جنگ کرنے کا بیان

Mishkaat-al-Masabih · Chapter 162 · 27 hadiths · Page 2 of 2

5334Mishkaat-al-Masabih

حبشیوں کے بارے میں ایک ہدایت

وعن رجل من أصحاب النبي صلى الله عليه وسلم قال دعوا الحبشة ما ودعوكم واتركوا الترك ما تركوكم . رواه أبو داود والنسائي

نبی کریم ﷺ کے صحابہ میں سے ایک شخص سے روایت ہے کہ حضور ﷺ نے فرمایا۔ تم حبشیوں کو ان کے حال پر چھوڑ دو جب تک کہ وہ تمہیں تمہارے حال پر چھوڑے رکھیں اور ترکوں کو بھی ان کے حال پر چھوڑ دو جب تک کہ وہ تمہیں تمہارے حال پر چھوڑے رکھیں۔، (ابو داؤد، نسائی) تشریح یہاں ایک یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ قرآن نے تو یہ حکم دیا ہے کہ آیت (وَقَاتِلُوا الْمُشْرِكِيْنَ كَا فَّةً ) 9۔ التوبہ 36) (یعنی مشکرین سے قتال کرو وہ جہاں کہیں بھی ہوں) پس جب اس حکم میں عموم ہے تو حبشیوں اور ترکوں کے بارے میں حضور ﷺ نے یہ کیوں فرمایا ہے کہ تم ان کو ان کے حال پر چھوڑ دو، یعنی ان پر حملہ نہ کرو اور ان کے ملکوں اور شہروں پر چڑھائی سے گریز کرو۔ اس کا جواب یہ ہے کہ حبشہ اور ترک کا معاملہ اس آیت کے عمومی حکم سے خارج اور مخصوص استثنائی نوعیت رکھتا تھا کیونکہ جغرافیائی پوزیشن کے اعتبار سے یہ دونوں ملک اس زمانے کی اسلامی طاقت کے مرکز سے بہت دور دراز فاصلے پر واقع تھے اور اسلامی چھاؤ نیوں اور ان ملکوں کے درمیان دشت وبیاباں کا ایک ایسا دشوار گزار سلسلہ حائل تھا جس کو عام حالات میں عبور کرنا ہر ایک کے لئے ممکن نہیں تھا۔ لہٰذا حضور ﷺ نے اس بنا پر مسلمانوں کو حکم دیا کہ ان دونوں ملکوں کے خلاف کوئی اقدامی کاروائی نہ کی جائے اور ان لوگوں سے اس وقت تک کوئی تعرض نہ کیا جائے جب تک کہ وہ خود تم سے چھیڑ نہ نکا لیں، پس اگر وہ تمہارے خلاف جارحیت کا ارتکاب کریں اور اپنی فوج و طاقت جمع کر کے مسلمانوں کے شہروں اور اسلامی مراکز پر چڑھ آئیں تو اس صورت میں ان کے خلاف نبرد آزما ہوجانا اور ان کے ساتھ جنگ و قتال کرنا فرض ہوگا۔ یا ایک بات یہ کہی جاسکتی ہے کہ حضور ﷺ نے جو یہ حکم دیا تھا کہ وہ اسلام کے ابتدائی زمانہ کا واقعہ ہے جب کہ اسلام اور مسلمانوں کے پاس اتنی طاقت اور اس قدر ذرائع نہیں تھے کہ وہ اتنے دور دراز علاقوں تک اسلام کی پیش رفت کو بڑھاتے، چناچہ بعد میں جب مذکورہ آیت نازل ہوئی اور اسلام کو طاقت میسر ہوگئی تو حضور ﷺ کا یہ حکم منسوخ قرار پا گیا۔

5335Mishkaat-al-Masabih

ترکوں کے متعلق پیش گوئی

وعن بريدة عن النبي صلى الله عليه وسلم في حديث يقاتلكم قوم صغار الأعين يعني الترك . قال تسوقونهم ثلاث مرات حتى تلحقوهم بجزيرة العرب فأما السياقة الأولى فينجو من هرب منهم وأما الثانية فينجو بعض ويهلك بعض وأما الثالثة فيصطلمون أو كما قال . رواه أبو داود . ( إسناده جيد

حضرت بریدہ اسلمی ؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے نبی کریم ﷺ سے اس حدیث کے سلسلے میں جس کا شروع یہ ہے کہ تم سے ایک چھوٹی آنکھوں والی قوم یعنی ترک قوم جنگ کرے گی۔ یہ بھی روایت کیا کہ آپ ﷺ نے فرمایا۔ تم اس قوم کے لوگوں کو تین بار دھکیل دو گے یعنی تم ان پر غالب آؤ گے اور ان کو شکست دے کر بھاگنے پر مجبور کردو گے۔ یہاں تک کہ تم ان کو جزیرہ عرب کی سرحد کے بار تک دھکیل دو گے، جب تم ان کو پہلی مرتبہ شکست دے کر بھگاؤ گے تو بھاگ کھڑے ہونے والے لوگ اپنی جان بچا لیں گے۔ جب دوسری مرتبہ شکست دے کر بھگاؤ گے تو ان میں سے کچھ تو اپنی جان بچا کر نکل جائیں گے۔ اور کچھ موت کے گھاٹ اتر جائیں گے۔ لیکن جب تیسری مرتبہ شکست دے کر بھگاؤ گے تو اس وقت وہ جڑ سے ختم ہوجائیں گے یعنی یہ تیسری شکست ان کا بالکل خاتمہ کر دے گی۔ یا اس کے مانند فرمایا۔ (ابو داؤد) تشریح یعنی الترک کے الفاظ راوی کے ہیں خواہ وہ صحابی ہو یا تابعی یعنی یا تو خود حضرت بریدہ نے یا ان سے روایت کرنے والے تابعی نے قوم صغار الاعین چھوٹی آنکھوں والی قوم کے بارے میں یعنی الترک کے ذریعے وضاحت کی اس قوم سے مراد ترک قوم ہے۔ جزیرۃ العرب جیسا کہ پہلے بھی بتایا جا چکا ہے۔ اس وقت کے جغرافیائی نقشہ کے مطابق حجاز، یمامہ اور یمن کے علاقوں کا نام تھا، اس علاقے کو جزیرۃ العرب اس اعتبار سے کہا جاتا ہے کہ وہ تقریبا چاروں طرف سے پانی سے گھرا ہوا ہے اس کے جنوب میں بحر عرب، مشرق میں خلیج عربی اور خلیج عمان، مغرب میں بحر احمر اور اس کے شمال میں دریائے فرات ہے۔ او کما قال (یا اس کے مانند فرمایا) یہ جملہ کسی حدیث کو بیان کرنے کے بعد اس صورت میں کہتے ہیں جب کہ حدیث بیان کرنے والا یہ گمان کرتا ہے کہ حدیث کے معنی تو پوری طرح یاد ہیں جس کو میں نے بیان کردیا ہے، البتہ حدیث کے اصل الفاظ پوری طرح یاد نہیں ہیں۔ گویا یہ جملہ حدیث کے راوی کے کمال احتیاط پر دلالت کرتا ہے۔

5336Mishkaat-al-Masabih

بصرہ کے متعلق پیشنگوئی

وعن أبي بكرة أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال ينزل أناس من أمتي بغائط يسمونه البصرة عند نهر يقال له دجلة يكون عليه جسر يكثر أهلها ويكون من أمصار المسلمين وإذا كان في آخر الزمان جاء بنو قنطوراء عراض الوجوه صغار الأعين حتى ينزلوا على شط النهر فيتفرق أهلها ثلاث فرق فرقة يأخذون في أذناب البقر والبرية وهلكوا وفرقة يأخذون لأنفسهم وهلكوا وفرقة يجعلون ذراريهم خلف ظهورهم ويقاتلونهم وهم الشهداء . رواه أبو داود

حضرت ابوبکرہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا۔ میری امت کے لوگ ایک پست زمین پر پہنچ کر قیامت پذیر ہوں گے اور اس جگہ کا نام بصرہ رکھیں گے، وہ جگہ ایک نہر کے قریب ہوگی جس کو دجلہ کہا جاتا ہوگا، اس نہر پر پل ہوگا، بصرہ میں رہنے والوں کی آباادی بہت بڑھ جائے گی اور اس کا شمار مسلمانوں کے بڑے شہروں میں ہوگا اور پھر جب زمانہ آخر ہوگا تو قنطورا کی اولاد اس شہر کے لوگوں سے لڑنے کے لئے آئے گی، ان کے منہ چوڑے چکلے اور آنکھیں چھوٹی چھوٹی ہوں گی، وہ لوگ نہر کے کنارے اپنا پڑاؤ ڈالیں گے اور ان کو دیکھ کر شہر کے لوگ تین حصوں میں تقسیم ہوجائیں گے ایک حصہ توبیلوں کی دموں اور جنگل میں پناہ حاصل کرے گا یعنی یہ وہ لوگ ہوں گے جو حملہ آوروں کا مقابلہ کرنے سے کترا کر اپنی کھیتی باڑی کے کاموں مشغول ہوجائیں گے اور بیل وغیرہ ڈھونڈھے کا بہانہ لے کر ادھر ادھر ہوجائیں گے تاکہ دشمن کے حملے سے اپنی جان بچا سکیں یا یہ کہ وہ لوگ اپنے اہل و عیال اور مال و اسباب کو جمع کر کے جنگلوں میں چلے جائیں گے تاکہ حملہ آور اور دشمن کی نقصان رسانی سے محفوظ رہیں حالانکہ وہ لوگ موت و تباہی کے گھاٹ اتر کر رہیں گے یعنی وہ اپنی اس حیلہ سازی کے باوجود دشمن کی زد سے محفوظ نہیں رہ پائیں گے کیونکہ حملہ آور مشرک دشمنی اور فتنہ و فساد کی جو آگ بھڑکائیں گے وہ اس طرح کے حیلوں بہانوں سے ٹھنڈی یا محدود نہیں ہوگی اور دوسرا حصہ قنطورا کی اولاد سے اپنی جانوں کے لئے امان طلب کرے گا مگر ان لوگوں کو بھی موت اور تباہی کے گھاٹ اترنا پڑے گا اور تیسرا حصہ وہ ہوگا جو اپنی اولاد اور اپنی عورتوں کو پیچھے چھوڑ کر یعنی اپنے اہل و عیال سے بےپروا ہو کر اور ان کی محبت سے اپنا دامن چھڑا کر حملہ آور کے مقابلے پر ڈٹ جائے گا یا یہ کہ وہ لوگ اپنے بال بچوں کو اپنے پیچھے لے کر محاذ پر جائیں گے اور وہاں دشمنوں سے لڑیں گے اور ان میں سے اکثر مارے جائیں گے جو شہادت کے مرتبہ کو پہنچیں گے۔ (ابو داؤد) تشریح بصرہ با کے زبر اور زیر دونوں کے ساتھ اور صاد کے جزم کے ساتھ ہے، نیز یہ لفظ صاد کے زبر اور زیر کے ساتھ بھی منقول ہے۔ دجلہ دال کے زبر اور زیر دونوں کے ساتھ اس علاقہ کا مشہور دریا ہے جس کے کنارے پر شہر بغداد واقع ہے۔ حلبی نے حاشیہ شفا میں لکھا ہے کہ بصرہ کی با، زبر، زیر اور پیش تینوں حرکتوں کے ساتھ منقول ہے نیز یہ وہ شہر ہے جس کو حضرت عمر فاروق ؓ کے دور خلافت میں عتبہ بن غزوان نے آباد کیا تھا اور اس شہر میں کبھی بت پرستی نہیں ہوئی۔ حدیث میں بصرہ سے مراد بغداد ہے حدیث میں جس واقعہ کی پیشگوئی فرمائی ہے اس میں صریحا بصرہ کا ذکر ہوا ہے لیکن علماء نے لکھا ہے کہ اس سے بغداد مراد ہے اور بغداد مراد لینے کی دلیل یہ ہے کہ دریائے دجلہ کی گزرگاہ بصرہ نہیں بلکہ بغداد ہے اور اس دریا پر جس پل کا ذکر کیا گیا ہے وہ بھی بغداد ہی میں ہے۔ علاوہ ازیں بغداد کا شہر آنحضرت ﷺ کے زمانہ میں اس طرح کا شہر نہیں تھا جیسا کہ اب ہے بلکہ اس زمانہ میں اس جگہ منتشر طور پر کچھ قرئیے اور دیہات تھے جو بصرہ کے مضافات میں شمار ہوتے تھے اور ان کی نسبت بصرہ ہی کی طرف جاتی تھی، چناچہ آنحضرت ﷺ نے گویا معجزہ کے طور پر، ان دیہاتی علاقوں کے ایک بڑے شہر میں تبدیل ہوجانے کی پیش خبری بیان فرمائی اور بصیغہ مستقبل یہ فرمایا کہ وہ اسلامی شہروں میں سے ایک بڑا شہر ہوگا اور کثیر آبادی پر مشتمل ہوگا یہ بات محض تاویل کے درجے کی نہیں بلکہ اس کی پشت پر تاریخی دلیل بھی ہے چناچہ تاریخ میں یہ کہیں نہیں ہے کہ ترکوں نے کبھی بصرہ پر حملہ کیا ہو اور ان کے اور مسلمانوں کے درمیان کشت وخون کی وہ صورت پیش آئی ہو جس کی طرف حضور ﷺ نے اس حدیث میں ارشاد فرمایا۔ البتہ بغداد پر ترکوں (تاتاریوں) نے ضرور حملہ کیا ہے جو آخری عباسی خلیفہ مستعصم باللہ کے زمانہ کا واقعہ ہے جس کی کچھ تفصیل تاریخی کتابوں سے اخذ کر کے ہم نے مظاہر حق جدید کی پچھلی قسط میں بھی بیان کی ہے، پس واضح ہوا کہ حدیث میں بصرہ کا ذکر محض اس سبب سے ہے کہ بغداد جسکی بہ نسبت بصرہ زیادہ قدیم شہر ہے اور وہ دیہات ومواضع کہ جہاں بغداد کی تعمیر ہوئی اور یہ عظیم شہر بنا، بصرہ ہی کی طرف منسوب تھے اور یہ وہ بصرہ تھا جو بعد میں بھی بغداد کی شہر فصیل کے باہر ایک چھوٹی سی آبادی کی صورت میں تھا اور اس سمت شہر کے دروازہ کو اسی نام کی مناسبت سے باب البصرہ کہا جاتا تھا۔ لہٰذا حضور ﷺ نے بغداد کے ذکر کے لئے گویا اس شہر کے جزوی نام کے ذکر پر اکتفا فرمایا یا یہ کہ یہاں اصل مراد تو بغداد البصرہ کا ذکر تھا مگر مضاف کو حذف کر کے صرف بصرہ کے ذکر پر اکتفا فرمایا گیا کہ قرآن کریم کی اس آیت (وَسْ َ لِ الْقَرْيَةَ ) 12۔ یوسف 82) میں اللہ تعالیٰ نے صرف قریہ کا ذکر فرمایا ہے جب کہ اس سے مراد اہل قریہ ہیں۔ اس صورت میں حدیث کے ابتدائی جز کا حاصل یہ نکلا کہ میری امت میں سے کچھ لوگ دریائے دجلہ کے کنارے اپنا پڑاؤ ڈالیں گے اور اس جگہ کو اپنا مرکزی شہر بنائیں گے یہاں تک کہ وہ چھوٹی سی جگہ ایک ایسے شہر میں تبدیل ہوجائے گی جس کا شمار مسلمانوں کے بڑے بڑے شہروں اور اسلامی مراکز میں ہوگا اور یہ وہ شہر ہے جس کو بغداد کہا جاتا ہے اس موقع پر یہ بات پیش نظر رہنی چاہئے کہ تاریخ میں بغداد کو جو عظمت و اہمیت اور مرکزیت حاصل ہوئی اور وہ جتنا عظیم شہر بنا اسی کی طرف اشارہ کرنے کے لئے حضور ﷺ نے لفظ امصار استعمال فرمایا امصار اصل میں مصر کی جمع ہے اور بڑے شہر کو کہتے ہیں اس سے نیچے کی آبادیوں کو بالترتیب مدینہ، بلدہ اور قریہ سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ قنطورا کی اولاد سے مراد ترک قوم ہے۔ اس قوم کے وارث اعلیٰ کا نام قنطورا تھا، اس لئے پوری ترک قوم کو قنطورا کی اولاد سے تعبیر کیا جاتا تھا۔ اور دوسرا حصہ اپنی جانوں کے لئے امان طلب کرے گا کے سلسلے میں یہ کہا جاسکتا ہے کہ اس پیش گوئی کا مصداق خلیفہ مستعصم باللہ اور اس کے حوالی موالی تھے جیسا کہ مظاہر حق جدید کی پچھلی قسط میں اس کی تفصیل بھی گزر چکی ہے، جب ہلاکو خان (ترکوں یعنی تاتاریوں کے سردار) نے اپنی بےامان فوج کے ساتھ بغداد پر حملہ کیا تو خلیفہ مستعصم باللہ نے اپنے لواحقین اور درباریوں کے ساتھ ہلاکو خان کی خدمت میں حاضر ہو کر اپنی اور اہل شہر کی جانوں کی امان طلب کی، لیکن کسی کو بھی امان نہیں ملی اور خلیفہ سمیت سارے لوگ ہلاک وتباہ کر دئیے گئے اور ہلاکو خان کے فوجیوں نے ایک ایک آدمی کو چن چن کر مار ڈالا۔ ایک شارح نے لکھا ہے کہ اگر یہ بات صحیح ہے کہ حضور ﷺ نے اس حدیث میں بصرہ کے ذکر سے بغداد مراد لیا تھا کیونکہ اس زمانہ میں موجودہ بغداد کا علاقہ بصرہ کے مضافاتی قریوں اور دیہات کی صورت میں تھا اور حضور ﷺ نے جزوی طور پر پورے نام کا طلاق کرتے ہوئے گویا بغداد البصرہ کے بجائے صرف بصرہ کا ذکر فرمانا کافی جانا تو اس صورت میں کہا جاسکتا ہے کہ حضور ﷺ کی یہ پیش گوئی پوری ہوچکی ہے کہ حضور ﷺ کے فرمانے کے مطابق مسلمانوں نے دریائے دجلہ کے کنارے بغداد کا شہر بسایا، اس کو ترقی اور عظمت سے ہمکنار کیا وہ مسلمانوں کا ایک مرکزی اور بہت بڑا شہر بنا، پھر ترکوں نے حملہ کیا اور اس حملہ کے نتیجے میں اہل شہر کا تقریبا پورا حصہ ان ترکوں کے ہاتھوں کشت وخون کی نذر ہوگیا۔ اور اگر یہ کہا جائے کہ اس حدیث میں بصرہ سے مراد بغداد نہیں بلکہ بصرہ کا موجودہ شہر ہے۔، تو پھر یہ کہا جائے گا کہ حضور ﷺ کی مذکورہ پیش گوئی ابھی پوری نہیں ہوئی اور ہوسکتا ہے کہ کسی وقت آنے والے زمانہ میں اس شہر کے مسلمانوں کو مذکورہ پیش گوئی کے مطابق کسی اسلام دشمن طاقت کے حملہ وجارحیت کا شکار ہونا پڑے، کیونکہ جہاں تک پچھلے زمانہ کا تعلق ہے، تاریخ سے کہیں ثابت نہیں ہوتا کہ بصرہ پر بھی اسلام دشمن طاقت نے اس طرح کا حملہ کیا ہو اور وہاں کے مسلمانوں کو اس طرح کشت وخون کا سامنا کرنا پڑا ہو جس طرح کہ حدیث میں فرمایا گیا ہے۔ ان میں سے اکثر مارے جائیں گے جو شہادت کے مرتبے پر پہنچیں گے یعنی اس شہر کے مسلمانوں کا تیسرا حصہ ان لوگوں پر مشتمل ہوگا جو غازی مجاہد فی سبیل اللہ ہوں گے اور اس سخت طوفان کا مقابلہ کرنے کے لئے نہایت جان نثاری اور حوصلہ و استقامت کے ساتھ میدان میں آجائیں گے اور قبل اس کے کہ دشمن اہل اسلام پر حاوی اور غالب ہوجائے، اس سے لڑ کر اللہ کی راہ میں اپنی جان دے دیں گے، پس وہ لوگ شہید ہوں گے اور کامل شہادت کا مرتبہ پائیں گے، ان میں سے جو لوگ زندہ بچ جائیں گے ان کی تعداد بہت تھوڑی ہوگی اس موقع پر ایک اور شارح نے کہا ہے کہ یہ حدیث گرامی آنحضرت ﷺ کے معجزات میں سے ایک معجزہ ہے کیونکہ سب کچھ اس طرح واقع ہوا جس طرح کہ حضور ﷺ نے ارشاد فرمایا تھا چناچہ آنحضرت ﷺ نے بغداد پر ترکوں کے حملے کی جو پیشگوئی فرمائی تھی وہ ماہ صفر ٦٥٦ ھ میں حرف بحرف پوری ہوئی۔ اس وقت تاتاری ترکوں نے ہلاکو خان کی سربراہی میں بغداد کو جس طرح تاراج کیا، مسلمانوں کا جس کثرت اور بےدردی سے خون بہایا، شہر کے محلات ومکانات حتی کہ کتب خانوں اور علمی مراکز کو جس طرح جلا کر راکھ کردیا اور اس آگ کے شعلوں نے جس طرح پورے عالم اسلام کو متاثر و کمزور کیا وہ ایک ایسا سانحہ ہے جس کی تفصیل بیان کرنے سے زبان وقلم قاصر ہیں۔

5337Mishkaat-al-Masabih

بصرہ کے متعلق ایک پیشنگوئی

وعن أنس أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال يا أنس إن الناس يمصرون أمصارا فإن مصرا منها يقال له البصرة فإن أنت مررت بها أو دخلتها فإياك وسباخها وكلأها ونخيلها وسوقها وباب أمرائها وعليك بضواحيها فإنه يكون بها خسف وقذف ورجف وقوم يبيتون ويصبحون قردة وخنازير رواه أبو داود

حضرت انس ؓ سے روایت ہے کہ رسول کریم ﷺ نے ان کو مخاطب کر کے فرمایا۔ انس! لوگ کچھ نئے شہر بسائیں گے اور ان شہروں میں ایک شہر کا نام بصرہ ہوگا پس اگر تم اس شہر کے پاس سے گزرو یا اس شہر میں جاؤ تو اس کے اس علاقے کے قریب بھی نہ جانا جہاں کھاری زمین ہے، نہ ان جگہوں کے قریب جانا جن کو کلاء کہا جاتا ہے، اسی طرح وہاں کی کھجوروں، وہاں کے بازار، وہاں کے بادشاہوں اور سرداروں کے دروازوں سے بھی دور رہنا، صرف اس شہر کے کنارے کے حصے میں کہ جس کو ضواحی کہا جاتا ہے پڑے رہنا، کیونکہ جن جگہوں پر جانے سے تمہیں منع کر رہا ہوں وہاں، زمین میں دھنسا دئیے جانے، پتھر برسائے جانے اور سخت زلزلوں کا عذاب نازل ہوگا نیز ان علاقوں میں ایک ایسی قوم ہوگی جس کے افراد ایک دن رات میں عیش و راحت کی نیند سوئیں گے لیکن جب صبح اٹھیں گے تو ان کی صورتیں بندر اور سور جیسی ہوں گی۔ تشریح سباخ اصل میں سبخۃ کی جمع ہے جس کے معنی اس زمین کے ہیں جو کھاری اور بنجر ہو کہا جاتا ہے کہ سباخ بصرہ کے اس علاقہ کا نام بھی ہے جہاں کی زمین کھاری اور بنجر ہے۔ اسی طرح کلاء کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ یہ بھی بصرہ کے بعض مقامات کا نام ہے۔ ضواحی ضاحیۃ کی جمع ہے جس کے معنی شہر کا کنارہ اور شہر کی نواحی بستیاں ہیں، ویسے ضاحیۃ البصر بصرہ کی ایک نواحی بستی کا نام بھی ہے اور بعض حضرات نے یہ کہا ہے کہ ضواحی سے مراد بصرہ پہاڑ ہیں چناچہ آنحضرت ﷺ نے حضرت انس ؓ کو بصرہ کے ضواحی میں پڑے رہنے کا جو حکم دیا وہ دراصل گوشہ نشینی اور کنارہ کشی اختیار کرنے کے حکم میں تھا۔ ان کی صورتیں بندر اور سور جیسی ہونگی یعنی وہ قوم اللہ کی نافرمانی اور سرکشی اور اپنی بد اعتقادی اور عملی گمراہیوں کی وجہ سے اس عذاب میں مبتلا کی جائے کہ اس قوم کے جو لوگ جوان ہوں گے وہ بندر کی صورت کے اور جو بوڑھے ہوں گے وہ سور کی صورت کے ہوجائیں گے، پس اس حدیث سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ مسخ وخسف جیسے عذاب الٰہی اس امت میں بھی جائز الوقوع ہیں کیونکہ اگر اس طرح کے عذاب کا واقع ہونا سرے سے غیر ممکن ہوتا تو ان سے ڈرانے اور ان کے واقع ہونے کی جگہوں پر جانے سے روکنا، بالکل بےفائدہ ہوتا اور اس میں تو کوئی شک نہیں کہ احادیث میں اس طرح کے عذاب کی وعید فرقہ قدریہ کے بارے میں منقول ہے اور اسی بنا پر بعض شارحین نے یہ کہا ہے کہ اس حدیث میں اس طرح اشارہ ہے کہ حدیث میں مذکورہ مقامات فرقہ قدریہ کے لوگوں کا مسکن ہوں گے کیونکہ اس امت سے جن لوگوں پر مسخ وخسف کا عذاب نازل ہوگا وہ دراصل تقدیر الٰہی کو جھٹلانے والے ہوں گے۔ لفظ کلاء کاف کے زبر اور لام کی تشدید کے ساتھ بھی منقول ہے اور جیسا کہ اوپر بتایا کہ گیا یہ بصرہ میں ایک مقام کا نام ہے اور ایک شارح نے کہا ہے کہ اس سے مراد بصرہ کے ساحلی علاقہ کی وہ جگہ ہے جہاں جہاز اور کشتیاں لنگر ڈالتی ہیں اور بعض حضرات نے کہا ہے کہ کلاء سے مراد بصرہ کا وہ علاقہ ہے جہاں جانوروں کی چراگاہ ہے، اس کی تائید اس بات سے ہوتی ہے کہ بعض نسخوں میں یہ لفظ لام کی تشدید اور مد کے بغیر منقول ہے جس کے معنی گھاس اور سبزہ کے ہیں ایک شارح نے لکھا ہے کہ ان جگہوں پر مسخ وخسف کے عذاب کے نازل ہونے کی وجہ شاید وہاں کے لوگوں کی خباثت اور سرکشی ہوگی، اسی طرح وہاں کی کھجوروں سے دور رکھنے کا مقصد ان کھجوروں کے باغات میں جانے سے روکنا ہے کیونکہ شاید ان باغات کا ماحول اور وہاں کے اثرات دین و ایمان اور عزت وآبرو کو نقصان پہنچانے کا خوف رکھتے ہوں، نیز وہاں کے بازار، دینی احکام سے غفلت و لاپرواہی یا لہو ولعب اور خریدو فروخت کے معاملات میں بےایمانی اور وہاں کے امراء حکام کے دروازوں پر ظلم وناانصافی کے چلن کی وجہ سے ان سے دور رہنے کا حکم دیا گیا۔ واضح رہے کہ مشکوۃ کے اصل نسخے میں لفظ رواہ کے بعد جگہ خالی ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ مشکوۃ کے مؤلف کو اس حدیث کے صحیح ماخذ کا علم نہیں ہوگا لیکن جزری نے اس حدیث کے ماخذ کو ان الفاظ کے ساتھ نقل کیا ہے رواہ ابوداؤد من طریق لم یجزم بہا الراوی بل قال لااعلم عن موسیٰ ابن انس عن انس بن مالک یعنی اس روایت کو ابوداؤد نے ایک ایسی سند کے ساتھ نقل کیا ہے جس کے ایک راوی کے بارے میں انہوں نے بےیقینی کا اظہار کیا ہے، بلکہ انہوں نے اس راوی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہ جو اس سند میں داخل ہے کہا ہے کہ میں اس راوی کو نہیں جانتا، ہاں انہوں نے اس حدیث کا راوی موسیٰ بن انس کو ذکر کیا ہے جنہوں نے اس کو حضرت انس بن مالک ؓ سے نقل کیا ہے پس حدیث کے ماخذ اور اس کے راوی کو اس طرح سے بیان کرنا ابہام اور اشتباہ پر دلالت کرتا ہے، موسیٰ بن مالک انصاری بصرہ کے قاضی اور تابعین میں سے ہیں۔

5338Mishkaat-al-Masabih

بصرہ کے ایک گاؤں کی مسجد کی فضیلت

وعن صالح بن درهم يقول انطلقنا حاجين فإذا رجل فقال لنا إلى جنبكم قرية يقال لها الأبلة ؟ قلنا نعم . قال من يضمن لي منكم أن يصلي لي في مسجد العشار ركعتين أو أربعا ويقول هذه لأبي هريرة ؟ سمعت خليلي أبا القاسم صلى الله عليه وسلم يقول إن الله عز وجل يبعث من مسجد العشار يوم القيامة شهداء لا يقوم مع شهداء بدر غيرهم . رواه أبو داود . وقال هذا المسجد مما يلي النهر . وسنذكر حديث أبي الدرداء إن فسطاط المسلمين في باب ذكر اليمن والشام . إن شاء الله تعالى

حضرت صالح بن درہم تابعی (رح) کہتے ہیں کہ ہم حج کے لئے بصرہ سے مکہ گئے تو وہاں کسی جگہ ایک شخص (یعنی حضرت ابوہریرہ ؓ کو کھڑے دیکھا، انہوں نے ہم سے پوچھا کہ کیا تمہارے شہر کے نواح میں ایک بستی ہے جس کو ابلہ کہا جاتا ہے ہم نے کہا کہ ہاں ہے انہوں نے کہا کہ تم میں سے کون شخص اس کا ذمہ لیتا ہے کہ وہ میری طرف سے مسجد عشار میں دو رکعت بلکہ چار رکعت نماز پڑھے اور یہ کہے کہ اس نماز کا ثواب ابوہریرہ ؓ کو پہنچے میں نے اپنے خلیل صادق ابوالقاسم حضرت محمد ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ یقینا اللہ تعالیٰ مسجد عشار سے قیامت کے دن شہداء کو اٹھائے گا اور بدر کے شہداء کے ساتھ ان شہداء کے علاوہ اور کوئی نہیں ہوگا۔ قیامت کے دن بدر کے شہداء کے ساتھ جو شہداء اپنی اپنی قبر سے اٹھیں گے وہ اسی مسجد کے شہداء ہوں گے، یا یہ کہ قیامت کے دن مرتبہ کے اعتبار سے شہداء بدر کے ہمسر ان شہداء کے علاوہ اور کوئی شہید نہیں ہوگا۔ اس روایت کو ابوداؤد نے نقل کیا ہے اور کہا ہے کہ یہ مسجد بصرہ کے اس نواحی حصے میں ہے جو دریائے فرات کی طرف ہے اور حضرت ابودرداء ؓ کی حدیث ان فسطاط المسلمین الخ کو ہم انشاء اللہ یمن وشام کے ذکر کے بیان میں نقل کریں گے۔ تشریح ابلہ ایک مشہور بستی کا نام ہے جو بصرہ کے قریب واقع ہے، عشار، ایک مسجد کا نام ہے جو ابلہ میں ہے، حصول برکت وسعادت کی خاطر لوگ اس مسجد میں نماز پڑھنے آتے ہیں۔ مسجد عشار کے شہداء کے بارے میں یہ وضاحت نہیں ہوتی کہ آیا ان شہداء کا تعلق کسی گزشتہ امت کے لوگوں سے ہے یا اسی امت کے لوگوں سے؟ بہرحال اس حدیث سے ان شہداء کی عظمت و فضیلت کا اظہار ہوتا ہے کہ وہ بدر کے شہیدوں کے ہم پلہ وہم رتبہ ہیں، پس معلوم ہوا کہ جب وہ مسجد اس قدر شرف و فضیلت رکھتی ہے تو اس میں نماز پڑھنا یقینا بہت بڑی فضیلت اور بہت بڑے ثواب کی بات ہے۔ اس حدیث سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ بدنی عبادت جیسے نماز روزہ کا ثواب کسی کو بخشنا جائز ہے خواہ وہ زندہ ہو یا مردہ اور وہ ثواب اس کو پہنچتا ہے، چناچہ اکثر علماء کا مسلک یہی ہے، ویسے مالی عبادت جیسے صدقہ و خیرات وغیر کا ثواب بخشنا تو تمام ہی علماء کے نزدیک جائز ہے۔

5339Mishkaat-al-Masabih

حضرت عمر (رض) فتنوں کا دروازہ کھلنے میں سب سے بڑی رکاوٹ تھے

عن شقيق عن حذيفة قال كنا عند عمر فقال أيكم يحفظ حديث رسول الله صلى الله عليه وسلم في الفتنة ؟ فقلت أنا أحفظ كما قال قال هات إنك لجريء وكيف ؟ قال قلت سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول فتنة الرجل في أهله وماله ونفسه وولده وجاره يكفرها الصيام والصلاة والصدقة والأمر بالمعروف والنهي عن المنكر فقال عمر ليس هذا أريد إنما أريد التي تموج كموج البحر . قال ما لك ولها يا أمير المؤمنين ؟ إن بينك وبينها بابا مغلقا . قال فيكسر الباب أويفتح ؟ قال قلت لا بل يكسر . قال ذاك أحرى أن لا يغلق أبدا . قال فقلنا لحذيفة هل كان عمر يعلم من الباب ؟ قال نعم كما يعلم أن دون غد ليلة إني حدثته حديثا ليس بالأغاليط قال فهبنا أن نسأل حذيفة من الباب ؟ فقلنا لمسروق سله . فسأله فقال عمر . متفق عليه

حضرت شقیق تابعی (رح)، حضرت حذیفہ ؓ سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے فرمایا۔ ہم ایک دن حضرت عمر فاروق ؓ کی خدمت میں حاضر تھے کہ انہوں نے ہم سے پوچھا کہ تم میں سے کسی شخص کو رسول کریم ﷺ کی وہ حدیث یاد ہے جو آپ ﷺ نے فتنہ کے سلسلے میں ارشاد فرمائی ہے، میں نے کہا کہ مجھے یاد ہے اور بالکل اسی طرح یاد ہے جس طرح آپ ﷺ نے ارشاد فرمائی ہے (یعنی میرے حافظہ میں وہ حدیث کسی کمی وبیشی کے بغیر حرف بہ حرف محفوظ ہے) حضرت عمر ؓ نے یہ سن کر فرمایا کہ اچھا وہ حدیث بیان کرو تم روایت حدیث میں بہت دلیر ہو، جو کچھ حضور ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے اس کو نقل کرو اور اس کی کیفیت بیان کرو۔ حضرت حذیفہ ؓ کہتے ہیں کہ میں نے بیان کیا کہ میں نے رسول کریم ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ آدمی کا فتنہ (یعنی اس کی آزمائش اور ابتلا) اس کے اہل و عیال میں ہے، اس کے مال میں ہے، اس کے نفس میں، اس کی اولاد میں ہے اور اس کے ہمسایہ میں ہے۔ اس کے اس فتنہ کو اور اس فتنہ کے سبب وہ جو گناہ کرتا ہے، اس کو روزے، نماز، صدقہ، امر بالمعروف اور نہی عن المنکر دور کردیتے ہیں۔ حضرت عمر ؓ نے یہ حدیث سن کر فرمایا کہ میرا مدعا اس فتنے سے نہیں تھا، میں تو اس فتنے کے بارے میں سننا چاہتا تھا جو سمندر کی موجوں کی طرح جوش مارے گا؟ حضرت حذیفہ ؓ کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا امیر المومنین بھلا آپ کو اس فتنہ سے کیا تعلق؟ آپ کے اور اس فتنہ کے درمیان تو ایک بند دروازہ حائل ہے۔ یعنی اس فتنہ کا آپ کو کیوں فکر ہے، اس کے برے اثرات آپ تک تو پہنچیں گے نہیں کیونکہ اس فتنہ کا ظہور آپ کی زندگی کے بعد ہوگا۔ حضرت عمر ؓ نے فرمایا اچھا یہ بتاؤ کہ وہ دروازہ کہ جس سے فتنہ نکلے گا توڑا جائے گا؟ (یعنی اس کو اس طرح توڑا جائے گا) یا کھولا جائے گا؟ حضرت حذیفہ ؓ فرماتے ہیں کہ میں نے جواب دیا کہ دروازہ کھولا نہیں جائے گا بلکہ توڑا جائے گا۔ یعنی اس کو اس طرح توڑ پھوڑ کر برابر کردیا جائے کہ پھر اس کا بند ہونا یا قابل مرمت ہونا ممکن نہیں ہوگا۔ حضرت عمر ؓ نے یہ سن کر فرمایا۔ اس دروازے کے بارے میں کہ جو کھولا نہیں جائے گا بلکہ توڑا جائے گا زیادہ قرین حقیقت بات یہ ہے کہ وہ کبھی بند ہی نہ ہو۔ حدیث کے راوی حضرت شقیق کہتے ہیں کہ میں نے حضرت حذیفہ ؓ سے پوچھا کہ کیا حضرت عمر ؓ اس سے واقف تھے کہ دروازے سے مراد کون ہے؟ حضرت حذیفہ ؓ نے فرمایا کہ ہاں! حضرت عمر ؓ اس سے واقف تھے جیسا کہ وہ اس بات سے واقف تھے کہ کل کے دن سے پہلے رات آئے گی (یعنی جس طرح ہر شخص یقینی طور پر جانتا ہے کہ کل آنے والے دن سے پہلے رات کا آنا ضروری ہے اسی طرح حضرت عمر ؓ یقینی علم رکھتے تھے کہ دروازہ سے مراد کون ہے) اور اس میں شک نہیں کہ میں حضرت عمر ؓ سے وہ حدیث بیان کی جس میں غلطیاں نہیں ہیں۔ حضرت شقیق کہتے ہیں کہ اس کے بعد ہمیں حضرت حذیفہ ؓ سے یہ پوچھنے کی ہمت نہیں ہوئی کہ دروازے سے مراد کون ہے البتہ ہم نے حضرت مسروق سے عرض کیا جو وہاں موجود تھے کہ آپ حضرت حذیفہ ؓ سے پوچھ لیجئے، چناچہ انہوں نے حضرت حذیفہ ؓ سے پوچھا تو حضرت حذیفہ ؓ نے فرمایا کہ دروازے سے مراد حضرت عمر ؓ ہیں، یعنی حضرت عمر ؓ کی ذات ایک ایسے دروازے کی طرح ہے جس نے اس امت اور اسلامی مملکت میں فتنہ و فساد کے درآنے سے روک رکھا ہے ان کے بعد فتنوں کا دروازہ کھل جائے گا۔ (بخاری ومسلم) تشریح تم روایت حدیث میں بہت دلیر ہو حضرت حذیفہ ؓ کے بارے میں حضرت عمر ؓ کا یہ جملہ ان کے اظہار ناگواری کا بھی احتمال رکھتا ہے اور ان کے اظہار تحسین کا بھی یعنی ایک احتمال تو یہ ہے کہ حضرت حذیفہ ؓ نے چونکہ اور صحابہ کی موجودگی میں یہ دعویٰ کیا تھا کہ میں حضور ﷺ کی حدیث کو بعینہ یاد رکھتا ہوں اور اس بارے میں میرا حافظہ بہت قوی اور قابل اعتماد ہے اس لئے حضرت عمر ؓ کو ان کی یہ بات ناگوار ہوئی، پس انہوں نے اس ناگواری کو ظاہر کرنے کے لئے فرمایا کہ تم بڑے عجیب قسم کے دلیر ہو؟ آخر تمہیں ایک ایسی بات کا دعویٰ کرنے کی جرات کیسے ہوگئی جس کو نہ میں جانتا ہوں اور نہ یہاں موجود دوسرے صحابہ جاننے کا دعویٰ کرتے ہیں۔ اچھا اگر تمہیں اپنے حافظہ پر ایسا ہی ناز ہے تو سناؤ کہ حضور ﷺ نے کیا فرمایا تھا؟ یہ تو پہلا احتمال ہوا دوسرا احتمال یہ ہے کہ حضرت عمر ؓ نے اس جملے کے ذریعے دراصل حضرت حذیفہ ؓ کی تحسین و تائید فرمائی، یعنی انہوں نے گویا یہ فرمایا کہ تمہارے دعویٰ کی تصدیق کرتا ہوں کیونکہ میں اچھی طرح جانتا ہوں کہ آنحضرت ﷺ سے اس امت میں پیدا ہونے والے فتنوں اور ظاہر ہونے والی برائیوں کے بارے میں بڑی جرات اور دلیری کے ساتھ سوالات کیا کرتے تھے اور اکثر و بیشتر حضور ﷺ سے پوچھتے رہتے تھے، لہٰذا تمہیں یقینا فتنہ کے بارے میں حضور ﷺ کے ارشادات کا زیادہ علم ہوگا اور اس سلسلے کی حدیث پوری طرح یاد ہوگی، ہمیں وہ حدیث ضرور سناؤ کہ حضور ﷺ نے کیا فرمایا۔ آدمی کا فتنہ اس کے اہل و عیال میں ہے الخ کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کو پیدا کیا اور اس کا تعلق مختلف چیزوں جیسے اہل و عیال اور مال و دولت وغیرہ سے قائم کیا، پھر اس کو ان چیزوں کے حقوق پہچاننے اور ان حقوق کو ادا کرنے کا ذمہ قرار دے کر ایک طرح کی آزمائش سے دو چار کیا ہے لیکن یہ انسان کی غفلت ونادانی ہے کہ وہ اپنی اس ذمہ داری کی رعایت ملحوظ نہیں رکھتا اور جو حقوق اس پر عائد کئے گئے ہیں ان کی ادائیگی میں کوتاہی وتقصیر کرتا ہے، ان متعلق چیزوں کے سلسلے میں اللہ نے اس کو جو حکم دیا ہے اس کی خلاف ورزی کرتا ہے اور ان چیزوں کی وجہ سے نہ صرف گناہ اور ممنوع امور کے ارتکاب کا وبال اپنے سر لیتا ہے بلکہ خود کو تعب و رنج اور مشقت و ایذاء میں گرفتار کرتا ہے لہٰذا اس صورت میں انسان کے لئے ضروری ہوجاتا ہے کہ حقوق کی ادائیگی میں جو کوتاہی اور گناہوں کا جو ارتکاب اس سے ہوتا ہے اس کے ازالہ اور کفارہ کے لئے اچھے کام جیسے نماز، روزہ اور صدقہ و خیرات وغیرہ کرتا رہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے آیت (ان الحسنات یذہبن السیئات) یعنی بلاشبہ نیکیاں برائیوں کو مٹا دیتی ہیں۔ میرا مدعا اس فتنہ سے نہیں تھا یعنی جب حضرت عمر ؓ نے لوگوں سے پوچھا کہ تم میں کسی شخص کو فتنہ کے سلسلے میں آنحضرت ﷺ کی حدیث یاد ہے، تو ان کا یہ پوچھنا دو احتمال رکھا تھا۔ ایک یہ کہ فتنہ سے ان کی مراد امتحان و آزمائش ہو جس میں انسان کو اولاد ومال وغیرہ کے تعلق سے مبتلا کیا گیا ہے جیسا کہ قرآن کریم میں فرمایا گیا ہے آیت (ولنبلونکم بشیء من الخوف والجوع) الخ۔ اور دوسرے یہ کہ فتنہ سے ان کی مراد باہمی قتل و قتال اور افتراق و انتشار ہو۔ چناچہ حضرت عمر ؓ کے سوال کا تعلق اس دوسرے مفہوم سے تھا، یعنی انہوں نے اس حدیث کے بارے میں پوچھا تھا جس میں حضور ﷺ نے باہمی قتل و قتال اور افتراق و انتشار کے فتنہ و فساد کا ذکر فرمایا تھا۔ لیکن حضرت حذیفہ ؓ نے یہ سمجھا کہ حضرت عمر ؓ پہلے مفہوم سے متعلق حدیث کے بارے میں پوچھ رہے ہیں اور اسی لئے انہوں نے اس کے مطابق حدیث بیان کی، اس پر حضرت عمر ؓ نے فرمایا کہ میرے پوچھنے کا مدعا یہ فتنہ نہیں تھا، میری مراد اس فتنہ کے بارے میں حضور ﷺ کی حدیث سننا تھا جو باہمی قتل و قتال اور آپس میں ایک دوسرے کے خلاف جنگ و محاذ آرائی کی صورت میں اس امت پر سیاہ بادل کی صورت میں چھا جائے گا اور اس کے برے اثرات تمام مسلمانوں کو سخت مصائب و پریشانی میں مبتلا کردیں گے۔ آپ کے اور اس فتنہ کے درمیان تو ایک بند دروازہ حائل ہے بند دروازہ سے مراد حضرت عمر ؓ کے وجود با مسعود کی طرف اشارہ کرنا تھا، جیسا کہ حدیث کے آخری الفاظ سے اس کی وضاحت بھی ہوجاتی ہے، چناچہ حضرت حذیفہ ؓ کے جواب کا مطلب یہ تھا کہ آپ جس فتنہ کے بارے میں پوچھ رہے ہیں وہ ابھی دور ہے، کیونکہ جب تک اس امت میں آپ کا وجود باقی ہے وہ فتنہ راہ نہیں پائے گا ہاں جب آپ اس دنیا سے اٹھ جائیں گے تو وہ فتنہ در آئے گا اور امت میں راہ پا جائے گا۔ وہ دروازہ توڑا جائے گا یا کھولا جائے گا؟ یعنی آیا وہ دروازہ اتنا سخت اور مضبوط ہوگا کہ بغیر توڑے اس کو کھولا نہیں جاسکے گا یا اتنا کمزور اور ہلکا ہوگا کہ آسانی کے ساتھ اس کو کھول دیا جائے گا۔ واضح رہے کہ کسی دروازہ کو توڑنے اور اس کو کھولنے میں فرق ہوتا ہے۔ ایک دروازہ تو وہ ہوتا ہے جس کو توڑے بغیر آمدورفت کا راستہ بنانا ممکن نہیں ہوتا جب وہ دروازہ ٹوٹ جاتا ہے تو پھر اس کا بند ہونا ممکن نہیں ہوتا، اس کے برخلاف جو دروازہ صرف کھولا جاتا ہے اس کو بند کرنا ممکن ہوتا ہے، چناچہ یہاں بند دروازہ تمثیل کے طور پر بیان کیا گیا ہے ہے جس کا مقصد یہ تشبیہ دینا ہے کہ فرض کرو کہ دو گھر ہیں جن کے درمیان ایک دیوار حائل ہے اور اس دیوار میں ایک بند دروازہ کی وجہ سے فتنہ و فساد کو کوئی راہ نہیں ملتی کہ وہ امن و عافیت کے گھر میں در آئے اور اس گھر کے امن و سکون کو تہ وبالا کر دے پس حضرت عمر ؓ کی حیات فتنوں کے روکے رکھنے والے بند دروازے کے مماثل اور اور ان کی موت، ان فتنوں کے دروازے کھل جانے کے مماثل ہوئی، اس طرح اس دروازے کو توڑے جانے کو ان کے قتل کے ساتھ اور اس دروازے کو کھولے جانے کو ان کی قدرتی موت کے ساتھ تشبیہ دی گئی۔

5340Mishkaat-al-Masabih

قسطنطنیہ کا فتح ہونا قیامت کے قریب ہونے کی علامت ہوگا

وعن أنس قال فتح القسطنطينة مع قيام الساعة . رواه الترمذي . وقال هذا حديث غريب

حضرت انس ؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے فرمایا۔ قسطنطنیہ کا فتح ہونا، قیامت کے قریب ہوگا، اس روایت کو ترمذی نے نقل کیا ہے اور کہا ہے کہ یہ حدیث غریب ہے۔ تمت بالخیر الحمدللہ کہ کتاب مظاہر حق جدید کی جلد چہارم باب الملاحم پر ختم ہو رہی ہے۔ و صلی اللہ تعالیٰ علی خیر خلقہ محمد وآلہ وا صحابہ اجمعین