لفظ جمعہ جو ہفتہ کے ایک دن کا نام ہے فصیح زبان و لغت کے اعتبار سے جیم اور میم دونوں کے پیش کے ساتھ ہے لیکن جیم کے پیش اور میم کے سکون کے ساتھ بھی مستعمل ہوا ہے۔ اس دن کو جمعہ اس لئے کہا جاتا ہے کہ اسی دن حضرت آدم (علیہ السلام) کی تخلیق جمع اور پوری کی گئی تھی۔ بعض حضرات فرماتے ہیں کہ اس دن کو جمعے کا نام دینے کی وجہ یہ ہے کہ حضرت آدم (علیہ السلام) جب بہشت سے دنیا میں اتارے گئے تو اسی دن زمین پر وہ حضرت حوا کے ساتھ جمع ہوئے تھے۔ اس کے علاوہ علماء نے اور بھی وجہ تسمیہ بیان کئے ہیں چناچہ بعض حضرات کا قول ہے کہ اس دن چونکہ تمام لوگ اللہ تعالیٰ کی عبادت اور نماز کے لئے جمع ہوتے ہیں اس لئے اسے یوم الجمعہ کہا جاتا ہے۔ جمعہ اسلامی نام ہے زمانہ جاہلیت میں اس دن کو عروبہ کہا جاتا تھا۔ لیکن بعض علماء کی تحقیق یہ ہے کہ عروبہ بہت قدیم نام تھا مگر زمانہ جاہلیت میں یہ نام بدل گیا تھا اور اس دن کو جمعہ کہا جانے لگا تھا۔ جمعہ کا روز نبی آخر الزمان ﷺ کی بعثت سے پہلے زمانہ جاہلیت میں بھی ایک امتیازی اور شرف و فضیلت کا دن مانا جاتا تھا مگر اسلام نے اس دن کو اس کی حقیقی عظمت و فضیلت کے پیش نظر بہت ہی زیادہ باعظمت و بافضلیت دن قرار دیا۔ گذشتہ صفحات میں یہ بات بیان کی جا چکی ہے کہ اللہ تعالیٰ کو نماز سے زیادہ اور کوئی عبادت پسند نہیں ہے یہی وجہ ہے کہ بندوں پر اللہ جل شانہ کی طرف سے جو بےانتہا نعمتوں کی بارش ہوتی ہے اور جن کا سلسلہ انسان کی پیدائش سے لے کر موت تک ہے۔ بلکہ پیدائش سے قبل اور موت کے بعد بھی انسان اللہ تعالیٰ کی نعمتوں سے ہمکنار رہتا ہے۔ اس کے ادائے شکر کے لئے ہر دن میں پانچ وقت نماز مقرر کی اور جمعے کے دن چونکہ تمام دنوں سے زیادہ نعمتیں بندوں پر نازل ہوتی ہیں۔ اس لئے اس دن ایک خاص نماز پڑھنے کا حکم دیا گیا۔ جماعت کے باب میں جماعت کی حکمتیں اور اس کے فائدے بیان کئے جا چکے ہیں اور یہ بھی ظاہر ہوچکا ہے کہ جماعت میں جتنی زیادہ کثرت ہوگی اور مسلمان جتنی بڑی تعداد میں نماز کے لئے جمع ہوں گے اسی قدر ان فوائد کا زیادہ ظہور ہوتا ہے اور یہ اسی وقت ممکن ہے۔ جب کہ محلوں کے مسلمان اور اس مقام کے اکثر لوگ ایک جگہ جمع ہو کر نماز پڑھیں چونکہ ہر روز پانچوں وقت اس قدر اجتماع لوگوں کی پریشانی و تکلیف کے پیش نظر ممکن نہیں ہوتا اس لئے شریعت نے ہفتے میں ایک دن ایسا مقرر فرما دیا جس میں مختلف محلوں اور گاؤں کے مسلمان آپس میں ایک جگہ جمع ہو کر اس عبادت کو اداء کریں اور چونکہ جمعے کا دن تمام دنوں میں سے افضل و اشرف تھا لہٰذا یہ تخصیص اسی دن کے لئے کی گئی۔ اگلی امتوں کو بھی اللہ تعالیٰ نے اس دن عبادت کا حکم فرمایا تھا مگر انہوں نے اپنے تمردوسرکشی اور اپنی بدنصیبی کی بناء پر اس میں اختلاف کیا اور ان کی اس سرکشی کا نیتجہ یہ ہوا کہ وہ اس عظیم سعادت سے محروم رہے اور یہ فضیلت وسعادت بھی اسی امت مرحومہ کے حصے میں پڑی ہے۔ یہود نے سنیچر کا دن مقرر کرلیا اس خیال سے کہ اس دن اللہ تعالیٰ تمام مخلوقات کے پیدا کرنے سے فارغ ہوا تھا۔ عیسائیوں نے اتوار کا دن مقرر کیا۔ اس خیال سے کہ یہ دن ابتدائے آفرنیش کا ہے۔ چنانچہ اب تک یہ دونوں فرقے ان دنوں میں عبادت کا بہت زیادہ اہتمام کرتے ہیں اپنے تمام کام کاج چھوڑ کر اس دن چرچ و عبادت گاہوں میں ضرور جاتے ہیں۔ عیسائی حکومتوں میں اتوار کے دن اسی سبب سے تمام دفاتر وتعلیم گاہوں میں تعطیل ہوتی ہے۔ بعض مسلم حکومتوں کی یہ مرعوبیت اور بدنصیبی ہے کہ وہ بھی عیسائی حکومتوں کے اس خالص مذہبی طرز عمل کو بدل نہ سکیں اور اپنے ملکوں میں بجائے جمعہ کے اتوار کے دن عام تعطیل کرنے پر مجبور ہیں۔ نماز جمعہ کی فرضیت نماز جمعہ فرض عین ہے، قرآن مجید، احادیث متواترہ اور اجماع امت سے ثابت ہے اور اسلام کے شعائر اعظم میں سے ہے نماز جمعہ کی فرضیت کا انکار کرنے والا کافر اور اس کو بلا عذر چھوڑنے والا فاسق ہے، نماز جمعہ کے بارے میں ارشاد ربانی ہے۔ آیت (يٰ اَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْ ا اِذَا نُوْدِيَ لِلصَّلٰوةِ مِنْ يَّوْمِ الْجُمُعَةِ فَاسْعَوْا اِلٰى ذِكْرِ اللّٰهِ وَذَرُوا الْبَيْعَ ذٰلِكُمْ خَيْرٌ لَّكُمْ اِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ۔ ) 62۔ الجمعہ 9) اے ایمان والو! جب نماز جمعہ کے لئے اذان کہی جائے تو تم لوگ اللہ تعالیٰ کے ذکر کی طرف دوڑو اور خریدو فروخت چھوڑ دو یہ تمہارے لئے بہتر ہے اگر تم جانو۔ اس آیت میں اللہ تعالیٰ کے ذکر سے مراد نماز جمعہ اور اس کا خطبہ ہے۔ دوڑنے سے مراد اس نماز کے لئے نہایت اہتمام کے ساتھ جانا۔ نماز جمعہ کی فرضیت رسول اللہ ﷺ کو مکہ ہی میں معلوم ہوگئی تھی، مگر غلبہ کفر کے سبب اس کے ادا کرنے کا موقع نہیں ملتا تھا۔ ہجرت کے بعد مدینہ منورہ تشریف لاتے ہی آپ نے نماز جمعہ شروع کردی۔ مدینہ منورہ میں آپ ﷺ کے تشریف لانے سے پہلے حضرت اسعد ابن زرارہ نے اپنے اجتہاد صائب اور کشف صادق سے جمعہ کی نماز شروع کردی تھی۔ علم الفقہ) نماز جمعہ کے بارے میں یہاں چند باتیں عرض کردی گئی ہیں آئندہ ابواب میں حسب موقع نماز جمعہ کے احکام و مسائل اور اس کے فضائل کو بیان کیا جاتا رہے گا۔
جمعہ کی فضیلت سے یہود و نصاری کا اعراض
عَنْ اَبِیْ ھُرَےْرَۃَص قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم نَحْنُ الْاٰخِرُوْنَ السَّابِقُوْنَ ےَوْمَ الْقِےٰمَۃِ بَےْدَ اَنَّھُمْ اُوْتُوا الْکِتٰبَ مِنْ قَبْلِنَا وَاُوْتِےْنٰہُ مِنْ بَعْدِھِمْ ثُمَّ ھٰذَا ےَوْمُھُمُ الَّذِیْ فُرِضَ عَلَےْہِمْ ےَعْنِیْ ےَوْمَ الْجُمُعَۃِ فَاخْتَلَفُوْا فِےْہِ فَھَدَانَا اللّٰہُ لَہُ وَالنَّاسُ لَنَا فِےْہِ تَبَعٌ الْےَھُوْدُ غَدًا وَّالنَّصَارٰی بَعْدَ غَدٍ مُّتَّفَقٌ عَلَےْہِ وَفِی رِوَاےَۃٍ لِّمُسْلِمٍ قَالَ نَحْنُ الْاٰخِرُوْنَ الْاَوَّلُوْنَ ےَوْ مَ الْقِےٰمَۃِ وَنَحْنُ اَوَّلُ مَنْ ےَّدْخُلُ الْجَنَّۃَ بَےْدَ اَنَّھُمْ وَذَکَرَ نَحْوَہُ اِلٰی اٰخِرِہٖ وَفِیْ اُخْرٰی لَہُ عَنْہُ وَعَنْ حُذَےْفَۃَ قَالَا قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم فِیْ اٰخِرِ الْحَدِےْثِ نَحْنُ الْاٰخِرُوْنَ مِنْ اَھْلِ الدُّّنْےَا وَالْاَوَّلُوْنَ ےَوْ مَ الْقِےٰمَۃِ الْمَقْضِیُّ لَھُمْ قَبْلَ الْخَلَآئِقِ۔
حضرت ابوہریرہ ؓ راوی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا۔ ہم دنیا میں بعد میں آئے ہیں اور قیامت کے دن شرف و مرتبے میں سب سے آگے ہوں گے علاوہ ازیں اہل کتاب (یعنی یہود و نصاری) کو اللہ کی طرف سے ہم سے پہلے کتاب دی گئی ہے اور ہمیں بعد میں کتاب ملی ہے پھر یہ دن یعنی جمعے کا دن ان (اہل کتاب) پر فرض کیا گیا تھا لیکن انہوں نے اس میں اختلاف کیا۔ چناچہ اللہ تعالیٰ نے اس دن (یعنی جمعہ) کے بارے میں ہماری ہدایت فرمائی بایں طور کہ ہم نے اللہ کے حکم کی فرمانبرداری کرتے ہوئے اس دن کو اللہ کی عبادت کے لئے اختیار کیا۔ اور لوگ یعنی یہود و نصاری نہ صرف شرف و فضیلت بلکہ دن کے اعتبار سے بھی ہمارے تابع ہیں، یہود نے کل (یعنی جمعہ کے بعد کے دن سینچر) کو اختیار کیا اور نصاری نے پرسوں (یعنی سنیچر کے بعد کا دن اتوار) اختیار کیا۔ (صحیح البخاری و صحیح مسلم) اور صحیح مسلم ہی کی ایک روایت میں حضرت ابوہریرہ ؓ و حضرت حذیفہ ؓ سے یوں منقول ہے کہ دونوں نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے حدیث کے آخر میں فرمایا۔ (دنیا میں آنے کے اعتبار سے) ہم سب سے پیچھے ہیں اور قیامت کے دن سب سے آگے ہوں گے کہ ساری مخلوقت سے پہلے ہمارے لئے (حساب کا اور جنت میں داخل ہونے کا) حکم کیا جائے گا۔
تشریح
حدیث کے الفاظ ہمیں بعد میں کتاب ملی ہے کا مطلب یہ ہے کہ اگرچہ گذشتہ امتوں کے پاس اللہ تعالیٰ کی کتاب پہلے نازل ہوئی ہے اور پھر سب سے بعد میں ہماری امت کو قرآن کریم سے نوازا گیا ہے مگر درحقیقت یہی چیز ہماری امت کے لئے تمام امتوں کے مقابلے میں شرف و فضیلت کی دلیل ہے کیونکہ اصولی بات ہے کہ جو کتاب بعد میں آتی ہے وہ پہلی کتاب کو منسوخ قرار دے دیتی ہے اور ظاہر ہے کہ جو کتاب پہلی کتاب کو منسوخ قرار دے گی وہ اپنی عظمت و فضیلت کے اعتبار سے تمام کتابوں پر حاوی ہوگی۔ اس سے معلوم ہوا کہ رسول اللہ ﷺ کا قول نحن الاخرون بھی امت محمدیہ کی فضیلت و عظمت کے بیان کے لئے ہے۔ ارشاد فاختلفوا فیہ کی وضاحت و فائدے میں شارحین حدیث کا اختلاف ہے کہ اللہ تعالیٰ کی جانب سے یہود و نصاری پر جمعہ کے روز کو فرض کرنے سے کیا مراد ہے؟ اور یہ کہ اہل کتاب نے اس میں کیا اختلاف کیا؟ چنانچہ بعض علماء نے کہا ہے کہ اس سے مراد یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جس طرح مسلمانوں پر جمعے کی نماز فرض کی ہے بعینہ اسی طرح اہل کتاب پر بھی جمعہ کے روز عبادت کرنا فرض قرار دیا تھا اور انہیں یہ حکم دیا تھا کہ وہ اسی روز عبادت الٰہی کے لئے آپس میں جمع ہوا کریں جیسا کہ حدیث کے الفاظ سے معلوم ہوتا ہے مگر انہوں نے اپنی عادت کے مطابق اس معاملے میں بھی اللہ کے حکم سے اعراض کیا اور اپنی سرکشی کا مظاہرہ کرتے ہوئے کہا جمعے کو فرض کرنے سے مراد یہ ہے کہ ان کو اللہ تعالیٰ نے اپنے علم میں تمہارے لئے ایک ایسا دن فرض قرار دیا ہے جس میں تم اپنے دنیوی امور سے فارغ ہو کر اور تمام کام کاج چھوڑ کر اللہ کی عبادت اور ذکر میں مشغول رہو لہٰذا تم اپنے اجتہاد اور فکری قوت سے کام لیتے ہوئے اس دن کو متعین کرلو کہ وہ کونسا دن ہے؟ گویا اس طرح اللہ تعالیٰ کی جانب سے یہ اہل کتاب کے اجتہاد و فکر کا امتحان تھا کہ آیا یہ حق اور صحیح بات دریافت کرلینے اور اس پر مطلع ہوجانے کی صلاحیت رکھتے ہیں یا نہیں؟ چناچہ یہود نے تو سنیچر کے دن کو متعین کیا اور کہا کہ یہی دن عبادت الٰہی میں اجتماعیت کے ساتھ مشغول ہونے کا دن ہے اور اسی دن کی سب سے زیادہ فضیلت ہے کیونکہ اسی دن اللہ تعالیٰ تمام مخلوقات کے پیدا کرنے سے فارغ ہوا تھا۔ لہٰذا ہمیں بھی چاہیے کہ ہم اس دن دنیا کے کاروبار سے فراغت حاصل کر کے عبادت میں مشغول رہیں۔ نصاری نے اتوار کا دن مقرر کیا انہوں نے اس دن کو بایں طور تمام دنوں سے زیادہ افضل و برکت جانا کہ یہی دن ابتدائے آفرینش کا ہے۔ انہوں نے سوچا کہ مبداء کمالات و انعامات ہے کہ جس میں اللہ تعالیٰ جل شانہ مخلوق پر اپنے فیض اور اپنی نعمتوں کے ساتھ متوجہ ہوا۔ لہٰذا اس مقصد کے لئے کہ اللہ تعالیٰ کی عبادت و پرستش بہت زیادہ کی جائے اور بندے دنیا کی مصروفیتوں سے منہ موڑ کر اپنے پیدا کرنے والے اور اپنے پالنہار کی بندگی میں مصروف رہیں یہی دن سب سے زیادہ مناسب اور بہتر ہوسکتا ہے۔۔ لیکن یہود و نصاری دونوں اپنے اجتہاد اور اپنی رائے میں ناکام رہے اور ان کی طبیعت اور ان کے مزاج میں چونکہ تمردوسر کشی کا مادہ زیادہ تھا۔ سعادت و بھلائی کے نور سے ان کے قلوب پوری طرح مستفید نہ تھے اس لئے وہ اصل مقصد اور اصل دن جو اللہ کے علم میں تھا اس کو تو پہچان نہ سکے بلکہ اپنی اپنی دلیلوں کا سہارا لے کر دوسرے دنوں کو اختیار کر بیٹھے۔ بر خلاف اس کے کہ اللہ تعالیٰ نے امت محمدیہ ﷺ کو ہدایت سے نوازا اور اپنے فضل و کرم سے اصل دن یعنی جمعہ کی معرفت عطا فرمائی چناچہ جب اللہ جل شانہ نے اس آیت (يٰ اَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْ ا اِذَا نُوْدِيَ لِلصَّلٰوةِ مِنْ يَّوْمِ الْجُمُعَةِ فَاسْعَوْا اِلٰى ذِكْرِ اللّٰهِ وَذَرُوا الْبَيْعَ ذٰلِكُمْ خَيْرٌ لَّكُمْ اِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ۔ ) 62۔ الجمعہ 9) کے ذریعے مسلمانوں کو حکم دیا کہ جمعہ کو اللہ کی عبادت کی جائے تو اس کے ساتھ انہیں اس حکم کی بجا آوری کی توفیق بھی عطا فرمائی اور اس امت کو اس مرحلے پر بھی تمردوسر کشی اور خود ساختہ دلیلوں کے ذریعے گمراہ نہیں کیا چناچہ مسلمانوں نے اللہ کے اس حکم کے آگے گردن اطاعت جھکا دی اور ایک سچی فرما نبردار امت ہونے کے ناطے جمعہ ہی کے دن کو اللہ کی عبادت و بندگی کے لئے اختیار کرلیا۔ لوگ ہمارے تابع ہیں کا مطلب یہ ہے کہ جمعہ کا روز چونکہ حضرت آدم (علیہ السلام) کی تخلیق کا دن ہونے کی وجہ سے نسل انسانی کے لئے مبداء اور انسانی زندگی کا سب سے پہلا دن ہے اس لئے اس دن عبادت کرنے والے عبادت کے اعتبار سے متبوع اور اس کے بعد کے دو دن یعنی سنیچر و اتوار کو عبادت کرنے والے تابع ہوئے۔ اسی بناء پر یہ حدیث اس بات پر دلالت کرتی ہے۔ کہ شرعا اور اصولا جمعے کا دن ہی ہفتہ کا پہلا دن ہے۔ لیکن تعجب ہے کہ عرف عام اس کے برخلاف ہے۔
وَعَنْ اَبِیْ ھُرَےْرَۃَص قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم خَےْرُ ےَوْمٍ طَلَعَتْ عَلَےْہِ الشَّمْسُ ےَوْمُ الْجُمُعَۃِ فِےْہِ خُلِقَ اٰدَمُ وَفِےْہِ اُدْخِلَ الْجَنَّۃَ وَفِےْہِ اُخْرِجَ مِنْھَا وَلَا تَقُوْمُ السَّاعَۃُ اِلَّا فِیْ ےَوْمِ الْجُمُعَۃِ۔مسلم
اور حضرت ابوہریرہ ؓ راوی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا۔ ان دنوں میں سے کہ جن میں آفتاب طلوع ہوتا ہے سب سے بہتر دن جمعہ ہے اسی دن حضرت آدم (علیہ السلام) پیدا کئے گئے۔ (یعنی ان کی تخلیق مکمل ہوئی) اسی دن وہ بہشت میں داخل ہوئے اور اسی دن انہیں بہشت سے نکالا گیا (اور زمین پر اتارا گیا) اور قیامت بھی جمعہ ہی کے روز قائم ہوگی۔ ( صحیح مسلم)
تشریح
حدیث کے پہلے جملے کے ذریعے بطور مبالغہ جمعے کے دن کی فضیلت ظاہر کرنا مقصود ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ تمام دنوں میں سب سے زیادہ افضل دن جمعہ ہے کیونکہ ایسا کوئی بھی دن نہیں ہے جس میں آفتاب طلوع نہ ہو۔ حضرت آدم (علیہ السلام) کی پیدائش کا دن ہونے کی وجہ سے جمعہ کے دن کی فضیلت تو ظاہر ہے لیکن بہشت سے نکلنے کا دن ہونے کی وجہ سے جمعہ کی فضیلت اس لئے ہے کہ دراصل حضرت آدم (علیہ السلام) کا جنت سے نکل کر زمین پر آنا انبیاء اور اولیاء کی پیدائش کا سبب اور ان کی مقدس زندگیوں سے بیشمار احسانات کے ظہور کا باعث ہوا۔ ایسے ہی حضرت آدم (علیہ السلام) کی موت بارگاہ رب العزت میں ان کی حاضری کا سبب ہوئی اسی طرح قیامت کا قائم ہونا جنت میں داخل ہونے کا سبب ہے جس میں پرہیز گاروں اور نیکو کاروں سے اللہ تعالیٰ کے کئے گئے وعدے ظاہر ہوں گے۔ قیامت قائم ہونے سے مراد یا تو پہلا صور ہے کہ جس کی آواز سے زمین و آسمان فنا ہوجائیں گے اور پوری دنیا موت کی آغوش میں پہنچ جائے گی یا دوسرا صور بھی مراد لیا جاسکتا ہے جو تمام مخلوق کو دوبارہ زندہ کرنے اور انہیں احکم الحاکمین کی بارگاہ میں حساب کے لئے پیش کرنے کے واسطے پھونکا جائے گا۔ علامہ طیبی (رح) فرماتے ہیں کہ بعض حضرات فرماتے ہیں کہ تمام دنوں میں سے عرفہ کا دن افضل ہے اور بعض کا کہنا ہے کہ جمعہ کا روز افضل ہے۔ جیسا کہ اس حدیث سے مفہوم ہوتا ہے لیکن یہ اختلاف و تضاد اس صورت میں ہے جب کہ مطلقاً یہ کہا جائے کہ دنوں میں سب سے افضل دن عرفہ ہے یا اسی طرح کہا جائے کہ جمعے کا دن سب سے افضل دن ہے اور اگر دونوں اقوال کا مفہوم اس طرح لیا جائے کہ جو حضرات عرفہ کی افضلیت کے قائل ہیں ان کی مراد یہ ہے کہ سال میں سب سے افضل دن عرفہ ہے اور جو حضرات فرماتے ہیں کہ جمعہ سب سے افضل دن ہے ان کی مراد یہ ہے کہ ہفتے کے دنوں میں سب سے افضل دن جمعہ ہے۔ اس طرح نہ صرف یہ کہ دونوں اقوال میں کسی تطبیق اور تاویل کی ضرورت نہیں رہے گی بلکہ دونوں اقوال اپنی اپنی جگہ صحیح اور قابل قبول ہوں گے ہاں اگر حسن اتفاق سے عرفہ (یعنی ذی الحجہ کی نویں تاریخ) جمعے کے روز ہوجائے تو نور علی نور کہ یہ دن مطلقاً تمام دنوں میں سب سے زیادہ افضل ہوگا اور اس دن کیا جائے والا عمل تمام اعمال میں افضل ہوگا۔ یہی وجہ سے کہ خوش قسمتی سے اگر حج جمعے کے روز ہوتا ہے تو اس کو حج اکبر کہتے ہیں۔ کیونکہ جو حج جمعے کے دن ہوتا ہے وہ فضیلت و مرتبے کے اعتبار سے جمعے کے علاوہ دوسرے ایام میں ادا ہونے والے ستر حجوں پر بھاری ہوتا ہے۔ جمعہ کی فضیلت و عظمت کا اندازہ اس سے لگایا جاسکتا ہے کہ ابن مسیب کا قول ہے کہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک جمعہ نفل حج سے زیادہ محبوب ہے۔ جامع صغیر میں حضرت عبداللہ ابن عباس ؓ سے روایت مرفوعاً منقول ہے کہ جمعہ حج المساکین ہے۔
وَعَنْہُ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم اِنَّ فِی الْجُمُعَۃِ لَسَاعَۃً لَّا ےُوَافِقُھَا عَبْدٌ مُّسْلِمٌ ےَّسْاَلُ اللّٰہَ فِےْھَا خَےْرًا اِلَّا اَعْطَاہُ اِےَّاہُ مُتَّفَقٌ عَلَےْہِ وَزَادَ مُسْلِمٌ قَالَ وَھِیَ سَاعَۃٌ خَفِےْفَۃٌ وَّفِیْ رِوَاےَۃٍ لَّھُمَا قَالَ اِنَّ فِی الْجُمُعَۃِ لَسَاعَۃً لَّا ےُوَافِقُھَا مُسْلِمٌ قَآئِمٌ ےُّصَلِّیْ ےَسْاَ لُ اللّٰہَ خَےْرًا اِلَّا اَعْطَاہُ اِےَّاہُ۔صحیح البخاری و صحیح مسلم
اور حضرت ابوہریرہ ؓ راوی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا۔ جمعے کے دن ایک ایسی ساعت آتی ہے کہ جسے اگر کوئی بندہ مومن پائے اور اس میں اللہ تعالیٰ سے بھلائی کا سوال کرے تو اللہ اس کو وہ بھلائی عطا کردیتا ہے۔ (یعنی اس ساعت میں مانگی جانے والی دعا ضرور مقبول ہوتی ہے) بخاری و مسلم کی ایک روایت میں صحیح مسلم نے یہ الفاظ مزید نقل کئے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا وہ ساعت بہت تھوڑی ہوتی ہے۔ اور صحیح البخاری و صحیح مسلم کی ایک اور روایت میں یہ الفاظ منقول ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا بلاشک و شبہ جمعہ کے روز ایک ایسی ساعت آتی ہے کہ جسے اگر کوئی بندہ مومن جو نماز کے لئے کھڑا ہو پالے اور اللہ سے بھلائی کے لئے دعا کرے تو اس کو اللہ وہ بھلائی ضرور عطا فرما دیتا ہے۔
تشریح
جمعہ کے روز ایک خاص ساعت ہے جس میں بندے کی جانب سے پروردگار کے سامنے پیش کی جانے والی ہر درخواست منظور ہوتی ہے مگر وہ ساعت متعین اور ظاہر نہیں ہے بلکہ اسے پوشیدہ رکھا گیا ہے یہ نہیں بتا گیا گیا کہ وہ ساعت کب آتی ہے اور اسے پوشیدہ رکھنے کی حکمت یہ ہے کہ لوگ اس ساعت کی امید میں پورا دن عبادت میں مشغول رہیں اور جب وہ ساعت آئے تو ان کی عبادت و درخواست خاص ساعت میں واقع ہو۔ علامہ جزری فرماتے ہیں کہ قبولیت کی جو ساعات منقول ہیں ان سب میں جمعے کے روز کی ساعت قبولیت میں مطلب برآوری اور دعا کے قبول ہونے کی امید بہت زیادہ ہوتی ہے۔ اعطاہ ایاہ کا مطلب یا تو یہ ہے کہ بندہ اس مقبول ساعت میں دعا کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کی دعا قبول کرتا ہے بایں طور پر کہ اس کا مقصد دنیا ہی میں پورا کردیتا ہے یا قبولیت دعا کی یہ صورت ہوتی ہے کہ اللہ تعالیٰ کسی مصلحت اور بندہ کی بہتری کے لئے دنیا میں تو اس کی دعا کا کوئی اجر ظاہر نہیں فرماتا بلکہ وہ اس کے لئے ذرخیرہ آخرت ہوجاتی ہے کہ وہاں اس کا ثواب اسے دیا جائے گا۔ لفظ قائم یصلی کے معنی یہ ہیں کہ نماز پابندی اور مداومت کے ساتھ پڑھتا ہو یا یہ معنی ہیں کہ دعا پر مواظبت و مزاولت کرتا ہو، یا یہ معنی بھی مراد ہوسکتے ہیں کہ نماز کا انتظار کرتا ہو۔ یہ تاویلات اس لئے کی گئی ہیں تاکہ تمام روایات میں مطابقت ہوجائے۔
جمعے کے دن ساعت قبولیت کب آتی ہے
عَنْ اَبِیْ بُرْدَ ۃَ بْنِ اَبِیْ مُوْسٰیص قَالَ سَمِعْتُ اَبِیْ ےَقُوْلُ سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم ےَقُوْلُ فِیْ شَانِ سَاعَۃِ الْجُمُعَۃِ ھِیَ مَا بَےْنَ اَنْ ےَّجْلِسَ الْاِمَامُ اِلٰی اَنْ تُقْضَی الصَّلٰوۃُ۔مسلم
اور حضرت ابی بردہ ابن ابی موسیٰ راوی ہیں کہ میں نے اپنے والد مکرم (حضرت ابوموسی) سے سنا وہ فرماتے تھے کہ میں نے سر تاج دو عالم ﷺ کو جمعے (کے دن) کی ساعت قبولیت کے بارے میں فرماتے ہوئے سنا ہے کہ وہ ساعت (خطبے کے لئے) امام کے منبر پر بیٹھنے اور نماز پڑھی جانے تک کا درمیانی عرصہ ہے۔ (صحیح مسلم)
تشریح
جمعے کے روز قبولیت دعا کی ساعت منقول ہے اور اس کی حقیقت میں کسی کو کوئی شبہ نہیں ہے لیکن علماء کے ہاں اس بات پر اختلاف ہے کہ وہ ساعت کونسی ہے؟ یعنی وہ کونسا وقت ہے جس میں ساعت قبولیت آتی ہے؟ چناچہ بعض علماء کی تحقیق تو یہ ہے کہ شب قدر کی ساعت قبولیت اور اسم اعظم کی طرح جمعہ کے روز کی ساعت قبولیت بھی مبہم یعنی غیر معلوم ہے بعض حضرات کی رائے یہ ہے کہ وہ ساعت ہر جمعے کو بدلتی رہتی ہے کسی جمعے کو تو دن کے ابتدائی حصے میں آتی ہے کسی جمعے کو درمیانی حصے میں اور اسی طرح کسی جمعے کو دن کے آخری حصے میں آتی ہے لیکن اکثر علماء کا کہنا یہ ہے کہ وہ ساعت متعین اور معلوم ہے لیکن اس میں بھی اختلاف ہے کہ اگر وہ ساعت متعین اور معلوم ہے تو کونسی ساعت ہے۔ اور وہ کونسا وقت ہے جس میں یہ عظیم و مقدس سات پوشیدہ ہے۔ اس بارے میں پینتیس اقوال منقول ہیں (١) جمعے کے روز فجر کی نماز کے لئے مؤذن کے اذان دینے کا وقت۔ (٢) فجر کے طلوع ہونے سے آفتاب کے طلوع ہونے تک کا وقت۔ (٣) عصر سے آفتاب غروب ہونے تک کا وقت۔ (٤) خطبے کے بعد امام کے منبر سے اترنے سے تکبیر تحریمہ کہنے جانے تک کا وقت۔ (٥) آفتاب نکلنے کے بعد فورا بعد کی ساعت۔ (٦) طلوع آفتاب کا وقت۔ (٧) ایک پہر باقی دن کی آخری ساعت۔ (٨) زوال شروع ہونے سے آدھا سایہ ہوجانے تک کا وقت۔ (٩) زوال شروع ہونے سے ایک ہاتھ سایہ آجانے تک کا وقت۔ (١٠) ایک بالشت آفتاب ڈھلنے کے بعد سے ایک ہاتھ آفتاب ڈھل جانے تک کا وقت۔ (١١) عین زوال کا وقت۔ (١٢) جمعے کی نماز کے لئے مؤذن جب اذان کہے وہ وقت۔ (١٣) زوال شروع ہونے سے نماز جمعہ سے فارغ ہونے تک کا وقت۔ (١٤) زوال شروع ہونے سے امام کے نماز جمعہ سے فارغ ہونے تک کا قت۔ (١٥) زوال آفتاب تک کا وقت۔ (١٦) خطبے کے لئے امام کے منبر پر چڑھنے سے نماز جمعہ شروع ہونے تک کا وقت۔ (١٧) امام کے نماز جمعہ سے فارغ ہونے تک کا وقت۔ (١٨) خطبے کے لئے امام کا منبر پر چڑھنے اور ادائیگی نماز کے درمیان کا وقت۔ (١٩) اذان سے ادائیگی نماز کے درمیان کا وقت۔ (٢٠) امام کے منبر پر بیٹھنے سے نماز پوری ہوجانے تک کا وقت۔ (٢١) خریدو فروخت کے حرام ہونے اور ان کے حلال ہونے کے درمیان کا وقت یعنی اذان کے وقت سے نماز جمعہ ختم ہوجانے تک۔ (٢٢) اذان کے قریب کا وقت۔ (٢٣) امام کے خطبہ شروع کرنے اور خطبہ ختم کرنے تک کا وقت۔ (٢٤) خطبے کے لئے امام کے منبر پر چڑھنے اور خطبہ شروع کرنے کا درمیانی وقت۔ (٢٥) دونوں خطبوں کے درمیان امام کے منبر سے اترنے کا وقت۔ (٢٦) نماز کے لئے تکبیر شروع ہونے سے امام کے مصلے پر کھڑے ہونے تک کا وقت۔ (٢٧) خطبہ سے فراغت کے بعد امام کے منبر سے اترنے کا وقت۔ (٢٨) تکبیر شروع ہونے سے اختتام نماز تک کا وقت۔ (٢٩) جمعہ کی نماز سے فراغت کے فورا بعد کا وقت۔ (٣٠) عصر کی نماز سے غروب آفتاب تک کا وقت۔ (٣١) نماز عصر کے درمیان کا وقت۔ (٣٢) عصر کی نماز سے (غروب آفتاب سے پہلے) نماز کا آخری وقت مستحب رہنے تک کا وقت۔ (٣٣) مطلقاً نماز عصر کے بعد کا وقت۔ (٣٤) نماز عصر کے بعد کی آخری ساعت۔ (٣٥) اور وہ وقت جب کہ آفتاب ڈوبنے لگے۔ منقول ہے کہ حضرت علی کرم اللہ وجہہ، حضرت فاطمہ الزہرا اور تمام اہل بیت نبوت رضوان اللہ علیہم اجمعین اپنے خادموں کو متعین کرتے تھے کہ وہ ہر جمعے کے روز آخری گھڑی کا خیال رکھیں اور اس وقت سب کو یاد دلائیں تاکہ وہ سب اس گھڑی میں پروردگار کی عبادت، اس کے فکر اور اس سے دعا مانگنے میں مشغول ہوجائیں۔ یہاں جو حدیث نقل کی گئی ہے اس کے متعلق بلقینی سے پوچھا گیا کہ خطبے کے وقت دعا کیونکر مانگی جائے کیونکہ یہ حکم ہے کہ جب امام خطبہ پڑھ رہا ہو اس وقت خاموشی اختیار کی جائے۔ اس کے جواب میں انہوں نے فرمایا کہ دعا کے لئے تلفظ شرط نہیں ہے بلکہ اپنے مقصودو مطلوب کا دل میں دھیان رکھنا کافی ہے یعنی دعا کے لئے یہ ضروری نہیں ہے کہ دعا کے الفاظ زبان سے ادا کئے جائیں بلکہ یہ بھی کافی ہے کہ دل ہی دل میں دعا مانگ لی جائے اس طرح مقصود بھی حاصل ہوجائے گا اور خطبے کے وقت خاموش رہنے کے شرعی حکم کے خلاف بھی نہیں ہوگا۔ حضرت امام شافعی فرماتے ہیں کہ یہ بات مجھے معلوم ہوئی ہے کہ جمعے کی شب میں بھی مانگی جانے والی دعا قبول ہوتی ہے۔
جمعہ کی فضیلت اور ساعت قبولیت
عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ قَالَ خَرَجْتُ اِلَی الطُّوْرِ فَلِقِیَتْ کَعْبَ الْاَحْبَاِر فَجَلَسْتُ مَعَہ، فَحَدَّثَنِی عَنِ التُّورَاۃِ وَحَدَّثَتْہُ عَنْ رَسُوْلِ اﷲِ صَلَّی اﷲُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَکَانَ فِیْمَا حَدَّثَتْہ، اَنْ قُلْتَ قَالَ رَسُوْلُ اﷲِ صَلَّی اﷲُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ خَیْرُ یَوْمٍ طَلَعَتْ عَلَیْہِ الشَّمْسُ یَوْمُ الْجُمُعَۃِ فِیْہِ خُلِقَ آدَمُ وَفیہ احبط وفیہ تیب علیہ وفیہ مات وفیہ تقوم الساعۃ ومامن دابۃ الا وھی مصیخۃ یوم الجمعۃ من حین تصبح حتی تطلع الشمس شفقا من لساعۃ الا الجن ولانس وفیہ ساعۃ لا یصاد فھا عبد مسلم وھو یصلی یسال اﷲ شیا الا اعطاہ ایاہ قال کعب ذالک فی کل سنۃ یوم فقلت بل فی کل جمعۃ فقرا کعب التوراۃ فقال صدق رسول اﷲ علیہ قال ابو ھر یرۃ لقیت عبداﷲ بن سلام فحدثتہ بمجلسی مع کعب الاحبارو ما حدثتہ فی یوم الجمعۃ فقلت لہ قال کعب ذلک فے کل سنۃ یوم قال عبداﷲ بن سلام ھی اخر ساعۃ فی یوم الجمعۃ قال ابو ھر یرۃ فقلت وکیف تکون اخر ساعۃ فی یوم الجمعۃ وقد قال رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلملا یصادفھا عبد مسلم وھو یصلی فیھا فقال عبداﷲ بن سلام الم یقل رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلممن جلس مجلسا ینتظر الصلوٰۃ فھو فی صلاۃ حتی یصلی قال ابو ھر یرۃ فقلت بلی قال فھو ذالک (رواہ موطا امام مالک و ابوداؤد و الترمذی و النسائی وروی احمد بن حنبل الی قولہ صدق کعب)
حضرت ابوہریرہ ؓ فرماتے ہیں کہ (ایک روز) میں کوہ طور کی طرف گیا اور وہاں کعب احبار سے ملاقات کی میں ان کے پاس بیٹھ گیا انہوں نے میرے سامنے تو رات کی کچھ باتیں کیں اور میں نے ان کے سامنے سر تاج دو عالم ﷺ کی حدیثیں بیان کیں میں نے ان کے سامنے جو احادیث بیان کیں ان میں سے ایک حدیث یہ بھی تھی کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ ان دنوں میں جن میں آفتاب طلوع ہوتا ہے سب سے بہتر دن جمعے کا ہے، جمعے کے دن حضرت آدم (علیہ السلام) پیدا کئے گئے۔ اسی روز وہ جنت سے (زمین پر) اتارے گئے، اسی دن (یعنی جس جمعہ کو جنت سے اتارے گئے) اسی جمعہ کو آخری گھڑی میں یا یہ کہ کسی دوسرے جمعے کے دن ان کی توبہ قبول کی گئی، اسی دن ان کی وفات ہوئی اور جمعہ ہی کے دن قیامت قائم ہوگی اور ایسا کوئی چوپایہ نہیں ہے جو جمعے کے دن طلوع آفتاب سے غروب آفتاب تک قیامت قائم ہونے کا منتظر نہ رہا ہو (یعنی چو پاؤں کو بھی یہ معلوم ہے کہ قیامت جمعے کے روز آئے گی) اس لئے وہ ہر جمعے کو دن بھر اس خوف میں مبتلا رہتے ہیں کہ کہیں آج ہی قیامت قائم نہ ہوجائے، علاوہ جنات اور انسانوں کے (یعنی جن وانس کو اس انتظار سے غافل رکھا گیا ہے تاکہ اس ہو لنا کی سے انسانی زندگی کا شیرازہ منتشر نہ ہوجائے) اور جمعے کے دن ایک ایسی ساعت آتی ہے کہ جسے کوئی بندہ مسلمان کہ وہ (حکماً یا حقیقتاً ) نماز پڑھتا ہوا ہو۔ (یعنی نماز کا انتظار کرتا ہوا ہو یا دعا مانگتا ہوا ہو) اسے پالے اور اللہ تعالیٰ سے کسی چیز کا سوال کرے تو اسے وہ چیز ضروردی جاتی ہے (یعنی وہ اس وقت جو دعا مانگتا ہے قبول ہوتی ہے) کعب احبار نے (یہ سن کر) کہا کہ یہ دن ( جو ساعت قبولیت کو اپنے دامن میں چھپائے ہوئے ہوتا ہے) سال میں ایک مرتبہ آتا ہے۔ میں نے کہا کہ نہیں! یہ دن تو ہر ہفتے میں ایک مرتبہ آتا ہے۔ کعب نے (اس بات کی تصدیق کے لئے) تورات پڑھی اور (اس کے بعد) کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے سچ کہا ہے حضرت ابوہریرہ ؓ فرماتے ہیں کہ (اس کے بعد پھر) میں حضرت عبداللہ بن سلام سے ملا اور ان سے کعب سے اپنی ملاقات کا تذکرہ کیا اور جمعے کے بارے میں کعب سے میں نے جو حدیث بیان کی تھی وہ بھی بتائی پھر میں نے عبداللہ ابن سلام سے یہ بھی کہا کہ کعب کہتے تھے کہ یہ دن سال میں ایک مرتبہ آتا ہے۔ حضرت عبداللہ ابن سلام نے فرمایا کہ کعب نے غلط کہا۔ پھر میں نے کہا کہ لیکن کعب نے بعد میں تورات پڑھی اور کہا کہ (رسول اللہ ﷺ کا کہنا ٹھیک ہی ہے کہ) یہ ساعت ہر جمعہ کے روز آتی ہے۔ عبداللہ ابن سلام نے فرمایا کہ کعب نے یہ سچ کہا۔ اور پھر کہنے لگے کہ میں جانتا ہوں کہ وہ کونسی ساعت ہے؟ حضرت ابوہریرہ ؓ فرماتے ہیں کہ میں نے کہا کہ پھر مجھ کو بتلائیے اور بخل سے کام نہ لیجئے۔ حضرت عبداللہ ابن سلام نے فرمایا کہ وہ جمعہ کے دن کی آخری گھڑی میں ہے۔ میں نے کہا کہ وہ ساعت جمعہ کے دن کی آخری گھڑی کیونکر ہوسکتی ہے جب کہ رسول اللہ ﷺ کا یہ ارشاد ہے کہ جو بندہ مومن اس ساعت کو پائے اور وہ اس میں نماز پڑھتا ہوا ہو؟ اور آپ کہہ رہے ہیں کہ وہ ساعت جمعہ کے دن کی آخری گھڑی ہے اس وقت تو نماز نہیں پڑھی جاتی کیونکہ مکروہ ہے؟ حضرت عبداللہ ابن سلام نے فرمایا (یہ تو صحیح ہے لیکن) کہا یہ رسول اللہ ﷺ کا ارشاد نہیں ہے؟ کہ جو آدمی نماز کی انتظار میں اپنی جگہ بیٹھا رہے تو وہ حکماً ) نماز ہی کے حکم میں ہے یہاں تک کہ وہ حقیقتاً نماز پڑھے۔ حضرت ابوہریرہ ؓ فرماتے ہیں۔ کہ میں نے (یہ سن کر کہا کہ ہاں! آپ ﷺ نے یہ فرمایا ہے۔ حضرت عبداللہ بن سلام نے فرمایا۔ بس نماز سے مراد نماز کا انتظار کرنا ہے۔ (اور ان کے آخری حصے میں نماز کے انتظار میں بیٹھنا ممنوع نہیں ہے اس وقت اگر کوئی دعا مانگے تو وہ قبول ہوگی) مالک، سنن ابوداؤد، ترمذی، نسائی اور امام احمد نے بھی یہ روایت صدق کعب تک نقل کی ہے۔
تشریح
حدیث کے الفاظ حین تصبح حتی طلع الشمس کا مطلب یہ ہے کہ قیامت چونکہ جمعے کے روز طلوع آفتاب سے غروب آفتاب تک کے درمیانی عرصہ میں ہی قائم ہوگی اس لئے چوپائے ہر جمعے کے روز اس عرصہ میں قیامت کے قائم ہونے کے منتظر رہتے ہیں۔ لہٰذا اس پورے وقت میں جب حیوان قیامت کا خیال رکھتے ہیں اور اس سے خوفزدہ رہتے ہیں۔ تو انسانوں کو بطریق اولیٰ یہ چاہیے کہ وہ جمعے کے روز دن بھر اللہ کی عبادت اور اس کے ذکر میں مشغول رہیں اور اس چیز سے جو پیش آنے والی ہے (یعنی قیامت سے) ڈرتے رہیںَ یہ حدیث رسول اللہ ﷺ کی ایک اعجاز شان کی غمازی کر رہی ہے کہ آپ ﷺ نے امی ہونے کے باوجود اس عظیم الشان چیز کی خبر دی جو یہود میں توراۃ کے ایک بڑے عالم سے بھی پوشیدہ تھی حالانکہ توراۃ میں اس کا ذکر موجود تھا۔ گویا توراۃ کا عالم توراۃ میں ذکر کی گئی چیز سے بیخبر اور آپ ﷺ جو امی تھے اس سے پوری طرح باخبر درحقیقت یہ بڑا زبردست معجزہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ بظاہر تو امی تھے مگر اللہ نے آپ ﷺ کے سینے میں علم و معرفت کا بحر بیکراں موجزن کر رکھتا تھا۔ کعب احبار یہودیوں میں ایک بڑے پائے کے عالم اور بہت دانشمند مانے جاتے تھے انہوں نے رسول اللہ ﷺ کا زمانہ تو پایا ہے لیکن آپ ﷺ کی خدمت میں حاضر نہیں ہوئے تھے بعد میں حضرت عمر فاروق ؓ کی خلافت کے زمانے میں اسلام کی نعمت سے مشرف ہوئے۔ حضرت عبداللہ ابن سلام بھی یہودیوں کے بڑے عالم تھے یہ رسول اللہ ﷺ کے مبارک زمانے ہی میں اسلام لا کر صحابیت کے شرف عظیم سے مشرف ہوگئے تھے ؓ۔
جمعہ کی فضیلت اور ساعت قبولیت
وَعَنْ اَنَسٍ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اﷲِ صَلَّی اﷲُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ اِلْتَمِسُوْ السَّاعَۃَ الَّتِیْ تُرْجٰی فِی یَوْمِ الْجُمُعَۃِ بَعْدَ الْعَصْرِ اِلٰی غَیْبُوْبَۃِ الشَّمْسِ ۔ (رواہ الترمذی)
اور حضرت انس راوی ہیں کہ سر تاج دو عالم ﷺ نے فرمایا جمعے کے دن کی اس ساعت کو کہ جس میں قبولیت دعا کی امید ہے عصر کے بعد سے غروب آفتاب تک تلاش کرو۔ (جامع ترمذی )
وَعَنْ اَوْسِ بْنِ اَوْسٍ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اﷲِ صَلَّی اﷲُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ اِنَّ مِنْ اَفْضَلِ اَیَّامِکُمْ یَوْمَ الْجُمُعَۃِ فِیْہِ خُلِقَ اٰدَمَ وَفِیْہِ قُبِضَ وَفِیْہِ النَّفْخَۃُ وَفِیْہِ الصَّعْقَۃُ فَاَکْثَرُوْا عَلَیَّ مِنَ الصَّلَاۃِ فِیْہِ فَاِنَّ صَلَا تَکُمْ مَعْرُوْضَۃٌ عَلَی قَالُوْا یَا رَسُوْلَ اﷲِ وَکَیْفَ تُعْرَضُ صَلَا تُنَا عَلَیْکَ وَقَدْ اَرِمْتَ قَالَ یَقُوْلُوْنَ بَلِیْتَ قَالَ اِنَّ اﷲَ حَرَّمَ عَلَی الْاَرْضِ اَجْسَادَ الْاَنْبِیَائ۔ (رواہ ابوداؤدوالنسائی وابن ماجۃ والدارمی والبیہقی فی الدعوات الکبیرٌ)
حضرت اوس بن اوس راوی ہیں کہ سر تاج دو عالم ﷺ نے فرمایا۔ جمعہ کا دن تمہارے لئے بہترین دنوں میں سے ہے۔ (کیونکہ) اس دن آدم (علیہ السلام) کی تخلیق کی گئی اسی دن ان کی روح قبض کی گئی، اسی دن ( دوسرا) صور پھونکا جائے گا۔ (جس کی آواز سے مردے زندہ ہو کر میدان حشر میں جمع ہوں گے)۔ ) اسی دن (پہلا) صور پھونکا جائے گا (جس کی آواز سے قیامت قائم ہوگی اور تمام مخلوق فنا کے گھاٹ اتر جائے گی) لہٰذا اس دن تم لوگ مجھ پر زیادہ درود بھیجو کیونکہ تمہارے درود میرے سامنے پیش کئے جائینگے۔ صحابہ نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ! ہمارے درود آپ ﷺ کے سامنے کس طرح پیش کئے جائیں گے۔ جب کہ (ہمارے درود بھیجے کے وقت) آپ کی ہڈیاں بوسیدہ ہوچکی ہوں گی؟ راوی فرماتے ہیں کہ لفظ ارمت سے صحابہ کی مراد لفظ بلیت تھی یعنی آپ ﷺ کا جسد مبارک بوسیدہ ہوچکا ہوگا۔ (رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ نے زمین کے لئے انبیاء کرام کے جسم حرام کر دئیے ہیں۔ (یعنی انبیاء کے جسم زمین فنا نہیں کرتی۔ (سنن ابوداؤد، سنن نسائی، سنن ابن ماجہ، دارمی، بیہیقی)
تشریح
ارشاد ان میں افضل ایامکم یوم الجمعۃ اس طرف اشارہ کر رہا ہے کہ یا تو عرفہ کا دن سب دنوں میں سے افضل ہے یا پھر عرفہ اور جمعہ دونوں دن فضیلت کے اعتبار سے مساوی ہیں۔ جمعے کے دن بہت زیادہ درود بھیجنے کے لئے آپ ﷺ نے اس لئے حکم دیا ہے کہ درود افضل عبادات میں سے ہے اور چونکہ جمعہ کے دن ہر نیکی کا ثواب ستر درجہ زیادہ ملتا ہے اس لئے جمعے کے دن درود پڑھنا اولیٰ ہوگا۔ یہ بات سمجھ لینی چاہیے کہ جمعے کے دن اور جمعہ کی رات رسول اللہ ﷺ پر درود بھیجنے کے وقت بہت زیادہ فضائل دوسری احادیث سے بھی ثابت ہیں اس لئے مسلمانوں کے لئے یہ حق تعالیٰ کی جانب سے ایک عظیم الشان نعمت ہے لہٰذا جمعہ کے دن اور جمعہ کی شب رسول اللہ ﷺ پر بہت زیادہ درود بھیجا جائے اور اس سے غافل نہ رہا جائے۔ حدیث کے آخری الفاظ کا مطلب یہ ہے کہ جس طرح زمین دوسرے مردوں کے ساتھ معاملہ کرتی ہے کہ چند ہی دنوں کے بعد ان کے اجسام زمین کے نذر ہوجاتے ہیں اور گل سڑ جاتے ہیں ایسا معاملہ انبیاء کے مبارک اجسام کے ساتھ نہیں ہوتا نہ تو ان کے اجسام فنا ہوتے ہیں نہ گلتے سڑتے ہیں۔ بلکہ وہ جوں کے توں قبروں میں دنیا کی طرح زندہ رہتے ہیں اور حق تعالیٰ کی جانب سے انہیں وہاں حیات جسمانی حقیقی عنایت فرمائی جاتی ہے۔ چناچہ یہ مسئلہ بالکل صاف اور واضح ہے اور اس میں کسی اختلاف کی گنجائش نہیں کہ انبیاء اپنی اپنی قبروں میں زندہ ہیں اور انہیں بالکل دنیا کی طرح حقیقی جسمانی حیات حاصل ہے نہ کہ انہیں حیات معنوی روحانی حاصل ہے جیسا کہ شہداء کو حاصل ہوتی ہے۔ اگرچہ شہداء کے علاوہ دوسرے مردے بھی اپنی قبروں میں سلام کلام سنتے ہیں اور بعض ایام میں ان کے اقرباء کے اعمال بھی ان کے سامنے پیش کئے جاتے ہیں۔
وَعَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اﷲِ صَلَّی اﷲُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ اَلْیَوْمُ الْمُوْعُوْدُ یَوْمُ الْقِیَامَۃِ وَالْیَوْمُ الْمَشْھُوْدُ یَوْمُ عَرَفَۃَ وَالشَّاھِدُ یَوْمُ الْجُمُعَۃِ وَمَا طَلْعَتِ لشَّمْسُ وَلَا غَرَبَتْ عَلَی یَوْمٍ اَفْضَلَ مِنْہ، فِیْہِ سَاعَۃٌ لَا یُوْافِقُھَا عَبْدٌ مُؤْمِنٌ یَدْعُوْ اﷲَ بِخَیْرٍ اِلَّا اسْتَجَابَ اﷲُ لَہ، وَلَا یَسْتَعِیْذُ مِنْ شَیْ ءٌ اِلَّا اَعَاذَہ، مِنْہ، رَوَاہُ اَحْمَدُ وَالتِّرْمِذِیُّ وَقَالَ ھٰذَا حَدِیْثٌ غَرِیْبٌ لَا یُعْرَفُ اِلَّامِنْ حَدِیْثِ مُوْسٰی ابْنِ عُبَیْدَۃَ وَھُوَ یُضَعَّفُ۔
اور حضرت ابوہریرہ راوی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا دن موعود قیامت کا دن ہے مشہور عرفہ کا دن ہے اور شاہد جمعہ کا دن ہے۔ آفتاب کسی ایسے دن طلوع و غروب نہیں ہوتا جو جمعہ کے دن سے افضل ہو (یعنی جمعہ کا دن سب سے افضل ہے) اس دن ایک ایسی ساعت آتی ہے جسے اگر کوئی بندہ مومن پالے اور اس میں اللہ تعالیٰ سے بھلائی مانگے تو اللہ تعالیٰ اسے ضرور بھلائی دیتا ہے یا جس چیز سے پناہ مانگے تو اللہ تعالیٰ اسے ضرور پناہ دیتا ہے۔ امام ترمذی فرماتے ہیں کہ یہ حدیث غریب ہے کیونکہ ایک آدمی موسیٰ بن عبیدہ کے اور کسی سے (اس کا نقل ہونا) معلوم نہیں ہوتا اور یہ (موسی محدثین کے ہاں روایت میں) ضعیف شمار کئے جاتے ہیں۔ (احمد بن حنبل و جامع ترمذی )
تشریح
سورت بروج کی آیت ہے آیت (وَالْيَوْمِ الْمَوْعُوْدِ۔ وَشَاهِدٍ وَّمَشْهُوْدٍ۔ ) 85۔ البروج 2) اور قسم ہے اس دن کی جس کا وعدہ ہے اور حاضر ہونے والے کی اور جو اس کے پاس حاضر کیا جائے اس کی۔ اس آیت کی تفسیر یہ حدیث یہاں کر رہی ہے کہ یوم موعود سے مراد قیامت کا دن ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس کے آنے کی خبر دی ہے اور مومنوں سے اس دن کے آنے کے بعد بہشت کی نعمتوں کا وعدہ کیا ہے۔ شاہد سے مراد جمعے کا دن ہے کہ جو مخلوق کے پاس حاضر ہوتا ہے اور ہر ہفتہ آتا رہتا ہے۔ مشہود سے مراد عرفہ کا دن ہے کہ تمام عالم سے مسلمان اور ملائکۃ اللہ اس دن حاضر ہوتے ہیں اور ایک جگہ جمعہ ہوتے اگرچہ امام ترمذی نے کہا ہے کہ اس حدیث کے راوی موسیٰ کو روایت حدیث کے سلسلے میں ضعیف کہا جاتا ہے لیکن یہ حدیث اپنی جگہ پر اس لئے قابل اسناد و قابل قبول ہے کہ اس متون کی دوسری حدیثیں جو دوسرے رایوں سے مروی ہیں اس حدیث کو تقویت دیتی ہیں۔
عَنْ اَبِی لُبَابَۃَ بْنِ عَبْدِالْمُنْذِرِ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اﷲِ صَلَّی اﷲُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ اِنَّ یَوْمَ الْجُمُعَۃِ سَیِّدُ الْاَیَّامِ وَاَعْظَمُھَا عِنْدَاﷲِ وَھُوَ اَعْظَمُ عِنْدَ اﷲِ مِنْ یَوْمِ الْاَضْحٰی وَیَوْمِ الْفِطْر فِیْہِ خَمْسُ خِلَالٍ خَلَقَ اﷲُ فِیْہِ اٰدَمَ وَاَھْبَطَ اﷲُ فِیْہِ اٰدَمَ اِلَی الْاَرْضِ وَفِیْہِ تَوَفَّی اﷲُ اٰدَمَ وَفِیْہِ سَاعَۃٌ لَا یَسْئَالُ الْبَعْدُ فِیْھَا شَیْئًا اِلَّا اعْطَاہُ مَالَمْ یَسْأَلْ حَرَامًا وَفِیْہِ تَقُوْمُ السَّاعَۃُ مَامِنْ مَلَکٍ مُقَرَّبٍ وَلَا سَمَاءٍ وَلَا اَرْضٍ وَلَا رِیَّاحٍ وَلَا جِبَالٍ وَلَا بَحْرٍ اِلَّا ھُوَ مُشْفِقٌ مِنْ یَوْمِ الْجُمُعَۃِ رَوَاہُ ابْنُ مَاجَۃَ وَرَوَی اَحْمَدُ عَنْ سَعْدِ بْنِ مُعَاذٍ اَنَّ رَجُلًا مِنَ الْاَنْصَارِ اٰتَی النَّبِیَّ صلی اللہ علیہ وسلم فَقَالَ اَخْبِرْنَا عَنْ یَوْمِ الْجُمُعَۃِ مَاذَا فِیْہٖ مِنَ الْخَیْرِ قَالَ فِیْہٖ خَمْسُ خِلَالٍ وَ سَاقَ اِلٰی آخِرِ الْحَدِیْثِ۔
حضرت ابولبابہ ابن عبدا لمنذر ؓ راوی ہیں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جمعے کا دن اللہ تعالیٰ کے نزدیک تمام دنوں کا سردار ہے اور تمام دنوں کا سردار ہے اور تمام دنوں میں سب سے زیادہ با عظمت ہے اور اللہ کے نزدیک جمعے کے دن کی عظمت عید اور بقر عید کے دن سے بھی زیادہ ہے اور اس دن کی پانچ باتیں ہیں۔ (جو اس کی عظمت و فضیلت کی دلیل ہیں۔ (١) اسی دن اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم (علیہ السلام) کی تخلیق فرمائی (٢) اسی دن اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم (علیہ السلام) کو جنت سے زمین پر اتارا (٣) اسی دن اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم (علیہ السلام) کو وفات دی (٤) اسی دن ایک ساعت آتی ہے کہ اس میں بندہ اللہ تعالیٰ سے حرام چیز کے سوا جو کچھ بھی مانگتا ہے اللہ تعالیٰ ضرور عنایت فرماتا ہے یعنی حرام چیز مانگنا مقبول نہیں ہے (٥) اور اسی دن قیامت قائم ہوگی۔ تمام مقرب فرشتے آسمان، زمین، ہوا، پہاڑ اور دریا سب جمعہ کے دن سے ڈرتے رہتے ہیں۔ اس وجہ سے کہ قیامت جمعہ کے دن آنی ہے نہ معلوم کس وقت آجائے۔ (سنن ابن ماجہ) اور امام احمد نے حضرت سعد ابن معاذ سے اس طرح نقل کیا ہے کہ ایک انصاری صحابی آنحضرت ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپ ﷺ سے عرض کیا کہ مجھے جمعے کے بارے میں بتائیے کہ اس دن کی کیا خوبیاں ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا کہ اس دن کی پانچ باتیں ہیں باقی حدیث آخر تک اسی طرح نقل کی ہے (جو اوپر ذکر کی گئی ہے۔ (ابن ماجہ)
تشریح
حدیث کے الفاظ وھو اعظم عند اللہ من یوم الاضحی ویوم الفطر سے معلوم ہوتا ہے کہ یا تو عرفہ کا دن جمعے سے افضل ہے یا فضیلت کے اعتبار سے یہ دونوں دن مساوی ہیں لیکن حضرت رزین کی نقل کردہ روایت میں صراحت کے ساتھ فرمایا گیا ہے کہ تمام دنوں میں سب سے افضل دن عرفے کا دن ہے۔ وفیہ خمس اور اس دن کی پانچ باتیں ہیں جمعہ کے فضائل کے بیان میں تحدید اور حصر کے لئے نہیں فرمایا گیا جس کا مطلب یہ ہو کہ جمعے کے دن کی صرف یہی پانچ باتیں فضیلت کی ہیں بلکہ اس دن کی اور بھی ایسی باتیں ہیں جو فضیلت و عظمت کے اعتبار سے جمعے کو تمام دنوں میں امتیاز بخشتی ہیں مثلا منقول ہے کہ جنت میں اللہ تعالیٰ کی زیارت کا شرف بھی جمعے کے دن حاصل ہوا کرے گا یا اسی طرح دوسری باتیں منقول ہیں۔
وَعَنْ اَبِیُ ھَرْیَرَۃَ قَالَ قِیْلَ لِلنَّبِیِّ صلی اللہ علیہ وسلم لِاَیِّ شَیْءٍ سُمِّیَ یَوْمُ الْجُمُعَۃِ قَالَ لِاَنَّ فِیْھَا طُبِعَتْ طِیْنَۃُ اَبِیْکَ اٰدَمُ وَفِیْھَا الصَّعْقَۃُ وَالْبَعْثَۃُ وَفِیْھَا البَطْشَۃُ وَفِی اٰخِرِ ثلَاَثِ سَاعَاتٍ مِنْھَا سَاعَۃٌ مَنْ دَعَا اﷲَ فِیْھَا اسْتُجِیْبُ لَہُ۔ (رواہ احمد بن حنبل)
اور حضرت ابوہریرہ ؓ راوی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ سے پوچھا گیا کہ جمعہ کا نام جمعہ کس سبب سے رکھا گیا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا اس وجہ سے کہ اس دن تمہارے باپ آدم کی مٹی جمع کی گئی اور اس کا خمیر بنایا گیا۔ اس دن (پہلا) صور پھونکا جائے گا (کہ اس کی آواز سے تمام دنیا والے مرجائیں گے) اور (دوسرا) صور پھونکا جائے گا ( کہ اس کی آواز سے تمام مردے دوبارہ زندہ ہوجائیں گے) اور اس دن ( قیامت) کی سخت داروگیر ہوگی نیز اس دن کے آخر کی تین ساعتوں میں ایک ایسی ساعت ہے (یعنی جمعے کی آخری ساعت) کہ اس وقت جو کوئی اللہ تعالیٰ سے دعا مانگے اس کی دعا قبول ہوگی۔ (احمد بن حنبل)
تشریح
علامہ یحییٰ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کے جواب کا حاصل یہ ہے کہ اس دن کا نام جمعہ اس لئے رکھا گیا ہے کہ مذکورہ بالا ایسی عظیم الشان چیزیں اس دن میں جمع کردی گئی ہیں۔ لیکن یہ بات بھی مخفی نہ رہے کہ قطع نظر اس بات کے کہ یہ تمام باتیں بہ ہیت مجموعی جمعہ کی وجہ تسمیہ کو ظاہر کرتی ہیں ان میں سے ہر ایک خود بھی اپنی اپنی جگہ جمعیت اور اجتماعیت کے مفہوم پر حاوی ہیں۔
جمعہ کے دن رسول اللہ ﷺ پر کثرت سے دورود بھیجنا چاہیے
وَعَنْ اَبِی الدَّرْدَاءِ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اﷲِ صَلَّی اﷲُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ اَکْثِرُوْ الصَّلَاۃَ عَلَیَّ یَوْمَ الْجُمُعَۃِ فَاِنَّہُ مَشْھُوْدٌ یَشْھَدُہُ الْمَلَائِکَۃُ وَاِنَّ اَحَدًا لَمْ یُصَلِّ عَلَیَّ اِلَّا عُرْضَتْ عَلَیَّ صَلَا تُہ، حَتّٰی یَفْرُغَ مِنْھَا قَالَ قُلْتُ وَبَعْدَ الْمَوْتِ قَالَ اِنَّ اﷲَ حَرَّمَ عَلَی الْاَرْضِ اَنْ تَاکُلَ اَجْسَادَ الاَنْبِیَاءِ فَنَبِیُّ اﷲِ حَیٌّ یُرْزَقُ۔(رواہ ابن ماجۃ)
اور حضرت ابودرداء راوی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جمعے کے دن مجھ پر کثرت سے درود بھیجو کیونکہ جمعے کا دن مشہود (یعنی حاضر کیا گیا ہے) اس دن ملائکہ حاضر ہوتے ہیں اور جو آدمی بھی مجھ پر درود بھیجتا ہے اس کا درود میرے سامنے (بذریعہ مکاشفہ یا بذریعہ ملائکہ) پیش کیا جاتا رہتا ہے۔ یہاں تک کہ وہ اس سے فارغ ہوتا ہے۔ ابودرداء کہتے ہیں کہ میں نے یہ سن کر) عرض کیا کہ مرنے کے بعد بھی درود آپ ﷺ کے سامنے پیش کئے جائیں گے؟ آپ ﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ نے زمین پر انبیاء کے اجسام کا کھانا حرام کیا ہے چناچہ اللہ کے نبی (اپنی اپنی قبر میں بالکل دنیا کی حقیقی زندگی کی طرح) زندہ ہیں اور رزق دئیے جاتے ہیں۔ (سنن ابن ماجہ)
تشریح
یہ حدیث حضرت عبداللہ ابن عباس کی تفسیر کی تائید کرتی ہے جس میں انہوں نے فرمایا ہے کہ میں (وَالْيَوْمِ الْمَوْعُوْدِ۔ وَشَاهِدٍ وَّمَشْهُوْدٍ۔ ) 85۔ البروج 2) میں مشھود سے مراد جمعے کا دن ہے جب کہ پہلے گزرنے والی حدیث نمبر ٨ حضرت علی المرتضیٰ کی تفسیر کی موید ہے جس میں انہوں نے فرمایا ہے کہ شاہد سے مراد جمعے کا دن ہے اور یہی زیادہ صحیح ہے۔ اگرچہ یہاں بھی مشہود سے یوم جمعہ مراد لینا بایں اعتبار کہ اسی دن ملائکہ حاضر ہوتے ہیں۔ حضرت علی المرتضیٰ کی تفیسر کے منافی نہیں ہے تاہم یہ احتمال بھی قوی تر ہے کہ حدیث کے الفاظ میں فَاِنَّہ کی ضمیر جمعے کی طرف نہیں بلکہ کثرت درود کی طرف راجع ہے جو کہ لفظ اکثروا سے مفہوم ہوتا ہے اس طرح حدیث کے معنی یہ ہوں گے جمعے کے روز مجھ پر کثرت سے درود بھیجو کیونکہ کثرت درود مشہودہ (یعنی فرشتوں کے حاضر ہونے کا سبب) ہے۔ عُرِضَتْ صَلٰوتُہ کا مطلب یہ ہے کہ یوں تو ہمیشہ ہی جب مجھ پر کوئی آدمی درود بھیجتا ہے تو اس کا درود میرے سامنے پیش کیا جاتا ہے مگر جمعہ کا دن چونکہ سب سے افضل دن ہے اس لئے جمعہ کے دن بھیجاجانے والا درود بطریق اولیٰ میرے سامنے پیش کیا جاتا ہے اگرچہ درود بھیجنے کی مدت کتنی ہی طویل کیوں نہ ہو چناچہ حَتَّی یَفْرُغَ فرما کر اس طرف اشارہ فرما دیا گیا ہے کہ جب تک درود پڑھنے والا خود ہی فارغ نہ ہوجائے یا درود پڑھنا ترک نہ کر دے اس وقت تک پوری مدت کے درود برابر میرے سامنے پیش کئے جاتے رہتے ہیں۔ رسول اللہ ﷺ کا ارشاد سن کر حضرت ابودرداء یہ سمجھے کہ شاید یہ حکم ظاہری حالت یعنی آپ ﷺ کی دنیاوی زندگی ہی سے متعلق ہے چناچہ انہوں نے آپ ﷺ سے اس بارے میں جب سوال کیا تو آپ ﷺ نے فرمایا کہ زمین پر انبیاء کے اجسام کھانا حرام ہے یعنی جس طرح دوسرے مردوں کے جسم قبر میں فنا ہوجاتے ہیں۔ اس طرح انبیاء کے جسم قبر میں فنا نہیں ہوتے بلکہ وہ اپنی اصلی حالت میں موجود رہتے ہیں اس لئے انبیاء کے لئے فنا حالت یعنی دنیا کی ظاہری زندگی اور موت میں کوئی فرق نہیں ہے جس طرح وہ یہاں ہیں اسی طرح وہاں ہیں اسی لئے کہا گیا ہے۔ اَوْلِیَا ءَ اللہ لَا یَمُوْتُوْنَ وَلٰکِنْ یَنْتَقِلُوْنَ مِنْ دَارْاِلَی دَارٍ۔ اللہ کے دوست اور حقیقی بندے مرتے نہیں وہ تو صرف ایک مکان سے دوسرے مکان کو منتقل ہوجاتے ہیں۔ لہذا جس طرح یہاں دنیا کی زندگی میں میرے سامنے درود پیش کئے جاتے ہیں اسی طرح میری قبر میں بھی میرے سامنے درود پیش کئے جاتے رہیں گے۔ حدیث کے آخری الفاظ حتی یرزق کا مطلب یہ ہے کہ انبیاء کو اپنی اپنی قبروں میں حق تعالیٰ کی طرف سے معنوی رزق دیا جاتا ہے اور رزق سے اگر رزق حسی مراد لیا جائے تو یہ حقیقت کے منافی نہیں ہوگا بلکہ صحیح ہی ہوگا۔ کیونکہ جب شہداء کی ارواح کے بارے میں منقول ہے کہ وہ جنت کے میوے کھاتی ہیں تو انبیاء شہداء سے بھی اشرف و اعلیٰ ہیں اس لئے ان کے لئے بھی یہ بات بطریق اولیٰ ثابت ہوسکتی ہے کہ وہ اپنی قبروں میں رزق حسی دئیے جاتے ہوں
جمعے کو مرنے والے مومن کے لئے خوشخبری
وَعَنْ عَبْدِاﷲِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اﷲِ صَلَّی اﷲُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مَامِنْ مُسْلِمٍ یَمُوْتُ یَوْمَ الْجُمُعَۃِ اَوْلَیْلَۃَالْجُمُعَۃِ اِلَّا وَقَاہُ اﷲُ فِتْنَۃَ الْقَبْرِرَوَاہُ اَحْمَدُ وَالتِّرْمِذِیُّ وَقَالَ ھَذَا حَدِیْثٌ غَرِیْبٌ وَلَیْسَ اِسْنَادُہ، بِمُتَّصِلٍ۔
اور حضرت عبداللہ ابن عمرو ؓ راوی ہیں کہ سرتاج دو عالم ﷺ نے فرمایا۔ ایسا کوئی مسلمان نہیں ہے جو جمعے کے دن یا جمعے کی رات انتقال کرے اور اللہ تعالیٰ اسے فتنے (یعنی قبر کے سوال اور قبر کے عذاب) سے نہ بچائے۔ (احمد بن حنبل، جامع ترمذی) امام ترمذی فرماتے ہیں کہ یہ حدیث غریب ہے اس کی اسناد متصل نہیں ہے۔
تشریح
مطلب یہ ہے کہ کسی خوش قسمت مسلمان کا جمعے کے روز یا جمعے کی شب میں انتقال کرنا درحقیقت اس کی سعادت اور آخرت کی بھلائی کی دلیل ہے کیونکہ جمعہ کی مقدس ساعتوں میں انتقال کرنے والا آدمی اللہ تعالیٰ کی بےپناہ رحمتوں اور اس کی نعمتوں سے نوازا جاتا ہے چناچہ جمعے کو انتقال کرنے والے مسلمانوں کے حق میں بہت زیادہ خوشخبری منقول ہیں۔ مثلاً ایک روایت میں منقول ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا۔ جو مسلمان جمعہ کے دن مرتا ہے وہ عذاب قبر سے نجات دیا جاتا ہے اور وہ قیامت کے دن اس حال میں (میدان حشر میں) آئے گا کہ اس کے اوپر شہیدوں کی مہر ہوگی۔ یا ایک دوسری روایت میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا۔ جو آدمی جمعے کے دن مرتا ہے اس کے لئے شہید کا اجر وثواب لکھا جاتا ہے اور وہ قبر کے فتنے سے بچایا جاتا ہے۔ اسی طرح ایک اور روایت کے الفاظ یہ ہیں کہ جس مسلمان مرد یا عورت کا انتقال جمعہ کے روز یا جمعہ کی شب میں ہوتا ہے تو اسے فتنہ قبر اور عذاب قبر سے بچایا جاتا ہے اور اللہ تعالیٰ سے اس کی ملاقات اس حال میں ہوگی کہ قیامت کے دن اس سے کوئی محاسبہ نہیں ہوگا کیونکہ اس کے ساتھ گواہ ہوں گے جو اس کی سعادت و بھلائی کی گواہی دیں گے یا اس پر شہداء کی مہر ہوگی۔
جمعہ مسلمانوں کے لئے عید کا دن ہے
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ اَنَّہ، قَرَأ اَلْیَوْمَ اَکْمَلْتُ لَکُمْ دِیْنَکُمْ اَلْاٰیَۃَ وَعِنْدَہ، یَھُوْدِیٌ قَالَ لَوْنَزَلَتْ ھٰذِہٖ الْاَیَۃُ عَلَیْنَا لَاَ تَّخَذْنَا ھَا عِیْدًا فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ فَاِنَّھَا نَزَلَتْ فِی یَوْمِ عِیْدَیْنِ فِی یَوْمِ جُمُعَۃَ وَیَوْمِ عَرَفَۃَ رَوَاہُ التِّرْمِذِیُّ وَقَالَ ھٰذَا حَدِیْثٌ حَسَنٌ غَرِیْبٌ۔
اور حضرت عبداللہ ابن عباس ؓ کے بارے میں منقول ہے کہ انہوں نے (ایک دن) یہ آیت پڑھی آیت (اَلْيَوْمَ اَ كْمَلْتُ لَكُمْ دِيْنَكُمْ ) 5۔ المائدہ 3) جس کا مضمون یہ ہے کہ آج کے دن ہم نے تمہارے لئے دین مکمل کردیا تمہارے اوپر اپنی تمام نعمتیں پوری کردیں اور ہم نے تمہارے لئے از روئے دین اسلام کو پسند کیا ہے) ان کے پاس (اس وقت) ایک یہودی (بیٹھا ہوا) تھا اس نے ( عبداللہ ابن عباس ؓ سے یہ آیت سن کر) کہا کہ اگر یہ آیت ہم پر نازل ہوتی تو ہم اس کو (یعنی اس دن کو جس میں یہ آیت نازل ہوئی تھی) عید قرار دیتے۔ حضرت عبداللہ ابن عباس ؓ نے فرمایا یہ آیت دو عیدوں کے دن یعنی حجۃ الوداع کے موقع پر جمعہ اور عرفہ کے دن نازل ہوئی ہے امام ترمذی (رح) نے اس روایت کو نقل کیا ہے اور کہا ہے کہ یہ حدیث حسن غریب ہے۔
تشریح
یہودی کے کہنے کا مطلب یہ تھا کہ اگر یہ آیت ہم پر اترتی تو اتنی عظیم الشان نعمت کی خوشی اور اس کے شکرانے کے طور پر ہم اس کو بڑی عید کا دن مناتے۔ مگر تعجب ہے کہ مسلمانوں نے اس دن کو یادگار اور عید کا دن قرار نہیں دیا؟ اس کے جواب میں حضرت عبداللہ ابن عباس ؓ نے فرمایا کہ جب اللہ تعالیٰ خود ہی اس آیت کو ایک ایسے دن نازل فرمایا جو ایک نہیں دو عیدوں پر حاوی تھا تو پھر ہمیں اس دن کو یادگار دن قرار دینے کی کیا ضرورت تھی۔ کیونکہ رسول اللہ ﷺ نے جو آخری حج ادا فرمایا تھا وہ جمعے کا دن تھا۔ گویا ایک تو جمعہ ہونے کی وجہ سے خود وہ دن افضل و اشرف تھا مزید یہ کہ وہ دن عرفہ (یعنی حج) ہونے کے سبب سے اس کی فضیلت و عظمت کا کوئی ٹھکانہ ہی نہ تھا اور اسی دن یہ آیت نازل ہوئی اور ظاہر ہے کہ اپنی عظمت و فضیلت کے اعتبار سے مسلمانوں کے لئے اس سے بڑا عید کا دن اور کون سا ہوسکتا ہے۔
جمعے کی رات روشن رات اور جمعے کا دن چمکتا دن ہے
وَعَنْ اَنَسٍ قَالَ کَانَ رَسُوْلُ اﷲِ صلی اللہ علیہ وسلم اِذَا دَخَلَ رَجَبٌ قَالَ اَللّٰھُمَّ بَارِکْ لَنَا فِی رَجَبَ وَ شَعْبَانَ وَبَلِّغْنَا رَمَضَانَ قَالَ وَکَانَ یَقُوْلُ لَیْلَۃَ الْجُمُعَۃِ لَیْلَۃٌ اَغَرُّوَیَوْمُ الْجُمُعَۃِ یَوْمُ اَزْھَرُ رَوَاہُ الْبَیْھَقِیْ فِی الدَّعْوَاتِ الْکَبِیْرِ۔
اور حضرت انس ؓ فرماتے ہیں کہ جب رجب کا مہینہ آتا تو سر تاج دو عالم ﷺ یہ دعا مانگا کرتے تھے کہ اے اللہ! رجب اور شعبان کے مہینے (کی ہماری اطاعت و عبادات) میں ہمیں برکت دے اور ہمیں رمضان تک پہنچا نیز حضرت انس ؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ یہ بھی فرمایا کرتے تھے کہ جمعہ کی رات روشن رات ہے اور جمعے کا دن چمکتا دن ہے۔ (بیہقی)
تشریح
اور ہمیں رمضان تک پہنچا کا مطلب یہ ہے کہ اے اللہ! ہمیں یہ سعادت بخش کہ پورا رمضان پائیں اور رمضان کے تمام دنوں میں ہمیں روزے رکھنے اور نماز تراویح پڑھنے کی توفیق ہو۔ جمعے کے دن اور جمعے کی رات کی نورانیت معنوی یا تو بالذات ہوتی ہے یا پھر یہ کہ جمعے کے دن اور جمعے کی رات جو عبادت کی جاتی ہے اس کی برکت اور اس کے سبب سے معنوی نورانیت پیدا ہوتی ہے۔
جمعے کے واجب ہونے کا بیان
جیسا کہ پہلے بتایا جا چکا ہے کہ جمعہ کی نماز فرض عین ہے چناچہ یہاں وجوب سے مراد فرض ہے۔ علامہ یحییٰ فرماتے ہیں کہ نماز جمعہ فریضہ محکمہ ہے جو قرآن کریم، احادیث رسول اور اجماع امت سے ثابت ہے۔ نماز جمعہ کی فرضیت کا انکار کرنے والا کافر ہوجاتا ہے قرآن کریم کی جس آیت سے جمعہ کی فرضیت ثابت ہے اس کے الفاظ ( فَاسْعَوْا اِلٰى ذِكْرِ اللّٰهِ ) 62۔ الجمعہ 9) میں ذکر سے مراد جمعے کی نماز اور اس کا خطبہ ہے۔
نماز جمعہ ترک کرنے کی وعید
عَنِ ابْنِ عُمَرَص وَاَبِیْ ھُرَےْرَۃَصاَنَّھُمَا قَالَا سَمِعْنَا رَسُوْلَ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم ےَقُوْلُ عَلٰی اَعْوَادِ مِنْبَرِہٖ لَےَنْتَھِےَنَّ اَقْوَامٌ عَنْ وَّدْعِھِمُ الْجُمُعَاتِ اَوْ لَےَخْتِمَنَّ اللّٰہُ عَلٰی قُلُوْبِھِمْ ثُمَّ لَےَکُوْنُنَّ مِنَ الْغَافِلِےْنَ۔(صحیح مسلم)
حضرت عبداللہ ابن عمر اور حضرت ابوہریرہ ؓ دونوں راوی ہیں کہ ہم نے رسول اللہ ﷺ کو اپنے منبر کی لکٹری (یعنی اس کی سیٹرھیوں) پر یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ لوگ نماز جمعہ کو چھوڑنے سے باز رہیں ورنہ اللہ تعالیٰ ان کے دلوں پر مہر لگا دے گا اور وہ غافلوں میں شمار ہونے لگیں گے۔ (صحیح مسلم)
تشریح
مطلب یہ ہے کہ ان دونوں چیزوں میں سے ایک چیز مقرر ہے یا تو نماز جمعہ کو نہ چھوڑنا، یا دلوں پر مہر لگ جانا، اگر لوگ نماز جمعہ نہیں چھوڑیں گے تو ان کے دلوں پر مہر نہ لگے گی اور اگر چھوڑ دیں گے تو ان کے دلوں پر مہر لگا دی جائے گی۔ دلوں پر مہر لگانا اس بات سے کنایہ ہے کہ اللہ تعالیٰ ایسے بدبخت لوگوں کے دلوں کو انتہائی غفلت میں مبتلا کر دے گا اور انہیں نصیحت و بھلائی قبول کرنے سے باز رکھے گا۔ جس کا نتیجہ ظاہر ہے کہ ان کے حق میں یہی نکلے گا کہ ایسے لوگ اللہ کے سخت عذاب میں مبتلا کئے جائیں گے۔
نماز جمعہ ترک کرنے کی وعید
عَنْ اَبِی الْجَعْدِ الْضُّمَرِیْ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اﷲِ صَلَّی اﷲُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مَنْ تَرَکَ ثَلاَثَ جُمَعٍ تَھَاؤُنًا بِھَا طَبَعَ اﷲُ عَلَی قَلْبِہِ رَوَاہُ اَبُوْدَاؤدَ وَالتِّرْمِذِیُّ وَالنِّسَأَ ئِیِّ وَابْنُ مَاجَۃَ وَالدَّارِمِیُّ وَرَوَاہُ مَالِکٌ عَنْ صَفْوَانَ بْنِ سُلَیْمٍ وَاَحْمَدُ عَنْ اَبِی قَتَادَۃَ۔
حضرت ابی الجعد ضمیری راوی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جو آدمی محض سستی و کاہلی کی بنا پر تین جمعے چھوڑ دے گا۔ اللہ تعالیٰ اس کے دل پر مہر لگائے دے گا۔ (سنن ابوداؤد، جامع ترمذی، سنن نسائی، سنن ابن ماجہ، دارمی اور مالک نے اس روایت کو صفوان ابن سلیم سے اور امام احمد نے ابی قتادہ سے نقل کیا ہے)
بغیر عذر نماز چھوڑنے کی صورت میں صدقہ دینا چاہیے
وَ عَنْ سَمُرَۃَ بْنِ جُنْدُبٍ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اﷲِ صَلَّی اﷲُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مَنْ تَرَکَ الْجُمُعَۃَ مِنْ غَیْرِ عُذْرٍ فَلْیَتَصَدَّقْ بِدِیْنَارٍ فَاِنْ لَّمْ یَجِدْ فَبِنِصْفِ دِیْنَارٍ۔ (رواہ احمد بن حنبل و ابوداؤد و ابن ماجۃ)
اور حضرت سمرۃ ابن جندب راوی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا۔ جو آدمی بغیر کسی عذر کے جمعہ چھوڑ دے تو چاہیے کہ ایک دینار صدقہ دے اور اگر ایک دینار میسر نہ ہو تو آدھا دینار دے۔ (احمد بن حنبل، سنن ابوداؤد، ابن ماجۃ)
جمعے کی اذان سننے والے پر نماز جمعہ واجب ہے
وَعَنْ عَبْدِاﷲِ بْنِ عُمَرٍو عَنِ النَّبِیِّ صلی اللہ علیہ وسلم قَالَ اَلْجُمُعَۃُ عَلَی مَنْ سَمِعَ النِّدَائَ۔ (رواہ ابوداؤد)
اور حضرت عبداللہ ابن عمر ؓ راوی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جو آدمی ( جمعہ کی) اذان سنے اس پر جمعہ کی نماز واجب ہوجاتی ہے۔ (سنن ابوداؤد)
تشریح
حضرت شیخ عبدالحق فرماتے ہیں کہ اس کا مطلب یہ ہے کہ جب کوئی آدمی جمعہ کی اذان سنے تو اس کے لئے جمعہ کی تیاری کرنا اور جمعہ کی نماز کے لئے جانا واجب ہے۔ ملا علی قاری فرماتے ہیں کہ اگر اس حدیث کو علی الاطلاق اس کے ظاہری معنی پر محمول کیا جائے گا تو اس سے بڑے اشکالات پیدا ہونگے اس لئے مناسب یہ ہے کہ اس حدیث کا مفہوم یہ لیا جائے کہ جمعہ اس آدمی پر واجب ہے جو کسی ایسی جگہ ہو جہاں اس کے اور شہر کے درمیان بقدر آواز پہنچنے کا فاصلہ ہو یعنی اگر کوئی شہر میں پکارے تو جہاں وہ ہے وہاں آواز پہنچ جائے۔ شرح منیہ میں ذکر کیا گیا ہے کہ جمعہ اس آدمی پر لازم ہے جو شہر کے اطراف میں کسی ایسی جگہ ہو کہ اس کہ اور شہر کے درمیان فاصلہ نہ ہو بلکہ ملے ہوئے مکانات ہوں (اگرچہ وہ اذان کی آواز نہ سنے) اور اگر اس کے اور شہر کے درمیان کھیت اور چراگاہ وغیرہ حائل ہونے کی وجہ سے فاصلہ ہو تو اس پر جمعہ واجب نہیں اگرچہ وہ اذان سنے۔ مگر امام محمد سے منقول ہے کہ اگر وہ اذان کی آواز سنے تو اس پر جمعہ واجب ہوگا۔ فتوی حضرت امام محمد کے قول ہی پر ہے۔