شہداء کا مسکن فردوس اعلی ہے
وعن أنس أن الربيع بنت البراء وهي أم حارثة بن سراقة أتت النبي صلى الله عليه و سلم فقالت : يا رسول الله ألا تحدثني عن حارثة وكان قتل يوم بدر أصابه سهم غرب فإن كان في الجنة صبرت وإن كان غير ذلك اجتهدت عليه في البكاء فقال : يا أم حارثة إنها جنان في الجنة وإن ابنك أصاب الفردوس الأعلى . رواه البخاري
اور حضرت انس کہتے ہیں کہ (میری پھوپھی) حضرت ربیع بنت براء جو حضرت حارثہ بن سراقہ کی ماں ہیں (ایک دن) نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئیں اور کہنے لگیں کہ (یا نبی اللہ! کیا آپ مجھ سے میرے بیٹے کا حال بیان نہیں کریں گے اور حارثہ بدر کے دن (یعنی جنگ بدر میں) شہید ہوگئے اور ان کو ایسا تیر لگا تھا جس کا چلانے والا معلوم نہ ہو کہ کون تھا اگر وہ جنت میں ہو تو میں صبر کروں اور اگر وہ کسی اور جگہ ہو تو میں رونے کی کوشش کروں ( یعنی خوب رؤوں جیسا کہ عورتوں کی عادت ہے ) آنحضرت ﷺ نے فرمایا حارثہ کی ماں! حقیقت یہ ہے کہ جنت میں بہت سے باغ ہیں اور تمہارا بیٹا فردوس اعلی میں پہنچا ہوا ہے (جو جنت کا سب سے اعلی درجہ ہے )۔ (بخاری)
وعنه قال : انطلق رسول الله صلى الله عليه و سلم وأصحابه حتى سبقوا المشركين إلى بدر وجاء المشركون فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : قوموا إلى جنة عرضها السماوات والأرض . قال عمير بن الحمام : بخ بخ فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : ما يحملك على قولك : بخ بخ ؟ قال : لا والله يا رسول الله إلا رجاء أن أكون من أهلها قال : فإنك من أهلها قال : فأخرج تمرات من قرنه فجعل يأكل منهن ثم قال : لئن أنا حييت حتى آكل تمراتي إنها الحياة طويلة قال : فرمى بما كان معه من التمر ثم قاتلهم حتى قتل . رواه مسلم
اور حضرت انس کہتے ہیں کہ (غزوہ بدر کے موقع پر) رسول کریم ﷺ اور آپ ﷺ کے صحابہ (مدینہ) روانہ ہوئے اور مشرکوں سے پہلے بدر (کے میدان جنگ) میں پہنچ گئے پھر (جب اسلامی مجاہدین کے پہنچنے کے بعد) مشرکین کا لشکر آیا اور (مقابلہ کی تیاری شروع ہوئی) تو آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ جنت کے راستے پر کھڑے ہوجاؤ، وہ جنت جس کا عرض زمین و آسمان کے عرض کے برابر ہے (ایک صحابی) حضرت عمیر ابن حمام انصاری نے (یہ ارشاد سن کر کہا کہ خوب! خوب! رسول اللہ ﷺ نے پوچھا تم نے خوب خوب کیوں کہا؟ عمیر نے کہا کہ یا رسول اللہ! میں نے یہ الفاظ (اظہار تعجب یا کسی اور مطلب سے نہیں کہے بلکہ (درحقیقت ان الفاظ کے ذریعہ اپنی اس آرزو کا اظہار کیا ہے کہ میں بھی جنتی بنوں آنحضرت ﷺ نے فرمایا اس میں کوئی شک نہیں تم بھی جنتی ہو۔ راوی کہتے ہیں کہ حضرت عمیر نے سرکار دو عالم ﷺ کی زبان مبارک سے یہ بشارت سن کر اپنے ترکش سے کچھ کھجوریں نکالیں اور ان کو کھانا شروع کیا اور پھر کہنے لگے کہ اگر میں ان (ساری کھجوروں کو کھانے تک زندہ رہا تو زندگی طویل ہوگی چناچہ انہوں نے ان کھجوروں کو جو ان کے پاس تھیں پھینک دیا اور کفار سے لڑنے لگے یہاں تک کہ شہید ہوگئے۔ (مسلم)
تشریح
جنت کے راستے پر کھڑے ہوجاؤ کا مطلب یہ ہے کہ اس عمل کی راہ کو اختیار کرو جو جنت میں لے جانے کا باعث ہے۔ اور وہ جہاد ہے۔ جس کا عرض زمین و آسمان کے عرض کے برابر ہے اس ارشاد کے ذریعہ درحقیقت جنت کی وسعت و کشادگی کو بیان کرنا ہے چناچہ اس مقصد کے لئے ایسی چیز (یعنی زمین و آسمان کے درمیانی فاصلے) کے ساتھ تشبیہ دی گئی ہے جس سے زیادہ وسیع و عریض چیز انسان کے فہم میں اور کوئی نہیں آسکتی، نیز اس ارشاد میں صرف عرض کو ذکر کیا گیا ہے طول کو بیان نہیں کیا گیا تاکہ انسانی فہم خود اندازہ کرلے کہ جس چیز کا عرض اتنا ہے اس کے طول کا کیا حال ہوگا۔ تم نے خوب خوب کیوں کہا گویا آنحضرت ﷺ نے یہ خیال فرمایا کہ عمیر نے جو یہ الفاظ کہے ہیں وہ بغیر کسی نیت و ارادہ کے اور بغیر سوچے سمجھے ان کی زبان سے ادا ہوئے ہیں جیسا کہ اس قسم کے الفاظ یا تو اس شخص کی زبان سے صادر ہوتے ہیں جو کسی کی کسی بات پر اپنے ہزل و مزاح اور استہزاء کا اظہار کرتا ہے۔ یا اپنے قتل کے خوف میں مبتلا ہوتا ہے۔ چناچہ آنحضرت ﷺ نے جب عمیر سے ان الفاظ کی وضاحت طلب کی تو انہوں نے ان دونوں باتوں سے انکار کیا اور اللہ کی قسم کھا کر اپنا اصل مطلب بیان کیا۔ تو زندگی طویل ہوگی۔ سے حضرت عمیر کی مراد یہ تھی کہ اگر میں ساری کھجوریں کھانے کا انتظار کروں اور جب تک جیوں تو زندگی طویل ہوجائے گی۔ جب کہ آرزو یہ ہے کہ اب ایک منٹ گنوائے بغیر اللہ کی راہ میں اپنی جان قربان کر دوں اور شہادت کا مرتبہ حاصل کر کے جنت کی راہ پکڑ لوں۔ گویا انہوں نے حصول شہادت کی شوق کی وجہ سے اپنی زندگی کو اور کفار سے نبرد آزمائی میں تاخیر کو اپنے حق میں وبال جانا۔
وعن أبي هريرة قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : ما تعدون الشهيد فيكم ؟ قالوا : يا رسول الله من قتل في سبيل الله فهو شهيد قال : إن شهداء أمتي إذا لقليل : من قتل في سبيل الله فهو شهيد ومن مات في سبيل الله فهو شهيد ومن مات في الطاعون فهو شهيد ومن مات في البطن فهو شهيد . رواه مسلم
اور حضرت ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے (صحابہ) سے پوچھا کہ تم اپنے آپ میں سے کس کو شہید شمار کرتے ہو؟ صحابہ نے عرض کیا یا رسول اللہ! جو شخص اللہ کی راہ میں مارا جائے وہ شہید ہے آنحضرت ﷺ نے فرمایا اس صورت میں میری امت کے اندر شہیدوں کی تعداد کم ہوجائے گی جو شخص اللہ کی راہ میں مارا جائے وہ تو (حقیقی شہید ہے) لیکن جو شخص اللہ کی راہ (یعنی جہاد) میں (بغیر قتل و قتال کے خود اپنی موت سے ) مرجائے وہ بھی شہید ہے جو شخص وباء میں مرے وہ بھی شہید ہے اور جو شخص پیٹ کی بیماری (یعنی استسقاء اور اسہال وغیرہ) میں مرے وہ بھی شہید ہے یعنی یہ سب بھی حقیقی شہداء کے درجات وثواب میں ہیں نہ یہ کہ ان کے جمیع احکام ہیں۔ (مسلم )
وعن عبد الله بن عمرو قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : ما من غازية أو سرية تغزو فتغتنم وتسلم إلا كانوا قد تعجلوا ثلثي أجورهم وما من غازية أو سرية تخفق وتصاب إلا تم أجورهم . رواه مسلم
اور حضرت عبداللہ ابن عمر کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا جہاد کرنے والی جس جماعت یا جہاد کرنے والے جس لشکر نے جہاد کیا اور مال غنیمت لے کر صحیح وسالم واپس آگیا اس کو اس کا دو تہائی اجر جلدی یعنی اسی دنیا میں) مل گیا اور جہاد کرنے والی جس جماعت یا جہاد کرنے والے جس لشکر نے جہاد کیا اور نہ صرف یہ کہ اس کو مال غنیمت نہیں ملا بلکہ اس جماعت و لشکر کے لوگ زخمی کئے گئے یا شہید کردیئے گئے تو ان کا اجر پورا باقی رہا۔ (مسلم)
تشریح
مطلب یہ ہے کہ اسلام کے جو مجاہد کفار سے جنگ کرنے کے لئے نکلیں گے ان کی تین صورتیں ہوں گی ایک تو یہ کہ وہ کفار سے جنگ کے بعد صحیح وسالم لوٹ کر بھی آئیں گے اور جو مال غنیمت ان کے ہاتھ لگے گا اس کے بھی حق دار ہونگے۔ ایسے ہی مجاہدین کے بارے میں فرمایا گیا ہے کہ انہوں نے اپنی محنت ومشقت کا دو تہائی اجر کہ سلامتی کے ساتھ لوٹنا اور مال غنیمت حاصل کرنا ہے اسی دنیا میں حاصل کرلیا ایک تہائی اجر جو باقی رہا ہے یعنی جہاد کا ثواب وہ انہیں قیامت کے دن ملے گا دوسرے یہ کہ جو مجاہد صحیح و سلامت لوٹ کر تو آئے مگر مال غنیمت ان کے ہاتھ نہیں لگا تو انہوں نے گویا اس دنیا میں ایک تہائی اجر پا لیا ہے اور جو تہائی باقی رہا ہے وہ قیامت کے دن پائیں گے، تیسرے وہ مجاہد ہیں جنہوں نے جہاد کیا اور میدان میں زخمی ہوگئے یا شہید کر دئیے گئے اور ان کے ہاتھ مال غنیمت بھی نہیں لگا تو ان کا اجر باقی ہے جو انہیں پوری طرح قیامت کے دن ملے گا۔
جس مؤمن کے دل میں جذبہ جہاد نہ ہو وہ منافق کی طرح ہے
وعن أبي هريرة قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : من مات ولم يغزو ولم يحدث به نفسه مات على شعبة نفاق . رواه مسلم
اور حضرت ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا جو شخص (مؤمن ) مرجائے اور جہاد نہ کرے اور نہ اس کے دل میں جہاد کرنے کا خیال گزرا ہو تو اس کی موت ایک طرح کے نفاق پر ہوگی۔ (مسلم)
تشریح
اور نہ اس کے دل میں جہاد کرنے کا خیال گزرا ہو کا مطلب یہ ہے کہ اس نے نہ صرف یہ کہ اپنی پوری زندگی میں کبھی جہاد نہیں کیا بلکہ کبھی جہاد کرنے کا قصد و ارادہ بھی نہیں کیا اور نہ کسی موقع پر یہ کہا کہ کاش! میں بھی جہاد کرتا اور چونکہ یہ منافقین کی خصلت ہے کہ وہ بلکہ کبھی جہاد کے وقت منہ چھپا کر گھروں میں بیٹھ جاتے ہیں اور ان کے دل میں جہاد کرنے کا خیال بھی پیدا نہیں ہوتا لہٰذا حدیث (من تشبہ بقوم فہو منہم) کے مطابق ایسا مؤمن بھی منافق کے مشابہ ہوا۔ امام نووی شرح مسلم میں لکھتے ہیں کہ اس حدیث سے یہ معلوم ہوا کہ جو شخص کوئی واجب عبادت کے نہ کرنے کا وبال اتنا زیادہ اس کے حق میں ظاہر نہیں ہوگا۔ جتنا اس صورت میں ظاہر ہوتا کہ وہ اس عبادت کے کرنے کی نیت بھی نہ کرتا اور مرجاتا۔ نیز نووی نے یہ بھی کہا ہے کہ ہمارے علماء شوافع کا اس شخص کے بارے میں اختلاف اقوال ہے جو نماز کو اس کے اول وقت میں ادا کرنے پر قادر ہو اور اس کو پڑھنے کی نیت بھی رکھتا ہو مگر اس کی ادائیگی میں تاخیر کرے اور اس نماز کا وقت ختم ہونے سے پہلے مرجائے اسی طرح حج کا معاملہ ہے کہ اس پر حج فرض ہو اور وہ شروع ہی میں اس فرض کی ادائیگی پر قادر تھا مگر اس میں تاخیر کی یہاں تک کہ مرگیا تو بعض علماء یہ کہتے ہیں کہ وہ نماز وحج دونوں صورتوں میں گناہگار ہوگا۔ بعض علماء یہ کہتے ہیں کہ وہ دونوں ہی صورتوں میں وہ گناہگار نہیں ہوگا اور بعض علماء یہ کہتے ہیں کہ وہ حج کی صورت میں تو گنہگار ہوگا لیکن نماز کی صورت میں گناہگار نہیں ہوگا۔ حنفی علماء کا مسلک بھی اسی آخری قول کے مطابق ہے۔
وعن أبي موسى قال : جاء رجل إلى النبي صلى الله عليه و سلم فقال : الرجل يقاتل للمغنم والرجل يقاتل للذكر والرجل يقاتل ليرى مكانه فمن في سبيل الله ؟ قال : من قاتل لتكون كلمة الله هي العليا فهو في سبيل الله
اور حضرت ابوموسی اشعری کہتے ہیں کہ ایک شخص نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا کہ ایک تو وہ شخص ہے جو مال غنیمت حاصل کرنے کے لئے جنگ کرتا ہے ایک وہ شخص ہے جو ذکر یعنی آوازہ اور شہرت کو جس کو سمعہ کہتے ہیں کہ لئے جنگ کرتا ہے اور ایک وہ شخص ہے جو اس لئے جنگ کرتا ہے تاکہ اس کا مرتبہ دیکھا جائے یعنی اپنی شجاعت وبہادری دکھانے کے لئے جنگ کرتا ہے کہ جس کو ریا کہتے ہیں تو ان تینوں میں کون اللہ کی راہ میں جہاد کرنے والا ہے؟ آنحضرت ﷺ نے فرمایا جو شخص اس لئے جنگ کرے تاکہ اللہ کا دین سربلند ہو حقیقت میں وہی اللہ کی راہ میں جہاد کرنے والا ہے۔ ( بخاری ومسلم )
عذر کی بنا پر جہاد میں جانے والے کا حکم
وعن أنس : أن رسول الله صلى الله عليه و سلم رجع من غزوة تبوك فدنا من المدينة فقال : إن بالمدينة أقواما ما سرتم مسيرا ولا قطعتم واديا إلا كانوا معكم . وفي رواية : إلا شركوكم في الأجر . قالوا : يا رسول الله وهم بالمدينة ؟ قال : وهم بالمدينة حبسهم العذر . رواه البخاري (2/368) 3816 - [ 30 ] ( صحيح ) ورواه مسلم عن جابر
اور حضرت انس کہتے ہیں کہ جب رسول کریم ﷺ غزوہ تبوک سے واپس آ رہے تھے اور مدینہ کے قریب پہنچے تو فرمایا کہ مدینے میں کچھ لوگ ایسے ہیں جو اس سفر جہاد میں بظاہر تمہارے ساتھ نہیں تھے لیکن تم نے ایسا کوئی راستہ طے نہیں کیا اور کسی ایسی وادی وجنگل کو عبور نہیں کیا جس میں وہ تمہارے ساتھ نہ رہے ہوں یعنی ان کے جسم تو ان کے گھروں میں تھے لیکن ان کی دعائیں ان کے دل اور ان کی ہمتیں تمہارے ساتھ تھیں۔ اور ایک روایت میں (الا کانوا معکم) یعنی جس میں تمہارے شریک نہ ہوں صحابہ نے یہ سن کر عرض کیا کہ یا رسول اللہ! اور وہ مدینہ ہی میں ہیں؟ یعنی جب کہ وہ ہمارے ساتھ جہاد میں شریک نہیں گئے اور اپنے گھروں میں موجود رہے پھر وہ ہمارے ساتھ کیسے رہے اور ہمارے اجر وثواب میں کیسے شریک ہوئے؟ آنحضرت ﷺ نے فرمایا ہاں وہ مدینہ میں ہیں لیکن اس کے باوجود وہ اجر وثواب میں تمہارے شریک ہیں کیونکہ ان کے عذر نے ان کو روکا ہے یعنی وہ اپنے عذر کی سبب سے تمہارے ساتھ جہاد میں نہیں جاسکے ہیں۔ بخاری اور مسلم نے اس روایت کو حضرت جابر سے نقل کیا ہے۔
تشریح
جو لوگ عذر کی بنا پر جہاد میں نہیں جاسکے اور مدینہ میں رہ گئے وہ جہاد کرنے والوں کے ثواب میں شریک تھے نہ یہ کہ مرتبہ ودرجہ کے اعتبار سے وہ مجاہدین کے برابر تھے کیونکہ جن لوگوں نے بنفس نفیس جہاد میں شرکت کی اور اللہ کی راہ میں اپنی جان ومال کی قربانی پیش کی وہ افضل ہیں جیسا کہ ارشاد ربانی ہے ا یت (فضل اللہ المجاہدین باموالہم وانفسہم علی القاعدین درجہ ) مال اور جان سے جہاد کرنے والوں کو بیٹھ رہنے والوں پر اللہ نے درجہ میں فضیلت بخشی ہے۔
وعن عبد الله بن عمرو قال : جاء رجل إلى رسول الله صلى الله عليه و سلم فاستأذنه في الجهاد فقال : أحي والدك ؟ قال : نعم قال : ففيهما فجاهد . متفق عليه . وفي رواية : فارجع إلى والديك فأحسن صحبتهما
اور حضرت عبداللہ ابن عمرو کہتے ہیں کہ ایک شخص نے رسول کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر جہاد میں جانے کی اجازت چاہی تو آپ ﷺ نے اس سے پوچھا کہ کیا تمہارے ماں باپ زندہ ہیں؟ اس نے عرض کیا ہاں آپ ﷺ نے فرمایا پھر تم انہیں کے درمیان رہ کر جہاد کرو یعنی پوری محنت وتندہی کے ساتھ ان کی خدمت کو کہ تمہارے حق میں یہی جہاد ہے۔ (بخاری ومسلم) اور مسلم کی ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں کہ آنحضرت ﷺ نے اس شخص سے فرمایا کہ تو پھر اپنے ماں باپ کے پاس جاؤ اور ان کی صحبت کو بہتر بناؤ یعنی ان کی خدمت اور ان کے حقوق کی ادائیگی اچھی طرح کرو۔
تشریح
شرح السنۃ میں لکھا ہے کہ اس حدیث سے جو حکم ثابت ہوتا ہے اس کا تعلق نفل جہاد سے ہے کہ جس شخص کے والدین زندہ ہوں اور مسلمان ہوں وہ ان کی اجازت کے بغیر نفل جہاد میں شرکت کے لئے گھر سے نہ جائے ہاں اگر جہاد فرض ہو تو پھر اس صورت میں اس کو والدین کی اجازت کی حاجت نہیں ہے۔ بلکہ اگر وہ منع بھی کریں اور جہاد میں جانے سے روکیں تو ان کا حکم نہ مانا جائے اور جہاد میں شریک ہو کر اپنا فرض ادا کیا جائے نیز اگر والدین کو اللہ نے اسلام کی ہدایت نہ بخشی ہو اور وہ کافر ہوں تو جہاد میں شریک ہونے کے لئے ان کی اجازت کی کسی حال میں بھی حاجت نہیں ہے خواہ جہاد فرض ہو یا نفل اسی طرح علماء نے یہ بھی لکھا ہے کہ اگر مسلمان ماں باپ یا ان میں سے کسی ایک کو ناگوار خاطر ہو تو ان کی اجازت کے بغیر بھی نفل عبادت جیسے حج وعمرہ کے لئے نہ جائے اور نہ نفل روزہ رکھے۔
فتح مکہ کے بعد ہجرت کی فرضیت، ختم ہوگئی
وعن ابن عباس عن النبي صلى الله عليه و سلم قال يوم الفتح : ( ا هجرة بعد الفتح ولكن جهاد ونية وإذا استنفرتم فانفروا
اور حضرت ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فتح مکہ کے دن فرمایا اب فتح مکہ کے بعد ہجرت نہیں ہے لیکن جہاد اور نیت باقی ہے لہٰذا جب تم کو جہاد کے لئے بلایا جائے تو تم سب فورًا چلے جاؤ۔ کیونکہ نفیر عام کے موقع پر جہاد میں جانا فرض ہے اور اس فرض کی ادائیگی ہر ایک پر ضروری ہے۔ (بخاری ومسلم)
تشریح
ہجرت نہیں ہے کا مطلب یہ ہے کہ فتح مکہ سے پہلے تو مکہ سے بلکہ ہر دارالکفر سے مدینہ کو ہجرت کرنی فرض عین تھی کیونکہ مدینہ میں دین کے نام لیواؤں کی تعداد بہت کم تھی اور وہ ہر اعتبار سے بہت کمزور و ضعیف تھے لہٰذا ہجرت کو فرض قرار دیا گیا تاکہ ہر طرف سے مسلمان مدینہ پہنچ کر وہاں کے مسلمانوں کی مدد و اعانت کریں اور اس طرح مشرکوں اور اللہ کے باغیوں کی طاقت زائل و مفلوج ہو پھر جب اللہ تعالیٰ نے فتح مکہ کے ذریعہ مسلمانوں کو عام غلبہ عطا فرمایا اور ان کی شوکت بڑھائی تو وہ علت یعنی مدینہ کے مسلمانوں کا کمزور اور قلیل المقدار ہونا زائل ہوگی اور اس وقت سے ہجرت کی فرضیت ختم ہوگی لیکن کچھ صورتوں میں ہجرت کا استحباب باقی ہے جیسے جہاد کے لئے اپنے وطن سے نکلنا حصول علم کی خاطر کسی دوسری جگہ چلے جانا اور دارالکفر و دارالفتنہ سے یا کسی ملک و شہر سے نکل بھاگنا جہاں بھلائیاں متروک ہوچکی ہوں اور برائیاں مروج ہوگئی ہوں۔ لیکن جہاد اور نیت باقی ہے کا مطلب یہ ہے کہ دین کے دشمنوں اور اللہ کے باغیوں کا دعویٰ سرنگوں کرنے کے لئے جہاد کی نیت رکھنے اور اخلاص عمل پیدا کرنے کا حکم باقی ہے حاصل یہ کہ ہجرت یعنی اپنا وطن چھوڑ کر مدینہ چلے جانا مسلمان پر فرض تھا پھر یہ حکم ختم ہوگیا لیکن جہاد کے سبب سے یا نیت صالحہ کی بنا پر کفار کے یا اور جاہل کفار کے یا اور جاہل و بدعت اور فتنوں کے گڑھ سے نکل بھاگنے یا طلب علم کے لئے اپنا وطن چھوڑ دینا باقی رہا اور اس کا حکم منسوخ نہیں ہوا۔
دین کی سربلندی کے لئے امت محمد ﷺ کی کوئی نہ کوئی جماعت ہمیشہ برسر جہاد رہے گی
عن عمران بن حصين قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : لا تزال طائفة من أمتي يقاتلون على الحق ظاهرين على من ناوأهم حتى يقاتل آخرهم المسيح الدجال . رواه أبو داود
حضرت عمران ابن حصین کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا میری امت کی کوئی نہ کوئی جماعت ہمیشہ حق کی حمایت و حفاظت کے لئے برسر جنگ رہے گی اور جو بھی شخص اس جماعت سے دشمنی کرے گا وہ اس پر غالب رہے گی، یہاں تک کہ اس امت کے آخری لوگ مسیح دجال سے جنگ کریں گے۔ (ابو داؤد)
تشریح
اس ارشاد گرامی سے جہاں یہ واضح ہوتا ہے کہ یہ امت کسی بھی زمانے میں ایسے سرفروشوں اور جانبازوں سے خالی نہیں رہے گی جو دین کی سربلندی حق کی حمایت و حفاظت اور ملت کے تحفظ کے لئے جان ومال کی قربانی پیش کریں گے اور دشمنان اسلام کا دعویٰ سرنگوں کریں گے وہیں یہ بات بھی ثابت ہوئی کہ مجاہدین اسلام کے مقابلہ پر آنے والے کو آخر کار ہزمیت اور شکست کی رسوائی کا سامنا کرنا پڑے گا خواہ وہ کوئی فرد ہو یا کوئی جماعتی طاقت ہوسکتا ہے کہ وقت نزاکت اور حالات کی رفتار کسی مرحلہ پر مسلمانوں کے لئے بظاہر کسی پسپائی کا موقعہ پیدا کر دے لیکن آخر کار فتح و کامرانی مسلمانوں کا ہی نصیب بنے گی۔ اس امت کے آخری لوگ سے حضرت امام مہدی اور حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) اور ان کے تابعین کی طرف اشارہ کیا گیا ہے جو قرب قیامت میں دجال کے ذریات سے جنگ کریں گے۔ اور آخر کار حضرت عیسیٰ اس کو فنا کے گھاٹ اتاریں گے، دجال کے قتل کے بعد پھر کوئی جہاد نہیں ہوگا۔ کیونکہ یا جوج ماجوج کے خلاف تو جہاد اس لئے نہیں ہوگا کہ ان سے جنگ کرنے کی طاقت کسی کو حاصل نہیں ہوگی اور جب اللہ تعالیٰ ان کو ہلاک کر دے گا تو پھر جب تک عیسیٰ (علیہ السلام) اس دنیا میں موجود رہیں گے روئے زمین پر کوئی کافر باقی نہیں رہے گا آخر میں حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی وفات کے بعد بعض لوگ کافر ہوجائیں گے اور اس وقت تمام مسلمان ایک پاکیزہ ہوا کے ذریعہ وفات پاجائیں گے اور دنیا میں صرف کافر ہی رہ جائیں گے اس طرح جب قیامت آئے گی تو اس وقت روئے زمین پر کوئی بھی اللہ کا نام لیوا باقی موجود نہیں ہوگا۔ اس اعتبار سے بعض احادیث میں جو یہ فرمایا گیا ہے کہ (لا تزال طائفہ من امتی ظاہرین علی الحق حتی تقوم الساعۃ) یعنی میری امت کی کوئی نہ کوئی جماعت ہمیشہ حق کی حمایت و حفاظت کرتی رہے گی یہاں تک کہ قیامت قائم ہو تو یہ قرب قیامت پر محمول ہے کہ قرب قیامت تک اس روئے زمین پر حق کی حفاظت کرنے والی کوئی نہ کوئی جماعت موجود رہے گی چناچہ حق کی حمایت میں حق والوں کا آخری معرکہ دجال سے ہوگا اور دجال کا خروج علامات قیامت میں سے ہے۔
جہاد میں کسی طرح سے بھی شرکت کرنے والے کے بارے میں وعید
وعن أبي أمامة عن النبي صلى الله عليه و سلم قال : من لم يغز ولم يجهز غازيا أو يخلف غازيا في أهله بخير أصابه الله بقارعة قبل يوم القيامة . رواه أبو داود (2/369) 3821 - [ 35 ] ( صحيح ) وعن أنس عن النبي صلى الله عليه و سلم قال : جاهدوا المشركين بأموالكم وأنفسكم وألسنتكم . رواه أبو داود والنسائي والدارمي
اور حضرت امامہ نبی کریم ﷺ سے نقل کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا جس شخص نے نہ تو (بنفس خود) جہاد کیا اور نہ کسی مجاہد کا سامان درست کیا اور نہ کسی غازی کے (جہاد میں ہونے کے دوران اس کے) اہل و عیال کے حق میں بھلائی کے ساتھ ان کا نائب بنا تو اللہ تعالیٰ اس کو قیامت کے پہلے دن کسی سخت مصیبت میں مبتلا کرے گا (ابو داؤد) اور حضرت امامہ نبی کریم ﷺ سے نقل کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا مشرکین یعنی دشمنان اسلام سے تم اپنی جان اپنے مال اور اپنی زبان کے ذریعہ جہاد کرو۔ (ابو داؤد، نسائی، درامی)
تشریح
جان ومال کے ذریعہ جہاد کرنا تو یہ ہے کہ حق و باطل کے درمیان ہونے والے معرکہ کے موقع پر میدان جنگ میں اپنی جان کو پیش کرے اور زخمی ہو اور اپنے مال کو جہاد کی ضروریات میں خرچ کرے زبان کے ذریعہ جہاد کرنا یہ ہے کہ دشمنان اسلام کے عقائد ونظریات اور ان کے بتوں کی مذمت کرے ان کے حق میں میں بدعا کرے کہ انہیں حق کے مقابلہ پر ذلت و رسوائی اور شکست کا سامنا کرنا پڑے ان کو قتل و قید کرنے یا اسی طرح کی اور چیزوں سے ڈرائے دھمکائے مسلمانوں کی فتح و کامرانی اور ان کو مال غنیمت ملنے کی دعا کرے اور لوگوں کو جہاد میں شریک ہونے کی ترغیب دلائے۔
وعن أبي هريرة قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : أفشوا السلام وأطعموا الطعام واضربوا الهام تورثوا الجنان . رواه الترمذي وقال : هذا حديث غريب (2/369) 3823 - [ 36 ] ( صحيح ) وعن فضالة بن عبيد عن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : كل ميت يختم على عمله إلا الذي مات مرابطا في سبيل الله فإنه ينمى له عمله إلى يوم القيامة ويأمن فتنة القبر . رواه الترمذي وأبو داود (2/369) 3824 - [ 37 ] ( صحيح ) ورواه الدارمي عن عقبة بن عامر
اور حضرت ابوہریرہ ؓ کہتے کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا سلام کو عام یعنی ہر آشنا و نا آشنا کو سلام کرو اور غریب و محتاج لوگوں کو کھانا کھلاؤ اور کفار کے فتنہ و فساد کا سر کچلو جنت کے وارث بنائے جاؤ گے اس روایت کو ترمذی نے نقل کیا ہے اور کہا ہے کہ یہ حدیث غریب ہے۔ جہاد میں پاسبانی کی فضیلت اور حضرت فضالہ ابن عبید رسول کریم ﷺ سے نقل کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا ہر میت اپنے عمل پر اختتام پذیر ہوتی ہے یعنی ہر شخص کا عمل اس کی زندگی تک رہتا ہے مرنے کے بعد اس کا عمل بایں طور باقی نہیں رہتا کہ اس کو نیا ثواب ملے لیکن جو شخص اللہ کی راہ یعنی جہاد میں پاسبانی کرتا ہوا مرے تو اس کے لئے اس کا عمل قیامت کے دن تک بڑھا دیا جاتا ہے اور قبر کے فتنہ و عذاب سے مامون رہتا ہے ترمذی، ابوداؤد اور دارمی نے اس روایت کو عقبہ ابن عامر سے نقل کیا ہے۔
تشریح
اس کا عمل قیامت تک کے لئے بڑھا دیا جاتا ہے کا مطلب یہ ہے کہ مرنے کے بعد بھی اس کو ہر لحظہ اس کے اس عمل کا نیا ثواب ملتا رہتا ہے کیونکہ اس نے ایک ایسے علم پر اپنی جان نذر کی ہے جس کا فائدہ ہمیشہ مسلمانوں کو پہنچتا رہے گا اور وہ عمل ہے دین کو زندہ وسربلند رکھنا جو اس شخص نے جہاد میں پاسبانی کے ذریعہ سے مسلمانوں کو دشمنوں سے محفوظ ومحتاط رکھ کر انجام دیا۔
جہاد میں شرکت کرنے والے کی فضیلت
وعن معاذ بن جبل أنه سمع رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول : من قاتل في سبيل الله فواق ناقة فقد وجبت له الجنة ومن جرح جرحا في سبيل الله أو نكب نكبة فإنها تجيء يوم القيامة كأغزر ما كانت لونها الزعفران وريحها المسك ومن خرج به خراج في سبيل الله فإن عليه طابع الشهداء . رواه الترمذي وأبو داود والنسائي
اور حضرت معاذ ابن جبل سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول کریم ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ جو شخص اللہ کی راہ میں جہاد میں اونٹنی کے فواق کے بقدر یعنی تھوڑی دیر کے لئے بھی لڑا اس کے لئے ابتداء ہی جنت واجب ہوگئی جو شخص اللہ کی راہ میں (جہاد) میں دشمنوں کے ہتھیاروں سے زخمی ہوا یا وہ کسی زخم کی تکلیف میں مبتلا ہوا تو وہ زخم قیامت کے دن اس حالت میں آئے گا جیسا کہ وہ دنیا میں تھا (یعنی وہ شخص قیامت کے دن اس حال میں آئے گا کہ اس کا وہ زخم زیادہ تازہ حالت میں ہوگا اور اس زخم رنگ زعفران جیسا اور اس کی بو مشک جیسی ہوگی اور جس شخص کے بدن میں اللہ کی راہ (جہاد) میں پھوڑا نکلا تو قیامت کے دن اس پھوڑے پر یا پھوڑے والے پر شہیدوں کی مہر ہوگی یعنی اس شخص کی ساتھ شہیدوں کی علامت ہوگی تاکہ جانا جائے کہ اس شخص نے دین کی سربلندی و حفاظت کے لئے جدوجہد کی تھی چناچہ اس کو وہی اجر و انعام دیا جائے گا جو مجاہدین اسلام کو ملے گا۔
تشریح
فواق اس وقفہ کو کہتے ہیں جو اونٹنی کے دودھ دوہنے کے درمیان ہوتا ہے یعنی پہلے ایک مرتبہ اونٹنی کا دودھ دوہا اس کے بعد پھر تھوڑی دیر میں پھر دوہا ان دونوں مرتبہ دودھ دوہنے کے درمیان جو وقفہ ہوتا ہے اس کو عربی میں فواق کہتے ہیں یہاں حدیث میں فواق سے مراد تھوڑی دیر ہے۔
جہاد میں اپنا مال واس خرچ کرنے کی فضیلت
وعن خريم بن فاتك قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : من أنفق نفقة في سبيل الله كتب له بسبعمائة ضعف . رواه الترمذي والنسائي (2/370) 3827 - [ 40 ] ( حسن ) وعن أبي أمامة قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : أفضل الصدقات ظل فسطاط في سبيل الله ومنحة خادم في سبيل الله أو طروقة فحل في سبيل الله . رواه الترمذي
اور حضرت خریم ابن فاتک کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا جو شخص اللہ کی راہ میں یعنی جہاد میں اپنے مال میں سے جو کچھ بھی خرچ کرے گا اس کے لئے سات سو گنا ثواب لکھا جائے گا۔ (ترمذی)
تشریح
اللہ کی راہ میں اپنے مال و اسباب کو خرچ کرنے کا جو ثواب ہے اس کا ادنیٰ درجہ یہاں ذکر کیا گیا ہے کہ جہاد میں خرچ کیا جانے والا مال اپنے مالک کو سات سو گنا ثواب کا حقدار کرے گا ویسے یہ اللہ تعالیٰ کی رضا پر موقوف ہے کہ وہ جس کو چاہئے گا اس سے بھی زیادہ ثواب عطا فرمائے گا۔ اور حضرت ابوامامہ کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا بہترین صدقہ اس خیمہ کا سایہ ہے جو اللہ کی راہ میں یعنی کسی مجاہد یا حاجی اور یا طالب علم دین وغیرہ کو دیا جائے اور بہترین صدقہ وہ خادم ہے جو اللہ کی راہ میں (کلیۃً یا عاریۃً ) دیا جائے اور بہترین صدقہ اللہ کی راہ میں ایسی اونٹنی کا دینا ہے جو نر کی جفتی کے قابل ہو یعنی اللہ کی راہ میں ایسی اونٹنی کا دینا افضل ہے جو نر کے ساتھ جفتی کی عمر کو پہنچ گئی ہے تاکہ وہ سواروں کے کام آسکے۔ (ترمذی)
وعن أبي هريرة قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : لا يلج النار من بكى من خشية الله حتى يعود اللبن في الضرع ولا يجتمع على عبد غبار في سبيل الله ودخان جهنم . رواه الترمذي وزاد النسائي في أخرى : في منخري مسلم أبدا وفي أخرى : في جوف عبد أبدا ولا يجتمع الشح والإيمان في قلب عبد أبدا (2/370) 3829 - [ 42 ] ( صحيح ) وعن ابن عباس قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : عينان لا تمسهما النار : عين بكت من خشية الله وعين باتت تحرس في سبيل الله . رواه الترمذي
اور حضرت ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا کہ وہ شخص دوزخ میں نہیں جائے گا جو اللہ کے خوف سے رویا ہو یہاں تک کہ دودھ تھنوں میں واپس نہ چلا جائے اور کسی بندے میں اللہ کی راہ کا غبار اور دوزخ کا دھواں یک جا نہیں ہوسکتے یعنی جس مسلمان کا جسم اللہ کی راہ میں جہاد میں غبار آلود ہوا اس کو دوزخ کا دھواں چھو بھی نہیں سکتا۔ حاصل یہ کہ مجاہد دوزخ میں نہیں جائے گا۔ (ترمذی، ) اور نسائی نے ایک دوسری روایت میں یہ الفاظ بھی نقل کئے ہیں کہ اور کسی مسلمان کی ناک کے دونوں نتھنوں میں اللہ کی راہ کا غبار اور دوزخ کا دھواں کبھی بھی یک جا نہیں ہوسکتے اور نسائی ہی کی ایک اور روایت میں یہ الفاظ ہیں کہ بندے کے پیٹ میں اللہ کی راہ کا غبار اور دوزخ کا دھواں کبھی بھی یک جا نہیں ہوسکتے اور کسی بندے کے دل میں (کامل ) ایمان اور بخل کبھی بھی یک جا نہیں ہوسکتے۔
تشریح
یہاں تک کہ دودھ تھنوں میں واپس نہ چلا جائے یہ جملہ تعلیق بالمحال کے طور پر ہے یعنی جس طرح دوہے ہوئے دودھ کا تھنوں میں واپس جانا محال ہے۔ اسی طرح اس شخص کا دوزخ میں جانا محال ہے۔ اور حضرت ابن عباس کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا دو آنکھیں ایسی ہیں جن کو دوزخ کی آگ چھو بھی نہ سکے گی ایک تو وہ آنکھ جو اللہ کے خوف سے روئی ہو۔ اور دوسری وہ آنکھ ہے جس نے اللہ کی راہ میں یعنی جہاد میں کفار سے مجاہدین کی نگہبانی کرتے ہوئے رات گزاری ہو۔ (ترمذی)
وعن أبي هريرة قال : مر رجل من أصحاب رسول الله صلى الله عليه و سلم بشعب فيه عيينة من ماء عذبة فأعجبته فقال : لو اعتزلت الناس فأقمت في هذا الشعب فذكر ذلك لرسول الله صلى الله عليه و سلم فقال : لا تفعل فإن مقام أحدكم في سبيل الله أفضل من صلاته سبعين عاما ألا تحبون أن يغفر الله لكم ويدخلكم الجنة ؟ اغزوا في سبيل الله من قاتل في سبيل الله فواق ناقة وجبت له الجنة . رواه الترمذي
اور حضرت ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ ایک سفر کے دوران رسول کریم ﷺ کے ایک صحابی پہاڑی کے درہ میں سے گزرے جس میں شیریں پانی کا ایک چشمہ تھا تو وہ چشمہ ان کو بہت اچھا لگا وہ کہنے لگے کہ کاش میں لوگوں سے علیحدگی اختیار کرلوں اور اس درے میں آ رہا؟ جب رسول کریم ﷺ کے سامنے اس بات کا ذکر ہوا تو آپ ﷺ نے ان صحابی سے فرمایا کہ تم ایسا نہ کرنا کیونکہ تم میں سے کسی شخص کا اللہ کی راہ یعنی جہاد میں قیام کرنا اس کا گھر میں ستر برس نماز پڑھنے سے بہتر ہے کیا تم اس کو پسند نہیں کرتے کہ اللہ تعالیٰ تم کو کامل طور پر بخش دے اور تمہیں ابتداء ہی میں جنت میں داخل کر دے اللہ کی راہ میں جہاد کرو کیونکہ جس شخص نے اللہ کی راہ میں اونٹنی کے فواق کے بقدر یعنی تھوڑی دیر کے لئے بھی جہاد کیا اس کے لئے جنت واجب ہوگئی۔ (ترمذی)
تشریح
ستر برس سے تحدید مراد نہیں ہے بلکہ کثرت مراد ہے چناچہ یہ ارشاد گرامی اس روایت کے منافی نہیں ہے جس میں فرمایا گیا ہے کہ حدیث (مقام الرجل فی الصف فی سبیل اللہ افضل عند اللہ من عبادہ الرجل ستین سنہ )۔ کسی شخص کا اللہ کی راہ میں دشمن کے مقابلہ پر صف میں کھڑا ہونا اللہ کے نزدیک کسی شخص کی ساٹھ برس کی عبادت سے بہتر ہے۔ اس حدیث کے ظاہری مفہوم سے چونکہ یہ معلوم ہوتا ہے کہ لوگوں سے گوشہ گزینی اختیار کرنے اور جنگل و کوہستان میں عبادت الٰہی میں مشغول رہنے سے بخشش و مغفرت حاصل نہیں ہوتی اس لئے علماء اس ارشاد گرامی کی یہ تاویل کرتے ہیں کہ چونکہ اس زمانے میں جہاد واجب تھا۔ اور کسی نفل کے لئے واجب کو ترک کرنا گناہ ہے اس لئے آنحضرت ﷺ نے اس ارشاد کے ذریعہ ان صحابی پر گویا یہ واضح کیا کہ اگر تم نے دنیا اور دنیا والوں سے ترک تعلق کر کے اس پہاڑی درے میں گوشہ گزینی اختیار کی اور اگرچہ اس کا مقصد محض مکمل تنہائی وخلوت میں اللہ کی عبادت میں مشغول رہنا ہو تو اس کی وجہ سے نہ صرف یہ کہ تم ان بہت سی سعادتوں اور فضیلتوں سے محروم رہ جاؤ گے جو دنیا والوں کے درمیان رہ کر دینی فرائض وذمہ داریوں کو انجام دینے کی صورت میں حاصل ہوتی ہیں بلکہ تمہارا یہ نفل عمل ایک واجب عمل اور ایک اہم دینی فریضہ یعنی جہاد کے ترک کا باعث بھی ہوگا جس سے تم گنہگاروں کے زمرے میں شامل ہوجاؤ گے۔ علاوہ ازیں جیسا کہ ترجمہ میں واضح کیا گیا ہے اس ارشاد گرامی سے کامل مغفرت اور ابتداءٍ جنت میں جانے والوں کے ساتھ جنت میں داخل ہونے پر معمول کیا جاسکتا ہے۔ یہ حدیث اس بات کی دلیل ہے کہ لوگوں کے درمیان رہنا گوشہ گزینی سے افضل ہے خصوصًا آنحضرت ﷺ کے زمانہ سعادت نشان میں تو یہ افضلیت کہیں زیادہ تھی البتہ آنحضرت ﷺ کے زمانے کے بعد کبھی کبھی گوشہ گزینی ہی کو فضیلت حاصل ہوتی ہے جب کہ لوگوں کے درمیان رہنے سے فتنہ وشر کے غلبہ کا خوف ہو۔
جہاد میں پاسبانی کی فضیلت
وعن عثمان رضي الله عنه عن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : رباط يوم في سبيل الله خير من ألف يوم فيما سواه من المنازل . رواه الترمذي والنسائي
اور حضرت عثمان رسول کریم ﷺ سے نقل کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا اللہ کی راہ میں جہاد میں کفر کی سرحدوں پر ایک دن کے لئے بھی پاسبانی کی خدمت اس (پاسبانی کے) منصب و خدمت کے علاوہ اور عبادتوں میں ہزار دن تک مشغول رہنے سے بہتر ہے۔ (ترمذی و نسائی )
تشریح
اس منصب و خدمت کے علاوہ کے ذریعہ اقامت دین کے لئے اللہ کی راہ میں جدوجہد کرنے کی خدمت کو مستثنیٰ قرار دیا گیا ہے۔ بظاہر اس حدیث کا تعلق اس شخص سے ہے جو جہاد میں اسلامی سرحدوں کی حفاظت ونگہبانی کی خدمت پر مامور کیا گیا ہو اور پاسبانی کی ذمہ داریوں کو انجام دینا اس پر واجب ہو کیونکہ اس شخص کا اسی مفوضہ خدمت کے علاوہ کسی اور عبادت وغیرہ میں مشغول ہونا معصیت ہے اگرچہ وہ ایک نماز کے بعد دوسری نماز کے انتظار میں مسجد ہی میں کیوں نہ بیٹھے کہ اس عمل کی بھی بہت فضیلت ہے اور اس کو بھی رباط کہا گیا ہے۔
شہداء ابتد اء ً ہی جنت میں داخل کئے گئے جائیں گے
وعن أبي هريرة أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : عرض علي أول ثلاثة يدخلون الجنة : شهيد وعفيف متعفف وعبد أحسن عبادة الله ونصح لمواليه . رواه الترمذي
اور حضرت ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں رسول کریم ﷺ نے فرمایا میرے سامنے وہ پہلے تین شخص پیش کئے گئے جو شروع ہی میں جنت میں داخل ہوں گے ان میں سے ایک شخص تو شہید ہے دوسرا وہ شخص ہے جو حرام سے بچے اور سوال نہ کرے (یعنی فسق و فجور سے بچنے والا اور کسی کے آگے ہاتھ نہ پھیلانے والا) اور تیسرا شخص وہ غلام ہے جس نے اپنے اللہ کی بھی اچھی اطاعت و عبادت کی اور اپنے مالکوں کا بھی خیر خواہ رہا۔ (ترمذی)
تشریح
پہلے تین شخص سے مراد یہ ہے کہ بالکل شروع میں جنت میں جو تین تین شخص داخل ہونگے ان میں سے یہ تین شخص پہلے داخل ہوں گے لیکن انبیاء کے بعد کیونکہ انبیاء کے بعد کیونکہ انبیاء سب سے مقدم ہونگے اور وہ سب سے پہلے جنت میں داخل ہونگے نیز تین تین شخص سے تین تین جماعتیں مراد ہیں۔
وعن عبد الله بن حبشي : أن النبي صلى الله عليه و سلم سئل أي الأعمال أفضل ؟ قال : طول القيام قيل : فأي الصدقة أفضل ؟ قال : جهد المقل قيل : فأي الهجرة أفضل ؟ قال : من هجر ما حرم الله عليه قيل : فأي الجهاد أفضل ؟ قال : من جاهد المشركين بماله ونفسه . قيل : فأي القتل أشرف ؟ قال : من أهريق دمه وعقر جواده . رواه أبو داود وفي رواية للنسائي : أن النبي صلى الله عليه و سلم سئل : أي الأعمال أفضل ؟ قال : إيمان لا شك فيه وجهاد لا غلول فيه وحجة مبرورة . قيل : فأي الصلاة أفضل ؟ قال : طول القنوت . ثم اتفقا في الباقي
اور حضرت عبداللہ ابن حبشی سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ سے پوچھا گیا کہ نماز کے اعمال (ارکان ) میں سے کونسا عمل (رکن) افضل ہے آپ ﷺ نے فرمایا طویل قیام کرنا پوچھا گیا کون سا صدقہ افضل ہے فرمایا مفلس و محتاج اپنے فقر و افلاس کے باوجود محنت ومشقت کر کے نکالے پوچھا گیا کون سی ہجرت بہتر ہے فرمایا اس شخص کی ہجرت میں جو اس چیز کو چھوڑ دے جس کو اللہ نے حرام قرار دیا ہے یعنی اگرچہ ہجرت کے معنی دارالکفر کو چھوڑ کر دار السلام میں چلے جانا ہیں لیکن حرام چیزوں کو چھوڑ کر حلال چیزوں کو اختیار کرنا بھی ہجرت ہی کہلاتا ہے بلکہ یہی ہجرت بہتر ہے پوچھا گیا کون سا جہاد بہتر ہے فرمایا اس شخص کا جہاد (جو اپنے مال اور اپنی جان کے ذریعہ مشرکین سے جہاد کرے پوچھا گیا جہاد میں کونسا مارا جانا بہتر ہے یعنی کون سا شہید افضل ہے فرمایا اس شخص کا مارا جانا جس کا خون بہایا جائے اور جس کے گھوڑے کی کونچیں کاٹی جائیں یعنی وہ شہید افضل ہے جو خود بھی مارا جائے اور اس کا گھوڑا بھی مارا جائے ابوداؤد اور نسائی کی روایت میں یوں ہے کہ رسول کریم ﷺ سے پوچھا گیا کہ اعمال میں کون سا عمل افضل ہے آپ ﷺ نے فرمایا وہ ایمان جس میں کسی قسم کا کوئی شک نہ ہو۔ وہ جہاد جس میں حاصل شدہ مال غنیمت کے بارے میں کسی طرح کی خیانت نہ کی گئی ہو اور حج مقبول پھر پوچھا گیا کہ نماز میں کون سی چیز افضل ہے؟ فرمایا قیام کو طویل کرنا اس کے بعد حدیث کے الفاظ ابوداؤد و نسائی نے یکساں نقل کئے ہیں۔
تشریح
جو اپنے جان اور مال کے ذریعہ الخ کا مطلب یہ ہے کہ وہی جہاد افضل ہے جس میں مجاہد نے اپنا مال و اسباب اور اپنا روپیہ پیسہ بھی اپنے اور دوسرے مجاہدین کی ضروریات جہاد میں صرف کیا ہو اور میدان جنگ میں اپنی جان کو بھی پیش کیا ہو یہاں تک کہ زخمی ہوا اور مارا گیا افضل اعمال کے سلسلے میں یہ بات ملحوظ رہنی چاہئے کہ احادیث میں افضل اعمال کے تعین وبیان کے سلسلے میں مختلف ارشاد منقول ہیں کہیں عمل کو افضل فرمایا گیا ہے اور کہیں کسی عمل کو اس کی وجہ یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ نے افضل عمل کے بارے میں کئے جانے والے سوالات کے جوابات سائل کی حیثیت اور اس کے احوال کے مناسب ارشاد فرمائے چناچہ جس سائل میں تکبر ودرشتی کے آثار دیکھے اس کو جواب دیا کہ سب سے بہتر عمل تواضع و نرم خوئی ہے جیسے سلام کو ظاہر کرنا اور نرم کرنا جس سے سائل میں بخل اور خست کے آثار پائے اس سے فرمایا کہ سب سے بہتر عمل سخاوت ہے جیسے محتاجوں اور فقیروں کو کھانا کھلانا وغیرہ اسی طرح جس سائل میں عبادت کے معاملے میں سستی کے آثار پائے اس کو جواب دیا کہ سب سے بہتر عمل تہجد کی نماز ہے غرضیکہ جس سائل کو جس حالت میں پایا اس کا جواب اسی کے مناسب حال دیا، اس اعتبار اعمال کی افضلیت کی مراد گویا درحقیقت سائل کے حق میں ہے کہ مثلا جس سائل میں بخل وخست کی خصلتیں تھیں اس کے حق میں سب سے بہتر عمل سخاوت ہی تھا یا پھر یہ کہا جائے گا کہ جس موقع پر جس عمل کو سب سے بہتر عمل فرمایا گیا ہے اس سے مراد یہ ہے کہ یہ عمل افضل اعمال میں سے ایک افضل عمل ہے۔
شہداء پر حق تعالیٰ کے انعامات
وعن المقدام بن معدي كرب قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : للشهيد عند الله ست خصال : يغفر له في أول دفعة ويرى مقعده من الجنة ويجار من عذاب القبر ويأمن من الفزع الأكبر ويوضع على رأسه تاج الوقار الياقوتة منها خير من الدنيا وما فيها ويزوج ثنتين وسبعين زوجة من الحور العين ويشفع في سبعين من أقربائه . رواه الترمذي وابن ماجه
اور حضرت مقدام ابن معد یکرب کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا حق تعالیٰ کے ہاں شہید کے لئے چھ امتیازی انعامات ہیں (١) اس کو پہلی مرتبہ میں ہی (یعنی اس کے خون کا پہلا قطرہ گرتے ہی) بخش دیا جاتا ہے (٢) اس کو جان نکلتے وقت ہی جنت میں اپنا ٹھکانا دکھا دیا جاتا ہے (٣) وہ قبر کے عذاب سے محفوظ رہتا ہے (٤) وہ بڑی گھبراہٹ یعنی آگ کے عذاب سے مامون رہے گا (٥) اس کے سر پر عظمت و وقار کا تاج رکھا جائے گا جس کا یاقوت دنیا اور دنیا کی تمام چیزوں سے بہتر وگرانما یہ ہوگا (٦) اس کی زوجیت میں بڑی آنکھوں والی بہتر حوریں دی جائیں گی اور اس کے عزیز و اقرباء میں سے ستر آدمیوں کے حق میں اس کی شفاعت قبول کی جائے گی