جانور کے ساتھ بد فعلی کرنے والے کی سزا
وعن ابن عباس قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : من أتى بهيمة فاقتلوه واقتلوها معه . قيل لابن عباس : ما شأن البهيمة ؟ قال : ما سمعت من رسول الله صلى الله عليه و سلم في ذلك شيئا ولكن أره كره أن يؤكل لحمها أو ينتفع بها وقد فعل بها ذلك . رواه الترمذي وأبو داود وابن ماجه
اور حضرت ابن عباس کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا جو شخص کسی جانور سے ساتھ بدفعلی کرے اس کو قتل کردو اس کے ساتھ اس جانور کو بھی قتل کردو۔ حضرت ابن عباس ؓ سے کہا گیا کہ جانور کے بارے میں یہ حکم کیوں ہے یعنی نہ تو عقل رکھتا ہے اور نہ وہ مکلف ہے تو اس کو قتل کرنے کا کیوں حکم ہے؟ حضرت ابن عباس نے فرمایا کہ میں نے اس کی حکمت و مصلحت کے بارے میں رسول کریم ﷺ سے کچھ نہیں سنا ہے البتہ میرا گمان ہے کہ آنحضرت ﷺ نے اس بات کو ناپسند فرمایا کہ جس جانور کے ساتھ بدفعلی کی گئی ہے اس کا گوشت کھایا جائے یا اس کے دودھ بالوں اور اس کی افزائش نسل سے فائدہ اٹھایا جائے اور جب اس جانور سے کسی قسم کا کوئی فائدہ اٹھانا مکروہ ہوا تو پھر اس کو قتل کردینا ہی ضروری ہے۔ (ترمذی، ابن ماجہ، ابوداؤد)
تشریح
اس کو قتل کردو سے مراد یہ ہے کہ اس کی بہت سخت پٹائی کرو۔ گویا اس کو قتل کردینے کا حکم سخت زجروتہدیر کے طور پر ہے اس کو واقعۃً قتل کردینا مراد نہیں ہے۔ اس کے جانور کو بھی قتل کردو اس حکم کی حکمت وعلت بعض حضرات نے یہ بیان کی ہے کہ اگر وہ جانور زندہ رکھا گیا تو ہوسکتا ہے کہ جس شخص نے اس کے ساتھ بدفعلی کی ہے اس کا نطفہ اس کے رحم میں قرار پا جائے اور اس کے نتیجہ میں ایک حیوان بصورت انسان پیدا ہوجائے اس لئے اس صورت حال سے بچنے کے لئے اس کو مار ڈالنا ہی ضروری ہے یا یہ کہ اس جانور کی موجودگی اس کے مالک کو دنیاوی ذلت و رسوائی سے دو چار کرسکتی ہے لہٰذا اس کو مار ڈالا جائے۔ شرح مظہر میں لکھا ہے کہ چاروں امام اس بات پر متفق ہیں کہ جو شخص کسی جانور کے ساتھ بدفعلی کرے اس کو قتل نہ کیا جائے بلکہ تعزیرًا کوئی دوسری سزا دی جائے اور یہ حدیث زجر و توبیخ پر محمول ہے رہی جانور کی بات تو بعض حضرات یہ فرماتے ہیں کہ اگر وہ جانور ایسا ہے جس کا گوشت کھایا جاتا ہے تو اس کو قتل کردیا جائے اور اگر اس کا گوشت نہیں کھایا جاتا تو اس کے بارے میں دونوں صورتیں ہیں کہ اگر اس حدیث کا ظاہر مفہوم پیش نظر ہو تو اس کو قتل کردیا جائے اور اگر اس کو ملحوظ رکھا جائے کہ جانور کا گوشت کھانا مقصود یا حلال نہ ہو اس کو ذبح کرنے کی ممانعت منقول ہے تو اس جانور کو قتل نہ کیا جائے۔
عن جابر قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : إن أخوف ما أخاف على أمتي عمل قوم لوط . رواه الترمذي وابن ماجه
اور حضرت جابر کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا اپنی امت کے بارے میں مجھے سب سے زیادہ جس چیز کا خوف ہے وہ قوم لوط کا عمل (یعنی اغلام) ہے۔ (ترمذی، ابن ماجہ)
تشریح
یعنی مجھے اس بات کا خوف ہے کہ کہیں میری امت کے لوگ خواہشات نفسانی کا شکار ہو کر بےصبری نہ کربیٹھیں اور اس برائی میں مبتلا ہوجائیں۔ یا یہ مطلب ہے کہ یہ کام نہایت برا اور سخت قبیح ہے اور اس کی حرمت بڑی شدید ہے میں ڈرتا ہوں کہ کہیں میری امت کے لوگ اس میں مبتلا نہ ہوجائیں اور اس کی وجہ سے انہیں عذاب الہٰی میں گرفتار ہونا پڑے۔
ایک ہی شخص کو پہلے زنا کی سزا اور پھر تہمت زنا کی سزا
وعن ابن عباس : أن رجلا من بني بكر بن ليث أتى النبي صلى الله عليه و سلم فأقر أنه زنى بامرأة أربع مرات فجلده مائة وكان بكرا ثم سأله البينة على المرأة فقالت : كذب والله يا رسول الله فجلد حد الفرية . رواه أبو داود
اور حضرت ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ ایک دن بکر بن لیث کے خاندان کا ایک شخص نبی کریم ﷺ کی خدمت میں آیا اور اقرار کیا کہ اس نے (یعنی میں نے) ایک عورت کے ساتھ چار بار یعنی چار مجلسوں میں زنا کیا ہے چناچہ نبی کریم ﷺ نے اس کو سو کوڑے لگوائے اور وہ شخص غیر محصن یعنی کنوارہ تھا پھر آنحضرت ﷺ نے اس سے اس عورت کی زنا کاری پر گواہ طلب کئے، عورت نے عرض کیا کہ اللہ کی قسم یا رسول اللہ! یہ شخص جھوٹ بولتا ہے اس کے بعد آنحضرت ﷺ نے اس شخص پر تہمت لگانے کی حد جاری کی۔ (ابو داؤد)
تشریح
گواہ طلب کئے کا مطلب یہ ہے کہ جب اس شخص نے ایک عورت کے ساتھ زنا کا اقرار کیا تو اس کے اس اقرار پر اس کو زنا کی سزا دی گئی یعنی اس کے سو کوڑے مارے گئے اور چونکہ یہ بات اس عورت کو بھی زنا کا مرتکب گردانتی تھی اس لئے آنحضرت ﷺ نے اس شخص سے کہا کہ اب تو ایسے گواہوں کو پیش کرو جو اس عورت کے ساتھ تمہارے زنا کو ثابت کریں مگر جب وہ شخص گواہ پیش کرنے سے عاجز رہا تو اس عورت نے کہا کہ اللہ کی قسم یہ شخص جھوٹا ہے یہ میری طرف زنا کی نسبت کر رہا ہے حالانکہ میں اس برائی سے پاک ہوں اس طرح اس عورت نے یہ ثابت کیا کہ اس مرد نے اس پر تہمت لگائی ہے لہٰذا آنحضرت ﷺ نے اس شخص کو دوسری سزا تہمت لگانے کی دی یعنی اسی کوڑے مارے۔
حضرت عائشہ پر تہمت لگانے والوں کو سزا
وعن عائشة قالت : لما نزل عذري قام النبي صلى الله عليه و سلم على المنبر فذكر ذلك فلما نزل من المنبر أمر بالرجلين والمرأة فضربوا حدهم . رواه أبو داود
اور حضرت عائشہ کہتی ہیں کہ جب میری برأت نازل ہوئی یعنی عفت و پاکدامنی کے ثبوت میں آیتیں نازل ہوئیں تو نبی کریم ﷺ نے منبر پر کھڑے ہو کر خطبہ ارشاد فرمایا اور اس کا ذکر کیا اور پھر جب آپ ﷺ نے منبر سے اترے تو دو مردوں اور ایک عورت کو سزا دینے کا فیصلہ کیا چناچہ تہمت لگانے کی ان پر حد جاری کی گئی۔ (ابو داؤد )
تشریح
بعض لوگوں نے حضرت عائشہ صدیقہ پر نعوذ باللہ زنا کا بہتان لگایا تھا اور آنحضرت ﷺ کے دل میں بھی اس کی طرف سے کچھ شک پڑھ گیا تھا لیکن اللہ تعالیٰ نے ان کی برأت نازل کی جس سے یہ ثابت ہوگیا کہ ان کے دامن عفت وعصمت پر تہمت کے جو چھینٹے ڈالے گئے ان کا تعلق محض ایک سازش اور چند لوگوں کی مفسدہ پردازی سے تھا، چناچہ جب حضرت عائشہ کی عفت و پاکدامنی کے ثبوت میں آیتیں نازل ہوئیں جو سورت نور میں ہیں تو آنحضرت ﷺ نے منبر پر کھڑے ہو کر ایک خطبہ ارشاد فرمایا اور یہ اعلان کیا کہ اللہ تعالیٰ نے حرم نبوی ﷺ کی تقدیس و حرمت کی لاج رکھ لی ہے اور عائشہ کو عفت مآب وپاک دامن قرار دیا ہے اور اس کے ثبوت میں آپ نے نازل ہونے والی آیتوں کا ذکر کیا پھر منبر سے اترتے ہی آپ نے ان لوگوں پر حد قذف تہمت لگانے کی شرعی سزا کہ وہ اسی کوڑے ہیں جاری کرنے کا حکم دیا جنہوں نے اس ناپاک سازش میں حصہ لیا تھا، ان میں دو مرد تھے جن کا نام مسطح اور حسان ابن ثابت تھا اور ایک عورت تھی جس کا نام حمنہ بنت جحش تھا اور جو اس واقعہ میں سب سے بڑی فتنہ پرداز تھی ان سب کو اسی اسی کوڑے مارے گئے۔
زنا بالجبر میں صرف زانی حد کا سزا وار ہوگا
عن نافع : أن صفية بنت أبي عبيد أخبرته أن عبدا من رقيق الإمارة وقع على وليدة من الخمس فاستكرهها حتى افتضها فجلده عمر ولم يجلدها من أجل أنه استكرهها . رواه البخاري
حضرت نافع ؓ سے روایت ہے کہ حضرت صفیہ بنت ابوعبید نے ان سے بیان کیا کہ امارت و خلافت یعنی حضرت عمر کی حکومت کے ایک غلام نے ایک لونڈی سے زنا کرنا چاہا جو مال غنیمت کے خمس میں سے تھی اور جب وہ لونڈی اس بدکاری کے لئے تیار نہیں ہوئی تو اس نے اس کے ساتھ زبردستی جماع کیا یہاں تک کہ اس کی بکارت یعنی اس کے کنوارپنے کو زائل کردیا چناچہ حضرت عمر فاروق نے اس کو پچاس درے لگوائے اور لونڈی کے درے نہیں لگوائے یعنی اس کو اس بدکاری کی سزا نہیں دی کیونکہ اس غلام نے اس کے ساتھ زبردستی جماع کیا تھا۔ (بخاری)
ماعز کے واقعہ زنا کی ایک اور تفصیل
وعن يزيد بن نعيم بن هزال عن أبيه قال : كان ماعز بن مالك يتيما في حجر أبي فأصاب جارية من الحي فقال له أبي : ائت رسول الله صلى الله عليه و سلم فأخبره بما صنعت لعله يستغفر لك وإنما يريد بذلك رجاء أن يكون له مخرجا فأتاه فقال : يا رسول الله إني زنيت فأقم علي كتاب الله حتى قالها أربع مرات قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : إنك قد قلتها أربع مرات فبمن ؟ قال : بفلانة . قال : هل ضاجعتها ؟ قال : نعم قال : هل باشرتها ؟ قال : نعم قال : هل جامعتها ؟ قال : نعم قال : فأمر به أن يرجم فأخرج به إلى الحرة فلما رجم فوجد مس الحجارة فجزع فخرج يشتد فلقيه عبد الله بن أنيس وقد عجز أصحابه فنزع له بوظيف بعير فرماه به فقتله ثم أتى النبي صلى الله عليه و سلم فذكر ذلك له فقال : هلا تركتموه لعله أن يتوب . فيتوب الله عليه . رواه أبو داود
اور حضرت یزید ابن نعیم ابن ہزال اپنے حضرت نعیم ابن ہزال سے نقل کرتے ہیں کہ انہوں نے یعنی حضرت نعیم نے کہا کہ ماعز ابن مالک یتیم تھا میرے والد حضرت ہزال کی پرورش میں تھا اس نے جوان ہو کر محلہ کی ایک لونڈی سے زنا کرلیا جب میرے والد کو اس کا علم ہوا تو انہوں نے اس سے کہا کہ تو نبی کریم ﷺ کی خدمت میں چلا جا اور جو کچھ تو نے کہا وہ آپ ﷺ کو بتادے شاید آنحضرت ﷺ تیری مغفرت کی دعا کردیں اور میرے والد کے اس کہنے کا اس کے علاوہ اور کوئی مقصد نہیں تھا کہ استغفار گناہ سے اس کی نجات کا سبب بن جائے یعنی میرے والد کا یہ مقصد نہیں تھا کہ وہ آنحضرت ﷺ کے پاس جائے اور آنحضرت ﷺ اس کو سنگسار کئے جانے کا حکم دیں جیسا کہ بعض لوگوں نے سمجھا ہے ماعز نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ مجھ سے زنا کا ارتکاب ہوگیا ہے آپ مجھ پر کتاب اللہ کا حکم جاری کیجئے۔ آنحضرت ﷺ نے اس کی بات سن کر اپنا منہ اس کی طرف سے پھیرلیا وہ وہاں سے ہٹ گیا اور پھر آیا اور کہا کہ یا رسول اللہ! مجھ سے زنا کا ارتکاب ہوگیا ہے آپ مجھ پر کتاب اللہ کا حکم جاری کیجئے یہاں تک کہ اس نے یہ بات چار بار یعنی چار مجلسوں میں کہی رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ تو نے یہ بات چار بار کہی یعنی چار بار اقرار کرنے سے تیرا جرم زنا ثابت ہوگیا ہے اب یہ بتا کہ تو نے کس کے ساتھ زنا کیا ہے اس نے نام لے کر کہا کہ فلاں عورت کے ساتھ آپ ﷺ نے فرمایا کیا تو اس کے ساتھ ہمخواب یعنی آغوش ہوا تھا اس نے کہا ہاں آپ ﷺ نے فرمایا کیا تو نے اس کے بدن کو اپنے بدن سے لپٹایا تھا؟ اس نے کہا ہاں آپ ﷺ نے فرمایا کیا تو نے اس کے ساتھ جماع کیا تھا؟ اس نے کہا ہاں اس کے بعد آنحضرت ﷺ نے اس کو سنگسار کرنے کا حکم دیا۔ چناچہ اس کو حرہ لے جایا گیا اور جب وہاں سنگسار کیا جانے لگا اور اسے پتھروں کی چوٹ لگنے لگی تو وہ بدحو اس ہوگیا یعنی وہ پتھروں کی چوٹ برداشت نہ کرسکا اور جہاں سنگسار کیا جا رہا تھا وہاں سے بھاگ کھڑا ہوا راستہ میں اس کو عبداللہ ابن انیس ملے جن کے ساتھی یا ماعز کو سنگسار کرنے والے تھک گئے عبداللہ نے اونٹ کے پاؤں کی ہڈی اٹھائی اور اس سے ماعز کو مارا یہاں تک کہ انہوں نے اس کو ختم کر ڈالا اس کے بعد عبداللہ نبی کریم ﷺ کی خدمت میں آئے اور آپ ﷺ کے سامنے سارا واقعہ بیان کیا آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ تم نے اس کو چھوڑ کیوں نہیں دیا شاید وہ اپنے اقرار سے رجوع کرلیتا اور اللہ تعالیٰ اس کی توبہ قبول کر کے سنگساری کئے بغیر ہی اس کا گناہ معاف کردیتا۔ (ابو داؤد )۔
تشریح
اس کو حرہ لے جایا گیا، ابن حمام کہتے ہے کہ صحیح بخاری کی روایت میں تو یہ ہے کہ ماعز کو مصلی میں سنگسار کیا گیا اور مسلم اور ابوداؤد کی ایک روایت میں یہ ہے کہ اس کو بقیع غرقد لے جایا گیا ان دونوں روایتوں میں بظاہر تضاد نظر آتا ہے لیکن اگر یہ بات ملحوظ رہے کہ مصلی سے نماز جنازہ پڑھنے کی جگہ مراد ہے اور نماز جنازہ پڑھنے کی جگہ وہیں بقیع غرقد میں تھی تو پھر کوئی تضاد نہیں رہے گا رہی یہ بات کہ ترمذی کی روایت میں جو یہ منقول ہے کہ ماعز کے چوتھی بار اقرار کرنے کے بعد اس کو سنگساری کا حکم جاری کیا گیا چناچہ اس کو حرہ لے جایا گیا اور وہاں سنگسار کیا گیا جیسا کہ یہاں ابوداؤد کی روایت میں بھی یہی ہے کہ اس کو حرہ لے جایا گیا تو اس کی تاویل یہ کی جائے گی کہ جب وہ پتھروں کی چوٹ کھا کر بھاگا تو اس کا پیچھا کیا گیا تاآنکہ اس کو حرہ لے جایا گیا تو اس کی تاویل کی ضروری ہے کہ پھر یہ بات صحیح ثابت نہیں ہوگی کہ ماعز کو سنگسار کرنے کے لئے حرہ لے گیا تھا کیونکہ صحاح اور حسان کی روایتیں اس بات کی موئید ہیں کہ شروع میں ماعز کو سنگسار کرنے کے لئے حرہ کی طرف نہیں لے جایا گیا تھا بلکہ جب اس کو سنگسار کیا جانے لگا تو وہ خود بھاگ کر حرہ چلا گیا تھا یا یہ توجیہ کی جائے کہ مصلی جہاں ماعز کو سنگسار کیا گیا حرہ ہی کے آس پاس ہوگا لہٰذا کسی راوی نے تو مصلی کا ذکر کیا اور کسی راوی نے حرہ کا اس صورت میں دونوں احادیث کے مفہوم میں یکسانیت پیدا ہوجائے گی۔
وعن عمرو بن العاص قال : سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول : ما من قوم يظهر فيهم الزنا إلا أخذوا بالسنة وما من قوم يظهر فيهم الرشا إلا أخذوا بالرعب . رواه أحمد
اور حضرت عمرو ابن العاص کہتے ہیں کہ میں نے رسول کریم ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ جب قوم میں زنا کی کثرت ہوجاتی ہے اس کو قحط اپنی لپیٹ میں لے لیتا ہے اور جس قوم میں رشوت کی وبا عام ہوجاتی ہے اس پر رعب (وخوف) مسلط کردیا جاتا ہے۔ (احمد)
تشریح
رشوت اس مال کو کہتے ہیں جو کسی شخص کو اس شرط کے ساتھ دیا جائے کہ وہ اس کے کام میں مدد کرے۔ بعض حضرات نے اس کی تعریف میں اس قید کا بھی اضافہ کیا ہے کہ اس کام میں اتنی مشقت و محنت نہ ہو جس کی اجرت عام طور پر دئیے گئے مال کی بقدر دی جاتی ہو جیسے کسی بادشاہ یا حاکم کے سامنے کوئی بات سفارش کے طور پر کہہ دینی یا اس میں سعی و کوشش کرنی اس سے معلوم ہوا کہ محنت ومشقت کے بقدر مال دینا رشوت نہیں کہلائے گا اسی طرح اگر بلا شرط مال دیا جائے تو بھی رشوت کے حکم میں نہیں ہوگا۔ بہرکیف اس حدیث سے معلوم ہوا کہ رشوت محض ایک سماجی برائی اور ایک شرعی گناہ ہی نہیں ہے بلکہ ایک اخلاقی ظلم بھی ہے کہ جس کی سزا آخرت میں تو ملے گی اس کا وبال مختلف صورتوں میں اس دنیا میں بھی ظاہر ہوتا ہے چناچہ یہاں حدیث میں اسی کو ذکر کیا گیا ہے کہ رشوت کی نحوست ساری قوم کو اپنی لپیٹ میں لے لیتی ہے اور اسے بزدل بنا کر غیروں کی ہیبت میں اور اپنوں کے خوف میں مبتلا کردیتی ہے۔ غیروں کی ہیبت تو یوں مسلط ہوجاتی ہے کہ راشی رشوت لینے والا اپنا ضمیر و ایمان بیچ ڈالتا ہے اور جب وہ ضمیر و ایمانداری کی دولت سے محروم ہوجاتا ہے تو اس کے اندر سے وہ ساری توانائی اور قوت ختم ہوجاتی ہے جو اس کو غیروں کے مقابلہ پر عظمت و برتری کا احساس دلاتی ہے۔ اپنوں کا خوف اس طرح مسلط ہوجاتا ہے کہ اگر کوئی حاکم و کارکن رشوت نہیں لیتا تو وہ اپنا حکم اپنے ہر ادنی واعلی پر جاری کرتا ہے اور اپنے فرائض منصبی کی ادائیگی میں کسی قسم کی جھجک محسوس نہیں کرتا لیکن جب وہ رشوت سے آلودہ ہوجاتا ہے تو پھر اس پر ایک خوف مسلط ہوجاتا ہے جو اسے قدم قدم پر اپنے فرائض منصبی کی ادائیگی اور اجرائے احکام سے جھجکاتا رہتا ہے کہ اس کے کسی حکم یا کسی کاروائی سے کوئی ایسا شخص ناراض نہ ہوجائے جس سے کہ اس کو رشوت کی صورت میں ناجائز مالی فائدے حاصل ہیں یا جو اس کو رشوت ستانی کے جرم کا راز دار ہے اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ جب رشوت کی وباعام ہوجاتی ہے اور اس کی وجہ سے ہر حاکم وکارکن ہیبت وخوف میں مبتلا ہوجاتا ہے تو پورا نظام حکومت بہت خوفناک قسم کی بدحالی وبے اعتمادی اور لا قانونیت کا شکار ہوجاتا ہے اور ساری قوم بےاطمینانی اور مصائب وپریشانیوں میں گھر کر رہ جاتی ہے۔
وعن ابن عباس وأبي هريرة أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : ملعون من عمل عمل قوم لوط . رواه رزينوفي رواية له عن ابن عباس : أن عليا رضي الله عنه أحرقهما وأبا بكر هدم عليهما حائطا
اور حضرت ابن عباس اور حضرت ابوہریرہ ؓ روایت ہے کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا جو شخص قوم لوط کا سا عمل یعنی اغلام کرے وہ ملعون ہے۔ (رزین) اور رزین ہی کی ایک روایت میں حضرت ابن عباس ؓ سے منقول ہے کہ حضرت علی نے بطور سزا اغلام کرنے والے اور کرانے والے دونوں کو جلوا دیا تھا اور حضرت ابوبکر نے ان پر دیوار گروا دی تھی۔۔
تشریح
جامع صغیر میں امام احمد نے حضرت حسن کی سند کے ساتھ حضرت ابن عباس ؓ سے جو روایت نقل کی ہے اس میں یہ الفاظ ہیں کہ جو شخص اپنی ماں کو برا کہے وہ ملعون ہے جو شخص غیر اللہ کے نام پر جانور ذبح کرے وہ ملعون ہے جو شخص اسلامی سلطنت کی زمین کی سرحدوں میں رد و بدل کرے وہ ملعون ہے جو شخص کسی اندھے کو غلط راستہ بتائے وہ ملعون ہے جو شخص جانور سے بدفعلی کرے وہ ملعون ہے اور جو شخص قوم لوط کا سا عمل کرے یعنی اغلام کرے وہ ملعون ہے۔ اور حضرت ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا اللہ عزوجل اس شخص پر نظر رحمت نہیں کرتا جو کسی مرد یا عورت کے ساتھ بدفعلی کرے۔ اس روایت کو امام ترمذی نے نقل کیا ہے اور کہا ہے کہ یہ حدیث حسن غریب ہے۔
جانور کے ساتھ بدفعلی کرنے والا حد کا سزا وار نہیں ہوتا
وعنه أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : لا ينظر الله عز و جل إلى رجل أتى رجلا أو امرأة في دبرها . رواه الترمذي وقال : هذا حديث حسن غريب (2/315) 3586 - [ 32 ] ( لم تتم دراسته ) وعنه أنه قال : من أتى بهيمة فلا حد عليه . رواه الترمذي وأبو داود وقال الترمذي : عن سفيان الثوري أنه قال : وهذا أصح من الحديث الأول وهو : من أتى بهيمة فاقتلوه والعمل على هذا عند أهل العلم
اور حضرت ابن عباس ؓ سے منقول ہے کہ انہوں نے (بطریق مرفوع) کہا کہ جو شخص جانور کے ساتھ بدفعلی کرے وہ حد کا سزاوار نہیں لیکن قابل تعزیر ہے اس روایت کو ترمذی اور ابوداؤد نے نقل کیا ہے نیز ترمذی سفیان ثوری سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے (یعنی سفیان نے) کہا کہ یہ حدیث ابن عباس کی اس پہلی حدیث سے زیادہ صحیح ہے جو دوسری فصل میں ان سے نقل کی گئی ہے اور وہ پہلی حدیث یہ ہے کہ جو شخص جانور سے بدفعلی کرے اس کو مار ڈالو چناچہ علماء نے اسی پر عمل کیا ہے کہ جانور کے ساتھ بدفعلی کرنے والا حد کا سزا وار نہیں ہوتا البتہ بطور تعزیر اس کو کوئی سزا دی جاسکتی ہے۔
تشریح
بظاہر یہ معلوم ہوتا ہے کہ یہ حدیث حضرت ابن عباس کا اپنا قول ہے لیکن اس صورت میں سفیان ثوری کے اس قول کہ یہ حدیث پہلی حدیث سے زیادہ صحیح ہے کے کوئی معنی نہیں رہیں گے لہٰذا صحیح بات یہ ہے کہ یہ حضرت ابن عباس کا اپنا قول نہیں ہے بلکہ ارشاد نبوی ﷺ ہے۔
حدجاری کرنے میں کوئی فرق وامتیاز نہ کر و
وعن عبادة بن الصامت قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : أقيموا حدود الله في القريب والبعيد ولا تأخذكم في الله لومة لائم . رواه ابن ماجه
اور حضرت عبادہ ابن صامت روای ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا قریب و بعید سب پر حدود اللہ جاری کرو اور خبر دار اللہ کا حکم یعنی حد جاری کرنے میں کسی ملامت کرنے والے کی ملامت تمہارے آڑے نہ آئے۔ (ابن ماجہ)
تشریح
قریب وبعید سے نزدیک کے اور دور کے رشتے دار مراد ہیں کہ اگر مجرم تمہارا دور کا جاننے والا ہے تو اس پر بھی حد جاری کرو اور اگر نزدیکی رشتہ دار ہے تو اس پر حد جاری کرنے سے باز ہو یا یہ کہ قریب سے مراد کمزور ہے کہ اس تک پہنچنا نزدیک اور اس پر حد جاری کرنا آسان ہوتا ہے اور بعید سے مراد قوی ہے کہ اس تک پہنچنا بعید اور اس پر حد جاری کرنا دشوار ہوتا ہے اور یہی مراد حدیث کی منشاء کے زیادہ قریب ہے کیونکہ یہاں بھی ہدایت دینا مقصد ہے کہ حد ہر مجرم پر جاری کرو خواہ وہ امیر ہو یا غریب، شاہ ہو یا گدا کمزور ہو یا قوی اور اپنا عزیز ہو یا غیر عزیز ہو۔
حدجاری کرنے کے دور رس فوائد
وعن ابن عمر أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : إقامة حد من حدود الله خير من مطر أربعين ليلة في بلاد الله . رواه ابن ماجه
اور حضرت ابن عمر ؓ سے روایت ہے کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا کہ حدود اللہ میں سے کسی ایک حد کا جاری کرنا اللہ کے تمام شہروں پر چالیس رات تک بارش برسنے سے بہتر ہے (ابن ماجہ) نسائی نے اس روایت کو حضرت ابوہریرہ ؓ نقل کیا ہے۔
تشریح
اس کی وجہ یہ ہے کہ حد جاری کرنا گویا مخلوق کو گناہ سے اور معاصی کے ارتکاب سے روکنا ہے اور یہ آسمان کے دروازوں کے کھلنے یعنی نزول برکات کا سبب ہے، اس کے برخلاف حدود کو معاف کرنا یا ان کو جاری کرنے میں سستی کرنا گویا مخلوق کو گناہ و معاصی میں مبتلا ہونے کا موقع دینا ہے اور یہ چیز یعنی گناہ و معاصی کا پھیل جانا قحط سالی میں گرفتار ہونے کا سبب اور انسان ہی نہیں بلکہ غیر انسانی مخلوق کو بھی ہلاکت و بربادی کے دروازے پر پہنچانے کا ذریعہ ہے جیسا کہ منقول ہے کہ حباری بنی آدم کے گناہوں کے سبب مارے دبلاپے کے مرجاتا ہے یعنی انسان عمومی طور پر برائیوں کی راہ پر لگ جاتا ہے اور گناہ و معاصی کے ارتکاب کی کثرت ہوجاتی ہے تو اس کی نحوست سے اللہ تعالیٰ بارش نہیں برساتا اور جب بارش نہیں ہوتی تو صرف انسانوں ہی کے لئے قحط نہیں پھیلتا بلکہ اس کی وجہ سے چرند وپرند بھی اپنے رزق سے محروم ہوجاتے ہیں اور وہ بھی مرنے لگتے ہیں۔ حباری ایک جانور کا نام ہے یہاں خاص طور پر اس کا ذکر کیا گیا ہے کہ وہ دور دور سے اپنے لئے چارہ تلاش کر کے لاتا ہے۔