ممنوع چیزوں یعنی ترک ملاقات انقطاع تعلق اور عیب جوئی کا بیان

Mishkaat-al-Masabih · Chapter 146 · 24 hadiths · Page 2 of 2

4917Mishkaat-al-Masabih

خدا کے لئے آپس میں محبت رکھنے کی فضیلت

وعن أبي هريرة قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم لو أن عبدين تحابا في الله عز وجل واحد في المشرق وآخر في المغرب لجمع الله بينهما يوم القيامة . يقول هذا الذي كنت تحبه في

اور حضرت ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اگر دو بندے محض اللہ کی خوشنودی کی خاطر آپس میں محبت رکھیں اور خواہ ان میں سے ایک مشرق میں ہو اور دوسرا مغرب میں تو بلاشبہ اللہ ان کو قیامت کے دن یکجا کر دے گا۔ تاکہ وہ ایک دوسرے کی شفاعت کریں جنت میں ایک دوسرے کے ساتھ رہیں۔ نیز اللہ تعالیٰ فرشتے کی زبانی یا براہ راست خود ان میں سے ہر ایک سے فرمائے گا کہ یہ بندہ وہ ہے جس سے تو میری خاطر محبت رکھتا تھا۔

4918Mishkaat-al-Masabih

دنیا آخرت کی بھلائی حاصل کرنے کے ذرائع

وعن أبي رزين أنه قال له رسول الله صلى الله عليه وسلم ألا أدلك على ملاك هذا الأمر الذي تصيب به خير الدنيا والآخرة ؟ عليك بمجالس أهل الذكر وإذا خلوت فحرك لسانك ما استطعت بذكر الله وأحب في الله وأبغض في الله يا أبا رزين هل شعرت أن الرجل إذا خرج من بيته زائرا أخاه شيعه سبعون ألف ملك كلهم يصلون عليه ويقولون ربنا إنه وصل فيك فصله ؟ فإن استطعت أن تعمل جسدك في ذلك فافعل

اور حضرت ابورزین ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ان سے فرمایا میں تمہیں اس امر یعنی دین کی جڑ نہ بتادوں جس کے ذریعہ تم دنیا و آخرت کی بھلائی حاصل کرسکو تو سنو ان چیزوں کو تم اپنے اوپر لازم کرلو اہل ذکر کی مجالس میں بیٹھا کرو جب تنہا رہو تو جس قدر ممکن ہو ذکر اللہ کے ذریعہ اپنی زبان کو حرکت میں رکھو یعنی لوگوں کے ساتھ بیٹھ کر ابھی ذکر اللہ کرو اور تنہائی میں بھی اللہ کی یاد میں مشغول رہو اگر تم کسی کو دوست رکھو تو محض اللہ کی خوشنودی کے لئے دوست رکھو اور جس کو دشمن رکھو تو محض اللہ کی رضا و خوشنودی کے لئے دشمن رکھو یعنی کسی سے تمہاری دوستی اور دشمنی کا معیار تمہاری اپنی ذات کی خواہشات یا کوئی دنیاوی نفع نقصان نہ ہونا چاہیے بلکہ اللہ کی رضا و خوشنودی کو معیار بناؤ جس کا مطلب یہ ہے کہ اسی شخص کو اپنا دلی دوست بناؤ جس کی دوستی سے اللہ خوش ہوتا ہے اور اسی شخص سے دشمنی رکھو جس کی دشمنی سے اللہ کی خوشنودی حاصل ہو اور اے ابورزین کیا تمہیں معلوم ہے کہ جب کوئی شخص اپنے کسی مسلمان بھائی کی زیارت و ملاقات کے ارادہ سے گھر سے نکلتا ہے اور اس مسلمان کے ہاں جاتا ہے تو ستر ہزار فرشتے اس کے پیچھے چلتے ہیں اور وہ سب فرشتے اس کے لئے دعا و استغفار کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ اے ہمارے پروردگار اس شخص نے محض تیری رضا و خوشنودی کے لئے ایک مسلمان بھائی کی ملاقات کی ہے تو اس کو اپنی رحمت و مغفرت کے ساتھ منسلک کر دے پس اے ابورزین اگر تمہارے لئے ان مذکورہ چیزوں میں اپنی جان کو لگانا یعنی ان پر عمل کرنا ممکن ہو تو ان چیزوں کو ضرور اختیار کرو۔

4919Mishkaat-al-Masabih

خدا کے لئے محبت کرنے کا اجر

وعن أبي هريرة قال كنت مع رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم إن في الجنة لعمدا من ياقوت عليها غرف من زبرجد لها أبواب مفتحة تضيء كما يضيء الكوكب الدري . فقالوا يا رسول الله من يسكنها ؟ قال المتحابون في الله والمتجالسون في الله والمتلاقون في الله . روى البيهقي الأحاديث الثلاثة في شعب الإيمان

اور حضرت ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ ایک دن میں رسول اللہ کے ساتھ آپ فرمانے لگے جنت میں یاقوت کے ستون ہیں جن پر زمرد کے بالا خانے بنے ہوئے ہیں ان کے دروازے کھلے ہوئے ہیں اور وہ بالاخانے اور ان کے دروازے اسی طرح روشن اور چمکتے ہیں جیسا کہ روشن ستارے چمکتے ہیں صحابہ نے عرض کیا یا رسول اللہ ان میں لوگ رہیں گے حضور نے فرمایا وہ لوگ جو اللہ کی خوشنودی کی خاطر آپس میں محبت رکھتے ہیں اللہ کی رضا و خوشنودی کی خاطر ایک دوسرے کی صحبت و ہم نشینی اختیار کرتے ہیں اور اللہ کی رضا و خوشنودی کی خاطر آپس میں ملاقات کرتے ہیں، ان تینوں روایتوں کو بہیقی نے شعب الایمان میں نقل کیا ہے۔

4920Mishkaat-al-Masabih

ممنوع چیزوں یعنی ترک ملاقات، انقطاع تعلق اور عیب جوئی کا بیان

تھا جر کے معنی ہیں ترک کرنا کاٹنا اور تقاطع کے معنی بھی یہ ہیں اس اعتبار سے لفظ تقاطع معنوی طور پر تھا جر کی وضاحت اور اس کے بیان کے لئے ہے اور ان دونوں لفظوں سے مراد ایک مسلمان کا دوسرے مسلمان سے تین دن سے زیادہ اسلام کلام اور ملنا جلنا چھوڑے رکھنا صحبت و ہم نشینی کے تعلق کو مقطع رکھنا اور اسلامی بھائی چارے کو نظر انداز کرنا چونکہ ان امور کی ممانعت علی الاطلاق نہیں ہے بلکہ بعض حالت میں اور بعض قیود کے ساتھ ان کو اختیار کرنا کوئی گناہ نہیں رکھتا اس لئے مذکورہ بالا عنوان میں یوں کہا گیا ہے ماینھی عنہ التھاجر والتقاطع۔ عورات عورت کی جمع ہے اور لغت میں عورت اس چیز کو کہتے ہیں جو شرم کی متقاضی ہو اور جس کے ظاہر ہونے کو کوئی شخص پسند نہ کرتا ہو بلکہ چاہتا ہو کہ وہ چیز پوشیدہ رہے جیسا کہ کسی شخص میں کسی عیب اور نقصان کا ہونا اور اس اعتبار سے اتباع عورت کا مطلب ہے کسی کی عیب جوئی کرنا۔