنگ خیبر میں وہ مارا گیا اور صفیہ قیدی بن کر بارگاہ رسالت میں لائی گئیں تو حضور ﷺ نے ان کو رہا کردیا اور پھر ان سے عقد کرلیا آنحضرت ﷺ کی بعض ازواج ان کو ناپسند کرتی تھیں اور خود حضرت عائشہ ؓ بھی انہیں میں سے تھیں لیکن آنحضرت ﷺ کو دوسری ازواج کی طرح ان سے بھی برابر کا تعلق تھا اور ان کی حمایت و رعایت کرتے تھے ایک دن حضرت عائشہ ؓ نے کسی بات پر حضرت صفیہ ؓ کو یہودیہ کہا اور کچھ سخت سست بھی کہا انہوں نے آنحضرت ﷺ سے شکایت کی حضور ﷺ نے ان سے فرمایا کہ تم عائشہ ؓ سے کہو کہ تم ابوبکر کی بیٹی ہو اور میں پیغمبر زادی ہوں۔ حضرت زینب ؓ بھی آنحضرت ﷺ کی زوجہ مطہرہ تھیں پہلے ان کا نام برہ تھا اور پہلی شادی عبداللہ ابن زمعہ سے ہوئی تھی جب یہ حضور ﷺ کے عقد میں آئیں تو آپ نے ان کا نام زینب ؓ رکھا۔ اس حدیث سے یہ بات تو معلوم ہوئی کہ کسی شخص کو اس کی گزشتہ زندگی کے تعلق کا طعنہ دینا اس کی حقارت کرنا نہایت نازیبا بات ہے دوسری بات یہ کہ آنحضرت ﷺ حضرت زینب ؓ کی بد گوئی پر ان سے سخت ناراض ہوئے اور ایک طویل عرصہ تک ان سے ترک ملاقات اختیار کی اور یہ اس بات کی دلیل ہے کہ کسی شرعی مصلحت کی بنا پر کسی مسلمان سے تین دن سے زائد بھی ترک ملاقات کی جاسکتی ہے مثلا اگر کوئی شخص کسی قبیح فعل کا مرتکب ہو تو اس کی تادیب کی خاطر نہ کہ کسی بغض و عداوت کی خاطر اس سے تین دن سے زیادہ بھی ملنا جلنا چھوڑے رکھنا جائز ہے جیسا کہ پہلے بھی بیان کیا جا چکا ہے۔

4943Mishkaat-al-Masabih

قسم کا بہرحال اعتبار کرو

عن أبي هريرة قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم رأى عيسى بن مريم رجلا يسرق فقال له عيسى سرقت ؟ قال كلا والذي لا إله إلا هو . فقال عيسى آمنت بالله وكذبت نفسي . رواه مسلم

اور حضرت ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ایک مرتبہ حضرت عیسیٰ بن مریم (علیہ السلام) نے ایک شخص کو چوری کرتے ہوئے دیکھ لیا حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) نے اس شخص سے کہا تم نے چوری کی ہے اس شخص نے کہا ہرگز نہیں اس ذات پاک کی قسم جس کے سوا کوئی معبود نہیں میں نے چوری نہیں کی ہے۔ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) نے اس کو اس طرح قسم کھاتے ہوئے سنا تو کہا میں اللہ پر ایمان لایا اور اپنے نفس کو جھوٹا قرار دیا۔ (مسلم) تشریح میں اللہ پر ایمان لایا یعنی تم نے اپنی ہی قسم میں اللہ کی وحدانیت کا جو ذکر کیا ہے میں اس پر اپنے ایمان و اعقاد کا اقرار کرتا ہوں یہ جملہ مفہوم کے اعتبار سے یوں ہے کہ تم نے اللہ کی جو قسم کھائی ہے میں اس کا اعتبار کرتا ہوں اور اپنے نفس کو اس بات کے کہنے میں جھوٹا قرار دیتا ہوں کہ تم نے چوری کی ہے اگرچہ میرا یہ کہنا ظاہری حالات میں غمازی کی بنا پر تھا یہ وضاحت اس احتمال کے پیش نظر ہے کہ ہوسکتا ہے کہ اس شخص نے کہیں سے کوئی چیز اس کے مالک سے پوشیدہ طور پر اٹھائی ہوگی اس بنا پر حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) نے سمجھا کہ اس شخص نے چوری کی ہے لیکن اس نے اول تو اللہ کی قسم کھا کر چوری سے انکار کیا اور دوسرے اس موقع پر ایسی کوئی شرط نہیں پائی گئی ہوگی جس کا چوری کے ثبوت کے لئے اور چوری کی سزا یعنی حد جاری کرنے کے لئے پایا جانا شرعی طور پر ضروری ہوتا ہے اس لئے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) نے اس شخص کی قسم کو تسلیم کرلیا اور اپنی بات کو غلط قرار دیا۔ حضرت شیخ عبدالحق نے یہ مطلب لکھا ہے کہ میں تمہیں تمہاری قسم میں سچا مانتا ہوں اپنے اس گمان سے رجوع کرتا ہوں جو میں نے تمہارے بارے میں قائم کیا تھا اور مذکورہ بات کے کہنے میں اپنے نفس کو جھوٹا قرار دیتا ہوں اس سے معلوم ہوا کہ اگر کوئی شخص کسی بات پر اللہ کی قسم کھائے تو اگرچہ اس کی وہ بات حقیقت کے کتنی ہی خلاف معلوم ہوتی ہو لیکن چاہیے یہی کہ اپنے گمان اور اپنی معلومات کو غلط قرار دیا جائے اور اللہ کے نام کی تعظیم کے پیش نظر اس کی قسم کا اعتبار کیا جائے۔

4944Mishkaat-al-Masabih

حسد اور افلاس کی برائی۔

وعن أنس قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم كاد الفقر أن يكون كفرا وكاد الحسد أن يغلب القدر

اور حضرت انس ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا فقر افلاس و قریب ہے کہ کفر کی حد تک پہنچا دے اور حسد قریب ہے کہ تقدیر پر غالب آجائے۔ تشریح حدیث کے پہلے جز کا مطلب یہ ہے کہ فقر و افلاس اور تنگدستی ایسی بری چیز ہے کہ بسا اوقات انسان اس سے مجبور ہو کر کفر کی حد تک پہنچ سکتا ہے چناچہ جو فقیر مفلس، صبر استقامت کی طاقت کھو کر قلبی افلاس میں مبتلا ہوجاتا ہے وہ اللہ کی ذات پر اعتماد بھروسہ کے دامن کو ہاتھ سے چھوڑ بیٹھتا ہے اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ وہ نہایت مایوسی کے عالم میں اللہ کے نظام قدرت پر اعتراض کرنے لگتا ہے یا تقدیر الٰہی کا شکوہ گلا کر کے اللہ کے حکم و فیصلہ پر ہر حالت میں راضی رہنے کے تقاضا کو پس پشت ڈال دیتا ہے یا اللہ کے آگے ہاتھ پھیلانے کی بجائے غیر اللہ کے سامنے دست سوال کرنے لگتا ہے اور ماسواء اللہ کو اپنا حاجت روا ماننے لگتا ہے اور یا جب وہ دیکھتا ہے کہ اکثر کافر مال دار ہیں اور عیش کی زندگی بسر کرتے ہیں اور ان کے برخلاف اکثر مسلمان افلاس تنگدستی کی آزمائش میں مبتلا ہیں تو وہ کفر کی طرف مائل ہونے سے بھی دریغ نہیں کرتا اور ظاہر ہے کہ یہ چیزیں انسان کو کفر تک پہنچا دیتی ہیں۔ حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ فقر و افلاس در اصل مسلمانوں کے لئے ایک آزمائش اور امتحان کا درجہ رکھتا ہے چناچہ جو لوگ اس حقیقت کو جانتے ہیں اور مال و دولت اور دنیاوی زندگی کے اعتبار سے مفلس و قلاش ہونے کے باوجود اپنے دل کو غنی رکھتے ہیں اور تقدیر الٰہی پر صابر و شاکر رہ کر اس امتحان و آزمائش میں پورے اترتے ہیں ان کے حق میں وہی فقر و افلاس ایمان کی پختگی اور ترقی درجات کا ضامن بن جاتا ہے لہذا جو مسلمان مال و دولت سے نہی دست اور فقر و افلاس میں مبتلا ہوں اور تمام تر انسانی تدابیر اور محنت و مشقت کے باوجود تنگی حالات سے نجات نہ پاتے ہوں ان کو چاہے کہ وہ اپنی اس حالت کو اللہ کی طرف سے امتحان و آذمائش سمجھیں اور یہ یقین کرلیں کہ یہ دنیا اور دنیا کی ساری پریشانیاں مرد مومن کے لئے ایک ایسا وقفہ حیات ہے جس میں اگر صبر و استقامت اور اللہ کی ذات پر توکل کی دولت نصیب ہوگئی تو کبھی نہ کبھی دنیا میں بھی حالات تبدیل ہوسکتے ہیں اور آخرت کی فلاح و کامیابی تو یقینا نصیب ہوگی اور یہاں کی ساری کلفتیں اور پریشانیاں وہاں کی بےپایاں نعتموں اور لازوال آسائشوں میں تبدیل ہوجائیں گی حضور ﷺ نے ارشاد فرمایا یہ دنیا مومن کے لئے قید خانہ اور کافر کے لئے جنت ہے اور جو مسلمان اس قید خانہ کی تکلیف و مصائب کو خندہ پیشانی کے ساتھ انگیز کرلے ان کے لئے اللہ نے آخرت کی بےپایاں انعامات کا وعدہ کیا ہے قرآن کریم میں ایک موقع پر اللہ تعالیٰ نے یوں فرمایا ہے۔ آیت (لایغرنک تقلب الذین کفروا فی البلاد)۔۔۔۔۔ الخ۔۔ اے مومن تجھ کو ان کافروں کا شہروں میں چلنا پھرنا مغالطہ میں نہ ڈالے کیونکہ یہ چند روزہ بہار ہے پھر ان کا ٹھکانہ ہمیشہ کے لئے دوزخ ہوگا وہ برا ہی مقام ہے لیکن جو لوگ اللہ سے ڈریں اور مسلمان ہوجائیں ان کے لئے باغات ہیں جن کے نیچے نہریں جاری ہوں گی اور وہ ان میں ہمیشہ رہیں گے یہ ان کی مہمانی ہوگی اللہ کی طرف سے اور جو چیزیں اللہ کے پاس ہیں یہ نیک بندوں کے لئے بدرجہا بہتر ہیں۔ منقول ہے کہ بعض صحابہ جب کفار مشرکین کی تجارتی سرگرمیوں ان کے یہاں مال و دولت کی ریل پیل کو دیکھتے اور ان کو دنیا کی راحت و آسائش میں دیکھتے تو ان کی زبان پر یہ الفاظ آجاتے تھے کہ یہ لوگ جو اللہ کے دشمن ہیں ان کا حال تو ہم بڑا اچھا دیکھتے ہیں لیکن ہم محنت و مشقت کی سختیوں اور افلاس بھوک کی جانکاہیوں سے دم توڑتے نظر آ رہے ہیں اس پر مذکورہ بالا آیت نازل ہوئی اور مسلمانوں کو بتایا گیا کہ دنیا کا یہ آرام و چین اور یہاں کی ساری عیاشی چند روزہ ہے ان کو جلد ہی فنا ہوجانا ہے لیکن تمہیں آخرت کا جو آرام و چین اور وہاں کی جو آسائشیں اور راحت نصیب ہونے والی ہے وہ لازوال ہیں جن کو کبھی فنا نہیں آئے گی لہذا تم لوگ فنا ہونے والے چین اور چند روزہ کی راحت کی تمنا نہ کرو بلکہ ان نعمتوں کے امیدوار رہو جو ہمیشہ ہمیشہ باقی رہنے والی ہیں۔ جس طرح فقر و افلاس بسا اوقات کفر کی حد تک پہنچا دیتا ہے اسی طرح بسا اوقات مال و دولت کی زیادتی بھی گمراہ کردیتی ہے دولت مندی کا نشہ انسان کو تمردو سرکشی میں مبتلا کردیتا ہے اور حد سے زیادہ راحت و آسائش کا فتنہ گناہ معصیت کے اندھیروں میں پھینک دیتا ہے اسی لئے کہا جاتا ہے کہ خواہ مالداری ہو یا افلاس ان دونوں کا معتدل طور پر رہنا زندگی کو گمراہی کی ضلالت سے بچا سکتا ہے چناچہ وہ فقر افلاس جس کو انگیز کیا جاسکتا ہو مایوسی اور کفر کی حد تک پہنچنے سے روکے رکھتا ہے اور بقدر ضرورت مال و دولت کا ملنا سرمایہ داری کے نشہ سے محفوظ رکھتا ہے جس کی وجہ سے تمرد سرکشی اور گناہ و معصیت کا خدشنہ نہیں رہتا لہذا خیر الامور اوسطھا کا اصول ان دونوں پر بھی صادق آتا ہے۔ حدیث کے دوسرے جز اور حسد قریب ہے کہ تقدیر الٰہی پر غالب آجائے گا مطلب یہ ہے کہ بفرض محال کوئی ایسی چیز ہوتی جو تقدیر پر غالب آجاتی اور اس کو بدل دینے کی طاقت رکھتی تو وہ حسد ہوتا اور بعض حضرات نے یہ مطلب بیان کیا ہے کہ حسد، حاسد کو اس گمراہ کن گمان تک لے جاتا ہے کہ وہ تقدیر الٰہی کو بھی بدل سکتا ہے۔

4945Mishkaat-al-Masabih

عذر خواہی کو قبول کرو

وعن جابر عن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال من اعتذر إلى أخيه فلم يعذره أو لم يقبل عذره كان عليه مثل خطيئة صاحب المكس . رواهما البيهقي في شعب الإيمان وقال المكاس العشار

اور حضرت جابر ؓ رسول اللہ ﷺ سے نقل کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا جو شخص اپنے مسلمان بھائی سے اپنے کسی قصور پر عذر خواہی کرے اور وہ مسلمان شخص اس کو معذور قرار نہ دے یا اس کے عذر کو قبول نہ کرے یعنی یوں کہے کہ تم عذر تو رکھتے ہو مگر میں تمہارے عذر کو قبول نہیں کرتا تو وہ اسی درجہ گنہ گار ہوگا جس درجہ کا صاحب مکس گنہ گار ہوتا ہے ان دونوں حدیثوں کو بہیقی نے شعب الایمان میں نقل کیا ہے اور کہا ہے کہ مک اس عشر لینے والے کو کہتے ہیں۔ تشریح مکس کے معنی ہیں محصول لینا اسی اعتبار سے عشر لینے کا مک اس کہا جاتا ہے اور عام طور پر صاحب مکس کا اطلاق اس شخص پر ہوتا ہے جو از راہ ظلم وتعدی ناحق محصولات وصول کرے ناحق اور خلاف شرع محصولات لگانے اور وصول کرنے کا گناہ بہت سخت ہے ایک حدیث میں یہ فرمایا گیا ہے کہ صاحب مکس جنت میں نہیں جائے گا عذر خواہی کو قبول نہ کرنے والے اور صاحب مکس کے درمیان مشابہت کی وجہ شاید یہ ہے کہ مذکورہ شخص کی طرح مکس بھی محصول دہندہ کے کسی عذر اور دلیل کو قبول نہیں کرتا کوئی تاجر لاکھ کہے کہ مجھ پر اس قدر محصول عائد نہیں ہوتا میرے پاس مال تجارت کا نہیں ہے بلکہ امانت کا ہے اور یا یہ کہ میں قرض دار ہوں یہ محصول ادا نہیں کرسکتا وغیرہ مگر وہ اس کی بات کو تسلیم نہیں کرتا اس سے زبردستی محصول وصول کرلیتا ہے۔ عذر خواہی کو قبول نہ کرنے کی مذمت اور اس سے گناہ کے بارے میں حدیث بھی منقول ہے کہ چناچہ طبرانی نے وسط میں حضرت عائشہ ؓ سے نقل کیا ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا۔ من اعتذر الی اخیہ المسلم فلم یقبل عذرہ لم یرد علی الحوض۔ اگر کسی شخص نے اپنے کسی مسلمان بھائی سے عذر خواہی کی اور اس نے اس کے عذر کو قبول نہیں کیا تو اس کو حوض کوثر پر آنا نصیب نہیں ہوگا۔ طبرانی اور دوسرے محدثین نے حضرت ابن عباس ؓ کی یہ روایت نقل کی ہے کہ حضور نے فرمایا کیا میں تمہیں بتاؤں کہ تم میں برا شخص کون ہے صحابہ ؓ نے یہ سن کر عرض کیا یا رسول اللہ ہاں اگر آپ اس کو بہتر سمجھیں تو ضرور بتائیں نبی ﷺ نے فرمایا تم میں برا شخص وہ ہے جو تنہا کسی منزل پر اترے اپنے غلام کو کوڑے مارے اور اپی عطا و بخشش سے محروم رکھے پھر فرمایا کیا میں تمہیں بتاؤں کہ اس سے بھی برا شخص کون ہے صحابہ ؓ نے عرض کیا ہاں اگر آپ اس کو بہتر سمجھیں حضور ﷺ نے فرمایا وہ شخص جو قصور کرنے والے کے عذر کو تسلیم نہ کرے معذرت کو قبول نہ کرے اور خطا کو معاف نہ کرے پھر فرمایا کیا میں تمہیں بتاؤں کہ اس سے بھی برا شخص کون ہے صحابہ ؓ نے عرض کیا یا رسول اللہ بتائیں اگر آپ بہتر سمجھیں نبی ﷺ نے فرمایا وہ شخص کہ جس سے خیر و بھلائی کی توقع نہ کی جائے اور اس کی فتنہ انگیزیوں سے امن ملتا نہ ہو۔ حاکم نے حضرت ابوہریرہ ؓ کی یہ روایت نقل کی ہے کہ حضور ﷺ نے فرمایا لوگوں کو عورتوں کے تئیں پاک دامن رکھو یعنی تم دوسروں کی عورتوں پر بری نظر نہ رکھو تمہاری عورتیں دوسرے لوگوں سے اپنے دامن عفت کو محفوظ رکھیں گیں۔ تم اپنے باپ سے اچھا سلوک کرو تمہارے بیٹے تم سے اچھا سلوک کریں گے اور جس شخص کے پاس اس کا کوئی مسلمان بھائی عذر خواہ بن کر آئے تو چاہیے کہ وہ اس کے عذر کو قبول کرے اور خواہ اس کا عذر صحیح ہو یا غلط۔ اگر اس نے اس مسلمان بھائی کے عذر خواہی کو قبول نہیں کیا تو وہ یاد رکھے اس کو حوض کوثر پر آنا نصیب نہیں ہوگا۔ (حاکم نے اس روایت کو صحیح الاسناد قرار دیا ہے)۔