پاکی کا بیان

Mishkaat-al-Masabih · Chapter 4 · 226 hadiths · Page 2 of 12

287Mishkaat-al-Masabih

وضو کو واجب کرنے والی چیزوں کا بیان

عَنْ اَبِیْ ھُرَیرَۃَ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم لاَ تُقْبَلُ صَلٰوۃُ مَنْ اَحْدَثَ حَتّٰی ےَتَوَضَّأَ۔ (صحیح البخاری و صحیح مسلم)

حضرت ابوہریرہ ؓ راوی ہیں کہ سرکار دو عالم ﷺ نے ارشاد فرمایا بےوضو کی نماز قبول نہیں کی جاتی جب تک کہ وضو نہ کرے۔ (بخاری و مسلم) تشریح اس کا تعلق اس آدمی سے ہے جو پانی رکھتا ہو اور اس کے استعمال کی قدرت بھی اس کے اندر ہو یعنی جس آدمی کے پاس پانی اور اس پانی کے استعمال کرنے میں اس کو کوئی عذر شرعی نہ ہو تو اس کو نماز کے لئے وضو کرنا ضروری ہے اگر اس نے وضو نہیں کیا تو اس کی نماز ادا نہیں ہوگی۔ اگر کوئی آدمی پانی نہ پائے یا اس کے استعمال کی قدرت نہ رکھتا ہو تو وہ بجائے وضو کے پاک و صاف مٹی سے تیمم کرے ایسا آدمی جو نہ تو پانی پائے اور نہ پاک و صاف مٹی ہی اسے ملے اور نہ وہ ان کے استعمال کی قدرت رکھتا ہو تو ایسے آدمی کو اصطلاح شریعت میں فاقد الطھورین فرماتے ہیں اس آدمی کے بارے میں یہ حکم ہے کہ وہ نماز نہ پڑھے، ہاں جب پانی وغیرہ پائے تو وضو کر کے نماز پڑھے۔ اس مسئلہ میں امام شافعی (رح) کا مسلک دوسرا ہے، وہ فرماتے ہیں کہ ایسے آدمی یعنی فاقدا الطہورین کو چاہئے کہ اس شکل میں بھی وقت نماز کے احترام میں بغیر وضو اور تیمم ہی کے نماز پڑھ لے جب اسے پانی یا مٹی دستیاب ہوجائے تو وضو یا تییم کر کے قضا کرلے۔ ہمارے علماء رحمہم اللہ فرماتے ہیں کہ اگر کوئی آدمی قصدا بغیر طہارت کے نماز پڑھ لے اور پھر یہ کہ اس سے اس کا مقصد احترام وقت بھی نہ ہو تو یہ آدمی کافر ہوجاتا ہے، یا اگر لوگوں کی شرم کی وجہ سے محض دکھلانے کے لئے بھی بغیر طہارت کے نماز پڑھے تو بھی کافر ہوجاتا ہے کیونکہ ان دونوں شکلوں میں اس نے شرع کی تحقیر کی ہے اس لئے ایسا آدمی جو اپنے قول سے یا فعل سے شریعت کی تحقیر کا سبب بنتا ہے وہ اس قابل نہیں ہے کہ دائرہ اسلام اور ایمان میں رہ سکے۔

288Mishkaat-al-Masabih

وضو کو واجب کرنے والی چیزوں کا بیان

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْھُمَا قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم لَا تُقْبَلُ صَلٰوۃٌ بِغَےْرِ طُھُوْرٍ وَّلَاصَدَقَۃٌ مِّنْ غُلُوْلٍ۔(صحیح مسلم)

اور حضرت ابن عمر ؓ راوی ہیں کہ سرکار دو عالم ﷺ نے ارشاد فرمایا بغیر طہارت نماز قبول نہیں کی جاتی اور مال حرام کی خیرات قبول نہیں کی جاتی۔ (صحیح مسلم) تشریح حرام مال میں صدقہ خیرات کرنا چونکہ صدقہ و خیرات کی توہین و تحقیر ہے اس لئے اس کو بہت زیادہ قابل نفرت شمار کیا گیا ہے چناچہ ہمارے علماء نے تو یہاں تک کہہ دیا ہے کہ جو آدمی مال حرام میں سے صدقہ و خیرات کرتا ہے اور پھر اس کی امید بھی رکھتا کہ اس سے ثواب ملے گا تو کافر ہوجاتا ہے۔ (٣) وَعَنْ عَلِیٍّ صقَالَ کُنْتُ رَجُلًا مَذَّآئً فَکُنْتُ اَسْتَحْیِیْ اَنْ اَسْأَلَ النَّبِیَّ ﷺ لِمَکَانِ ابْنَتِہ فَاَمَرْتُ الْمِقْدَادَ فَسَأَلَہُ فَقَالَ ےَغْسِلُ ذَکَرَہُ وَےَتَوَضَّاُ۔ (صحیح البخاری و صحیح مسلم) اور حضرت علی کرم اللہ وجہہ فرماتے ہیں کہ مجھے مذی بہت زیادہ آتی تھی چونکہ رسول اللہ ﷺ کی صاحبزادی (حضرت فاطمہ ؓ میرے نکاح میں تھی اس لئے میں آپ ﷺ سے اس کا حکم دریافت کرتے ہوئے شرماتا تھا (کہ آیا اس سے غسل واجب ہوتا ہے یا وضو) اس لئے میں نے (اس مسئلہ کو رسول اللہ ﷺ سے دریافت کرنے کے لئے حضرت مقداد ؓ کو مامور کیا، چناچہ انہوں نے آپ ﷺ سے پوچھا (اس طرح سے کہ ایک آدمی ایسا ہے اس کے بارے میں کیا حکم ہے) تو آپ نے فرمایا کہ (مذی نکلنے پر) پیشاب گاہ کو دھو ڈالے اور وضو کرے۔ (بخاری و مسلم) تشریح یہ حدیث ایک اخلاقی معاملہ میں بڑی لطیف تنبیہ کر رہی ہے کہ داماد کو اپنے سسر سے شہوت کی باتوں کا ذکر کرنا، ایسی چیزوں کا تذکرہ کرنا جن کا تعلق مباشرت عورت سے ہو یا جن کا بیان اخلاق و تہذیب اور شرم و حیاء کے منافی ہو مناسب نہیں۔

289Mishkaat-al-Masabih

وضو کو واجب کرنے والی چیزوں کا بیان

وَعَنْ اَبِیْ ہُرَےْرَۃَص قَالَ سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلمےَقُوْلُ تَوَضَّؤُا مِمَّا مَسَّتِ النَّارُ رَوَاہُ مُسْلِمٌ

اور حضرت ابوہریرہ ؓ راوی ہیں کہ میں نے سرکار دو عالم ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جس چیز کو آگ نے پکایا ہو اس کے کھانے کے بعد وضو کرو۔ (صحیح مسلم) تشریح امام محی السنتہ (رح) فرماتے ہیں کہ یہ حکم حضرت عبداللہ ابن عباس ؓ کی اس حدیث سے منسوخ ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے بکری کا شانہ کھایا پھر نماز پڑھی اور وضو نہیں کیا۔ (صحیح البخاری و صحیح مسلم ) پہلے حکم کی منسوخی تو حضرت عبداللہ ابن عباس ؓ کی مذکورہ حدیث سے ہوگئی لیکن اس سلسلہ میں اس حدیث کی ایک دوسری تاویل اور کی جاتی ہے وہ یہ کہ رسول اللہ ﷺ کے اس حکم کی کہ آگ کی پکی ہوئی چیز کو کھانے کے بعد وضو کرو سے مراد یہ ہے کہ جب تم کوئی پکی ہوئی چیز کھاؤ تو چکنائی وغیرہ دور کرنے کے لئے ہاتھ منہ دھولیا کرو، کیونکہ نہ صرف یہ کہ نظافت و صفائی کا یہی تقاضا ہے بلکہ یہ سنت بھی ہے چناچہ اسی کو وضو طعام بھی کہا جاتا ہے، اس صورت میں حدیث کو منسوخ کہنے کی بھی ضرورت نہیں رہے گی۔

290Mishkaat-al-Masabih

وضو کو واجب کرنے والی چیزوں کا بیان

عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَۃَص اَنَّ رَجُلًا سَأَلَ رَسُوْلَ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم اَنَتَوَضَّأُ مِنْ لُحُوْمِ الْغَنَمِ قَالَ اِنْ شِئْتَ فَتَوَضَّاْ وَاِنْ شئْتَ فَلَا تَتَوَضَّاْ قَالَ اَنَتَوَضَّأُ مِنْ لُّحُوْمِ الْاِبِلِ قَالَ نَعَمْ فَتَوَضَّأْ مِنْ لُّحُوْمِ الْاِبِلِ قَالَ اُصَلِّیْ فِیْ مَرَابِضِ الْغَنَمِ قَالَ نَعَمْ قَالَ اُصَلِّیْ فِیْ مَبَارِکِ الْاِبِلِ قَالَ لَا۔(صحیح مسلم)

اور حضرت جابر بن سمرہ ؓ (اسم گرامی جابر بن سمرۃ اور کنیت ابوعبدا اللہ عامری ہے سن وفات میں اختلاف ہے بعض لوگ فرماتے ہیں کہ ٦٦ ھ میں انہوں نے وفات پائی کچھ حضرات کی تحقیق ہے کہ ان کا سن وفات ٧٤ ھ ہے)۔ فرماتے ہیں کہ ایک آدمی نے سرکار دو عالم ﷺ سے پوچھا کہ کیا ہم بکری کا گوشت کھانے کے بعد وضو کریں آپ ﷺ نے فرمایا اگر تمہارا جی چاہے تو وضو کرو اور نہ چاہے تو نہ کرو پھر اس آدمی نے پوچھا کیا اونٹ کا گوشت کھانے کے بعد وضو کروں؟ آپ ﷺ نے فرمایا ہاں اونٹ کا گوشت کھانے کے بعد وضو کرو پھر اس آدمی نے سوال کیا کیا بکریوں کے رہنے کی جگہ میں نماز پڑھ لوں آپ ﷺ نے فرمایا ہاں! پھر اس آدمی نے دریافت کیا کیا اونٹوں کے بندھے کی جگہ نماز پڑھوں آپ نے فرمایا نہیں۔ (صحیح مسلم) تشریح حضرت امام احمد بن حنبل (رح) چونکہ ظاہر حدیث پر عمل کرتے ہیں اس لئے انہوں نے تو یہ حدیث دیکھ کر حکم لگا دیا کہ اونٹ کا گوشت کھانے کے بعد وضو کرنا چاہئے کیونکہ اس حدیث میں رسول اللہ ﷺ نے اونٹ کا گوشت کھانے کے بعد وضو کرنے کا حکم فرمایا ہے۔ لیکن حضرت امام اعظم ابوحنیفہ (رح)، حضرت امام شافعی اور حضرت امام مالک رحمہم اللہ کے نزدیک اونٹ کا گوشت کھانے سے وضو نہیں ٹوٹتا اس لئے کہ یہ حضرات اس حدیث کا محل وضو کے لغوی معنے ہاتھ منہ دھونے کو قرار دیتے ہیں یعنی یہ حضرات فرماتے ہیں کہ سرکار دو عالم ﷺ کے ارشاد کا مقصد یہ ہے کہ چونکہ اونٹ کے گوشت میں بساندہ اور چکنائی زیادہ ہوتی ہے اس لئے اس کو کھانے کے بعد ہاتھ منہ دھو لینا چاہئے چونکہ بکری کے گوشت میں بساندھی اور چکنائی کم ہوتی ہے اس لئے اس کے بارے میں فرما دیا کہ اگر طبیعت چاہے اور نظافت کا تقاضا ہو تو ہاتھ منہ دھولیا کرو اور اگر طبیعت نہ چاہے تو کوئی ضروری نہیں ہے۔ اونٹوں کے بندھنے کی جگہ نماز پڑھنے سے منع فرمانا نہی تنزیہی کے طور پر ہے اور منع اس لئے فرمایا کہ وہاں نماز پڑھنے میں سکون و اطمینان اور خاطرجمعی نہیں رہتی، اونٹوں کے بھاگ جانے یا لات مار دینے اور تکلیف پہنچانے کا خدشہ رہتا ہے بخلاف بکریوں کے چونکہ وہ بیچاری سیدھی سادی اور بےضرر ہوتی ہیں اس لئے ان کے رہنے کی جگہ نماز پڑھ لینے کی اجازت دے دی۔ اتنی بات اور سمجھ لینی چاہئے کہ نماز پڑھنے کے سلسلہ میں یہ جواز او عدم جواز اس صورت میں ہے جب کہ مرابض (بکریوں کے رہنے کی جگہ) اور مبارک (اونٹوں کے بندھنے کی جگہ) نجاست و گندگی سے خالی ہوں اگر وہاں نجاست ہوگی تو پھر مرابض میں بھی نماز پڑھنی مکروہ ہوگی۔

291Mishkaat-al-Masabih

وضو کو واجب کرنے والی چیزوں کا بیان

وَعَنْ اَبِیْ ھُرَےْرَۃَ ص قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم اِذَا وَجَدَ اَحَدُکُمْ فِیْ بَطْنِہٖ شَےْئًا فَاَشْکَلَ عَلَےْہِ أَخَرَجَ مِنْہُ شَْیْءٌ اَمْ لَا فَلَا ےَخْرُجَنَّ مِنَ الْمَسْجِدِ حَتّٰی ےَسْمَعَ صَوْتًا اَوْ ےَجِدَ رِےْحًا ۔ (صحیح مسلم)

اور حضرت ابوہریرہ ؓ راوی ہیں کہ سرکار دو عالم ﷺ نے ارشاد فرمایا جب تم میں سے کوئی اپنے پیٹ کے اندر کچھ پائے (یعنی قراقر) اور اس پر یہ بات مشتبہ ہو کہ کوئی چیز خارج ہوئی یا نہیں تو اس وقت تک وضو کے لئے مسجد سے باہر نہ نکلے جب تک آواز کو نہ سنے یا بو نہ پائے۔ (صحیح مسلم) تشریح جب تک کوئی آواز نہ سنے یا بو نہ پائے یہ غالب کے اعتبار سے ہے ورنہ اس حدیث کا مقصد یہ ہے کہ جب ریاح کا خارج ہونا یقینی طور پر معلوم ہوجائے خواہ آواز سنے یا نہ سنے بو معلوم ہو یا نہ معلوم ہو تو سمجھ لے کہ وضو ٹوٹ گیا ہے۔

292Mishkaat-al-Masabih

وضو کو واجب کرنے والی چیزوں کا بیان

وَعَنْ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ عَبَّاسٍ ص قَالَ اِنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم شَرِبَ لَبَنًا فَمَضْمَضَ وَقَالَ اِنَّ لَہُ دَسَمًا۔ (صحیح البخاری و صحیح مسلم)

اور حضرت عبداللہ بن عباس ؓ راوی ہیں کہ (ایک مرتبہ) سرکار دو عالم ﷺ نے دودھ پیا (اس کے بعد) کلی کی اور فرمایا دودھ میں چکناہٹ ہوتی ہے۔ (صحیح البخاری و صحیح مسلم) تشریح اس حدیث سے معلوم ہوا کہ چکنی چیز کھانے کی بعد کلی کرنا مستحب ہے، اس لئے کہ اگر کلی نہ کی جائے تو ہوسکتا ہے کہ جو چیز کھائی گئی چکناہٹ کی وجہ سے اس کا کچھ حصہ منہ میں لگا رہ جائے، جب نماز پڑھی جائے تو حالت نماز میں پیٹ میں پہنچ جائے اس پر ہر اس چیز کو قیاس کیا جاتا ہے جو منہ میں لگی ہو اور حالت نماز میں اس کے پیٹ میں پہنچ جانے کا خوف ہو تو اس سے بھی کلی کرنا مستحب ہے۔ اس حدیث سے علماء کرام نے مسئلہ بھی مستنبط کیا ہے کہ کھانا کھانے سے پہلے صفائی اور ستھرائی کے لئے ہاتھوں کو دھولینا چاہئے، ہاں اگر ہاتھ پہلے سے صاف ستھرے ہیں اور نجاست و میل نہیں لگی ہے تو پھر ہاتھوں کا دھونا ضروری نہیں ہے، اسی طرح کھانا کھانے کے بعد بھی ہاتھوں کو دھونا چاہئے اگر کھانا خشک ہونے کی وجہ سے یا چمچہ وغیرہ سے کھانے کی وجہ سے ہاتھ میں کچھ نہ لگے تو پھر ہاتھوں کا دھونا ضروری نہیں ہے۔ آخر میں یہ بات سمجھ لینی چاہئے کہ بظاہر تو اس باب سے اس حدیث کی کچھ ماسبت نظر نہیں آتی ہے اس لئے یہ اعتراض پیدا ہوسکتا ہے کہ مصنف مشکوٰۃ نے اس حدیث کو اس باب میں کیوں ذکر کیا؟ اس کا مختصر جواب یہ ہے کہ اس حدیث میں کلی کا ذکر کیا گیا ہے وہ متعلقات وضو سے ہے اس لئے اس حدیث کو اس باب میں ذکر کیا گیا ہے۔

293Mishkaat-al-Masabih

وضو کو واجب کرنے والی چیزوں کا بیان

وَعَنْ بُرَےْدَۃَ ص اَنَّ النَّبِیَّ صلی اللہ علیہ وسلم صَلَّی الصَّلَوَاتِ ےَوْمَ الْفَتْحِ بِوُضُوْءٍ وَّاحِدٍ وَّمَسَحَ عَلٰی خُفَّےْہِ فَقَالَ لَہُ عُمَرُ ص لَقَدْ صَنَعْتَ الْےَوْمَ شَےْئًا لَّمْ تَکُنْ تَصْنَعُہُ فَقَالَ عَمْدًا صَنَعْتُہُ ےَا عُمَرُ ص۔(مسلم )

اور حضرت بریدہ ؓ ( اسم گرامی بریدہ بن حصیب ہے ان کی کنیت جو مشہور ہے وہ ابوعبداللہ ہے، یہ مدینہ کے باشندہ تھے مقام مرد میں یزید بن معاویہ ٦٣ ھ میں انتقال فرمایا)۔ فرماتے ہیں کہ فتح مکہ کے دن سرکار دو عالم ﷺ نے ایک وضو سے کئی نمازیں پڑھیں (یعنی ایک ہی وضو سے پانچوں نمازیں پڑھیں) اور موزوں پر مسح کیا (یہ دیکھ کر) حضرت عمر فاروق ؓ نے رسول اللہ ﷺ سے عرض کی کہ آپ ﷺ نے آج وہ چیز کی ہے جس کو آپ ﷺ نے کبھی نہیں کیا آپ ﷺ نے فرمایا عمر فاروق (رضی اللہ تعالیٰ عنہ)! میں نے ایسا قصداً کیا ہے۔ (صحیح مسلم) تشریح حضرت عمر فاروق ؓ کے کہنے کا مقصد یہ تھا کہ پہلے تو آپ ﷺ کا معمول یہ تھا کہ ہر نماز لئے تازہ وضو کرتے تھے، مگر آج آپ ﷺ نے خلاف معمول ایک وقت وضو کرلیا پھر اسی وضو سے آپ ﷺ نے پانچوں نمازیں ادا فرمائیں اور پھر ایک نئی چیز کی کہ موزوں پر مسح بھی فرمایا حالانکہ آپ ﷺ ایسا کبھی نہیں کرتے تھے۔ اس کے جواب میں آپ ﷺ نے فرمایا کہ یہ میرا عمل کسی دوسری وجہ سے نہیں بلکہ میں نے قصدًا کیا ہے تاکہ لوگوں کو یہ معلوم ہوجائے کہ یہ دونوں صورتیں بھی جائز ہیں اور دوسرے بھی ایسا کرسکتے ہیں۔

294Mishkaat-al-Masabih

وضو کو واجب کرنے والی چیزوں کا بیان

وَعَنْ سُوَےْدِ بْنِ النُّعْمَانِ ص اَنَّہُ خَرَجَ مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم عَامَ خَےْبَرَ حَتّٰی اِذَا کَانُوْا بِالصَّہْبَآءِ وَھِیَ اَدْنٰی خَےْبَرَ صَلَّی الْعَصْرَ ثُمَّ دَعَا بِالاَْزْوَادِ فَلَمْ ےُؤْتَ اِلَّا بِالسَّوِےْقِ فَاَمَرَ بِہٖ فَثُرٍّیَ فَاَکَلَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم وَاَکَلْنَا ثُمَّ قَامَ اِلَی الْمَغْرِبِ فَمَضْمَضَ وَمَضْمَضْنَا ثُمَّ صَلّٰی وَلَمْ ےَتَوَضَّأْ۔ (صحیح البخاری)

اور حضرت سوید بن نعمان ؓ ( اسم گرامی حضرت سوید ابن نعمان ؓ ہے آپ کا شمار اہل مدینہ میں ہے)۔ راوی ہیں کہ وہ سرکار دو عالم ﷺ کے ہمراہ خیبر ( کے فتح) کے سال سفر پر گئے جب صہباء کے مقام پر پہنچے جو خیبر کے نزدیک ہے، عصر کی نماز پڑھی اور پھر آپ ﷺ نے توشہ (زاد راہ) منگوایا، چناچہ ستو کے علاوہ کچھ نہ تھا جو حاضر کیا گیا اور آپ ﷺ کے حکم سے اس کو گھولا گیا، پھر رسول اللہ ﷺ نے اور ہم نے اس کو کھایا اور پھر مغرب کی نماز کے لئے کھڑے ہوئے آپ ﷺ نے کلی کی اور ہم نے بھی کلی کی اور وضو نہیں کیا۔ (صحیح البخاری) تشریح اس حدیث نے اس مسئلہ کی وضاحت کردی کہ آگ سے پکی ہوئی چیز کو کھانے سے وضو نہیں ٹوٹتا، اس لئے کہ سرکار دو عالم ﷺ نے ستو کھایا جو آگ ہی سے تیار کیا جاتا ہے اور اس کے بعد صرف کلی کر کے مغرب کی نماز پڑھ لی اور وضو نہیں کیا۔

295Mishkaat-al-Masabih

وضو کو واجب کرنے والی چیزوں کا بیان

عَنْ اَبِی ھُرَیْرَۃَ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اﷲِ صَلَّی اﷲُ عَلَیْہٖ وَسَلَّمَ لَا وَضُوْءَ اِلَّا مِنْ صُوْتِ اَوْرِیْحِ۔ (رواہ مسند احمد بن حنبل والجامع ترمذی)

حضرت ابوہریرہ ؓ راوی ہیں کہ سرکار دو عالم ﷺ نے ارشاد فرمایا وضو کرنا آواز با بو سے واجب ہوتا ہے۔ (مسند احمد بن حنبل، جامع ترمذی) تشریح مطلب یہ ہے کہ وضو شک سے نہیں ٹوٹتا، جب تک یقین نہ ہوجائے وضو باقی رہتا ہے یعنی پیٹ میں اگر محض قراقر ہو تو اس شبہ سے کہ شاید ریاح کا اخراج ہوگیا ہو وضو نہیں ٹوٹے گا ہاں جب آواز کے نکلنے یا بو سے یقین ہوجائے کہ ریاح خارج ہوگئی ہے تو جب وضو ٹوٹ جائے گا۔

296Mishkaat-al-Masabih

وضو کو واجب کرنے والی چیزوں کا بیان

وَعَنْ عَلِیِّ رَضِیَ اﷲُ عَنْہُ قَالَ سَأَلَتٌ النَّبِیَّ صلی اللہ علیہ وسلم عَنِ الْمُذِیِّ فَقَالَ مِنَ الْمُذِیِّ الْوُضُوْءُ وَمِنَ الْمَنِیِّ الْغُسْلُ۔(رواہ الجامع ترمذی)

اور حضرت علی کرم اللہ وجہہ فرماتے ہیں کہ میں نے (حضرت مقداد ؓ کے واسطہ سے) سرکار دو عالم ﷺ سے مذی کے بارے میں دریافت کیا تو آپ ﷺ نے فرمایا کہ مذی نکلنے سے وضو لازم آتا ہے اور منی نکلنے سے غسل واجب ہوتا ہے۔ (جامع ترمذی)

297Mishkaat-al-Masabih

وضو کو واجب کرنے والی چیزوں کا بیان

وَعَنْہُ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اﷲِ صَلَّی اﷲُ عَلَیْہٖ وَسَلَّمَ مِفْتَاحُ الصَّلَاۃِ الطُّھُوْرُ وَ تَحْرِیْمُھَا التَّکْبِیْرُ وَ تَحَلِیْلُھَا التَّسْلِیْمُ۔ رَوَاہُ اَبُوَدَاؤدَ وَالْتِرْمِذِّیُّ وَالدَّارِمِیُّ وَرَوَاہُ ابْنُ مَاجَۃَ عَنْہُ وَعَنْ اَبِی سَعِیْدِ۔

اور حضرت علی کرم اللہ وجہہ راوی ہیں کہ سرکار دو عالم ﷺ نے ارشاد فرمایا نماز کی کنجی وضو ہے نماز کی تحریم تکبیر (یعنی اللہ اکبر کہنا) ہے اور نماز کی تحلیل سلام پھیرنا۔ (ابوداؤد، جامع ترمذی، ودارمی اور ابن ماجہ نے اس حدیث کو حضرت علی المرتضیٰ اور حضرت ابی سعید سے روایت کیا ہے) تشریح ؛ تکبیر یعنی اللہ اکبر کہنے سے نماز شروع ہوتی ہے جس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ کھانا پینا اور جتنے کام نماز کے منافی ہیں اب سب حرام ہوگئے ہیں اور سلام پھیرنے سے نماز ختم ہوجاتی ہے جس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ نماز شروع کردینے سے جتنی چیزیں حرام کرلی گئی تھیں اب وہ سب حلال ہوگئیں ہیں اسی کو فرمایا گیا ہے کہ نماز کی تحریم تکبیر اور اس کی تحلیل سلام پھیرنا ہے۔

298Mishkaat-al-Masabih

وضو کو واجب کرنے والی چیزوں کا بیان

وَعَنْ عَلِیِّ بْنِ طَلْقِ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اﷲِ صَلَّی اﷲُ عَلَیْہٖ وَسَلَّمَ اِذَا فَسَا اَحَدُکُمْ فَلْیَتَوَضَّأَ وَلَا تَأْتُوْا النِّسَاءَ فِی اَعْجَازِ ھِنَّ۔(رواہ الجامع ترمذی و ابوداؤد)

اور حضرت علی بن طلق ؓ راوی ہیں کہ سرکار دو عالم ﷺ نے ارشاد فرمایا جب تم میں سے کوئی حدث کرے (یعنی بغیر آواز کے ہوا خارج ہو) تو اسے وضو کرنا چاہئے اور تم عورتوں سے (خلاف فطرت) ان کی مقعد (یعنی پاخانہ کی جگہ) میں جماع نہ کرو۔ (جامع ترمذی، ابوداؤد)

299Mishkaat-al-Masabih

وضو کو واجب کرنے والی چیزوں کا بیان

وَعَنْ مُعَاوِیَۃَ ابْنِ اَبِی سُفْیَانَ اَنَّ النَّبِیِّ صلی اللہ علیہ وسلم قَالَ اِنَّمَا الْعَیْنَانِ وِکَاءُ السَّہِ فَاِذَا نَأمَتِ الْعَیْنُ اسْتَطْلَقَ الْوِکَائُ(رواہ الدارمی)

اور حضرت معاویہ بن ابی سفیان ؓ (اسم گرامی معاویہ ؓ کنیت ابوعبدالرحمن اور والد کا نام ابوسفیان ہے۔ آپ کاتب وحی ہیں ٦٠ ھ میں وفات پائی)۔ راوی ہیں کہ سرکار دو عالم ﷺ نے ارشاد فرمایا آنکھیں سرین کا سر بند ہیں چناچہ آنکھ سو جاتی ہے تو سر بند کھل جاتا ہے۔ (دارمی) تشریح جب انسان جاگتا رہتا ہے تو گویا اس کے مقعد پر بند لگا رہتا ہے جس کی وجہ سے ہوا خارج نہیں ہوتی بلکہ رکی رہتی ہے اور اگر خارج ہوتی ہے تو اس کا احساس ہوتا ہے جب سو جاتا ہے تو چونکہ وہ بےاختیار ہوجاتا ہے جوڑ ڈھیلے پڑجاتے ہیں تو ہوا کے خارج ہونے کا گمان رہتا ہے جس کا اسے یقینی احساس نہیں ہوسکتا اسی لئے نیند کو ناقض وضو کہا جاتا ہے۔

300Mishkaat-al-Masabih

وضو کو واجب کرنے والی چیزوں کا بیان

وَعَنْ عَلِیِّ رَضِیَ اﷲُ عَنْہُ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اﷲِ صَلَّی اﷲُ عَلَیْہٖ وَسَلَّمَ وِکَاءُ السَّہِ الْعَیْنَانِ فَمَنْ نَامَ فَلَیْتَوَضَّا۔ (رواہ ابوداؤد)وَقَالَ الشَّیْخُ الْاِقَامُ مُحِیُّ السُّنَّۃِ رَحِمَہُ اﷲُ ھٰذَا فِی غَیْرِ الْقَاعِدِ لِمَا صَحَّ عَنْ اَنَسِ قَالَ کَانَ اَصْحَابُ رَسُوْلُ اﷲِ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اﷲِ صَلَّی اﷲُ عَلَیْہٖ وَسَلَّمَ یَنْتُظُرُوْنَ الْعِشَاءَ حَتّٰی تَحْفَقَ رَؤُوْسُھُمْ ثُمَّ یَصَلُّوْنَ وَلَا یَتَوَضَّأًوُنَ رَوَاہُ اَبُوْدَاوُدْوَالْتِرْمِذِّیُّ اِلَّا اَنَّہُ ذَکَرَ فِیْہِ یُنَامُوْنَ بَدَلَ یَنْتَظِرُوْنَ الْعِشَاءَ حَتَّی تُخْفِقَ رُوؤُسُھُمْ۔

اور حضرت علی کرم اللہ وجہہ راوی ہیں کہ سرکار دو عالم ﷺ نے فرمایا سرین کا سر بند آنکھیں ہیں لہٰذا جو آدمی سو جائے اسے چاہئے کہ وضو کرے۔ (ابوداؤد) اور حضرت امام محی السنۃ (رح) فرماتے ہیں کہ یہ حکم اسی آدمی کے واسطے ہے جو بیٹھا نہ ہو (بلکہ لیٹ کر سویا ہو) اس لئے کہ حضرت انس ؓ سے صحیح طور پر ثابت ہے کہ انہوں نے فرمایا کہ سرکار دو عالم ﷺ کے اصحاب عشاء کی نماز بیٹھے ہوئے) انتظار کیا کرتے تھے یہاں تک کے نیند کے سبب سے ان کے سر جھک جاتے تھے، اسی حالت میں وہ اٹھ کر نماز پڑھ لیتے تھے وضو نہ کرتے تھے۔ (ابوداؤد، جامع ترمذی) مگر جامع ترمذی نے اپنی روایت میں یَنْتَظِرُوْنَ الْعِشَاءَ حَتَّی تَخْفِقَ رُؤُوْسُھُمْ کے بجائے لفظ ینامون ذکر کیا ہے۔ تشریح حضرت امام محی السنۃ کے قول کا مطلب یہ ہے کہ اس حدیث کا حکم سونے والوں کے بارے میں نہیں ہے بلکہ ایسے آدمی کے بارے میں ہے جو لیٹ کر سو جائے، کیونکہ لیٹ کر سونے سے تمام اعضاء ڈھیلے ہوجاتے ہیں اور اپنے اوپر پوری طرح اختیار نہیں رہتا اس لئے ہوسکتا ہے کہ اس حالت میں ریاح خارج ہوجائے اور اس کا احساس بھی نہ ہو۔ ہاں جو آدمی لیٹ کر نہیں بلکہ بیٹھا بیٹھا اس طرح سو جائے اس کی مقعد زمین پر رکھی رہے اور پھر جب وہ جاگے تو مقعد اسی طرح زمین پر ٹھہری ہوئی ہو تو وضو نہیں ٹوٹتا چاہے وہ جتنا بھی سوئے، چناچہ حضرت انس ؓ کی مذکورہ حدیث سے یہی ثابت ہوتا ہے کہ بیٹھے ہوئے سونے سے وضو نہیں ٹوٹتا، بیٹھنے کی اقسام فقہ کی کتابوں میں مذکور ہیں، جن کو قیاس یا دیگر احادیث سے ثابت کیا گیا ہے۔

301Mishkaat-al-Masabih

وضو کو واجب کرنے والی چیزوں کا بیان

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسِ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اﷲِ صَلَّی اﷲُ عَلَیْہٖ وَسَلَّمَ اِنَّ الْوُضُوْءَ عَلَی مَنْ نَّامَ مُضْطَجِعًا فَاِنَّہُ اِذَا اضْطَجَعَ اسْتَرْخَتْ مَفَاصِلُہ،۔(رواہ الجامع ترمذی و ابوداؤد)

اور حضرت عبداللہ ابن عباس ؓ راوی ہیں کہ سرکار دو عالم ﷺ نے ارشاد فرمایا وضو اس آدمی پر لازم ہوتا ہے جو لیٹ کر سو جائے اس لئے کہ جس وقت آدمی لیٹتا ہے تو اس کے (بدن کے جوڑ ڈھیلے ہوجاتے ہیں) اور پھر ہوا خارج ہونے کا خدشہ رہتا ہے۔ (جامع ترمذی، ابوداؤد) تشریح حضرت میرک شاہ (رح) نے فرمایا ہے کہ حدیث منکر ہے کیونکہ اس کے راویوں میں ایک راوی یزید دالانی بھی ہے جو کہ کثیر الخطاء اور فاحش الوہم اور ثقات کے مخالف ہے۔

302Mishkaat-al-Masabih

وضو کو واجب کرنے والی چیزوں کا بیان

وَعَنْ بُسْرَۃَ بِنْتِ صَفْوَانَ بْنِ نَوْفَلِ قَالَتْ قَالَ رَسُوْلُ اﷲِ صَلَّی اﷲُ عَلَیْہٖ وَسَلَّمَ اِذَا مَسَّ اَحَدُکُمْ ذَکَرَہ، فَلْیَتَوَضَّأْ۔ (رواہ موطا امام مالک و مسند احمد بن حنبل و ابوداؤد و الجامع ترمذی و السنن نسائی و ابن ماجہ و الدارمی)

حضرت بسرہ ؓ راوی ہیں کہ سرکار دو عالم ﷺ نے ارشاد فرمایا تم میں سے جو آدمی اپنے ذکر (عضو خاص) کو ہاتھ لگائے تو اس کو چاہئے کہ وہ وضو کرے۔ (مالک، ابوداؤد، جامع ترمذی، سنن نسائی، دارمی) تشریح پیشاب گاہ کو چھونے سے وضو ٹوٹ جانے میں اختلاف ہے، بلکہ اس مسئلہ میں خود صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین میں بھی اختلاف تھا چناچہ امام شافعی (رح) کا مسلک یہ ہے کہ اگر کسی آدمی نے اپنے ذکر کو ننگی ہتھیلی سے چھو دیا تو اس کا وضو ٹوٹ جائے گا، ان کی دلیل یہی مذکورہ حدیث ہے۔ حضرت امام اعظم ابوحنیفہ (رح) فرماتے ہیں کہ ذکر کو چھو دینے سے وضو نہیں ٹوٹتا، ان کی دلیل ما بعد کی حدیث ہے جو قیس بن علی کی روایت کے ساتھ جسے انہوں نے اپنے باپ سے روایت کیا ہے، مسند ابی حنیفہ میں مذکور ہے اس کے علاوہ امام اعظم (رح) کی دلیل میں اور بہت سی حدیثیں وارد ہیں اس سلسلہ میں مزید تشفی کے لئے شرح ملا علی قاری اور مشکوٰۃ کا ترجمہ حضرت شیخ عبدالحق دہلوی میں دیکھا جاسکتا ہے۔ حضرت ابن ہمام (رح) فرماتے ہیں کہ حقیقت تو یہ ہے کہ یہ دونوں حدیثیں یعنی بسرہ کی یہ حدیث جو شوافع کی دلیل ہے اور طلق بن علی ؓ کی حدیث جو آگے آرہی ہے اور حنیفہ کی دلیل ہے، درجہ حسن سے باہر نہیں ہیں لیکن حضرت طلق ابن علی ؓ کی حدیث کو حضرت بسرہ ؓ کی حدیث پر ترجیح ہوگی اس لئے کہ حضرت بسرہ ؓ عورت اور حضرت طلق بن علی ؓ مرد ہیں اور ظاہر ہے کہ عورت کے مقابلے میں مرد کی حدیث قوی ہوتی ہے کیونکہ وہ عوت کی نسبت علم اور حدیث کو خوب اچھی طرح یاد رکھتے ہیں اور ان کی قوت حافظہ عورتوں سے زیادہ مضبوط ہوتی ہے چناچہ یہی وجہ ہے کہ دو عورتوں کی گواہی ایک مرد کی گواہی کے برابر ہوتی ہے۔

303Mishkaat-al-Masabih

وضو کو واجب کرنے والی چیزوں کا بیان

وَعَنْ طَلْقِ بِنْ عَلِیِّ قَالَ سُئِلَ رَسُوْلُ اﷲِ صلی اللہ علیہ وسلم عَنْ مَسِّ الرَّجُلِ ذَکَرَہ، بَعْدَ مَایَتَوَضَّأُ قَالَ وَھَلْ ھَوَ اِلَّا بُضْعَۃٌ مِنْہُ رَوَاہُ اَبُوْدَاؤدَ وَالتِرْمِذِیُّ وَالنِّسَائِیُ وَ رَوَی ابْنُ مَاجَۃَ نَحْوَہُ وَقَالَ الشَّیْخُ الْاِمَامُ مُحِیُّ السُّنَۃِ ھٰذَا مَنْسُوْخٌ لِاَنَّ اَبَاھُرَیْرَۃَ اَسْلَمَ بَعْدَ قُدُوْمِ طَلْقِ وَقَدْرَوَی اَبُوْھُرَیْرَۃَ عَنْ رَسُوْلِ اﷲِ صلی اللہ علیہ وسلم قَالِ اِذَا اَفْضَی اَحَدُکُمْ بِیَدِہٖ اِلَی ذَکَرِہٖ لَیْسَ بَیْنَہ، وَبَیْنَھَا شَیْیءٌ فَلْیَتَوَضَّأْ۔ (رَوَاہُ الشَّافِعِیُ وَالدَّارَ قُطْنِیُّ وَرَوَاہُ النَّسَائِیُّ عَنْ بُسْرَۃَ اِلَّا اَنَّہُ لَمْ یَذْکُرْ لَیْسَ بَیْنَہ، وَبَیْنَھَا شَیْی ئً )

اور حضرت طلق بن علی المرتضیٰ ) اسم گرامی طلق بن علی اور کنیت ابوعلی ہے ان کی حدیثیں ان کے بیٹے قیس سے مروی ہیں۔ (فرماتے ہیں کہ (ایک مرتبہ) سرکار دو عالم ﷺ سے پوچھا گیا کہ وضو کرنے کے بعد اگر کوئی آدمی اپنے ذکر کو چھوئے (تو کیا حکم ہے؟ ) آپ ﷺ نے فرمایا وہ بھی تو آدمی کے گوشت کا ایک ٹکڑا ہے ابوداؤد، جامع ترمذی، سنن نسائی اور سنن ابن ماجہ نے بھی اسی طرح روایت کیا ہے امام محی السنۃ علیہ الرحمہ فرماتے ہیں کہ یہ حدیث منسوخ ہے اس لئے کہ حضرت ابوہریرۃ ؓ حضرت طلق بن علی ؓ کے آنے کے بعد اسلام لائے ہیں اور حضرت ابوہریرہ ؓ سے رسول اللہ ﷺ کی یہ حدیث منقول ہے کہ جب تم میں سے کسی کا ہاتھ اپنے ذکر پر پہنچ جائے اور ہاتھ و ذکر کے درمیان کوئی چیز حائل نہ ہو تو اس کو چاہئے وضو کرے۔ (شافع دار قطنی اور سنن نسائی نے بسرہ ؓ سے یہ روایت نقل کی ہے جس میں لَیْسَ بَیْنَہ، وَبَیْنَھَا شَیْیئٌ کے الفاظ مذکور ہیں۔ تشریح رسول اللہ ﷺ کے جواب کا مطلب یہ ہے کہ جس طرح بدن کے گوشت کے دیگر ٹکڑے مثلاً ہاتھ پاؤں کان ناک وغیرہ ہیں اسی طرح ذکر بھی بندہ کے گوشت ہی کا ایک ٹکڑا ہے اور جب ان دوسرے ٹکڑوں اور حصوں کو چھونے سے وضو نہیں ٹوٹتا تو پھر ذکر کے چھو جانے سے کیوں وضو ٹوٹے گا لہٰذا اس سے معلوم ہوا کہ مس ذکر ناقص وضو نہیں ہے۔ امام محی السنہ (رح) کا قول در اصل حضرات شوافع کی ترجمانی ہے اس کا مطب یہ ہے کہ حضرت ابوہریرۃ و طلق بن علی ؓ کے بہت بعد اسلام لائے ہیں، کیونکہ حضرت طلق ؓ ہجرت کے فورًا بعد جب کہ مسجد نبوی کی تعمیر ہو رہی تھی آنحضرت ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے ہیں اور حضرت ابوہریرہ ؓ سن ٧ ھ میں غزوہ خبیر کے موقع پر اسلام لائے ہیں اس لئے حضرت طلق بن علی ؓ کا رسول اللہ ﷺ سے حدیث سننا پہلے ہوا اور حضرت ابوہریرہ ؓ کا سننا بعد میں ہوا ہوگا، لہٰذا حضرت طلق ؓ کی حدیث منسوخ اور حضرت ابوہریرہ ؓ کی حدیث ناسخ ہوئی۔ حنفیہ جواب دیتے ہیں کہ حضرت طلق کے اسلام لانے کے بعد حضرت ابوہریرہ ؓ کے اسلام لانے سے یہ کہاں ثابت ہوا کہ حضرت ابوہریرہ ؓ نے یہ حدیث سنی بھی بعد میں ہو شوافعہ کا یہ دعویٰ تو جب صحیح ہوسکتا ہے کہ یہ بھی ثابت ہو کہ حضرت ابوہریرہ ؓ کے اسلام لانے سے پہلے ہی حضرت طلق ؓ انتقال فرما چکے تھے یا یہ کہ اپنے وطن کو چلے گئے تھے کہ پھر اس کے بعد رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں بھی کبھی حاضر نہیں ہوئے، اس لئے کہ اگر حضرت طلق ؓ، حضرت ابوہریرہ ؓ کے اسلام لانے سے پہلے انتقال فرما جاتے ہیں یا اپنے وطن کو واپس لوٹ جاتے تو پھر حضرت ابوہریرہ ؓ کے اسلام لانے کے بعد کچھ نہیں سن سکتے تھے مگر اب تو یہ ممکن ہے کہ حضرت طلق ؓ نے یہ حدیث حضرت ابوہریرہ ؓ کے اسلام لانے کے بعد ہی سنی ہو لہٰذا شوافع کا یہ استدلال صحیح نہیں ہے۔ حضرت مظہر نے ایک اچھی اور فیصلہ کن بات کہہ دی ہے وہ فرماتے ہیں کہ ان دونوں حدیثوں میں تعارض ہوگیا ہے حضرت ابوہریرہ ؓ کی روایت کردہ حدیث سے تو ثابت ہو رہا ہے کہ مس ذکر ناقض وضو ہے اور حضرت طلق ؓ کی حدیث مس ذکر کو ناقض وضو نہیں کہتی لہٰذا اس تعارض کی شکل میں ہمیں چاہئے کہ ہم دوسرے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے اقوال کی طرف رجوع کریں چناچہ بہت سے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین مثلاً حضرت علی، حضرت عبداللہ ابن مسعود، حضرت ابودرداء حضرت حذیفہ اور حضرت عمر فاروق رضوان اللہ علیہم اجمعین کے یہ اقوال ثابت ہیں کہ ذکر چھونے سے وضو نہیں ٹوٹتا اس لئے یہ بات ثابت ہوجاتی ہے کہ حنفیہ ہی کا مسلک صحیح ہے کہ مس ذکر ناقض وضو نہیں ہے، واللہ اعلم بالصواب۔

304Mishkaat-al-Masabih

وضو کو واجب کرنے والی چیزوں کا بیان

وَعَنْ عَآئِشَۃَ قَالَتْ کَانَ النَّبِیُّ صلی اللہ علیہ وسلم یُقَبِّلُ بَعْضَ اَزْوَاجِہٖ ثُمَّ یُسَلِّیْ وَلَا یَتَوَضَّأُ رَوَاہُ اَبُوْدَاؤدَ وَالتِّرْمِذِیُّ وَالنَّسَائِیُّ وَابْنُ مَاجَۃَ وَقَالَ التِّرْمِذِیُّ لَا یَصِحُّ عِنْدَاَصْحَابِنَا بِحَالِ إِسْنَادُ عُرْوَۃَ عَنْ عَآئِشَۃَ وِاِیْضًا اِسْنَادُ اِبْرَاھِیْمَ التَّیْمِیِّ عَنْھَا وَقَالَ اَبُوْدَاؤدَ ہٰذَا مُرْسَلٌ وَاِبْرَاھِیْمُ التَّیْمِیُّ لَمْ یَسْمَع عَنْ عَآئِشَۃَ۔

اور حضرت عائشہ ؓ فرماتی ہیں کہ سرکار دو عالم ﷺ اپنی بعض بیویوں کا بوسہ لیتے تھے اور بغیر وضو کے (پہلے ہی وضو سے) نماز پڑھ لیتے تھے (ابوداؤد، جامع ترمذی، سنن نسائی ابن ماجہ) جامع ترمذی نے کہا ہے کہ ہمارے علماء کے نزدیک کسی حال میں عروہ کی سند حضرت عائشہ ؓ سے نیز ابراہیم تیمی کی بھی سند حضرت عائشہ ؓ سے صحیح نہیں ہے اور ابوداؤد نے کہا ہے کہ یہ حدیث مرسل ہے اس لئے کہ ابراہیم تیمی نے حضرت عائشہ ؓ سے نہیں سنا ہے۔ تشریح اس مسئلہ میں بھی علماء کا اختلاف ہے چناچہ حضرت امام شافعی (رح) اور امام مسند احمد بن حنبل کے نزدیک غیر محرم عورت کو چھونے سے وضو ٹوٹا جاتا ہے، حضرت امام مالک (رح) فرماتے ہیں کہ غیر محرم عورت کو اگر شہوت کے ساتھ چھوئے تو وضو ٹوٹ جائے گا، ورنہ نہیں ٹوٹے گا ہمارے امام اعظم ابوحنیفہ (رح) کے نزدیک وضو نہیں ٹوٹتا، ان کی دلیل یہی حدیث ہے، نیز حضرت عائشہ ؓ کی ایک دوسری حدیث بھی جو صحیح البخاری و صحیح مسلم میں مذکور ہے حضرت امام اعظم (رح) کی دلیل ہے جس میں حضرت عائشہ صدیقہ ؓ فرماتی ہیں رسول اللہ ﷺ جب رات میں تہجد پڑھنے کے لئے بیدار ہوتے تو میں سوتی رہتی اور میرے دونوں پاؤں رسول اللہ ﷺ کے سجدہ کی جگہ پڑھے رہتے تھے چناچہ آپ ﷺ سجدہ کے وقت میرے پیروں میں ٹھونکا دیتے تھے تو میں اپنے پیر سمیٹ لیتی تھی لہٰذا اس حدیث سے بھی معلوم ہوا کہ عورت کے چھونے سے وضو نہیں ٹوٹتا، امام جامع ترمذی کا یہ کہنا عروہ ؓ کی سماعت حضرت عائشہ صدیقہ ؓ سے ثابت نہیں ہے بالکل صحیح نہیں ہے کیونکہ صحیحین میں (صحیح البخاری و صحیح مسلم) میں اکثر احادیث میں حضرت عائشہ ؓ سے حضرت عروہ ؓ کا سماع ثابت ہے معلوم ہوتا ہے کہ جامع ترمذی کے اس قول کو نقل کرنے میں مصنف مشکوٰۃ سے کچھ چوک ہوگئی ہے کیونکہ جامع ترمذی کے اس قول کا یہ مطلب نہیں لیا جاتا جو مصنف مشکوٰۃ نے اخذ کیا ہے۔ ابوداؤد (رح) کا یہ کہنا کہ یہ حدیث یعنی مرسل کی ایک قسم منقطع) ہے درا اصل حنفیہ کی اس دلیل کو کمزور کرتی ہے کہ جب یہ حدیث مرسل ہے تو حنفیہ کا اس کو اپنی دلیل میں پیش کرنا صحیح نہیں ہے ہم اس کا جواب دیتے ہیں کہ ہمارے نزدیک حدیث مرسل بھی حجت ہوتی ہے اور نہ صرف ہمارے نزدیک بلکہ جمہور علماء بھی مرسل حدیث کی حجیت کو تسلیم کرتے ہیں، لہٰذا اس حدیث کو مرسل کہہ کر اسے ناقابل استدلال قرار نہیں دیا جاسکتا۔

305Mishkaat-al-Masabih

وضو کو واجب کرنے والی چیزوں کا بیان

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسِ قَالَ اَکَلَ رَسُوْلُ اﷲِ صلی اللہ علیہ وسلم کَتِفًا ثُمَّ مَسَحَ یَدَہ، بِمَسْحِ کَانَ تَحْتَہ، ثُمَّ قَامَ فَصَلَّی۔ (رواہ ابوداؤ دو ابن ماجۃ)

اور حضرت عبداللہ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ سرکار دو عالم ﷺ نے بکری کا شانہ (یعنی بکری بریاں کے شانہ کا گوشت) کھایا، پھر اپنا ہاتھ ٹاٹ سے پونچھ لیا جو آپ ﷺ کے نیچے بچھا ہوتا تھا اور پھر کھڑے ہو کر نماز پڑھ لی۔ (ابوداؤد، ابن ماجہ) تشریح اس حدیث نے بھی حنفیہ کے اس مسلک کی توثیق کردی ہے کہ آگ سے پکی ہوئی چیز کھا لینے سے وضو نہیں ٹوٹتا، نیز اس حدیث سے یہ بھی معلوم ہوا کہ کھانا کھانے کے بعد اگر منہ پر چکنائی وغیرہ لگے تو اس کا دھونا ضروری نہیں ہے۔

306Mishkaat-al-Masabih

وضو کو واجب کرنے والی چیزوں کا بیان

وَعَنْ اُمِّ سَلَمَۃَ اَنَّھَا قَالَتْ قَرَّبْتُ اِلَی النَّبِیِّ صلی اللہ علیہ وسلم جَنْبًا مَشْوِیًّا فَاکَلَ مِنْہ، ثُمَّ قَامَ اِلَی الصَلٰوۃِ وَلَمْ یَتَوَضَّأْ۔(رواہ مسند احمد بن حنبل)

اور حضرت ام سلمہ ؓ فرماتی ہیں کہ میں رسول اللہ ﷺ کے پاس ایک بھنا ہوا پہلو لے گئی چناچہ آپ ﷺ نے اس میں سے کھایا پھر نماز کے لئے کھڑے ہوگئے اور وضو نہیں کیا (نہ ہاتھ منہ دھویا۔ (مسند احمد بن حنبل)