پاکی کا بیان

Mishkaat-al-Masabih · Chapter 4 · 226 hadiths · Page 9 of 12

427Mishkaat-al-Masabih

غسل کا بیان

وعَنْ اَبِیْ سَعِےْدٍالْخُدْرِیِّ ص قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم اِذَا اَتٰی اَحَدُکُمْ اَھْلَہُ ثُمَّ اَرَادَ اَنْ ےَّعُوْدَ فَلْےَتَوَضَّاْ بَےْنَھُمَا وُضُوْئً۔(صحیح مسلم)

حضرت ابوسعید خدری ؓ فرماتے ہیں کہ سرکار دو عالم ﷺ نے فرمایا کہ جب تم میں سے کوئی اپنی بیوی کے پاس آئے (یعنی صحبت کرے) اور پھر اس کے پاس آنے کا ( یعنی دوبارہ صحبت کرنے کا) ارادہ کرے تو اسے چاہئے کہ دونوں کے درمیان وضو کرلے۔ (صحیح مسلم) تشریح ابن مالک (رح) فرماتے ہیں کہ اگر کوئی آدمی اپنی بیوی سے دو مرتبہ صحبت کرے اور دونوں مرتبہ کے درمیان وضو کرے تو دو فائدے ہیں۔ اول تو یہ کہ اس پاکیزگی اور طہارت حاصل ہوتی ہے، دوسری یہ کہ نشاط اور لذت زیادہ ہوجاتی ہے۔ بہر حال اس حدیث سے اور اس سے پہلی حدیث سے بھی معلوم ہوا کہ جنبی کے لئے یہ مستحب ہے کہ وہ حالت ناپاکی میں اگر سونے اور کھانے پینے کا یا دو بارہ جماع کرنے کا ارادہ کرے تو اپنے عضو تناسل کو دھو کر وضو کرلے۔ بعض علماء کرام یہ فرماتے ہیں کہ جنبی کے کھانے پینے کے سلسلے میں ان احادیث میں جس وضو کا ذکر ہے، اس سے مراد حقیقۃً وضو نہیں ہے بلکہ اس کا مقصدیہ ہے کہ ایسے وقت میں ہاتھ دھو لئے جائیں اور یہی رائے جمہور علماء کرام کی ہے کیونکہ سنن نسائی کی روایت میں اس مراد کی صراحت بھی موجود ہے۔ لیکن مذکورہ بالا دونوں روایتوں سے تو بصراحت یہ معلوم ہوتا ہے کہ حقیقت میں نماز کے وضو کی طرح وضو کیا جائے، لہٰذا اب ان روایتوں میں تطبیق پیدا کرنے کے لئے یہی کہا جائے گا کہ آنحضور ﷺ ایسے مواقع پر کبھی کبھی اختصار کے طور پر محض ہاتھ ہی دھو لینے کو کافی سمجھتے تھے۔ مگر اکثر و بیشتر آپ ﷺ مکمل وضو فرماتے تھے۔

428Mishkaat-al-Masabih

غسل کا بیان

وعَنْ اَنَسٍ ص قَالَ کَانَ النَّبِیُّ صلی اللہ علیہ وسلم ےَطُوْفُ عَلٰی نِسَآئِہٖ بِغُسْلٍ وَّاحِدٍ۔(صحیح مسلم)

اور حضرت انس ؓ فرماتے ہیں کہ سرکار دو عالم ﷺ ایک غسل کے ساتھ اپنی ازواج مطہرات سے صحبت کرلیا کرتے تھے۔ (صحیح مسلم) تشریح حدیث کا مطلب یہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ ایک شب میں اپنی تمام ازواج مطہرات سے صحبت کیا کرتے تھے اور غسل ایک ہی مرتبہ آخر میں فرماتے تھے یہ نہیں تھا کہ ایک بیوی سے صحبت کے بعد پہلے غسل کرتے ہوں، پھر بعد میں دوسری بیوی کے پاس جاتے ہوں۔ ہاں اس کا احتمال ہوسکتا ہے کہ آپ ﷺ درمیان میں وضو فرما لیتے ہوں گے اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ بیان جواز کے لئے آپ ﷺ نے وضو کو ترک کردیا ہو۔ اس موقع پر ایک ہلکا سے اعتراض ہوسکتا ہے وہ یہ کہ قاعدہ شرعی کے مطابق اپنی بیویوں کے درمیان تقسیم کا اقل درجہ ایک رات ہے۔ یعنی اگر کسی آدمی کے پاس چند بیویاں ہوں تو ان کے درمیان باری مقرر کرنے کا قاعدہ یہ ہے کہ ہر ایک بیوی کے یہاں کم از کم ایک پوری شب قیام کیا جائے، لہٰذا رسول اللہ ﷺ ایک ہی رات میں تمام ازواج مطہرات کے پاس کس طرح جایا کرتے تھے؟ اس کا جواب یہ کہ رسول اللہ ﷺ کی ذات کے لئے باری مقرر کرنے کا یہ وجوب مختلف فیہ ہے، چناچہ حضرت ابوسعید ؓ فرماتے ہیں کہ سرکار دو عالم ﷺ پر باری مقرر کرنا واجب نہیں تھا۔ بلکہ آپ ﷺ نے از خود راہ احسان باری مقرر فرما رکھی تھی مگر اکثر علماء کا قول یہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ پر بھی باری مقرر کرنا واجب تھا۔ لیکن آپ ﷺ اپنی تمام ازواج مطہرات کے پاس ایک ہی شب میں خود ان کی رضا و خوشی سے جایا کرتے تھے لہٰذا اس پر کوئی اشکال پیدا نہیں ہوسکتا۔

429Mishkaat-al-Masabih

غسل کا بیان

وَعَنْ عَائِشَۃَص قَالَتْ کَانَ النَّبِیُّ صلی اللہ علیہ وسلمیَذْکُرُ اللّٰہَ عَزَّوَجَلَّ عَلٰی کُلِّ اَحْیَانِہٖ۔رواہ صحیح مسلم

اور حضرت عائشہ صدیقہ ؓ فرماتی ہیں کہ سرکار دو عالم ﷺ ہر وقت یاد الہٰی میں مصروف رہا کرتے تھے۔ (صحیح مسلم اور حضرت عبداللہ ابن عباس ؓ کی حدیث (جو صاحب مصابیح نے اس موقع پر نقل کی ہے) ہم انشاء اللہ کتاب الا طعمہ میں ذکر کریں گے ) تشریح حضرت عائشہ ؓ کے اس ارشاد کا مطلب یہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ کسی حالت میں ذکر الٰہی اور یاد الہٰی سے غافل نہیں ہوتے تھے آپ ﷺ خواہ حالت ناپاکی میں ہوتے یا بےوضو ہوتے اور یا ان کے علاوہ کسی بھی حالت میں ہوتے اللہ رب العزت کی یاد میں ہمیشہ مشغول رہتے۔ بعض علماء نے لکھا ہے کہ یہاں ذکر سے مراد ذکر قلبی اور قدرت الٰہی کا تفکر ہے۔ یعنی آپ ﷺ کا قلب مبارک ہمہ وقت ذکر الہٰی میں مشغول اور پروردگار کی قدرتوں پر غور و فکر کرنے میں منہمک رہتا تھا۔

430Mishkaat-al-Masabih

غسل کا بیان

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ اغْتَسَلَ بَعْضُ اَزْوَاجِ النَّبِیِّ صلی اللہ علیہ وسلم فِی جَفْنَۃٍ فَاَرَا دَ رَسُوْلُ اﷲِ صَلَّی اﷲُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ اَنْ یَّتَوَضَا مِنْہ، فَقَالَتْ یَا رَسُوْلَ اﷲِ اِنِّی کُنْتُ جُنُبًا فَقَالَ اِنَّ الْمَآءَ لَاَ یَجْنِبُ رَوَاہُ التِّرْمَذِیُّ وَاَبُوْدَاؤدُ وَابْنُ مَاجَۃَ وَرَوَی الدَّارِمِیُّ نَحْوَہ، وَفِی شَرْحِ السُّنَّۃِ عَنْہُ عَنْ مَیْمُوْنَۃَ بِلَفْظِ الْمَصَابِیْحِ۔

حضرت عبداللہ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ (ایک دن) سرکار دو عالم ﷺ کی زوجہ مطہرہ نے لگن سے (یعنی لگن میں بھرے ہوئے پانی سے) چلو لے کر غسل کیا۔ جب رسول اللہ ﷺ نے اسی (لگن میں بچے ہوئے) پانی سے وضو کرنے کا ارادہ فرمایا تو! انہوں نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ و سلم) میں جنبی تھی (اور میں نے اس سے غسل کیا ہے) آپ ﷺ نے فرمایا پانی تو جنبی نہیں ہوتا۔ (یعنی جنبی کے نہانے سے یا اس کے کسی عضو کے پڑنے سے پانی نا پاک نہیں ہوتا) (جامع ترمذی، سنن ابوداؤد) اور دارمی نے بھی ایسی ہی روایت نقل کی ہے نیز شرح السنۃ میں عبداللہ ابن عباس ؓ سے اور انہوں نے حضرت میمونہ ؓ سے مصابیح کے ہم الفاظ روایت نقل کی ہے۔ تشریح اس حدیث سے تو بصراحت یہ معلوم ہوا کہ عورت کے غسل کے بقیہ پانی سے مرد کا وضو کرنا جائز ہے لیکن اسی باب کی تیسری فصل میں ایک حدیث (نمبر ٢) آرہی ہے جس میں منقول کہ رسول اللہ ﷺ نے عورت کے غسل کے بقیہ پانی سے مرد کو وضو کرنے سے منع فرمایا ہے۔ لہٰذا ان دونوں روایتوں میں مطابقت کے لئے کہ کہا جائے گا کہ یہ حدیث تو جواز پر دلالت کرتی ہے اور وہ دوسری حدیث ترک کی اولیت پر دلالت کرتی ہے، یعنی اگر کوئی مرد عورت کے غسل کے بقیہ پانی سے وضو کرنا چاہئے تو اس حدیث کی رو سے اس کا وضو جائز تو ہوجائے گا لیکن دوسری حدیث کے پیش نظر اس پانی سے وضو نہ کرنا ہی بہتر اور اولیٰ ہوگا۔

431Mishkaat-al-Masabih

غسل کا بیان

وَعَنْ عَآئِشَۃَ قَالَتْ کَانَ رَسُوْلَ اﷲِ صَلَّی اﷲُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَغْتَسِلُ مِنَ الْجَنَابَۃِ ثُمَّ یَسْتَدْ فِئُ بِیْ قَبْلَ اَنْ اَغْتَسِلَ ۔ ( رَوَاہُ ابْنُ مَاجَۃَ وَرَوَی التِّرِمِذِیُّ نَحْوَہ، وَفِی شَرْحِ السُّنَّۃِ بِلَفْظِ الْمَصَابِیْحِ)

اور حضرت عائشہ صدیقہ ؓ فرماتی ہیں کہ سرکار دو عالم ﷺ (میرے ساتھ) صحبت سے فراغت کے بعد غسل فرماتے، پھر میرے نہانے سے پہلے مجھ سے گرمی حاصل کرتے تھے۔ (سنن ابن ماجہ) اور امام ترمذی (رح) نے بھی ایسی ہی روایت نقل کی ہے نیز شرح السنۃ میں مصابیح کے ہم لفظ روایت منقول ہے) تشریح حضرت عائشہ صدیقہ ؓ کے ارشاد کا مطلب یہ ہے کہ جب آپ ﷺ ہم بستری سے فارغ ہوتے تو مجھ سے پہلے ہی آپ ﷺ نہا لیتے تھے اور چونکہ سرد موسم میں نہانے کی وجہ سے ٹھنڈ محسوس ہوتی تھی اس لئے آپ ﷺ میرے پاس تشریف لاتے اور اپنے اعضاء مبارک میرے بدن سے چمٹا کر لیٹ جایا کرتے تھے تاکہ گرمی حاصل ہو۔ اس سے معلوم ہوا کہ جنبی کا بدن پاک ہوتا ہے لہٰذا اس کے ساتھ مل کر لیٹ جانے میں کچھ حرج نہیں ہے بلکہ جائز ہے۔

432Mishkaat-al-Masabih

غسل کا بیان

وَعَنْ عَلِیٍّ قَالَ کَانَ النَّبِیُّ صَلَّی اﷲُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَخْرُجُ مِنَ الْخَلَاءِ فَیُقْرِئُنَا الْقُرْاٰنَ وَ یَاْ کُلُ مَعَنَا الَّلْحْمَ وَلَمْ یَکُنْ یَحْجُبُہ، اَوْ یَحْجُرُہ، عَنِ الْقُرْاٰنِ شَیْیءٌ لَیْسَ الْجَنَابَۃَ۔ (رَوَاہُ اَبُوْدَاؤدَ وَ النِّسَائِیُّ وَرَوَی ابْنُ مَاجَۃَ نَحْوَہ،)

اور حضرت علی کرم اللہ وجہہ فرماتے ہیں کہ سرکار دو عالم ﷺ بیت الخلاء سے نکل کر وضو سے پہلے ہمیں قرآن کریم پڑھا دیا کرتے تھے اور (اسی وقت) ہمارے ساتھ گوشت کھالیا کرتے تھے۔ آپ ﷺ کو قرآن کریم پڑھنے سے سوائے جنابت کے کوئی چیز نہیں روکتی تھی۔ (سنن ابوداؤد، سنن نسائی) اور ابن ماجہ نے بھی ایسی ہی روایت نقل کی ہے۔ تشریح اس حدیث سے دو مسئلوں کی وضاحت ہوتی ہے۔ اول تو یہ کہ بغیر وضو کے قرآن کریم پڑھنا جائز ہے مگر اس شرط کے ساتھ کہ آپ ہاتھوں سے قرآن کریم کو نہ چھوئے کیونکہ بغیر و ضو قرآن کریم کو چھونا ناجائز ہے۔

433Mishkaat-al-Masabih

غسل کا بیان

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ قَالَ رَسُوْلَ اﷲِ صَلَّی اﷲُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ لَا تَقْرَءُ الْحَائِضُ وَ لَا الْجُنُبُ شَیْئًا مِنَ الْقُرْاٰنِ۔ (رواہ الجامع ترمذی)

اور حضرت عبداللہ ابن عمر ؓ راوی ہیں کہ سرکار دو عالم ﷺ نے فرمایا حائضہ (ایام والی عورت) اور جنبی قرآن کریم کا کچھ حصہ بھی نہیں پڑھیں۔ (جامع ترمذی ) تشریح مطلب یہ ہے کہ جو عورت ایام حیض میں ہو یا جو آدمی حالت ناپاکی میں ہو وہ قرآن شریف بالکل نہ پڑھے یہاں تک کہ ایک آیت سے کم بھی قرآن کے الفاظ کی تلاوت نہ کرے چناچہ حضرت امام اعظم اور حضرت امام شافعی رحمہما اللہ تعالیٰ علیہ کا مسلک یہ ہے کہ حائضہ اور جنبی کو قرآن کریم کی تلاوت بالکل نہ کرنی چاہئے خواہ وہ ایک آیت سے کم ہی کیوں نہ ہو۔ مگر بعض علماء کرام کے ہاں حائضہ اور جنبی کا ایک آیت یا زیادہ حصہ کی تلاوت تو حرام ہے البتہ ایک آیت سے کم کی تلاوت حرام نہیں ہے۔ اگر حائضہ یا جنبی قرآن کریم کا کوئی حصہ تلاوت کے مقصد سے نہیں بلکہ شکر کے ارادے سے پڑھے تو یہ جائز ہے، مثلاً کوئی حائضہ یا جنبی کسی ایسے موقع پر جب کہ اللہ کا شکر ادا کرنا ہو کہے الحمد اللہ رب العالمین تو اس میں کوئی مضائقہ نہیں ہے۔

434Mishkaat-al-Masabih

غسل کا بیان

وَعَنْ عَآئِشَۃَ قَالَتْ قَالَ رَسُوْلَ اﷲِ صَلَّی اﷲُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَجِّھُوْاھٰذِہِ الْبُیُوْتَ عَنِ الْمَسْجِدِ فَاِنِّی لَا اُحِلُّ الْمَسْجِدَ لِحَائِضِ وَلَا جُنُبٍ۔ (رواہ ابوداؤد)

حضرت عائشہ صدیقہ ؓ راوی ہیں کہ سرکار دو عالم ﷺ نے فرمایا مکانوں کے یہ دروازے مسجد کی طرف سے پھیر دو کیونکہ حائضہ اور جنبی کا مسجد میں داخل ہونا (خواہ وہاں ٹھہرنے کے لئے ہو یا وہاں سے گزرنے کے لئے) جائز نہیں۔ (ابوداؤد) تشریح مسجد اللہ کا گھر ہونے کی وجہ سے ایک مقدس اور محترم جگہ ہے، اس پاک جگہ کی عظمت و احترام اور اس کے تقدس کا تقاضہ ہے کہ کوئی ایسا آدمی اس میں داخل نہ ہو جو حالت ناپاکی میں ہو۔ اس لئے آپ ﷺ نے حکم دیا کہ مسجد کی طرف (گھروں کو ایسے دروازے جن میں گزرنے کے لئے مسجد سے گزرنا پڑتا ہے ان) کے رخ تبدیل کر دئیے جائیں تاکہ جنبی اور حائضہ جو اپنے مکانوں میں جانے کے لئے مسجد سے گزرنے کے لئے مجبور ہیں اس شکل میں مسجد سے نہ گزر سکیں، حضرت امام شافعی اور امام مالک رحمہما اللہ تعالیٰ علیہ کا مسلک یہ ہے کہ اگر جنبی اور حائضہ کسی دوسری جگہ جانے کے لئے مسجد سے گزرنا چاہیں تو وہ گزر سکتے ہیں لیکن انہیں مسجد کے اندر بحالت ناپاکی بیٹھنا جائز نہیں ہے۔ مگر امام اعظم ابوحنیفہ (رح) کا مسلک یہ ہے کہ جس طرح جنبی اور حائضہ کو مسجد کے اندر ٹھہرنا ناجائز ہے اسی طرح انہیں مسجد کے اندر سے گزرنا بھی حرام ہے چناچہ یہ حدیث امام اعظم (رح) کے مسلک کی تائید کر رہی ہے۔ کیونکہ آپ ﷺ نے جنبی اور حائضہ کو مسجد میں داخل ہونے سے مطلقاً منع فرمایا ہے اس میں گزرنے یا ٹھہرنے کی کوئی قید نہیں ہے۔ لہٰذا اس عموم کا تقاضہ یہ ہے کہ جنبی اور حائضہ کو مطلقاً مسجد میں داخل ہونے سے روکا جائے خواہ وہ گزرنے کے لئے مسجد میں داخل ہوں یا وہاں ٹھہرنے کے لئے۔

435Mishkaat-al-Masabih

غسل کا بیان

وَعَنْ عَلِیٍّ قَالَ قَالَ رَسُوْلَ اﷲِ صَلَّی اﷲُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ لَا تَدْخُلُ الْمَلَائِکَۃُ بَیْتًا فِیْہِ صُوْرَۃٌ وَلَا کَلْبٌ وَلَا جُنُبٌ۔ (رواہ ابوداؤد ونسائی )

اور حضرت علی کرم اللہ وجہہ راوی ہیں کہ سرکار دو عالم ﷺ نے فرمایا جس گھر میں تصویر یا کتا یا جنبی ہو اس میں فرشتے داخل نہیں ہوتے۔ (سنن نسائی، سنن ابوداؤد) تشریح یہاں فرشتوں سے مراد رحمت کے فرشتے ہیں یعنی جس مکان میں یہ تینوں چیزیں ہوتی ہیں اس میں وہ فرشتے داخل نہیں ہوتے جو رحمت و برکت لاتے ہیں اور اللہ کا ذکر سننے کو آسمان سے اترتے ہیں۔ تصویر کا مسئلہ یہ ہے کہ تصویر اگر جاندار کی ہو اور بلند جگہ پر ہو مثلاً دیواروں پر آویزاں ہو، یا چھت پر لگی ہوئی ہو یا ایسے ہی پردوں پر تصویر بنی ہوئی ہوں تو اس سے رحمت کے فرشتے گھر میں داخل نہیں ہوتے۔ ہاں اگر تصویر بچھونے پر ہو یا اسی طرح پاؤں رکھنے کی جگہ پر ہو تو اس میں کوئی مضائقہ نہیں ہے۔ اگر تصویر غیر جاندار کی ہو مثلاً درخت و پہاڑ کی ہو یا کسی عمارت وغیرہ کی ہو تو ان کو رکھنا جائز ہے یا تصویر تو جاندار کی ہو مگر اس کا سر کٹا ہوا ہو تو یہ بھی جائز ہے اسی طرح جو تصویر ایسی جگہ ہو جہاں روندی جاتی ہو مثلاً فرش پر ہو یا تکیہ وغیرہ پر ہو تو وہ بھی مکان میں فرشتوں کے دخول کو مانع نہیں ہے۔ اسی طرح نابالغ لڑکیوں کے لئے گھروں میں گڑیاں رکھنا بھی جائز ہے۔ ایسے سکے جن پر تصویریں بنی ہوئیں ہوں جیسے کہ آج کل سکے یا نوٹ چل رہے ہیں ان کے بارے میں کہا جائے گا کہ اس حدیث کے الفاظ سے تو یہی ثابت ہوتا ہے کہ اگر یہ گھر میں ہوں تو وہاں رحمت کے فرشتے داخل نہیں ہوتے مگر مسئلہ یہ ہے کہ مکان میں ان کا رکھنا جائز ہے، یہاں تک کہ ان کو اپنے پاس رکھنا خواہ پگڑی ہی میں رکھے جائز ہے کیونکہ اگر پچھلے تمام علماء ایسے سکوں کو پاس رکھتے رہے ہیں اور ان کالین دین کرتے رہے ہیں اور کسی عالم نے بھی ان کے رکھنے کو منع نہیں فرمایا ہے۔ کتوں کا مسئلہ یہ ہے کہ اگر کسی مکان میں کتے ازراہ شوق و فیشن ہوں گے تو یا جائز نہیں ہوگا ہاں اگر ضرورت اور حاجت کی وجہ سے مثلاً شکار کے لئے ہوں یا کھیتوں اور مویشیوں کی حفاظت کے لئے ہوں تو جائز ہے اور ان کا پالنا درست ہے۔ جنبی سے مراد ہر جنبی نہیں ہے بلکہ وہ جنبی ہے جسے غسل جنابت میں سستی اور کاہلی کی بنا پر تاخیر کرنے کی عادت ہو یعنی وہ غسل کرنے میں اتنی ہی تاخیر کرتا ہو کہ نماز کا وقت بھی نکل جاتا ہو یا پھر وہ جنبی مراد ہے جو وضو نہ کرلیتا ہو۔ (دیکھئے باب کی حدیث نمبر ٢)

436Mishkaat-al-Masabih

غسل کا بیان

وَعَنْ عَمَّارِ بْنِ یَا سِرٍ قَالَ قَالَ رَسُوْلَ اﷲِ صَلَّی اﷲُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ثَلَاثَۃٌ لَا تَقْرَ بُھُمُ الْمَلَائِکَۃُ جِیْفَۃُ الْکَافِرِ وَالْمُتَضَمِّخُ بِالْخُلُوْقِ وَالْجُنُبُ اِلَّا اَنْ یَتَوَضَّأَ۔ (رواہ ابواؤد)

اور حضرت عمار بن یاسر ؓ (اسم گرامی عمار بن یا سر اور کنیت ابوالیقطان ہے یہ ان لوگوں میں سے ہیں جنہوں نے سب سے پہلے اسلام کی طرف سبقت کی تھی، ان کی والدہ سمیہ تھیں اور وہ پہلی خاتون تھیں جو اللہ عزو جل کی راہ میں شہید کی گئیں، یہ اور ان کی والدہ اور ان کے والد سب کے سب پہلے ایمان لانے والوں میں ہیں حضرت عمار کا شمار صحابہ کرام ؓ کی جماعت میں ہوتا ہے جو اسلام لانے کی وجہ سے ظلم و ستم کی ہر بھٹی میں ڈالے گئے مگر جب وہاں سے نکلے تو کندن ہو کر نکلے۔ حضرت عمار اس وقت اسلام لائے تھے جب کہ رسول اللہ ﷺ ارقم کے گھر میں پوشیدہ تھے۔ یہ اور حضرت صہیب بن سنان دونوں ساتھ ہی اسلام لائے تھے۔ حضرت عمار بن یا سر اللہ کی راہ میں بہت زیادہ ستائے گئے، یہاں تک کہ جب مشرکین مکہ انہیں مارتے مارتے تھک گئے اور یہ اپنے ایمان سے ایک قدم بھی پیچھے نہ ہٹتے تو انہیں آگ میں جلایا کرتے تھے اسی ثناء میں رسول اللہ ﷺ کا گزر ان کی طرف ہوا کرتا تو آپ انہیں آگ میں جلتا ہوا دیکھ کر اپنا دست مبارک ان کے اوپر پھیر کر فرمایا کرتے تھے کہ اے آگ! تو عمار پر ایسی ہی ٹھنڈی اور سلامتی والی ہوجا جسیے کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) پر ہوئی تھی۔ جب آپ زخمی ہوئے تو انہوں نے یہ وصیت کی کہ مجھے انہی کپڑوں کے ساتھ دفن کرنا کیونکہ میں انہی کپڑوں کے ساتھ اللہ تعالیٰ کے سامنے جاؤں گا، چناچہ حضرت علی کرم اللہ وجہہ نے ان کو ان ہی کپڑوں میں دفن کیا۔ ربیع الاول ٣٧ ھ میں ٩٤ برس کی عمر میں جنگ صفین کے دوران آپ نے شہادت پائی۔ اسد الغابہ) راوی ہیں کہ سرکار دو عالم ﷺ نے فرمایا۔ تین قسم کے لوگ ایسے ہیں کہ رحمت کے فرشتے ان کے قریب نہیں آتے۔ (١) کافر کا بدن (٢) خلوق کا ملنے والا (٣) جنبی جب تک کہ وضو نہ کرے۔ (سنن ابوداؤد) تشریح جیفہ سے مراد کافر کا بدن ہے خواہ وہ زندہ ہو یا مردہ، ویسے تو اصل میں جیفہ مردار کو کہتے ہیں ظاہر ہے کہ کافر بھی بمنزلہ مردار کے ہی ہوتا ہے کیونکہ وہ نجاست مثلا ًشراب اور سود وغیرہ سے پرہیز نہ کرنے کی وجہ سے نجس و ناپاک ہوتا ہے۔ خلوق ایک مرکب خوشبو کا نام ہے جو زعفران وغیرہ سے بنتی ہے اور چونکہ رنگ دار ہوتی ہے اس لئے عورتوں کی مشابہت کی وجہ سے مردوں کو اس کا لگانا ممنوع ہے صرف عورتیں اسے استعمال کرسکتی ہیں، اس لئے اگر کوئی مرد اسے لگا لیتا ہے تو رحمت کے فرشتے اس کے قریب بھی نہیں جاتے کیونکہ اس میں رعونیت پائی جاتی ہے۔ اور عورتوں سے مشابہت ہوتی ہے۔ دراصل اس میں اس طرف اشارہ ہے کہ جو آدمی سنت کے خلاف کام کرتا ہے تو اگرچہ وہ بظاہر بازیب وزینت او خوشبو سے معطر ہوتا ہے نیز لوگوں میں صاحب عزت و احترام بھی ہوتا ہے مگر سنت کے خلاف عمل کی وجہ سے حقیقت میں وہ نجس اور کتے سے بھی زیادہ خسیس ہوتا ہے۔ جنبی کے حق میں آپ ﷺ کے ارشاد و تہدید اور زجر و توبیخ کے لئے ہے تاکہ جنبی غسل جنابت میں تاخیر نہ کریں کیونکہ اس سے جنبی رہنے کی عادت پڑجاتی ہے۔

437Mishkaat-al-Masabih

غسل کا بیان

وَعَنْ عَبْدِاﷲِ بْنِ اَبِی بَکْرِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِ و بْنِ حَزْمِ اَنَّ فِی الْکِتَابِ الَّذِی کَتَبَہُ رَسُوْلُ اﷲُ صلی اللہ علیہ وسلم لِعَمْرِ وْ بْنِ حَزْمٍ اَنْ لَّا یَمُسَّ الْقُرْاٰنَ اِلَّا طَاھِرٌ۔ (رواہ موطا امام مالک والدار قطنی)

اور حضرت عبدا اللہ بن ابی بکر بن محمد بن عمر و بن حزم (اسم گرامی عمرو بن حزم اور کنیت ابوضحاک، آپ انصاری ہیں سب سے پہلے غزوہ خندق میں شریک ہوئے ہیں رسول اللہ ﷺ نے انہیں (نواح یمن) میں اہل نجران پر عامل بنا کر بھیجا تھا اس وقت ان کی عمر صرف سترہ سال تھی بمقام مدینہ منورہ ٥١ ھ یا ٥٤ ھ میں آپ کا انتقال ہوا ہے)۔ راوی ہیں کہ سرکار دو عالم ﷺ نے جو ہدایت نامہ عمر و بن حزم کے لئے لکھا تھا اس میں یہ (حکم بھی) مرقوم تھا کہ قرآن کریم کو پاک لوگ ہی ہاتھ لگایا کریں۔ (مالک، دارقطنی) تشریح سرکار دو عالم ﷺ نے حضرت عمر و بن حزم کو نواح یمن کے کسی شہر کا عامل بنا کر بھیجا تھا اور ایک ہدایت نامہ لکھ کر انہیں دیا تھا جس میں فرائض اور صدقات و دیات وغیرہ کے احکام و مسائل کی تفصیل تحریر کی تھی۔ اسی مکتوب گرامی میں یہ حکم بھی تھا جسے راوی یہاں بیان کر رہے ہیں۔

438Mishkaat-al-Masabih

غسل کا بیان

وَعَنْ نَافِعٍ قَالَ انْطَلَقْتُ مَعَ ابْنِ عُمَرَ فِیْ حَاجَۃٍ کَانَ مِنْ حَدِیْثِہٖ یَوْمَئِذٍ اَنْ قَالَ مَرَّ رَجُلٌ فِیْ سِکَّۃٍ مِنَ السِّکَکِ فَلَقِیَ رَسُوْلَ اﷲِ صَلَّی اﷲُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَقَدْ خَرَجَ مِنْ غَآئِطٍ أَوْ بَوْلٍ فَلَمْ یَرُدَّ عَلَیْہِ حَتّٰی اِذَا کَادَ الرَّجُلُ اَنْ یَّتَوارَی فِی السِّکَّۃِ ضَرَبَ رَسُوْلُ اﷲِ صَلَّی اﷲُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ بِیَدِہٖ عَلَی الْحَآئِطِ وَ مَسَحَ بِھِمَا وَجْھَہ، ثُمَّ ضَرَبَ ضَرْبَۃً اُخْرٰی فَمَسَحَ ذِرَاعَیْہِ ثُمَّ رَدَّ عَلَی الرَّجُلِ السَّلَام وَقَالَ اِنَّہ، لَمْ یَمْنَعْنِیْ اَنْ اَرُدَّ عَلَیْکَ السَّلَامَ اِلَّا اَنِّی لَمْ اَکُنْ عَلٰی طُھْرٍ۔ (رواہ ابوداؤد)

اور حضرت نافع (رح) فرماتے ہیں کہ (ایک دن) حضرت عبداللہ ابن عمر استنجے کے لئے جا رہے تھے میں بھی ان کے ہمراہ ہو لیا (پہلے تو) انہوں نے استنجاء کیا اور اس کے بعد انہوں نے اس روز یہ حدیث بیان کی کہ ایک آدمی کسی گلی محلہ میں جا رہا تھا اور سرکار دو عالم ﷺ پیشاب یا پاخانے سے فارغ ہو کر تشریف لا رہے تھے اس آدمی نے آپ ﷺ سے ملاقات کی اور سلام عرض کیا، رسول اللہ ﷺ نے سلام کا جواب نہیں دیا جب یہ آدمی (دوسرے) گلی محلے میں مڑنے لگا تب سرکار دو عالم ﷺ نے (تیمم کے لئے) اپنے دونوں ہاتھ دیوار پر مار کر منہ پر پھیرے پھر (دوسری مرتبہ) مار کر اپنے ہاتھوں پر کہنیوں تک پھیرے، اس کے بعد اس آدمی کے سلام کا جواب دیا اور فرمایا مجھے تمہارے سلام کا جواب دینے سے کسی چیز نے نہیں روکا تھا فقط یہ بات تھی کہ میں بےوضو تھا۔ (ابوداؤد) تشریح آپ ﷺ نے اس آدمی کے سلام کا جواب اس لئے نہیں دیا کہ دراصل سلام اللہ تبارک و تعالیٰ کا نام ہے گو کہ عام طور پر ایسے موقع پر سلام کے حقیقی معنی مراد نہیں لئے جاتے بلکہ اس سے سلامت کے معنی مراد ہوتے ہیں، مگر پھر آپ ﷺ نے اس کے اصل معنی کا احترام کرتے ہوئے بغیر وضو کے اللہ عزوجل کا نام لینا مناسب نہ سمجھا۔ اسی باب میں پہلے کچھ حدیثیں گزری ہیں جن سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ آپ ﷺ بیت الخلاء سے آکر بغیر وضو کے قرآن پڑھتے اور پڑھاتے تھے اور یہ کہ آپ ﷺ بغیر وضو کے ذکر اللہ کیا کرتے تھے۔ بظاہر وہ احادیث اور یہ حدیث آپس میں متعارض نظر آتی ہیں؟ اس تعارض کا دفعیہ یہ کہہ کر کیا جائے گا کہ آپ ﷺ کا بےوضو قرآن پڑھنا یا ذکر اللہ کرنا جیسے کہ پہلی حدیثوں میں گزرا رخصت (آسانی) پر عمل تھا۔ اور یہاں آپ ﷺ نے امت کی تعلیم کے لئے عزیمت (اولیٰ ) پر عمل فرمایا ہے۔ یعنی یہاں آپ ﷺ کا امت کو یہ بتانا مقصود ہے کہ بےوضو اللہ کا نام لینا جائز تو ہے مگر افضل اور اولیٰ یہی ہے کہ با وضو ذکر اللہ کیا جائے۔ اس حدیث سے دو چیزیں معلوم ہوئیں اوّل تو یہ کہ سلام کا جواب دینا واجب ہے۔ دوسری یہ کہ اگر کوئی آدمی کسی عذر کی بناء پر سلام کا جواب نہ دے سکے تو اس کے لئے مستحب ہے کہ وہ اس کے بعد اپنا وہ عذر جس کی وجہ سے وہ سلام کا جواب نہیں دے سکا، سلام کرنے والے کے سامنے بیان کر دے تاکہ اس کی طرف غرور وتکبر کی نسبت نہ کی جاسکے یعنی سلام کرنے والا یہ سوچے کہ اس نے غرور وتکبر کی بنا پر میرے سلام کا جواب نہیں دیا۔

439Mishkaat-al-Masabih

غسل کا بیان

وَعَنِ الْمُھَا جِرِ بْنِ قٌنْفُذٍ أَنَّہ، اَتَی النَّبِیَّ صَلَّی اﷲُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَھُوَ یَبُوْلُ فَسَلَّمَ عَلَیْہِ فَلَمْ یَرُدَّ عَلَیْہِ حَتّٰی تَوَضَّأْ ثُمَّ اعْتَذَرَ اِلَیْہِ وَقَالَ اِنِّیْ کَرِھْتُ اَنْ اَذْکُرَ اﷲِ اِلَّا عَلٰی طُھْرٍرَوَاہُ اَبُوْدَاؤدَ وَرَوَی النَّسَائِیُّ اِلٰی قَوْلِہٖ حَتّٰی تَوَضَّأْ وَقَالَ فَلَمَّا تَوَضَّأَ رَدَّ عَلَیْہِ۔

اور حضرت مہاجر بن قنفذ ؓ ( حضرت مہاجر بن قنفذ قریشی تیمی ہیں کہا جاتا ہے کہ مہاجر اور قنفذ دونوں لقب ہیں اصل میں ان کا نام عمرو بن خلف ہے۔ آپ فتح مکہ کے دن اسلام لائے ہیں اور ہجرت کے بعد بصرہ میں سکونت اختیار کی اور وہیں انتقال ہوا۔ ( کے بارے میں مردی ہے کہ یہ (ایک مرتبہ) سرکار دو عالم ﷺ کی خدمت میں اس وقت حاضر ہوئے جب کہ آپ ﷺ پیشاب کر رہے تھے، انہوں نے سلام عرض کیا، رسول اللہ ﷺ نے جواب نہ دیا، یہاں تک کہ آپ ﷺ نے وضو فرمایا اور پھر یہ عذر بیان فرمایا کہ میں اسے مکروہ سمجھتا ہوں کہ بےوضو اللہ تعالیٰ کا نام ذکر کروں۔ (ابوداؤد) اور نسائی نے یہ روایت لفظ حتی توضاء (یہاں تک کہ آپ ﷺ نے وضو فرمایا) تک نقل کی ہے اور کہا کہ جب آپ ﷺ نے وضو فرمالیا تو سلام کا جواب دیا۔ تشریح مکروہ کا مطلب یہ نہیں ہے کہ بےوضو اللہ کا نام لینا حرام ہے بلکہ اس ارشاد کا مطلب یہ ہے کہ افضل اور بہتر یہی ہے کہ اللہ تعالیٰ کا مقدس و مبارک نام با وضو لیا جائے، اگر کسی نے بغیر وضو اللہ کا نام لیا تو اس پر گناہ نہیں ہوگا۔

440Mishkaat-al-Masabih

غسل کا بیان

عَنْ اُمِّ سَلَمَۃ قَالَتْ کَانَ رَسُوْلُ اﷲِ صَلَّی اﷲُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یُجْنِبُ ثُمَّ یَنَا مُ ثُمَّ یَتَنَبَّہُ ثُمَّ یَنَامُ۔ (رواہ احمد بن حنبل)

حضرت ام سلمہ ؓ فرماتی ہیں کہ سرکار دو عالم ﷺ حالت ناپاکی میں سوجایا کرتے اور پھر جاگتے اور سو جاتے۔ (مسند احمد بن حنبل) تشریح اسی باب کی حدیث نمبر ٣ میں گزر چکا ہے کہ جب آپ حالت جنابت میں سونے کا ارادہ فرماتے تو پہلے وضو فرما لیا کرتے تھے اس کے بعد سویا کرتے تھے، اس حدیث میں گو اس کی صراحت نہیں ہے کہ آپ ﷺ حالت جنابت میں سونے سے پہلے وضو فرماتے تھے مگر یہاں بھی مراد یہی ہے کہ آپ ﷺ وضو کرنے کے بعد ہی آرام فرماتے تھے۔ یا پھر یہ کہا جاسکتا ہے کہ آپ ﷺ کبھی کبھی بغیر وضو کے بھی بیان جواز کے لئے سوجایا کرتے تھے تاکہ اس سے یہ معلوم ہو کہ بغیر وضو بھی سو جانا جائز ہے مگر افضل اور بہتر یہی ہے کہ وضو کرنے کے بعد سویا جائے۔

441Mishkaat-al-Masabih

غسل کا بیان

وَعَنْ شُعْبَۃَ قَالَ اِنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ کَانَ اِذَا اغْتَسَلَ مِنَ الْجَنَابَۃِ یُفْرِغُ بِیَدِہٖ الْیُمْنٰی عَلٰی یَدِہِ الْیُسْرٰی سَبْعَ مَرَّاتٍ ثُمَّ یَغْسِلُ فَرْجَہُ فَنَسِیَ مَرَّۃً کَمْ اَفْرَغَ فَسَأَلَنِیَ فَقُلْتُ لَا اَدْرِیْ فَقَالَ لَا اُمَّ لَکَ وَمَا یَمْنَعُکَ اَنْ تَدْرِیَ ثُمَّ یَتَوضَّأُ وُضُوْءَ ہ، لِلصَّلٰوۃِ ثُمَّ یُفِیْضُ عَلٰی جِلْدِہٖ الْمَآءَ ثُمَّ یَقُوْلُ ھٰکَذَا کَانَ رَسُوْلَ اﷲِ صَلَّی اﷲُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَتَطَھَّرُ۔ (رواہ ابوداؤد)

حضرت شعبہ راوی ہیں کہ حضرت عبداللہ ابن عباس ناپاکی کا غسل فرماتے تو (پہلے) اپنے داہنے ہاتھ سے بائیں ہاتھ پر سات مرتبہ پانی ڈالتے پھر اپنی شرم گاہ دھوتے۔ ایک مرتبہ بھول گئے کہ پانی کتنی مرتبہ ڈالا ہے؟ چناچہ انہوں نے مجھ سے پوچھا میں نے عرض کیا مجھے یاد نہیں انہوں نے فرمایا تمہاری ماں مرے تمہیں یاد رکھنے سے کس نے روک دیا تھا؟ پھر نماز کے وضو کی طرح وضو کر کے اپنے سارے بدن پر پانی بہا لیا اور کہنے لگے کہ سرکار دو عالم ﷺ بھی اس طرح پاک ہوا کرتے تھے۔ (ابوداؤد) تشریح غسل جنابت کے سلسلے میں رسول اللہ ﷺ سے متعلق ستر دھونے سے پہلے ہاتھوں کو دھونے کے بارے میں اس سے پہلے جو احادیث گزری ہیں یا تو وہ مطلق ہیں یعنی ان میں یہ تعداد ذکر نہیں کی گئی ہے کہ آپ ﷺ کتنی مرتبہ ہاتھ دھوتے تھے یا جن میں تعداد ذکر کی گئی ہے۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ آپ ﷺ نے اپنے دست مبارک دو مرتبہ دھوئے ہیں یا تین مرتبہ، چناچہ باب الغسل کی پہلی فصل میں خود حضرت عبداللہ ابن عباس ؓ کی ایک روایت (نمبر ٥) گزری ہے جس میں یہ تو منقول ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے اپنے دست مبارک دھوئے ان کی تعداد زکر نہیں کی گئی ہے کہ کتنی مرتبہ دھوئے؟ لیکن یہاں حضرت شعبہ حضرت عبداللہ ابن عباس ؓ کا یہ عمل نقل فرما رہے ہیں کہ وہ غسل جنابت کے وقت سات مرتبہ پانی ڈال کر ہاتھ دھوتے تھے۔ لہٰذا اس کے بارے میں یہ کہا جائے گا کہ حضرت عبداللہ ابن عباس ؓ کا یہ عمل کسی خاص صورت میں ہوگا یعنی آپ کو کوئی ایسی صورت پیش آئی ہوگئی۔ جس کی بنا پر بہت زیادہ طہارت و پاکیزگی حاصل کرنے کے لئے انہوں نے ساتھ مرتبہ دھونا ضرور سمجھا ہوگا۔ یا پھر اس کی تاویل یہ ہوگی کہ سات مرتبہ دھونے کے حکم کے منسوخ ہونے کی اطلاع حضرت عبداللہ ابن عباس ؓ کو نہیں ہوئی ہوگی اس لئے انہوں نے اسی پہلے حکم کے مطابق سات مرتبہ دھویا ہوگا۔ یہ حدیث اس طرف اشارہ کر رہی ہے کہ شاگرد کو اپنے شیخ و استاد کے سامنے انتہائی ہوشیاری کے ساتھ رہنا چاہئے تاکہ شیخ کے ہر ہر قول اور ہر ہر عمل کو ذہن نشین کر کسے۔ نیز شیخ و استاد کو یہ حق ہے کہ وہ شاگرد کی غفلت اور لاپرواہی پر تنبیہ کرے۔

442Mishkaat-al-Masabih

غسل کا بیان

وَعَنْ اَبِیْ رَافِعِ قَالَ اِنَّ رَسُوْلَ اﷲِ صَلَّی اﷲُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ طَافَ ذَاتَ یَوْمٍ عَلٰی نِسَآئِہٖ یَغْتَسِلُ عِنْدَہ ھٰذِہِ قَالَ فَقُلْتُ یَا رَسُوْلَ اﷲِ اَلَّا تَجْعَلُہ، غُسْلًا وَّاحِدًاٰخِرًا قَالَ ھٰذَا اَزْکی وَاَطْیَبُ وَاَظْھَرُ۔ (رواہ مسند احمد بن حنبل ابوداؤد)

اور حضرت ابورافع ؓ فرماتے ہیں کہ سرکار دو عالم ﷺ ایک روز اپنی تمام بیویوں کے پاس آئے (یعنی سب سے جماع کیا) اور ہر ایک بیوی سے (جماع سے فارغ ہو کر علیحدہ علیحدہ) غسل فرمایا۔ ابورافع ؓ فرماتے ہیں کہ میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ! آپ ﷺ نے آخر میں ایک ہی مرتبہ کیوں نہ غسل کرلیا؟ آپ ﷺ نے فرمایا یہ (یعنی ہر جماع کے بعد غسل کرنا، خوب پاک کرتا ہے، (نفس کے لئے) بہت خوش آئند ہے اور (جسم کو) خوب صاف کرتا ہے۔ (سنن ابوداؤد) تشریح اس سے پہلے اسی باب کی حدیث نمبر ٥ سے یہ معلوم ہوچکا ہے کہ آپ ﷺ نے ایک شب میں تمام ازواج مطہرات سے ہم بستری فرما کر آخر میں ایک ہی مرتبہ غسل فرمایا اور یہاں یہ بیان کیا جا رہا ہے کہ آپ نے ایک دن تمام ازواج مطہرات سے ہم بستری فرمائی اور غسل کا طریقہ یہ اختیار کیا کہ ہر بیوی کے ساتھ جماع سے فراغت کے بعد علیحدہ علیحدہ غسل فرمایا تو ان دونوں روایتوں میں تطبیق یہ ہوگی کہ آپ ﷺ کا وہ پہلا عمل جو اوپر بیان ہوا وہ امت کی آسانی کے لئے تھا یعنی اس بات کا اظہار مقصود تھا تمام بیویوں کے ساتھ ہم بستری سے فراغت کے بعد آخر میں ایک مرتبہ غسل کرلینا کافی ہے لیکن افضل اور بہتر چونکہ یہی ہے کہ ہر جماع کے بعد غسل کیا جائے اس لئے اس وقت آپ ﷺ نے ہر جماع کے بعد علیحدہ علیحدہ غسل فرمایا۔ آپ ﷺ نے حضرت ابورافع ؓ کے جواب میں ہر مرتبہ غسل کرنے کی جو وجہ بیان فرمائی ہے اس میں تین لفظ استعمال فرمائے ہیں (١) از کی (٢) اطیب (٣) اطہر۔ ان تینوں الفاظ کے فرق کو ظاہر کرتے ہوئے علامہ طیبی فرماتے ہیں کہ تطہیر کا استعمال ظاہری مناسبت سے ہے اور تزکیہ و تطیب کا استعمال باطنی مناسبت سے ہے یعنی تطہیر اخلاق بد کے ازالہ کے لئے ہے اور تزکیہ و تطیب اچھی خصلتوں کے حصول کے لئے ہے گویا اس کا مطلب یہ ہوا کہ اس طرح غسل کرنے سے برے اخلاق مثلاً غصہ وغیرہ دور ہوتے ہیں اور اچھے اخلاق یعنی حلم وتقوی وغیرہ حاصل ہوتے ہیں۔

443Mishkaat-al-Masabih

غسل کا بیان

وَعَنِ الْحَکَمِ بْنِ عَمْرٍ و قَالَ نَھَی رَسُوْلُ اﷲِ صَلَّی اﷲُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ اَنْ یَّتَوَضَّأَ الرَّجُلُ بِفَضْلِ طُھُوْرِ الْمَرْاَۃِ۔ (رَوَاہُ اَبُوْدَاؤدَ وَ ابْنُ مَاجَۃَ وَالتِّرْمِذِیُّ وَ زَادَاَوْقَالَ بِسُوْرِھَا وَقَالَ ھَذَا حَدِیْثٌ حَسَنٌ صَحِیْحٌ)

اور حضرت حکم بن عمرو ؓ (اسم گرامی حکم ابن عمر ہے قبیلہ غفار کی نسبت سے مشہور ہیں آپ صحابی ہیں وفات نبی کے بعد بصرہ چلے گئے ان کے سو تیلے بھائی زیاد نے انہیں خراسان کا حاکم بنایا تھا چناچہ ان کی وفات بھی خراسان کے مضافات مقام مرو میں پچاس ہجری میں ہوئی) فرماتے ہیں کہ سرکار دو عالم ﷺ نے عورت کے غسل یا وضو کے بچے ہوئے پانی سے مرد کو وضو کرنے سے منع فرمایا ہے۔ (سنن ابوداؤد، سنن ابن ماجہ) اور ترمذی نے یہ الفاظ زائد نقل کئے ہیں کہ آپ ﷺ نے منع فرمایا عورت کے (وضو کے) بقیہ پانی سے نیز ( ترمذی) نے کہا ہے کہ یہ حدیث حسن صحیح ہے) تشریح لفظ سؤر یہاں غسل یا وضو کے بقیہ پانی کے معنی میں ہے، اس کے لغوی معنی جھوٹھا (کسی کا استعمال کیا ہوا) مراد نہیں ہے اس کا مطلب یہ ہوگا کہ راوی کو فقط لفظ میں شک واقعہ ہوا ہے کہ آپ ﷺ نے یا تو فضل کہا ہے یا سور فرمایا ہے۔ اس فصل کی حدیث نمبر ٧ کے فائدے میں اس حدیث کا تذکرہ آچکا ہے ان دونوں میں جو تعارض واقع ہو رہا ہے اس کی وضاحت وہاں کی جا چکی ہے علامہ سید جمال الدین (رح) فرماتے ہیں کہ اس حدیث اور اس کے بعد آنے والی حدیث نمبر (٢١) سے عورت کے غسل یا وضو کے بچے ہوئے پانی سے مرد کو وضو کرنے کی جو ممانعت ثابت ہو رہی ہے اس کو نہی تنزیہی پر محمول کیا جائے تاکہ اس حدیث اور اس حدیث نمبر (٧) میں جس سے یہ ثابت ہوچکا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے اپنی زوجہ مطہرہ کے غسل کے بچے ہوئے پانی سے وضو فرمایا تھا تعارض پیدا نہ ہو سکے اور دونوں حدیثیں اپنی جگہ جگہ قابل عمل رہیں۔

444Mishkaat-al-Masabih

غسل کا بیان

وَعَنْ حُمَیْدِ نِ الْحِمْیَرِی قَالَ لَقِیْتُ رَجُلًا صَحِبَ النَّبِیَّ صَلی اﷲُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ اَرْبَعَ سَنِیْنَ کَمَا صَحِبَہ، اَبُوْھُرَیْرَۃَ قَالَ نَھٰی رَسُولَ اﷲِ صلی اللہ علیہ وسلم اَنْ تَغْسِلَ الْمَرْأَۃُ بِفَضْلِ الرَّجُلِ اَوْیَغْتَسِلَ الرَّجُلُ بِفَضْلِ الْمَرْأَۃِ زَادَ مُسَدَّدٌ وَّلْیَغْتَرِ فَاجَمِیْعًا رَوَاہُ اَبُوْدَاؤدَ وَالنِّسَائِیُّ وَزَادَ اَحْمَدُ فِی اَوْلِہٖ نَھٰی اَنْ یَّمْتَشِطَ اَحَدُنَا کُلَّ یَوْمٍ اَوْ یَبُوْلَ فِی مُغْتَسَلٍ وَّرَوَاہُ ابْنُ مَاجَۃَ عَنْ عَبْدِاﷲِ بْنِ سَرْجِسٍ۔

حضرت حمید حمیری (رح) ( اسم گرامی حمید بن عبدالرحمن ہے، قبیلہ حمیر سے تعلق کی وجہ سے حمیر کی نسبت سے مشہور ہیں جلیل القدر تابعی ہیں اپنے علم وفضل کی بنا پر اہل بصرہ کے امام سمجھے جاتے تھے، حضرت ابوہریرہ اور حضرت عبداللہ ابن عباس ؓ سے سماعت کا شرف حاصل ہے۔ (فرماتے ہیں کہ میں ایک آدمی سے ملا جو ابوہریرہ ؓ کی طرح چار برس سرکار دو عالم ﷺ کی خدمت اقدس میں رہ چکے تھے انہوں نے کہا کہ سرکار دو عالم ﷺ نے اس سے منع فرمایا ہے کہ عورت مرد ( کے غسل) کے بچے ہوئے پانی سے نہائے یا مرد عورت (کے غسل) کے بچے ہوئے پانی سے نہائے۔ (ایک راوی) مسدد نے یہ الفاظ زائد نقل کئے ہیں کہ دونوں اکٹھے ہو کر (علیحدہ علیحدہ) چلو لے کر نہا لیں تو جائز ہے۔ (سنن ابوداؤد، سنن نسائی) اور امام احمد بن حنبل (رح) نے اس روایت کے شروع میں یہ الفاظ زائد نقل کئے ہیں کہ آپ ﷺ نے اس سے (بھی) منع فرمایا ہے کہ کوئی آدمی ہر روز کنگھی کرے اور نہانے کی جگہ پیشاب کرے اور ابن ماجہ نے یہ روایت عبداللہ بن سر جس ؓ سے نقل کی ہے۔ تشریح روزانہ کنگھی کرنے سے اس لئے منع کیا گیا ہے کہ یہ ان لوگوں کا طریقہ ہے جن کا مقصد صرف بناؤ سنگار اور زیب وزینت ہوتا ہے لہٰذا مسنون طریقہ یہ ہے کہ کنگھی تیسرے روز کی جائے یعنی درمیان میں ایک دن کا ناغہ کرنا چاہئے۔ غسل کرنے کی جگہ پیشاب کرنا اس لئے منع ہے کہ اس سے وسوسے پیدا ہوتے جو عبادت میں حضوری قلب کے لئے سد راہ بنتے ہیں۔

445Mishkaat-al-Masabih

پانی کے احکام کا بیان

عَنْ اَبِیْ ھُرَےْرَۃَص قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم لَا ےَبُوْلَنَّ اَحَدُکُمْ فِی الْمَۤاءِ الدَّآئِمِ الَّذِیْ لَا ےَجْرِیْ ثُمَّ ےَغْتَسِلُ فِےْہِ (مُتَّفَقٌ عَلَےْہِ وَفِیْ رِوَاےَۃِ لِّمُسْلِمٍ قَالَ لَا ےَغْتَسِلُ اَحَدُکُمْ فِیْ الْمَآءِ الدَّائِمِ وَھُوَ جُنُبٌ قَالُوْا کَےْفَ ےَفْعَلُ ےَا اَبَا ھُرَےْرَۃَ قَالَ ےَتَنَاوَلُہ، تَنَاوُلًا۔

حضرت ابوہریرۃ ؓ راوی ہیں کہ سرکار دو عالم ﷺ نے فرمایا تم میں سے کوئی آدمی اس ٹھہرے ہوئے پانی میں جو بہنے والا نہ ہو پیشاب نہ کرے کہ پھر اسی میں غسل کرنے لگے (یعنی کسی دانشمند سے یہ بعید ہے کہ وہ پانی میں پیشاب کرلے پھر اسی پانی سے غسل کرلے) (صحیح البخاری و صحیح مسلم) صحیح مسلم کی ایک روایت کے الفاظ یہ ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا تم میں سے کوئی آدمی ناپاکی کی حالت میں ٹھہرے ہوئے پانی میں غسل نہ کرے (تاکہ پانی ناپاک نہ ہوجائے) لوگوں نے کہا ابوہریرہ ؓ پھر کس طرح نہانا چاہئے؟ انہوں نے فرمایا اس میں سے تھوڑا تھوڑا پانی (چلو سے) لے کر پانی سے باہر نہانا چاہئے۔ تشریح یہاں جس پانی میں پیشاب کرنے اور پھر اس میں نہانے سے روکا جا رہا ہے اس سے ماء قلیل یعنی تھوڑا پانی مراد ہے کیونکہ ماء کثیر یعنی زیادہ پانی ماء جاری یعنی بہنے والے پانی کا حکم رکھتا ہے جو پیشاب وغیرہ سے ناپاک نہیں ہوتا اور پھر اس میں نہانا بھی جائز ہے۔ بعض علماء کرام نے کہا کہ ماء کثیر یعنی زیادہ پانی میں بھی پیشاب کرنا ممنوع ہے اگرچہ وہ پانی پیشاب وغیرہ سے نجس نہیں ہوتا۔ کیونکہ اگر اس میں کوئی آدمی پیشاب کرے گا تو اس کے دیکھا دیکھی دوسرے بھی اس میں پیشاب کرنے لگیں گے جس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ عمومی طور پر سب ہی لوگ اس میں پیشاب کرنے کی عادت میں مبتلا ہوجائیں گے جس کی وجہ سے پانی رفتہ رفتہ متخیر (تبدیل) ہوجائے گا یعنی جب اس میں زیادتی اور کثرت سے پیشاب کیا جائے گا تو پانی کا رنگ مزہ اور بو تینوں چیزیں بدل جائیں گی اور پانی اصل حیثیت کھو کر ناپاک ہوجائے گا۔ لہٰذا اب اس حدیث میں مذکورہ حکم کے بارے میں یہ کہا جائے گا کہ پہلی شکل یعنی پانی کم ہونے کی صورت میں تو یہ نہی حرمت کے لئے ہے کیونکہ کم پانی میں پیشاب کرنے سے پانی ناپاک ہوجاتا ہے۔ دوسری شکل یعنی پانی زیادہ ہونے کی صورت میں کراہت کے لئے ہے۔ اب رہا یہ سوال کہ اصطلاح شریعت میں کم پانی اور زیادہ پانی کی مقدار اور اس کی تحدید کیا ہے؟ تو اس سلسلے میں انشاء اللہ تعالیٰ اگلے صفحات میں پوری وضاحت کی جائے گی۔ اسے بھی سمجھ لیجئے کہ حدیث میں پانی کے ساتھ جاری یعنی بہنے والے کی قید کیوں لگائی گئی ہے؟ اس قید کی وجہ یہ ہے کہ اگر پانی جاری یعنی بہنے والا ہو تو خواہ کم ہو یا زیادہ ہو اس میں نجاست مثلاً پیشاب وغیرہ پڑنے سے پانی ناپاک نہیں ہوتا۔ نیز علماء کرام نے لکھا ہے کہ یہ تمام تفصیلات دن کے لئے ہیں، رات میں جنابت کے خوف کی وجہ سے مطلقاً اس میں قضائے حاجت مکروہ اور ممنوع ہے کیونکہ جنات رات کو وہیں رہتے ہیں جہاں پانی ہوتا ہے چناچہ اکثر و بیشتر ندی و نالے اور تالاب جوہڑ اور نہر وغیرہ رات کو جنات کا مسکن ہوتی ہیں۔ حدیث کے آخری حصے سے معلوم ہوا کہ اگر کوئی جنبی پانی میں ہاتھ نکالنے کے لئے ڈالے تو پانی مستعمل یعنی ناقابل استعمال نہیں ہوگا اور اگر وہ پانی میں ہاتھ اس لئے ڈالے تاکہ اپنے ہاتھوں کو ناپاکی دور کرنے کے لئے اس میں دھوئے تو اس شکل میں اپنی مستعمل یعنی ناقابل استعمال ہوجائے گا۔

446Mishkaat-al-Masabih

پانی کے احکام کا بیان

عَنْ جَابِرٍص قَالَ نَھٰی رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم اَنْ ےُّبَالَ فِی الْمَآءِ الرَّاکِدِ۔(صحیح مسلم)

اور حضرت جابر ؓ راوی ہیں کہ سرکار دو عالم ﷺ نے ٹھہرے ہوئے پانی میں پیشاب کرنے سے منع فرمایا ہے۔ (صحیح مسلم)