خرید و فروخت کے مسائل و احکام

Mishkaat-al-Masabih · Chapter 74 · 31 hadiths · Page 2 of 2

2830Mishkaat-al-Masabih

مغنیہ کی کمائی کھانے کی ممانعت

وعن أبي هريرة قال : نهى رسول الله صلى الله عليه و سلم عن ثمن الكلب وكسب الزمارة . رواه في شرح السنة

حضرت ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے کتے کی قیمت اور گانے والیوں کی کمائی کھانے سے منع فرمایا ہے (شرح السنۃ) تشریح بعض علماء کا قول یہ ہے کہ زمارۃ سے مراد مغنیہ یعنی گانے والی عورت کی بجائے وہ خوب صورت عورت ہے جو بدکاری کراتی ہے اسی طرح بعض حضرات کا کہنا یہ ہے کہ لفظ زمارۃ مشتق ہے زمر سے جس کے معنی ہیں چشم و ابرو کے ذریعہ اشارہ کرنا اور بدکار عورتیں چونکہ مردوں کو اپنے چشم وابرو کے اشاروں سے فریفتہ کرکے انہیں اپنے چنگل میں پھنساتی ہیں اس لئے ارشاد گرامی میں بدکار عورت کو زمارۃ سے تعبیر کیا گیا ہے۔

2831Mishkaat-al-Masabih

گانے والی لونڈیوں کی خرید وفروخت کا حکم

وعن أبي أمامة قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : لا تبيعوا القينات ولا تشتروهن ولا تعلموهن وثمنهن حرام وفي مثل هذا نزلت : ( ومن الناس من يشتري لهو الحديث ) رواه أحمد والترمذي وابن ماجه وقال الترمذي هذا حديث غريب وعلي بن يزيد الرواي يضعف في الحديث وسنذكر حديث جابر : نهى عن أكل أهر في باب ما يحل أكله إن شاء الله تعالى

حضرت ابوامامہ کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا گانے والی لونڈیوں کو نہ بیچو نہ ان کو خریدو اور نہ لونڈیوں کو گانا سکھاؤ اور ان گانے والی لونڈیوں کی حاصل ہونے والی قیمت مال حرام ہے اور اسی سلسلہ میں یعنی گانے والیوں کو خریدنے کی مذمت میں یہ آیت نازل کی گئی ہے (وَمِنَ النَّاسِ مَنْ يَّشْتَرِيْ لَهْوَ الْحَدِيْثِ ) 31۔ لقمان 6) یعنی اور انسانوں میں بعض ایسے نادان وغلط کار لوگ ہیں جو کھیل کی بات خریدتے ہیں (احمد ترمذی ابن ماجہ) امام ترمذی فرماتے ہیں کہ یہ حدیث غریب ہے اور اس کے ایک راوی علی ابن یزید روایت حدیث کے سلسلہ میں ضعیف شمار کئے جاتے ہیں۔ تشریح بعض علماء نے حدیث کے ظاہری الفاظ (وثمنہن حرام) (یعنی ان کی حاصل ہونے والی قیمت مال حرام ہے) کے پیش نظر یہ کہا ہے کہ گانے والی لونڈیوں کو بیچنا جائز نہیں ہے جبکہ بقیہ تمام علماء یہ کہتے ہیں کہ ان کو بیچنا جائز ہے یہ حدیث اگرچہ ضعیف ہے جس کی بناء پر اس کو کسی مسلک کی دلیل قرار دینا مناسب نہیں ہے لیکن اس کے باوجود (ثمنہن حرام) کی تاویل یہ کی جاتی ہے کہ اس حدیث کا مطلب صرف ان کے گانے کی اجرت کی حرمت کو بیان کرنا ہے یعنی ان کے گانے سے حاصل ہونیوالی اجرت مال حرام ہے جیسا کہ کسی شراب فروش یا شراب بنانے والے کے ہاتھ جو انگور فروخت کئے جاتے ہیں کہ اس کی حاصل ہونیوالی قیمت مال حرام کے حکم میں ہوتی ہے نہ کہ فی نفسہ انگور کی قیمت حرام ہوتی ہے اسی طرح گانے والی لونڈیوں کی وہ اجرت جو ان کے گانے کی وجہ سے حاصل ہوتی ہے اس لئے مال حرام ہے کہ وہ ایک حرام ذریعہ سے حاصل ہوتی ہے نہ کہ اس لئے حرام ہے کہ ان لونڈیوں کی خریدوفروخت جائز نہیں ہے۔ آیت کریمہ میں کھیل کی بات سے مراد ہیں وہ گانے گیت اور حرام آوازیں جو ذکر اللہ سے باز رکھیں اور گناہ و معصیت کا سبب بنیں چناچہ کہانیاں جھوٹی باتیں خرافات بکنا ٹھٹھے کی باتی موسیقی سیکھنا اور اسی قسم کی اور تمام فضول و لغو چیزیں بھی اس حکم میں داخل ہیں اس آیت کے نازل ہونے کا پس منظر یہ ہے کہ ایک شخص نصر ابن حارث تھا جو گانیوالی لونڈیاں اس مقصد سے خریدتا تھا کہ ان کے ذریعہ لوگوں کو اللہ کے راستہ سے گمراہ کرے چناچہ اس کی مذمت میں یہ آیت نازل ہوئی اور بعض علماء یہ کہتے ہیں کہ نضر ابن حارث نے عجمیوں کی لکھی ہوئی چند کتابیں خریدی تھیں جن کی جھوٹی سچی کہانیاں پڑھ کر قریش کو سنایا کرتا تھا اور کہا کرتا تھا کہ محمد ﷺ تو تمہارے سامنے قوم عاد وثمود کے قصص بیان کرتے ہیں اور میں تمہارے سامنے رستم و اسفندیار اور بادشاہوں کی کہانیاں سناتا ہوں چناچہ اللہ تعالیٰ نے اس آیت بالا کے ذریعہ اس کی مذمت بیان فرمائی۔

2832Mishkaat-al-Masabih

حلال روزی کمانا ایک فرض ہے

عن عبد الله بن مسعود قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : طلب كسب الحلال فريضة بعد الفريضة . رواه البيهقي في شعب الإيمان

حضرت عبداللہ ابن مسعود کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا حلال روزی کمانا فرض کے بعد ایک فرض ہے ( بیہقی) تشریح مطلب یہ ہے کہ اپنی اور اپنے اہل و عیال کی معاشی ضروریات کی کفالت کے لئے اپنے دست وبازو کی محنت سے کمانا فرض ہے لیکن اللہ تعالیٰ نے جو فرائض مقرر کئے ہیں جیسے نماز روزہ وغیرہ پہلے ان کا درجہ ہے کہ ان فرائض کی تکمیل کے بعد حلال روزی کمانا فرض ہے۔ اس بارے میں فقہی مسئلہ یہ ہے کہ کمانا اس شخص پر فرض ہے جو اپنی ذات اور اپنے اہل و عیال (کہ جن کی کفالت اس کے ذمہ ضروری ہے) کی ضروریات زندگی کی کفالت کے لئے کمائی کا محتاج ہو۔ حدیث میں مذکور کسب حلال یعنی حلال کمائی سے مراد وہ روزی ہے جس کا حرام نہ ہونا یقینی ہو گویا یہاں حلال روزی کا اطلاق اس مال پر بھی ہوسکتا ہے جو مشتبہ ہو کیونکہ احادیث میں مشتبہ سے پرہیز کرنے کا حکم محض احتیاط کے طور پر ہے فرض ہونے کے طور پر نہیں ہے نیز ایک بات یہ بھی ذہن میں رہنی چاہئے کہ اس حدیث میں حلال روزی کمانے کو جو فرض کہا گیا ہے اس کا مخاطب ہر شخص بذاتہ نہیں ہے کیونکہ ایسے بہت سے لوگ ہیں جن کی ضروریات زندگی کی کفالت دوسروں پر واجب ہوتی ہے جس کیوجہ سے خود انہیں کمانا ضروری نہیں ہوتا۔

2833Mishkaat-al-Masabih

کتابت قرآن کی اجرت جائز ہے

وعن ابن عباس رضي الله عنهما أنه سئل عن أجرة كتابة المصحف فقال : لا بأس إنما هم مصورون وإنهم إنما يأكلون من عمل أيديهم . رواه رزين

حضرت ابن عباس کے بارے میں منقول ہے کہ ان سے کتابت قرآن کی اجرت کا حکم دریافت کیا گیا کہ کتابت قرآن کی اجرت کھانا جائز ہے یا نہیں تو انہوں نے فرمایا کہ اس میں کوئی مضائقہ نہیں ہے کیونکہ کاتب لوگ تو صرف نقش کھینچنے والے ہیں جو اپنے ہاتھوں کی کمائی کھاتے ہیں (رزین) تشریح سائل نے گویا کتابت قرآن کی اجرت لینے اور اس کے کھانے کو ایک بعید سی بات جانی اس لئے اس نے حضرت ابن عباس ؓ سے اس کا حکم دریافت کیا چناچہ ابن عباس نے اسے جواب دیا کہ کاتب تو کاغذ پر الفاظ نقش بناتے ہیں یعنی ان کا کام صرف کتابت کرنا اور لکھنا ہے جس کی وہ اجرت حاصل کرتے ہیں خواہ وہ قرآن کی کتابت کریں یا کسی اور کتاب کی اور یہی ان کا ہنروپیشہ ہوتا ہے جو ان کی حلال روزی کا ذریعہ ہے۔

2834Mishkaat-al-Masabih

کون سا کسب افضل ہے

وعن رافع بن خديج قال : قيل : يا رسول الله أي الكسب أطيب ؟ قال : عمل الرجل بيده وكل بيع مبرور . رواه أحمد

حضرت رافع بن خدیج راوی ہیں کہ رسول کریم ﷺ سے یہ پوچھا گیا کہ کونسا کسب پاکیزہ یعنی افضل ہے تو آپ ﷺ نے فرمایا کہ انسان کا اپنے ہاتھ سے کمانا اور ہر وہ تجارت جو مقبول یعنی شرعی اصول وقواعد کے مطابق ہو (احمد) تشریح آپ ﷺ کے جواب کا حاصل یہ ہے کہ سب سے بہتر تو وہ کسب وپیشہ ہے جس میں انسان کو اپنے ہاتھوں سے محنت کرنی پڑتی ہو جیسے زراعت اور کتابت وغیرہ اور اگر کوئی شخص ہاتھوں کی محنت والا کسب اختیار نہ کرسکے تو پھر ایسی تجارت کے ذریعے اپنی حلال روزی پیدا کرے جس میں دیانت و امانت کی روح بہرصورت کار فرما رہے کیونکہ ایسی تجارت بھی ایک پاک و حلال کسب ہے۔

2835Mishkaat-al-Masabih

دودھ کی قیمت کا حکم

وعن أبي بكر بن أبي مريم قال : كانت لمقدام بن معدي كرب جارية تبيع اللبن ويقبض المقدام ثمنه فقيل له : سبحان الله أتبيع اللبن ؟ وتقبض الثمن ؟ فقال نعم وما بأس بذلك سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول : ليأتين على الناس زمان لا ينفع فيه إلا الدينار والدرهم . رواه أحمد

حضرت ابوبکر ابن مریم تابعی کہتے ہیں کہ حضرت مقدام ابن معدی کرب (صحابی) کی ایک باندی ان کے گھر کے جانوروں کا دودھ بیچا کرتی تھی اور مقدام اس سے دودھ کی حاصل ہونیوالی قیمت لے لیا کرتے تھے چناچہ ایک روز مقدام سے کسی نے کہا کہ سبحان اللہ کتنی عجیب بات ہے کہ باندی دودھ بیچتی ہے اور تم اس کی قیمت لے لیتے ہو مقدام نے کہا کہ ٹھیک تو ہے اس میں کوئی مضائقہ نہیں ہے میں نے رسول کریم ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ ایک ایسا زمانہ آئیگا جس میں درہم و دینار کے علاوہ کوئی چیز فائدہ نہیں دے گی۔ تشریح گویا لوگوں نے حضرت مقدام کو طعنہ دیا کہ آپ کی باندی آپ کے جانوروں کا دودھ بیچتی ہے اور آپ اس دودھ کی قیمت لے کر کھاتے ہیں حالانکہ دودھ کے بارے میں تو بہتر یہی ہے کہ اسے فقراء و مساکین میں صدقہ و خیرات کے طور پر تقسیم کردیا جائے یا اسے اپنے دوستوں اور متعلقین پر صرف کیا جائے دودھ کو بیچنا اور ان کی قیمت وصول کرنا آپ جیسوں کی شان کے لائق نہیں ہے اس کا جواب حضرت مقدام نے یہ دیا کہ اس میں کوئی مضائقہ نہیں ہے کیونکہ یہ کوئی ایسا معاملہ نہیں ہے جس میں کوئی شرعی نقصان ہو دودھ بیچنا اور اس کی قیمت وصول کرنا نہ ہی حرام ہے اور نہ مکروہ ہے اور پھر میرا یہ فعل کسی لالچ کی بناء پر یا مال وزر کی ہوس میں نہیں ہے بلکہ دراصل میں اپنی ضروریات زندگی کی تکمیل کے لئے اس کا محتاج ہوں اس کے بعد حضرت مقدام نے آنے والے زمانے میں مال و زر کی طرف لوگوں کے شدید میلان کے بارے میں آنحضرت ﷺ کی یہ پیش گوئی بیان کی کہ ایک ایسا زمانہ بھی آئے گا جس میں لوگوں کی تمام تر توجہ اور کوششوں کا مرکز صرف مال وزر بن جائے گا۔ چونکہ لوگ اپنی ضروریات کا دائرہ وسیع کریں گے اور اسباب معیشت کی قلت وگرانی ہمہ قسم کی پریشانیوں اور نقصانات میں مبتلا کر دے گی اس لئے نہ علم وہنر کی طرف توجہ ہوگی اور نہ اہل علم و کمال کی قدر و منزلت بلکہ صرف مال و زر کی طرف توجہ ہوگی اور مالداروں کی قدر و منزلت۔ منقول ہے کہ صحابہ آپس میں فرمایا کرتے تھے کہ تجارت و محنت کے ذریعے اتنا مال و زر ضرور کما لیا کرو جس سے ابرومندانہ زندگی کا تحفظ ہو سکے اور یاد رکھو کہ ایک ایسا بھی دور آنیوالا ہے کہ جب تم میں سے کوئی محتاج وتنگدست ہوگا تو سب سے پہلے اپنے دین و ایمان ہی کو کھاجائے گا۔

2836Mishkaat-al-Masabih

مقررہ ذریعہ معاش کو بلاسبب ترک نہ کرو

وعن نافع قال : كنت أجهز إلى الشام وإلى مصر فجهزت إلى العراق فأتيت إلى أم المؤمنين عائشة فقلت لها : يا أم المؤمنين كنت أجهز إلى الشام فجهزت إلى العراق فقالت : لا تفعل مالك ولمتجرك ؟ فإني سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول : إذا سبب الله لأحدكم رزقا من وجه فلا يدعه حتى يتغير له أو يتنكر له . رواه أحمد وابن ماجه

حضرت نافع کہتے ہیں کہ میں اپنی تجارت کا مال و اسباب تیار کر کے اپنے ملازموں اور وکیلوں کی سپردگی میں شام اور مصر بھیجا کرتا تھا پھر بعد میں ایک مرتبہ میں نے اپنا تجارتی سامان عراق کی طرف بھیجنے کا ارادہ کیا اور ام المؤمنین حضرت عائشہ کی خدمت میں حاضر ہوا اور ان سے عرض کیا کہ ام المؤمنین میں (پہلے تو) اپنا تجارتی سامان شام بھیجا کرتا تھا مگر اب میرا ارادہ ہے کہ اپنا تجارتی سامان لے کر عراق کی طرف جاؤں یہ سن کر حضرت عائشہ نے فرمایا کہ ایسا نہ کرو تمہیں اور تمہاری تجارت کو کیا ہوا ہے کہ تم شام کے سلسلہ تجارت کو منقطع کرتے ہو میں نے رسول کریم ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جب اللہ تعالیٰ تم میں سے کسی کے رزق کا کوئی سبب کسی صورت میں پیدا کر دے تو اس کو چھوڑنا نہیں چاہئے حتی کہ اس میں کوئی تبدیلی پیدا ہوجائے یا نقصان پہنچنے لگے۔ تشریح آنحضرت ﷺ کے ارشاد گرامی کا مطلب یہ ہے کہ کسی کے رزق کا جو بھی جائز ذریعہ ہو مثلا وہ سامان تجارت کہیں باہر بھیجتا ہو جس کے نفع سے اسے رزاق حاصل ہوتا ہو تو وہ اس کو بلاسبب چھوڑے نہیں ہاں اگر کوئی ایسا امر پیش آجائے جس کی بناء پر اس ذریعے کو ختم کرنا ہی ضروری ہو مثلا نفع ہونا بند ہوجائے یا اصل مال میں نقصان واقع ہونے لگے تو ایسی صورت میں اسے چھوڑ دینے میں کوئی حرج نہیں ہے۔ علامہ طیبی فرماتے ہیں کہ اس حدیث میں اس طرف اشارہ ہے کہ جو شخص ازقسم مباح کسی اچھی چیز کو حاصل کرلے تو اسے چاہئے کہ وہ اس کو اللہ کی ایک نعمت سمجھ کر اس پر قائم و برقرار رہے اور بغیر کسی قوی عذر کے اسے چھوڑ کر اس کے بغیر کی طرف مائل نہ ہو۔

2837Mishkaat-al-Masabih

حضرت ابوبکر کا وصف احتیاط وتقوی

وعن عائشة قالت : كان لأبي بكر رضي الله عنه غلام يخرج له الخراج فكان أبو بكر يأكل من خراجه فجاء يوما بشيء فأكل منه أبو بكر فقال له الغلام : تدري ما هذا ؟ فقال أبو بكر : وما هو ؟ قال : كنت تكهنت لإنسان في الجاهلية وما أحسن الكهانة إلا أني خدعته فلقيني فأعطاني بذلك فهذا الذي أكلت منه قالت : فأدخل أبو بكر يده فقاء كل شيء في بطنه . رواه البخاري

حضرت عائشہ کہتی ہیں کہ حضرت ابوبکر صدیق کے پاس ایک غلام تھا جو اپنی کمائی میں سے ایک مقررہ حصہ حضرت ابوبکر کو دیا کرتا تھا (جیسا کہ اہل عرب کا معمول تھا کہ وہ اپنے غلاموں کو کمائی پر لگا دیتے تھے اور ان کو حاصل ہونیوالی اجرت میں سے کوئی حصہ اپنے لئے مقرر کرلیتے تھے) چناچہ حضرت ابوبکر اس غلام کی لائی ہوئی چیز کو کھالیا کرتے تھے ایک مرتبہ وہ غلام کوئی چیز لایا جس میں سے حضرت ابوبکر نے بھی کھایا ان کے کھانے کے بعد غلام نے کہا کہ آپ جانتے بھی ہیں یہ کیسی چیز ہے حضرت ابوبکر نے فرمایا کہ مجھے کیا معلوم تم ہی بتاؤ یہ کیسی چیز ہے غلام نے کہا کہ میں ایام جاہلیت میں (یعنی اپنی حالت کفر میں) ایک شخص کو غیب کی باتیں بتایا کرتا تھا حالانکہ میں کہانت کا فن (یعنی پوشیدہ باتیں بتانے کا فن) اچھی طرح نہیں جانتا تھا بلکہ میں اس کو (غلط سلط باتیں بنا کر) فریب دیا کرتا تھا (اتفاقا آج) اس شخص سے میری ملاقات ہوگئی تو اس نے مجھے یہ چیز دی یہ وہی چیز ہے جو آپ نے کھائی ہے حضرت عائشہ کہتی ہیں کہ یہ سنتے ہی حضرت ابوبکر نے اپنے منہ (یعنی حلق) میں ہاتھ ڈال کر قے کردی اور جو کچھ پیٹ میں تھا (ازراہ احتیاط) سب باہر نکال دیا (بخاری) تشریح یہ حدیث حضرت ابوبکر صدیق کی دینی احتیاط اور ان کے کمال تقوی کی واضح مثال ہے کہ انہیں جیسے ہی معلوم ہوا کہ ان کے پیٹ میں ایک چیز ایسی چلی گئی ہے جو ایک حرام سلسلے میں حاصل ہوئی تھی انہوں نے فوارا قے کر کے اسے باہر نکال دیا بلکہ وہ چیز چونکہ کہانت اور اس کے ساتھ ہی فریب کی آمیزش کی وجہ سے بڑی شدید حرمت کی حامل تھی اس لئے انہوں نے قے کر کے صرف اسی چیز کو نکال دینے پر اکتفاء نہیں کیا بلکہ ہر اس چیز کو نکالنا ضروری سمجھا جو پیٹ کے اندر اس کے علاوہ تھی کیونکہ انہیں خوف تھا کہ اس چیز کے کسی بھی جزء نے پیٹ میں دوسری چیزوں کو بھی ملوث کردیا ہوگا۔ حضرت ابوبکر کے اس فعل سے حضرت امام شافعی نے یہ مسئلہ نکالا ہے کہ اگر کسی شخص نے کوئی حرام چیز کھالی ہو اور وہ اس نے اس کی حرمت کے علم کے باوجود کھائی یا لاعلمی میں کھائی ہو اور بعد میں اسے معلوم ہوا کہ وہ حرام چیز تھی تو اس پر لازم ہے کہ فورا قے کر کے اس چیز کو پیٹ سے نکال دے۔ حضرت امام غزالی نے منہاج العابدین میں لکھا ہے کہ حضرت ابوبکر کا یہ فعل ورع یعنی تقوی و پرہیزگاری کی قسم سے ہے نیز انہوں نے لکھا ہے کہ ورع کا حکم یہ ہے کہ تم کسی سے کوئی چیز اس وقت تک نہ لو جب تک کہ اس کے بارے میں پوری تحقیق نہ کرلو پھر تحقیق کے بعد یہ یقین بھی حاصل کرلو کہ اس چیز میں کسی بھی درجے کا کوئی اشتباہ نہیں ہے اگر اس چیز کے بارے میں پوری تحقیق اور یہ یقین حاصل نہ ہو سکے تو اس چیز کو نہ لو اور اگر لے لی ہو تو اسے واپس کردو۔

2838Mishkaat-al-Masabih

حرام مال کھانے پروعید

وعن أبي بكر رضي الله عنه أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : لا يدخل الجنة جسد غذي بالحرام . رواه البيهقي في شعب الإيمان

حضرت ابوبکر کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا جس بدن نے حرام مال سے پرورش پائی ہوگی وہ شروع ہی میں نجات یافتہ لوگوں کے ساتھ اور جزا بھگتے بغیر جنت میں داخل نہ ہوگا۔

2839Mishkaat-al-Masabih

حضرت عمرکے تقوی اور احتیاط کی ایک مثال

وعن زيد بن أسلم أنه قال : شرب عمر بن الخطاب لبنا وأعجبه وقال للذي سقاه : من أين لك هذا اللبن ؟ فأخبره أنه ورد على ماء قد سماه فإذا نعم من نعم الصدقة وهم يسقون فحلبوا لي من ألبانها فجعلته في سقائي وهو هذا فأدخل عمر يده فاستقاءه . رواه البيهقي في شعب الإيمان

حضرت زید ابن اسلم جو حضرت عمر فاروق کے آزاد کردہ غلام تھے کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت عمر ابن خطاب نے دودھ پیا جو ان کو عجیب معلوم ہوا انہوں نے اس شخص سے کہا جس نے دودھ لا کر پلایا تھا پوچھا کہ یہ دودھ تمہیں کہاں سے ملا تو اس نے ان کو بتایا کہ وہ (یعنی میں) پانی کے ایک چشمے یا کنویں پر گیا تھا اس نے چشمے یا کنویں کا نام بھی بتایا وہاں میں نے دیکھا کہ زکوٰۃ کے کچھ جانور (یعنی اونٹ وبکری وغیرہ پانی پینے کے لئے آئے ہوئے) ہیں اور ان جانوروں کے نگران ان کا دودھ نکال کر لوگوں کو پلا رہے ہیں چناچہ انہوں نے میرے لئے بھی دودھ دوہا جسے میں نے لے کر اپنی مشک میں ڈال لیا یہ وہی دودھ تھا یہ سن کر حضرت عمر نے اپنے حلق میں ہاتھ ڈال کر قے کردی اور اس دودھ کو پیٹ سے باہر نکا دیا کیونکہ وہ زکوٰۃ کا مال تھا جو ان کے لے جائز نہیں تھا ان دونوں روایتوں کو بیہقی نے شعب الایمان میں نقل کیا ہے۔ تشریح حضرت سید جمال الدین محدث نے لکھا ہے کہ یہ حدیث مشکوک ہے اکثر نسخوں میں اس موقع پر مذکور نہیں ہے چناچہ ہم نے مشکوۃ کے جس نسخے میں اپنے استاد سے حدیثیں سماعت کی ہیں اس میں بھی یہاں یہ حدیث نہیں البتہ اس کے حاشیے میں لکھی ہوئی ہے اس لئے مناسب یہی ہے کہ یہ حدیث اس باب سے محذوف رکھی جائے ویسے بھی یہ حدیث چونکہ مشکوۃ کی کتاب الزکوۃ میں چند الفاظ کی کمی بیشی کے ساتھ نقل کی جا چکی ہے اس لئے یہاں دوبارہ نقل کرنا مشکوۃ کی ترتیب کے مطابق موزوں نہیں ہے۔ لہذا جن نسخوں میں اس موقع پر یہ حدیث نقل نہیں کی گئی ہے ان میں پہلی حدیث یعنی حضرت ابوبکر کی روایت کے بعد یہ عبارت (رواہما البیہقی) لکھا ہوا ہے۔

2840Mishkaat-al-Masabih

حرام مال کا قلیل ترین جز بھی عبادت کے نتیجے پر اثرانداز ہوجاتا ہے

وعن ابن عمر قال : من اشترى ثوبا بعشرة دراهم وفيه درهم حرام لم يقبل الله له صلاة ما دام عليه ثم أدخل أصبعيه في أذنيه وقال صمتا إن لم يكن النبي صلى الله عليه و سلم سمعته يقوله . رواه أحمد والبيهقي في شعب الإيمان . وقال : إسناده ضعيف

حضرت ابن عمر کہتے ہیں کہ اگر کو ئش شخص مثلا ایک کپڑا دس درہم میں خریدے اور ان میں ایک درہم بھی حرام مال کا ہو تو اللہ تعالیٰ اس وقت تک اس شخص کی نماز نہیں قبول کرے گا جب تک کہ آدمی کے جسم پر وہ کپڑا ہوگا اس کے بعد حضرت ابن عمر نے اپنی شہادت کی دونوں انگلیاں اپنے کانوں میں ڈالیں اور کہا کہ یہ دونوں کان بہرے ہوجائیں اگر میں نے یہ رسول کریم ﷺ کو فرماتے ہوئے نہ سنا ہو۔ (احمد بیہقی اور بیہقی نے کہا ہے کہ اس حدیث کی اسناد ضعیف ہیں) تشریح حدیث کا حاصل یہ ہے کہ اگر حرام مال کا قلیل ترین جزء بھی جسم پر موجود ہو تو اس سے عبادت کا نتیجہ اثرپذیر ہوجاتا ہے چناچہ اس بات کو بطور مثال بیان کیا گیا کہ اگر کوئی شخص ایک کپڑا دس درہم میں خریدے اور ان دس درہم میں ایک درہم ہو جو اسے کسی بھی حرام ذریعے سے حاصل ہوا تو وہ کپڑا جب تک کہ اس کے جسم پر رہے گا اس کی نماز قبول نہیں ہوگی اگرچہ اس شخص کے ذمہ سے فرضیت ساقط ہوجائے گی مگر اس کی نماز اس لائق نہیں ہوگی کہ اسے ثواب سے نوازا جائے جس طرح کہ اگر کوئی شخص کسی غصب کردہ زمین پر نماز پڑھتا ہے تو اگرچہ اس کے ذمہ سے فرضیت ساقط ہوجاتی ہے مگر اس سے نماز کا پورا ثواب نہیں ملتا۔ روایت کے آخری الفاظ کا مطلب یہ ہے کہ جو بات میں نے کہی ہے وہ کوئی میری اپنی بات نہیں ہے بلکہ آنحضرت ﷺ کا وہ ارشاد گرامی ہے جسے خود میں نے اپنے کانوں سے سنا ہے اگر میں نے یہ حدیث اپنے کانوں سے نہ سنی ہو اور میں یہ غلط کہہ رہا ہوں تو اللہ کرے میرے دونوں کان بہرے ہوجائیں۔