تقدیر پر ایمان لانے کا بیان
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسِ قَالَ قَالَ اﷲِ صَلَّی اﷲُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ صِنْفَانِ مِنْ اُمَّتِیْ لَیْسَ لَھُمَا فِی الْاِسْلَامِ نَصِیْبٌ اَلْمُرْجِئَۃُ وَالْقَدَرِیَّۃُ رَوَاہُ الْتِّرْمِذِیُّ وَقَالَ ھٰذَا حَدِیْثٌ غَرِیْبٌ۔
اور حضرت عبداللہ ابن عباس راوی ہیں کہ سرکار دو عالم ﷺ نے ارشاد فرمایا میری امت میں دو فرقے ایسے ہیں جن کو اسلام کا کچھ بھی حصہ نصیب نہیں ہے اور وہ مرجیہ و قدریہ ہیں، جامع ترمذی نے اس حدیث کو نقل کیا ہے اور کہا ہے کہ یہ حدیث غریب ہے۔
تشریح
اسلام میں ایک گروہ مرجیہ کے نام سے مشہور ہے، یہ فرقہ اعمال کے سلسلہ میں اسباب کا قائل نہیں ہے بلکہ یہ کہتا ہے کہ کسی عمل اور فعل کی نسبت بندہ کی جانب ایسی ہی ہے جیسے کسی فعل کی نسبت جمادات کی طرف کردی جائے یعنی جس طرح ایک لکڑی پتھر، روڑہ ہے کہ اس کو جس طرف پھینک دیجئے یا جدھر کو لڑھکا دیجئے وہ لڑھکتا چلا جائے گا اس کو اپنے پھینکے جانے اور لڑھکائے جانے میں کوئی دخل و اختیار نہیں ہے، بلکہ وہ پھینکنے والے اور لڑھکانے والے کے قبضہ وقدرت میں ہے، اسی طرح ایک بندہ ہے کہ اس کو اپنے کسی عمل اور فعل میں کوئی دخل اور اختیار نہیں ہے بلکہ وہ محض اور بےاختیار ہے، قدرت اس سے جیسے عمل صادر کراتی ہے وہ کرتا ہے وہ نہ کسی عمل کے از خود کرنے پر قادر ہے اور نہ کسی عمل سے باز رہنا اس کے اختیار میں ہے۔ اس کے مد مقابل ایک دوسرا فرقہ قدریہ ہے جو سرے سے تقدیر ہی کا منکر ہے، اس جماعت کا مسلک یہ ہے کہ بندہ کے اعمال میں تقدیر الہٰی کا کوئی دخل نہیں ہے بلکہ بندہ خود اپنے اعمال کا خالق اور اپنے افعال میں مختار و قادر ہے۔ وہ جو کچھ عمل کرتا ہے اپنی قدرت و اختیار کی بنا پر کرتا ہے۔ یہی مسلک معتزلہ اور روافض کا بھی ہے یہ دونوں فرقے اسلامی نقطہ نظر سے اپنے اپنے مسلک میں راہ اعتدال سے ہٹے ہوئے ہیں اس لئے کہ اگر مرجیہ کے اعتقادات کو مان لیا جائے تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ جب بندہ سے اختیار وقدرت اور ارادہ و مشیت کی نفی کر کے اسے اینٹ پتھر اور لکڑی اور غیرذی ارادہ مخلوق کی طرح مان لیا گیا اور بندہ کے ہر فعل میں اختیار وقدرت کلیۃ اللہ کا مانا گیا یا صاف لفظوں میں یہ کہا جائے کہ گویا صفات خالق کو سامنے رکھ کر صفات عبد سے انکار کردیا گیا تو قدرتی طور پر یہ بات ماننی پڑے گی کہ بندہ سے سرزد شدہ افعال خود بندہ کے نہیں کہلائے جائیں گے بلکہ ان کو اللہ کے افعال کہا جائے گا خواہ وہ فعل کسی قسم کا ہو اور کسی بھی عضو سے صادر ہوا ہو لہٰذا جب بندہ دیکھے گا تو کہا جائے گا کہ وہ نہیں دیکھ رہا ہے بلکہ اللہ دیکھ رہا ہے جب بندہ کھائے گا تو ماننا پڑے گا کہ وہ نہیں کھا رہا ہے، بندہ جب سنے گا تو تسلیم کرنا ہوگا کہ وہ نہیں سن رہا ہے بلکہ اللہ سن رہا ہے، بندہ جب سوئے گا تو یہی کہا جائے گا کہ وہ نہیں سو رہا ہے بلکہ اللہ سو رہا ہے تو گویا بندہ سے کوئی فعل بھی جب سرزد ہوگا تو یہی کہنا ہوگا کہ وہ اس بندہ سے نہیں بلکہ درحقیقت اللہ سے سرزد ہو رہا ہے۔ اور چونکہ یہ سب وجود کے آثار ہیں جن سے غافل کے موجود ہونے کا پتہ چلتا ہے تو خلاصہ یہ نکلے گا کہ بندہ اگرچہ موجود ہے لیکن حقیقت میں اس کا کوئی وجود نہیں ہے، بلکہ وہ خالق اور افعال کے درمیان ایک ایسا ذریعہ ہے جو ان افعال کے اظہار کے لئے واسطہ بن رہا ہے بلکہ موجود تو صرف اللہ کی ذات ہے ورنہ تمام کا تمام کالعدم ہے۔ لہٰذا یہ ساری حجت وحدۃ الوجود اور کثرت موجودات کی نفی پر آکر ختم ہوجائے گی جس کو بعض جاہل صوفیاء کی اصطلاح میں ہمہ اوست فرماتے ہیں جس کا حاصل کثرت موجودات اور اعیان ثابت کا برملا انکار اور ساری کثرتوں کو ایک فرضی اور وقتی کارخانہ تصور کرلینا نکل آتا ہے اور ثابت ہوجاتا ہے کہ گویا اس کائنات میں ہر چیز موجود ہو کر بھی کالعدم اور معدوم ہی ہے، موجود صرف ذات واحد ہی ہے اور کوئی نہیں اس کا نتیجہ اصطلاحی الفاظ میں یہ ہے کہ دائرہ وجود کی صرف ایک ہی نوع رہ جائے جسے واجب الوجود فرماتے ہیں اور ممکن الوجود کو کوئی نشان و پتہ ہی نہ رہے بلکہ وہ ہمیشہ کے لئے معدوم محض ہو کر رہ جائے۔ اب ظاہر ہے کہ ایجاد الٰہی یا فیضان وجود جسے تخلیق فرماتے ہیں ممکن ہی پر ہوسکتا ہے اس لئے کہ اسی میں قبول وجود کی صلاحیت ہے لیکن چونکہ وہ معنی معدوم محض ہوگیا ہے جس پر آثار وجود اور آثار زندگی ظاہر نہیں ہوسکتے، تو اب ایجاد کس پر واقع ہو اور تخلیق کس چیز کی عمل میں آئے؟ نیز ایجاد کے بعد ابقاء الٰہی یعنی تدبیر و تصرف اور ربوبیت وغیرہ ایسی وہ تمام صفات حق جن کا تعلق مخلوق سے تھا کس پر واقع ہوں گی؟ اور کہاں اپنی تجلیات دکھلائیں گی؟ جب کہ ذات الٰہی کے سوا کسی غیر کا پتہ نہیں کہ وہ ان صفات کا مورد و مظہر بن سکے، لہٰذا اس شکل میں مانند پڑے گا کہ ایجاد و ابقاء کی تمام صفات معاذ اللہ معطل و بیکار ثابت ہوگئیں ہیں اور تعطل اگر عدم نہیں تو کالعدم ضرور ہے، یا بالفاظ دیگر افعال باری کا عدم ہے جو انتہائی نقص ہے۔ اور جب کہ یہ تمام فعلی کمالات صفات وجود کے آثار تھے جو ذات حق سے منتفی ہوگئے تو بلا شبہ اللہ کا وجود ان کی نفی سے ناقص ٹھہرا اور اللہ کی بےعیب ذات کتنے ہی کمالات مثلا ظہور صفات اور افعال سے کو ری رہ گئی جن پر معبودیت کا کارخانہ قائم تھا اور ظاہر ہے کہ نقص صفات اور نقص افعال کے ساتھ خدائی جمع نہیں ہوسکتی، تو ایسی ناقص ذات کو اللہ نہیں کہہ سکتے، نتیجہ یہ نکلا کہ نہ خالق رہا اور نہ مخلوق رہی۔ غور کیجئے کہ مرجیہ کے نظریات نے بندہ کو مجبور محض اور بےاختیار تصور کیا اور اس کے تمام افعال و اعمال کی ذمہ داری تقدیر الہٰی کے سر ڈال دی، نتیجہ یہ نکلا کہ انہوں نے بندہ کے اختیار وقدرت کا انکار کیا تھا تو انجام کار اللہ کی صفات افعال ایجاد، ترزیق اور قیومیت و تدبیر وغیرہ سے ہاتھ دھونا پڑا۔ اب ذرا قدریہ کے مسلک کی تنقیح بھی کرلیجئے اس جماعت نے مرجیہ کا رد عمل کرتے ہوئے اس سلسلہ میں محض صفات عہد کو سامنے رکھا اور صفات معبود سے صرف نظر کرلیا، یعنی بندہ کے اختیارت وقدرت، ارادہ مشیت اور فعل اور عمل کو اس درجہ میں مستقل اور آزاد بتلایا کہ اس میں اللہ کے ارادہ قدرت اور اختیار و فعل کو دخل ہی نہیں حتی کہ بعض غالی قدریہ نے یہاں تک کہہ دیا کہ اللہ کو بندہ کے افعال کا علم بھی اس وقت ہوتا ہے جب بندہ اسے کرلیتا ہے، گویا بندہ کے استعمال اختیار کی حد تک نہ اللہ میں ارادہ ہے، نہ قدرت کو اختیار ہے نہ مشیت، حتی کہ نہ سابق علم نہ خبر۔ لہٰذا مرجیہ نے تو تقدیر سے مثلاً صفات خالق ارادہ، علم، قدرت، اختیار وغیرہ کو اللہ سے وابستہ کر کے بندے کو ان سے کورا مان لیا اور قدریہ نے ان صفات کو بندہ سے مستقلاً وابستہ کر کے اللہ کو ان سے خالی مان لیا۔ غور کیجئے! اس لئے کہ اتنی بات تو ظاہر ہے کہ بندہ منٹ بھر میں سینکڑوں اچھے برے افعال اور حرکات و سکنات مختلف اندازوں سے کر گزرتا ہے جس کے عمر بھر کے افعال و حرکات کی گنتی ناممکن ہے، پھر انسانی تصرفات کی حدود اسی عالم تک نہیں ہیں، اس لئے کہ بعض ایسے متعدی افعال بھی ہیں جن میں انسان دوسری اشیاء کائنات کو مفعول بناتا ہے ظاہر ہے ان اشیاء عالم میں جو اس کے تسخیر و تصرف میں آتی ہیں، زمین سے لے کر آسمان تک ساری ہی مخلوقات داخل ہیں۔ لہٰذا سارے انسانوں کے یہ تمام افعال جو سارے ہی عالموں میں پھیلے ہوئے ہیں اور بقول قدریہ یہ انسانوں کی ایسی مخلوقات ہیں جن کی ایجاد و تخلیق میں اللہ کا دخل تو کیا ہوتا ان پر اس کا نہ زور چل سکتا ہے اور نہ ہی اسے ان کی پیدائش سے پہلے ان کا علم ہی ہوتا ہے گویا انسان جو خود اپنی تخلیق میں بےبس ہے اسے تو ان کی تخلیق کا ارادہ کرتے وقت علم ہوجاتا ہے کہ اسے کیا اور کب پیدا کرنا ہے، مگر نعوذ باللہ اللہ اتنا بیخبر اور لا علم کہ اسے یہ بھی خبر نہیں ہوتی کہ کون سی چیز کب پیدا ہوئی اور کون سا فعل کب صادر ہوا۔ اس صورت میں یقینا انسان کی تخلیق کا شمار اللہ کی مخلوقات کے شمار سے بڑھ جائے گا، اس لئے کہ اللہ تو انسان کا خالق ہے اور انسان تمام افعال و اشیاء کا خالق ہے اور ظاہر ہے کہ انسان کی نسبت سے ان کا افعال بلا شبہ کروڑوں گنا زیادہ ہیں، اس لئے کوئی وجہ نہیں کہ انسانی مخلوقات اللہ کی مخلوقات سے زیادہ نہیں نہ ہوجائے اور پھر مخلوقات بھی ایسی کہ خدائی سرحد سے بالکل خارج جس پر اس کو کوئی بس نہ ہو بلکہ علم قدیم بھی نہ ہو پس اس معاملہ میں کہنا پڑے گا کہ اللہ تو بےبس ہوگیا اور انسان مختار کل ہوگیا، بندہ تو خدائی حدود میں آگیا اور اللہ بندوں کی صف میں جا بیٹھا، یعنی بندہ کا زور تو اللہ کی خدائی پر چل گیا کہ اس نے افعال و اشیاء کی تخلیقات کر ڈالیں اور اللہ کا بس اپنی خدائی پر بھی نہ رہا کہ اس ان مخلوقات کے وجود میں آنے کا علم بھی نہ ہوسکا اور اس مقام پر آکر اس کا ارادہ، قدرت، مشیت اور اختیار وغیرہ سب بےکار اور معطل ہو کر رہ گئے۔ (ماخوذاز مسئلہ تقدیر مصنفہ حکیم الاسلام مولانا محمد طیب صاحب مدظلہ) یہ ہے ان دونوں فرقوں کے مسلک کی حقیقت اور اس کا انجام ظاہر ہے کہ یہ دونوں نظریے اپنی اپنی جگہ اسلامی نقطہ نظر سے نہ صرف یہ کہ حد اعتدال سے ہٹے ہوئے ہیں بلکہ گمراہی کی طرف بڑھے ہوئے بھی ہیں جس کا نتیجہ اللہ تعالیٰ کا عذاب اور خسران آخرت کے علاوہ اور کچھ بھی نہیں ہے۔ ان دونوں کے مقابلے میں اہل سنت والجماعت کا مسلک بالکل صاف اور صحیح ہے علماء حق فرماتے ہیں کہ تمام افعال و اعمال کا خالق رب قدوس ہے اور کا سب بندہ ہے یعنی دنیا میں جتنی چیزیں وقوع پذیر ہوتی ہیں یا ہونے والی ہیں وہ سب اللہ کے حکم اور اس کے ارادہ و علم سے ہوتی ہیں، اسی طرح بندوں سے جو کچھ افعال سرزد ہوتے ہیں خواہ وہ افعال نیک ہوں یا افعال بد سب نوشتہ تقدیر کے مطابق دونوں راستے واضح کردیئے ہیں اور ساتھ ہی یہ اعلان بھی کردیا کہ اگر نیکی و بھلائی کے راستے کو اختیار کرو گے تو سعادت و نیک بختی سے نوازے جاؤ گے اور اگر کوئی برائی و بدی کے راستے کو اختیار کرو گے تو اللہ تعالیٰ کے عذاب میں گرفتار کئے جاؤ گے لہٰذا بندہ اسباب کسب کے اعتبار سے اپنے ہر عمل و فعل میں مختار ہے۔ گویا اہل سنت والجماعت بندہ کو بیک وقت مختار بھی فرماتے ہیں اور مجبور بھی مگر درمیانی انداز سے کہ اسے نہ مختار مطلق جانتے ہیں نہ مجبور محض یعنی ایک طرف سے اسے مختار مان کر زنجیر تقدیر سے پابستہ بھی فرماتے ہیں اور دوسری طرف اسے مجبور کہہ کر اینٹ و پتھر کی طرح بےحس بھی تسلیم نہیں کرتے۔ بہر حال اس حدیث سے بظاہر معلوم ہوتا ہے کہ دونوں فرقے یعنی مرجیہ اور قدریہ کافر ہیں لیکن حضرت شیخ عبدالحق محدث دہلوی کی تحقیق کے مطابق علماء کا قول مختار یہ ہے کہ یہ دونوں فرقے کافر نہیں ہیں البتہ فاسق ہیں کیوں کہ یہ فرقے بھی قرآن و حدیث ہی سے تمسک کرتے ہیں اور اپنے نظریات میں تاویل و توضیح کر کے کفر کے دائرہ سے اپنے آپ کو بچاتے ہیں۔ لہٰذا اس حدیث کے بارے میں کہا جائے گا کہ اس سے ان فرقوں کی زجر و ملامت مقصود ہے اور ان کے غلط عقائد کی گمراہی کو واضح کرنا ہے جس میں اس شدت و سختی کے ساتھ ان کے مذہب کا رد کیا جارہا ہے۔ بعض حضرات اس حدیث کی صحت میں بھی کلام کیا ہے۔ حضرت شاہ اسحق کی تحقیق اس کے برخلاف ہے وہ فرماتے ہیں کہ علماء محققین ان فرقوں پر کفر کا حکم لگاتے ہیں اور ان کو خارج الاسلام مانتے ہیں لیکن اس میں اختلاف ہے کہ ان کا کفر آیا تاویلی ہے یا ارتدادی۔
تقدیر پر ایمان لانے کا بیان
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ سَمِعْتُ رَسُوْلَ اﷲِ صَلَّی اﷲُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَقُوْلُ یَکُوْنُ فِیْۤ اُمَّتِیْ خَسْفٌ وَّمَسْخٌ وَذٰلِکَ فِی الْمُکَذِّبِیْنَ بِالْقَدْرِ۔ رَوَاُہ اَبُوْدَاؤدَ وَرَوَی التِّرْمِذِیُّ نَحْوَہ،۔
اور حضرت عبداللہ ابن عمر ؓ فرماتے ہیں کہ میں نے سرور کائنات کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے، کہ میری امت میں (اللہ کے درد ناک عذاب) زمین میں دھنس جانا اور صورتوں کا مسخ ہوجانا بھی ہوگا اور یہ عذاب ان لوگوں پر ہوگا جو تقدیر کے منکر ہیں (ابوداؤد) امام جامع ترمذی نے بھی اسی طرح کی روایت نقل کی ہے۔
تشریح
زمین میں دھنس جانا اور صورتوں کا مسخ ہوجانا اللہ تعالیٰ کی جانب سے بہت سخت عذاب ہیں جو اس امت سے پہلے دوسری امتوں پر ان کی سرکشی اور حد سے زیادہ نافرمانی کی بنا پر ہوچکے ہیں، اس امت میں بھی آخر زمانہ میں اللہ سے تمرود سرکشی اور بغاوت و نافرمانی حد سے زیادہ بڑھ جائے گی تو ان فرقوں پر یہ عذاب ہوسکتا ہے۔ لیکن بعض حضرات فرماتے ہیں کہ اس حدیث کا مطلب یہ ہے کہ اگر مسخ و خسف جیسے درد ناک عذاب میری امت پر ہوئے تو ان دونوں فرقوں پر ہوں گے۔
تقدیر پر ایمان لانے کا بیان
وَعَنْہ، قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اﷲِ صَلَّی اﷲُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ اَلْقَدَرِیَّۃُ مَجُوْسُ ھٰذِہِ الْاُمَّۃِ اِنْ مَرِضُوْافَلَا تَعُوْدُوْھُمْ وَاِنْ مَاتُوْا فَلَا تَشْھَدُوْھُمْ۔ (رواہ مسند احمد بن حنبل وابوداؤد)
اور حضرت عبداللہ ابن عمر ؓ راوی فرماتے ہیں کہ سرکار دو عالم ﷺ نے ارشاد فرمایا فرقہ قدریہ اس امت کے مجوس ہیں لہٰذا اگر وہ بیمار ہوں تو ان کی عیادت کے لئے نہ جاؤ اور اگر وہ مرجائیں تو ان کے جنازہ میں شریک مت ہونا۔ (مسند احمد بن حنبل، سنن ابوداؤد)
تشریح
اس حدیث سے قدریہ کی صریح گمراہی اور ان کی ضلالت واضح ہے کہ ان کو اس امت کا مجوس قرار دیا گیا مجوس ایک آتش پرست قوم ہے جو دو اللہ مانتی ہے ایک وہ اللہ جو نیکی و بھلائی کا پیدا کرنے والا ہے، اس کو یزداں کہتے ہیں۔ دوسرا وہ اللہ جو برائی و بدی کا پیدا کرنے والا ہے، اس کو اہرمن یعنی شیطان فرماتے ہیں۔ لہٰذا جس طرح مجوسی تعداد الٰہ کے قائل ہیں اسی طرح قدریہ بھی بےانتہا خالقوں کے قائل ہیں اس لئے کہ ان کے نزدیک ہر بندہ اپنے افعال کا خالق ہے اسی طرح جتنے بندے ہوں گے اتنے بھی خالق ہی ہوں گے، نیز جس طرح قدریہ خالق خیر الگ اور خالق شر الگ مانتے ہیں اسی طرح قدریہ بھی فرماتے ہیں کہ خیر و بھلائی کا پیدا کرنے والا تو اللہ ہے اور شر و برائی کا پیدا کرنے والا شیطان اور انسانی نفس ہے۔ حدیث سے معلوم ہوا کہ مسلمانوں کو اس فرقہ سے کلیۃ اجتناب کرنا ضروری ہے اگر وہ بیمار ہوجائیں تو ان کی عیادت کے لئے نہیں جانا چاہیے اگر وہ مرجائیں تو ان کے جنازہ میں شریک نہ ہونا چاہیے گویا غمی خوشی کسی موقع پر بھی ان کے ساتھ نہ رہنا چاہیے اور نہ ان کے ساتھ کسی قسم کا معاشرتی میل جول رکھنا جائز ہے۔ چنانچہ وہ حضرات جو اس جماعت کو کافروں کے زمرہ میں داخل کرتے ہیں اس حدیث کو اپنے ظاہری معنی پر محمول کرتے ہیں یعنی مسلمانوں کو ان کے ساتھ میل جول رکھنے سے منع کرتے ہیں۔ اور جو حضرات ان کو کافر نہیں بلکہ فاسق فرماتے ہیں وہ اس حدیث کی تاویل یہ کرتے ہیں کہ اس حدیث کا مقصد اس جماعت کی گمراہی و ضلالت کو بیان کرنا اور ان کی زجر و ملامت میں شدت کا اظہار کرنا ہے۔ لیکن حضرت شاہ محمد اسحاق دہلوی فرماتے ہیں کہ محققین کا قول یہی ہے کہ نہ تو ان کی عیادت میں جائے اور نہ ان کے جنازہ میں شریک ہوا اور جہاں تک ہو سکے ان سے قطع تعلق رکھے۔
تقدیر پر ایمان لانے کا بیان
وَعَنْ عُمَرَ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اﷲِ صَلَّی اﷲُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ لَا تُجَالِسُوْاَھْلَ الْقَدْرِوَ لَا تُفَاتِحُوْھُمْ۔ (رواہ ابودؤد)
حضرت عمر فاروق ؓ راوی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا۔ قدریہ کی ہم نشینی اختیار نہ کرو اور نہ ان کو اپنا حکم (ثالث) بناؤ۔ (ابوداؤد)
تشریح
قدریہ کے ساتھ اٹھنا بیٹھنا، ان سے مجالست کرنا اور ان کی ہم نشینی اختیار کرنا ممنوع قرار دیا گیا ہے اس لئے کہ ان کے ساتھ اٹھنے بیٹھنے اور ان کی مجلسوں میں شریک ہونے سے یہ ظاہر ہوگا کہ ان سے محبت و موانست ہے اور یہ مسلمانوں کے لئے مناسب نہیں ہے کہ کسی گمراہ جماعت سے تعلق قائم کریں اور ان سے انس و محبت کا برتاؤ کریں۔ اس لئے کہ جب ان کے ساتھ رہنا سہنا ہوگا اور ان کی ہم نشینی اختیار کی جائے گی تو ان کے غلط نظریات اور گمراہ اعتقادات کا اثر ان پاس بیٹھنے والوں پر بھی ہوگا اور ان کی گمراہی اہل مجلس کی اعتقاد و اعمال پر بھی اثر انداز ہوگی۔ اور ہوسکتا ہے کوئی شیطانی مکر و فریب میں آکر ان کے اعتقادات کو تسلیم کرے، اس لئے بنیادی طور پر ان کی مجالست و موانست سے بھی منع فرما دیا گیا ہے۔ اسی طرح حدیث سے یہ بھی ظاہر ہوا کہ مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ اپنے کسی تنازعہ میں اہل قدر کو حاکم نہ بنائیں اور نہ ان کو اپنا ثالث مقرر کریں لاتفاتحوھم کے معنی بعض حضرات یہ بھی بیان کرتے ہیں کہ اس کا مطلب یہ ہے کہ ان لوگوں کو نہ پہلے سلام کرو اور نہ از خود ان سے بات چیت شروع کرو۔ واللہ اعلم۔
تقدیر پر ایمان لانے کا بیان
وَعَنْ عَآئِشَۃَ قَالَتْ قَالَ رَسُوْلُ اﷲِ صلی اللہ علیہ وسلم سِتَّۃٌ لَعَنْتُھُمْ وَلَعَنَھُمْ اﷲُوَکُلُّ نَبِّیِ یُجَابُ اَلزَّائِدُ فِی کِتَابِ اﷲِ وَالْمُکَذِّبُ بِقَدَرِ اﷲِ وَالْمُتَسَلِّطُ بِالْجَبَرُوْتِ لِیُعِزَّ مَنْ اَذَلَّہُ اﷲُ وَیُذِلَّ مَنْ اَعَزَّہُ اﷲُ وَالْمُسْتَحِلُّ لِحُرُم اﷲ وَالْمُسْتَحِلُّ مِنْ عِتْرَتِیْ مَاحَرَّمَ اﷲُ وَالتَّارِکُ لِسُنَّتِیْ رَوَاہُ الْبَیْھَقِیُّ فِی الْمَدْخَلِ وَرَزِیْنٌ فِی کِتَابِہٖ۔ (بیہقی، رزین)
اور حضرت عائشہ صدیقہ ؓ فرماتی ہیں کہ سرکار دو عالم ﷺ نے ارشاد فرمایا۔ چھ آدمی ایسے ہیں جن پر میں لعنت بھیجتا ہوں اور اللہ نے بھی ان کو ملعون قرار دیا ہے اور ہر نبی کی دعا قبول ہوتی ہے۔ (پہلا) کتاب اللہ میں زیادتی کرنے والا (دوسرا) تقدیر الہٰی کو جھٹلانے والا۔ (تیسرا) وہ آدمی جو زبردستی غلبہ پانے کی بنا پر ایسے آدمی کو معزز بنائے جس کو اللہ نے ذلیل کر رکھا ہو اور اس آدمی کو ذلیل کرے جس کو اللہ تعالیٰ نے عزت و عظمت کی دولت سے نواز رکھا ہو۔ (چوتھا) وہ آدمی جو (حدود اللہ سے تجاوز کر کے اس چیز کو حلال جانے جسے اللہ نے حرام کیا ہو۔ (پانچواں) وہ جو میری اوالاد سے وہ چیز (قتل) حلال جانے جو اللہ نے حرام کی ہے۔ اور (چھٹا) وہ آدمی جو میری سنت کو چھوڑ دے۔ (بیہقی، رزین)
تشریح
حدیث میں جن اشخاص کا ذکر کیا گیا ہے وہ اپنے ان غلط عقائد اور گمراہ کن اعمال کی بنا پر شریعت کی نظر میں اتنے مجرم ہیں کہ سرکار دو عالم ﷺ نے ان پر لعنت فرمائی ہے اور نہ صرف یہ کہ دربار رسالت سے ان پر پھٹکار برسائی گئی ہے بلکہ وہ بارگاہ الوہیت سے بھی راندہ درگاہ کردیئے گئے۔ چناچہ کسی آدمی نے آپ ﷺ سے سوال کیا ہوگا کہ آپ ﷺ ان لوگوں پر لعنت کیوں بھیجتے ہیں؟ تو اس پر آپ ﷺ نے یہ جواب دیا کہ چونکہ خدواند قدوس نے ان کو اپنے اعمال کی بنا پر ملعون قرار دیا ہے اس لئے یہ اسی کے مستحق ہیں کہ رسول بھی ان کو ملعون قرار دے اور ظاہر ہے نبی کی لسان مقدس سے نکلی ہوئی ہر دعا اور ہر بدعا باب قبولیت تک پہنچ کر رہتی ہے اس لئے جس پر سرکار دو عالم ﷺ لعنت بھیجیں اس کی دنیا بھی برباد ہوگئی اور دین میں تباہ ہوجائے گا اسی طرف کل نبی یجاب کہہ کر اشارہ فرمایا گیا ہے۔ ویسے تو اس حدیث میں جس ترکیب کے اعتبار سے یہ جملہ معترضہ واقع ہو رہا ہے اور اس کے مقصدلعنت میں شدت ہے۔ پہلا آدمی جسے ملعون قرار دیا جارہا ہے وہ قرآن میں زیادتی کرنے والا ہے، خواہ وہ قرآن میں الفاط کی زیادتی کرے یا قرآن کی آیتوں کے ایسے معنی بیان کرے جو کتاب اللہ کے مفہوم کے خلاف اور منشاء الہٰی کے برعکس ہوں۔ تیسرا آدمی وہ ہے جو زبردستی غلبہ حاصل کرے اور اپنی ظاہری شان و شوکت کے بل بوتہ پر ان لوگوں کو معزز کرے جو اللہ کی نظروں میں ذلیل ہیں اور ان لوگوں کو ذلیل کرے جو اللہ کے یہاں بڑا مرتبہ رکھتے ہیں اور اس تیسرے آدمی سے مراد ایسے بادشاہ اور ظالم حاکم ہیں جو اپنے اغراض و مقاصد کی بنا پر حکومت و دولت کے نشہ میں اللہ کے ان صالح و نیک بندوں اور مسلمانوں کو ذلیل خوار کرتے ہیں جو اللہ کے نزدیک بڑی عزت و عظمت کے مالک ہوتے ہیں اور ایسے کافروں، جاہلوں اور بدکار لوگوں کو عزیز رکھتے ہیں جو اللہ کی نظر میں سخت ذلیل ہوتے ہیں۔ چوتھا آدمی وہ ہے جو اللہ کی قائم کی ہوئی حدود سے تجاوز کرتا ہے یعنی ان چیزوں کو حلال سمجھتا ہے جو اللہ کی جانب سے حرام کردی گئی ہیں مثلاً بیت اللہ مکہ میں جن باتوں کو اللہ نے ممنوع قرار دیا ہے جیسے کسی جانور کا شکار کرنا، درخت وغیرہ کاٹنا، یا بغیر احرام کے مکہ میں داخل ہونا، ان کو وہ حلال سمجھتا ہو، ایسے ہی سرکار دو عالم ﷺ کی اولاد کے بارے میں جن چیزوں کو اللہ نے حرام کیا ہے ان کو حرام کرتا ہو یعنی رسول اللہ صلی اللہ عنہ کی اولاد کی عزت و تعظیم کرنا ضروری ہے لیکن کوئی آدمی نہ کرنے کو جائز سمجھے یا ان کو تکلیف پہنچانا حرام قرار دیا گیا ہے ان کو تکلیف پہنچانا حلال جانے تو اس پر بھی لعنت فرمائی گئی۔ یا اس کا مطلب یہ ہے کہ کوئی آدمی میری اولاد میں سے ہونے کے باو جو ان افعال کو حلال جان کر کرتا ہے جن کو اللہ تعالیٰ نے حرام کردیا ہے اس طرح اس کا مقصد سیدوں کو تنبیہ کرنا ہے کہ یہ لوگ سرکار دو عالم ﷺ کی اولاد میں ہونے کے ناطے گناہ و معصیت سے بچتے رہیں، اس لئے کہ دوسری قوموں کے مقابلہ میں اس قوم کو گناہ و معصیت زیادہ برائی و تباہی کا باعث ہیں کیونکہ ان کا نسبی تعلق براہ راست رسول اللہ ﷺ سے ہے۔ اسی طرح پانچواں ملعون وہ آدمی قرار دیا گیا ہے جو ان چیزوں کو حرام سمجھتا ہے جسے اللہ تعالیٰ نے حلال کیا ہو۔ چھٹا ملعون آدمی کو قرار دیا گیا ہے جو سنت نبوی کو ترک کرتا ہو۔ اس کا مسئلہ یہ ہے کہ جو آدمی سستی اور کسل کی بنا پر سنت کو ترک کرتا ہو وہ گناہ گار ہے اور جو آدمی سنت کو نعوذ باللہ ناقابل اعتناء سمجھ کر چھوڑتا ہو تو وہ کافر ہے لیکن اس لعنت میں دونوں شریک ہیں۔ مگر یہ کہا جائے گا کہ جو آدمی ازراہ کسل و سستی سنت چھوڑتا ہے اس پر لعنت کرنا زجر و توبیخ کے لئے ہے اور جو آدمی ناقابل اعتناء سمجھ کر سنت کو ترک کرتا ہے اس پر حقیقۃ لعنت ہوگی ہاں اگر کوئی آدمی کسی وجہ سے کسی وقت سنت کو ترک کر دے تو اس پر گناہ نہیں ہوگا لیکن یہ بھی مناسب نہیں ہے۔ حضرت شاہ محمد اسحق دہلوی فرماتے ہیں کہ یہ وعید سنت موکدہ کے ترک کرنے پر ہے۔
تقدیر پر ایمان لانے کا بیان
وَعَنْ مَطَرِ بْنِ عُکَامِسِ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اﷲِ صَلَّی اﷲُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ اِذَا قَضَی اﷲُ لِعَبْدِ اَنْ یَّمُوْتَ بِاَرْضِ جَعَلَ لَہ، اِلَیْھَا حَاجَۃً۔ (رواہ مسند احمد بن حنبل والجامع ترمذی)
اور حضرت مطر بن عکامس ( مطر ابن عکامس السلمی کا شمار کو فیوں میں ہوتا ہے ان سے صرف یہی ایک حدیث منقول ہے، ان کے صحابی ہونے میں اختلاف ہے)۔ راوی ہیں کہ سرکار دو عالم ﷺ نے ارشاد فرمایا جب اللہ تعالیٰ کسی آدمی کی موت کو کسی زمین پر مقدر کردیتا ہے تو اس زمین کی طرف اس کی حاجت کو بھی پورا کردیتا ہے تاکہ وہاں جانے پر مجبور ہو اور وہاں جا کر موت کا شکا ہو۔ (مسند احمد بن حنبل جامع ترمذی )
تقدیر پر ایمان لانے کا بیان
وَعَنْ عَآئِشَۃَ قَالَتْ قُلْتُ یَا رَسُوْلَ اﷲِ صلی اللہ علیہ وسلم ذَرَارِیُ الْمُؤْمِنِیْنَ؟ قَالَ مِنْ اٰبَائِھِمْ فَقُلْتُ یَا رَسُوْلَ اﷲِ بَلَا عَمَلِ قَالَ اﷲُ اَعْلَمُ بِمَا کَانُوْا عَامِلِیْنَ قُلْتُ فَذَ رَارِیُ الْمُشْرِکِیْنَ؟ قَالَ مِنْ اٰبَآئِھِمْ قُلْتُ بِلَا عَمَلِ قَالَ اَﷲُ اَعْلَمُ بِمَا کَانُوْا عَا مِلِیْنَ۔ (رواہ ابوداؤد)
اور حضرت عائشہ صدیقہ ؓ راوی ہیں کہ میں نے سرکار دو عالم ﷺ سے عرض کیا، یا رسول اللہ (جنت و دوزخ کے سلسلہ میں) مسلمان بچوں کا کیا حکم ہے آپ ﷺ نے فرمایا وہ اپنے باپوں کے تابع ہیں یعنی وہ اپنے باپوں کے ساتھ جنت میں ہیں میں نے عرض کیا یا رسول اللہ بغیر کسی عمل کے؟ آپ ﷺ نے فرمایا۔ اللہ تعالیٰ خوب جانتا ہے کہ وہ بچے جو کچھ کرنے والے تھے، میں نے پھر پوچھا اچھا مشرکوں کی اولاد کے بارے میں کیا حکم ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا وہ بھی اپنے باپوں کے تابع ہیں۔ میں نے (تعجب سے) پوچھا، بغیر کسی عمل کے؟ آپ نے فرمایا اللہ ہی بہتر جانتا ہے وہ بچے جو کچھ کرنے والے تھے۔ (ابوداؤد)
تشریح
حضرت عائشہ صدیقہ ؓ کا منشاء ان مومنین اور مشرک بچوں کے بارے میں معلوم کرنا تھا جو حالت کمسنی میں اس دنیا سے کوچ کر گئے تھے اور جن سے کوئی عمل خیر یا عمل بد صادر نہیں ہوا تھا۔ سرکار دو عالم ﷺ کے جواب کے بعد حضرت عائشہ کو تعجب ہوا کہ مسلمان بچے بغیر کسی عمل کے بہشت میں کس طرح داخل ہوجائیں گے تو اس پر رسول اللہ ﷺ نے واللہ اعلم بما کانواعاملین (یعنی اللہ خوب جانتا ہے کہ وہ کیا عمل کرنے والے تھے) کہہ کر قضا و قدر کی طرف اشارہ فرما دیا کہ وہ جو کچھ عمل کرنے والے تھے وہ نوشتہ تقدیر میں محفوظ ہوچکا ہے، گو اس وقت بالفعل ان سے عمل سرزد نہیں ہوئے ہیں لیکن جو کچھ عمل وہ زندگی کی حالت میں کرتے وہ اللہ کے علم میں ہوں گے اس لئے ان کے جنتی ہونے پر تعجب نہ کرو۔ مشرک بچوں کے بارے میں علامہ تور پشتی فرماتے ہیں کہ یہاں سرکار دو عالم ﷺ کے جواب کا مطلب یہ ہے کہ وہ دنیا میں اپنے باپوں کے تابع ہیں، آخرت کا معاملہ اللہ کے سپرد ہے اور وہی جانتا ہے کہ وہاں ان کے ساتھ کیسا برتاؤ ہوگا اس لئے ان کے بارے میں کوئی حکم یقین کے ساتھ نہیں لگایا جاسکتا۔
تقدیر پر ایمان لانے کا بیان
وَعَنِ ابْنِ مَسْعُوْدِ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اﷲِ صلی اللہ علیہ وسلم اَلْوَائِدَۃُ وَالْمَوْءُ وْدَۃُ فِی النَّارِ۔ (رواہ ابوداؤد)
اور حضرت عبداللہ ابن مسعود ؓ راوی ہیں کہ سرکار دو عالم ﷺ نے ارشاد فرمایا۔ زندہ بچہ کو گاڑنے والی (عورت) اور وہ جس کو گاڑا گیا دونوں دوزخ میں ہیں۔ (سنن ابوداؤد)
تشریح
زمانہ جاہلیت میں زندہ بچوں کو دفن کردینے کا درد ناک طریقہ جاری تھا، خصوصاً لڑکی کو تو پیدا ہوتے ہی منوں مٹی کے نیچے اندوہ ناک طریقہ پر دبا دیا جاتا تھا جب اسلام کی مقدس روشنی نے ظلم و جہل کی تمام تاریکیوں کو دور کیا تو یہ غیر انسانی طریقہ بھی ختم کردیا گیا، اس کے بارے میں یہ حدیث وعید ہے اور زندہ بچوں کو دفن کردینے والوں کو دوزخی قرار دے رہی ہے۔ گاڑنے والی سے مراد وہ عورت ہے جس نے بچہ کو زمین میں دفن کیا مثلاً دائی یا نو کر انی وغیرہ اور موؤدہ، جس کو گاڑا گیا، سے مراد وہ عورت ہے جس نے اسے جنا ہے یعنی اس بچہ کی ماں جس کے حکم سے اس کو زمین میں دفن کیا گیا ہو۔ یا اس سے مراد وہی بچی ہے جس کو گاڑ دیا گیا ہے کہ جس طرح اس کے والدین دوزخی ہیں اسی طرح جب وہ بھی کمسنی کی حالت میں اس دنیا سے ختم کردی گئی تو اپنے باپ کی طرح دوزخی ہوئی جیسا کہ اس سے پہلی حدیث سے معلوم ہوا کہ حالت کمسنی میں جو بچہ اس دنیا سے چلا جاتا ہے وہ اپنے باپ کے تابع ہوتا ہے۔
تقدیر پر ایمان لانے کا بیان
عَنْ اَبِی الدَّرْدَآءِ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اﷲِ صلی اللہ علیہ وسلم اِنَّ اﷲُ عَزوَجَلَّ فَرَغَ اِلٰی کُلِّ عَبْدِ مِنْ خَلْقِہٖ مِنْ خَمْسِ مِنْ اَجَلِہٖ وَعَمَلِہٖ وَمَضْجَعِہٖ وَاَثَرِہٖ وَرِزْقِہٖ۔ (رواہ مسند احمد بن حنبل)
اور حضرت ابودرداء ( آپ کا نام عویمر ہے لیکن اس میں بہت اختلاف ہے۔ بعض نے کہا ہے اصل نام عامر بن مالک ہے اور عویمر لقب ہے لیکن یہ اپنی کنیت ابودرداء سے مشہور ہیں۔ حضرت عثمان کی شہادت سے دو سال قبل دمشق میں آپ کی وفات ہوئی ہے)۔ راوی ہیں کہ سرکار دو عالم ﷺ نے ارشاد فرمایا۔ اللہ تعالیٰ اپنے ہر ایک بندے کے متعلق پانچ باتوں سے (تقدیر لکھ کر) فارغ ہوگیا۔ (١) اس کی موت (کہ کب آئے گی) (٢) اس کے (نیک و بد) اعمال۔ (٣) اس کے رہنے کی جگہ۔ (٤) اس کی واپسی کی جگہ۔ (٥) اس کا رزق۔ (مسند احمد بن حنبل)
تشریح
ہر انسان کی پیدائش سے بھی بہت پہلے ازل ہی میں اس کے مقدر میں پانچ چیزیں لکھ دی گئی ہیں جن میں اب نہ کمی بیشی ہوسکتی ہے اور نہ ہی کوئی تغیر و تبدل ممکن ہے چناچہ ہر انسان کی تقدیر میں یہ لکھا ہوتا ہے کہ اس کی عمر کتنی ہے اور موت کب آئے گی اب جو وقت اور جو لمحہ موت کا لکھ دیا ہے اس میں ایک سیکنڈ اور ایک پل بھی تقدیم و تاخیر نہیں ہوسکتی، اسی طرح انسان کے نیک و بد اعمال بھی اس کی پیدائش سے پہلے ہی نوشتہ تقدیر ہوچکے ہوتے ہیں، کہ اس سے اعمال کیسے صادر ہوں گے، جتنے نیک اعمال لکھ دئیے گئے ہیں وہ یقینا صادر ہوں گے اور جتنے بد اعمال لکھ دیئے گئے ہیں وہ بھی اپنے وقت پر وقوع پذیر ہوں گے۔ ہر انسان کے قیام کی جگہ اور اس کے حرکات و سکنات کا مقام بھی پہلے سے متعین ہوچکا ہوتا ہے کہ کس زمین اور کس خطہ میں اس کا وجود و قیام ہوگا اور کس روئے زمین پر اس کی زندگی کے اعمال و افعال صادر ہوں گے، انسان کا رزق بھی اس کی نوشتہ تقدیر کے مطابق ہی حصہ میں آتا ہے جس کے مقدر میں جتنا اور جس قسم کا رزق لکھ دیا گیا ہے وہ ضرور اس تک پہنچے گا اگر تھوڑا ہی رزق لکھا ہے تو کم ہی ملے گا اور زیادہ لکھ دیا گیا ہے تو زیادہ ملے گا اسی طرح کسی کے مقدر میں حلال رزق لکھا گیا ہے تو وہ حلال رزق ہی کھائے گا اور اگر حرام رزق لکھ دیا گیا ہے تو وہ حرام رزق کھائے گا۔ یا رزق سے مراد یہ ہے کہ بندہ کو اس کی زندگی میں جو کچھ منافع و آسانیاں اور راحت و آرام سے پہنچنے والے ہیں سب اس کی تقدیر میں پہلے ہی لکھ دیئے گئے ہیں۔
تقدیر پر ایمان لانے کا بیان
وَعَنْ عَآئِشَۃَ قَالَتْ سَمِعْتُ رَسُوْلُ اﷲِ صلی اللہ علیہ وسلم یَقُوْلُ مَنْ تَکَلَّمَ فِیْ شَیْیءِ مِنَ الْقَدَرِ یُسْئَلُ عَنْہُ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ وَمَنْ لَّمْ یَتَکَلَّمْ فِیْہِ لَمْ یُسْئَلْ عَنْہُ۔ (رواہ ابن ماجہ)
حضرت عائشہ ؓ فرماتی ہیں کہ میں نے سرکار دوعالم ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جو شخص تقدیر کے مسئلے میں بحث و مباحثہ کرے گا قیامت میں اس سے باز پرس ہوگی اور جو (شخص اس پر ایمان لا کر) خاموشی اختیار کرے گا وہ اس مواخذہ سے بچ جائے گا۔
تشریح
اس حدیث کا مقصد تقدیر کے مسئلہ میں غور و فکر اور تحقیق و تجسس سے منع کرنا ہے کہ اللہ کے اس راز میں جو بندوں پر ظاہر نہ کرنا ہی مصلحت الٰہی ہے زیادہ بحث و مباحثہ کرنا یا اپنی عقل کی پیروی کرنا آخرت کے لئے کوئی کار آمد نہیں ہے بلکہ اس مسئلہ میں کسی قسم کا غور و فکر یا تحقیق و تجسس خسران آخرت اور قیامت میں باز پرس کا باعث ہے اس لئے فلاح وسعادت اسی میں ہے کہ تقدیر پر ایمان لایا جائے اور خاموشی اختیار کر کے عمل میں مصروف رہے۔
تقدیر پر ایمان لانے کا بیان
وَعَنِ ابْنِ الدَّیْلَمِیِّ قَالَ اَتَیْتُ اُبَیَّ بْنَ کَعْبِ فَقُلْتُ لَہ، قَدْوَقَعَ فِیْ نَفْسِیْ شَیْیءِ مِّنَ الْقَدَرِ فَحَدِثْنِیْ لَعَلَّ اﷲَ اَنْ یُّذْھِبَہ، مِنْ قَلْبِیْ فَقَالَ لَوْ اَنَّ اﷲَ عَذَّبَ اَھْلَ سَمٰوَاتِۃٖ وَاَھْلَ اَرْضِہٖ عَذَّبَھُمْ وَھُوَ غَیْرُ ظَالِمِ لَھُمْ وَلَوْ رَجْمَھُمْ کَانَتْ رَحْمَتُۃ، خَیْرً الَّھُمْ مِنْ اَعْمَالِھِمْ وَلَوْ اَنْفَقْتَ مِثْلَ اُحُدِ ذَھَبًا فِیْ سَبِیْلِ اﷲِ مَا قَبِلَہُ اﷲُ مِنْکَ حَتّٰی تُؤْمِنَ بِالْقَدْرِ وَ تَعْلَمَ اَنَّ مَا اَصَابَکَ لَمْ یَکُنْ لِیُخْطِئَکَ وَاَنَّ مَأَخْطَأَکَ لَمْ یَکُنْ لِیُصِیْبَکَ وَلَوْ مُتَّ عَلٰی غَیْرِ ھٰذَا الَدَخَلْتَ النَّارَ قَالَ ثُمَّ اَتَیْتُ عَبْدَاﷲِ بْنَ مَسْعُوْدِ فَقَالَ مِثْلَ ذٰلِکَ قَالَ ثُمَّ اَتَیْتُ حُذَیْفَۃَ بْنَ الْیَمَانِ فَقَالَ مِثْلَ ذٰلِکَ ثُمَّ اَتَیْتُ زَیْدَ بْنَ ثَابِتِ فَحَدَّثَنِیْ عَنِ النَّبِیِّ صلی اللہ علیہ وسلم مِثْلَ ذٰلِکَ۔ (رواہ مسند احمد بن حنبل ابوداؤد ابن ماجۃ)
اور حضرت ابن دیلمی (رح) (تابعی) ( حضرت ابن دیلمی (رح) تابعی ہیں اسم گرامی ضحاک بن فیروز دیلمی ہے آپ کا شمار یمن کے تابعین میں ہوتا ہے)۔ فرماتے ہیں کہ میں حضرت ابی کعب (صحابی) (حضرت ابی بن کعب انصاری و خزرجی ہیں کنیت ابوالمنذر ہے جو سرکار دو عالم ﷺ نے رکھی تھی آپ کی وفات حضرت عثمان کے دور خلافت میں ہوئی)۔ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا کہ میرے دل میں تقدیر کے بارے میں کچھ شبہات پیدا ہو رہے ہیں (کہ جب تمام چیزیں نوشتہ تقدیر کے مطابق ہیں تو پھر یہ ثواب یا عذاب کیسا؟ ) اس لئے آپ کوئی حدیث بیان کیجئے تاکہ (اس کی وجہ سے) شاید اللہ تعالیٰ میرے دل کو اس شبہ (کی گندگی) سے پاک کر دے۔ (یہ سن کر) انہوں نے فرمایا۔ اگر اللہ تعالیٰ آسمان والوں اور زمین والوں کو عذاب میں مبتلا کرے تو وہ ان پر کسی طرح کا ظلم کرنے والا نہیں ہے (یعنی وہ اہل زمین اور اہل آسمان کو کتنا ہی عذاب دے اسے ظالم نہیں کہا جائے گا) اور اگر وہ ان کو اپنی رحمت سے نواز دے تو اس کی رحمت ان کے اعمال سے یقینا بہتر ہوگی اور اگر تم اللہ کی راہ میں احد پہاڑ کے برابر سونا خرچ کرو تو تمہارا یہ عمل خیر اللہ کے نزدیک اس وقت تک قبول نہیں ہوگا جب تک کہ تم تقدیر پر کامل اعتقاد و ایمان نہ رکھو اور یہ سمجھ لو کہ جو کچھ تم کو پہنچا ہے وہ (رکنے) اور خطا کرنے والا نہ تھا اور جو چیز رک گئی اور تمہیں نہیں پہنچی تو (سمجھو کہ) وہ تمہارے مقدر میں نہیں تھی اور اگر تم اس حالت میں مرجاؤ کہ اس کے خلاف عقیدہ ہو (یعنی تقدیر پر کامل ایمان نہ ہو) تو یقینا دوزخ میں جاؤ گے، ابن دیلمی فرماتے ہیں کہ ابی بن کعب کا یہ بیان سن کر میں عبداللہ بن مسعود کی خدمت میں حاضر ہوا اور انہوں نے بھی یہی بیان کیا پھر حذیفہ بن یمان کے پاس گیا تو انہوں نے بھی یہی کہا اور پھر میں زید بن ثابت کے پاس پہنچا انہوں نے اس قسم کی حدیث کو رسول اللہ ﷺ سے روایت کیا۔ (مسند احمد بن حنبل، ابوداؤد، سنن ابن ماجہ)
تشریح
حدیث کے الفاظ اَنَّ مَا اَصَابَکَ لَمْ یَکُنْ لِیُخْطِئَکَ الخ کا مطلب یہ ہے کہ تمہیں جو کچھ حاصل ہو اس کے بارے میں یہ نہ کہو کہ اسے میں نے اپنی سعی و کوشش سے حاصل کیا ہے اور اگر کوئی چیز تمہیں نہ ملے تو یہ مت کہو کہ اگر یہ کوشش اور جدوجہد کرتا تو ضرور اسے حاصل کرلیتا اس لئے کہ جو کچھ تم تک پہنچا ہے اس میں تمہاری سعی و کوشش کو دخل نہیں ہوتا بلکہ وہ نوشتہ تقدیر کے مطابق پہنچتا ہے اور جو چیز تمہیں نہیں ملی وہ چونکہ ہمارے تمہارے مقدر میں نہیں تھی اس لئے وہ تمہاری کوشش سے بھی نہیں ملتی اس لئے یہ جان لینا چاہیے کہ کسی چیز کا حاصل ہونا اور نہ ملنا سب تقدیر الہٰی کے مطابق ہے۔
تقدیر پر ایمان لانے کا بیان
وَعَنْ نَّافِعِ اَنَّ رَجُلًا اَتَی ابْنَ عُمَرَ قَالَ اِنَّ فُلاَنًا یُقْرَأُ عَلَیْکَ السَّلَامَ فَقَالَ اِنَّہ، بَلَغَنِیْۤ اَنَّہ، قَدْ اَحْدَثَ فَاِنْ کَانَ قَدْ اَحْدَثَ فَلَا تُقْرِئْہ، مِنِّی السَّلَامَ فَاِنِّیْ سَمِعْتُ رَسُوْلَ اﷲِ صلی اللہ علیہ وسلم یَقُوْلُ یَکُوْنُ فِیْ اُمَّتِیْ اَوْفِیْ ھٰذِہِ الاُمَّۃِ خَسْفٌ وَّمَسْخُ اَوْ قَذْفٌ فِیْۤ اَھْلِ الْقَدْرِ رَوَاہُ التِّرْمِذِیُّ وَ اَبُوْدَاؤدَ وَابْنُ مَاجَۃَ وَقَالَ التِّرْمِذِیُّ ھٰذَا حَدِیْثٌ حَسَنٌ صَحِیْحٌ غَرِیْبٌ۔
اور حضرت نافع ؓ ( حضرت نافع کا شمار جلیل القدر تابعین میں ہوتا ہے ١١٠ ھ میں آپ کا انتقال ہوا ہے)۔ کی روایت ہے کہ ایک آدمی حضرت عبداللہ ابن عمر ؓ کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہا کہ فلاں آدمی نے آپ کو سلام کہا ہے۔ حضرت عبداللہ ابن عمر ؓ نے فرمایا۔ مجھے معلوم ہے کہ اس آدمی نے دین میں (کوئی) نئی بات نکالی ہے اگر واقعی اس نے دین میں (کوئی) نئی بات پیدا کی ہے۔ تو میری طرف سے (جواب میں) اسے سلام نہ پہنچاؤ، اس لئے کہ میں نے سرکار دو عالم ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ میری امت میں سے یا یہ فرمایا کہ اس امت میں سے (اللہ کے درد ناک عذاب زمین میں دھنس جانا اور صورت کا مسخ ہوجانا یا سنگساری اہل قدر) (یعنی تقدیر کا انکار کرنے والوں) پر ہوگا۔ (جامع ترمذی، سنن ابوداؤد، سنن ابن ماجہ) اور امام ترمذی نے فرمایا کہ یہ حدیث حسن صحیح و غریب ہے۔
تشریح
آنے والے نے حضرت عبداللہ ابن عمر ؓ تک جس آدمی کا سلام پہنچایا تھا اس کے بارے میں حضرت عبداللہ ابن عمر ؓ کو معلوم ہوا ہوگا کہ اس نے اپنی طرف سے دین میں نئی باتیں پیدا کی ہیں یعنی وہ تقدیر کا انکار کرتا ہے۔ لہٰذا حضرت عبداللہ ابن عمر ؓ نے فرمایا کہ اس کے سلام کے جواب میں میرا سلام اس تک نہ پہنچانا کیونکہ ہمیں اس بات کا حکم دیا گیا ہے کہ ہم ایسے لوگوں سے سلام کلام نہ کریں اور نہ ان سے تعلقات قائم کریں جو بدعتی ہوں اور خدا، اللہ کے رسول کے قائم کی ہوئی حدود سے تجاوز کرتے ہوں۔ چنانچہ علماء اسی حدیث کی بنا پر اس بات کا حکم لگاتے ہیں کہ فاسق و فاجر و اہل بدعت کے سلام کا جواب دینا واجب نہیں ہے بلکہ سنت بھی نہیں ہے اور چونکہ ان کے ساتھ یہ معاملہ ان کی تنبیہ کے لئے ہے اس لئے ان سے ترک ملاقات بھی جائز ہے
تقدیر پر ایمان لانے کا بیان
وَعَنْ عَلِیِّ قَالَ سَأَلَتْ خَدِیْجَۃُ النَّبِیَّ صلی اللہ علیہ وسلم عَنْ وَلَدَیْنِ مَا تَا لَھَا فِی الْجَاھِلِیَّۃِ فَقَالَ رَسُوْلُ اﷲِ صلی اللہ علیہ وسلم ھُمَا فِی النَّارِ قَالَ فَلَمَّا رَأَی لْکَرَاھَۃَ فِیْ وَجْھِھَا قَالَ لَوْرَاَیْتِ مَکَانَھُمَا لَاَ بْغَضْتِھِمَا قَالَتْ یَا رَسُوْلَ اﷲِ فَوَلَدِیْ مِنْکَ قَالَ فِی الْجَنَّۃِ ثُمَّ قَالَ رَسُوْلُ اﷲِ صلی اللہ علیہ وسلم اِنَّ الْمُؤْمِنِیْنَ وَاَوْ لَا دَھُمْ فِی الْجَنَّۃِ وَاِنَّ الْمُشْرِکِیْنَ وَاَوْلَادَھُمْ فِی النَّارِ ثُمَّ قَرَأَرَسُوْلُ اﷲِ صلی اللہ علیہ وسلم وَالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَاتَّبَعَتْھُمْ ذُرِّیَّتَھُمْ۔(رواہ مسند احمد بن حنبل)
اور حضرت علی کرم اللہ وجہہ راوی ہیں کہ حضرت خدیجہ ( ام المومنین حضرت خدیجہ الکبری خدیجہ بنت خویلد قریشیہ اور اسدیہ سرکار دو عالم ﷺ کی سب سے پہلی زوجہ مطہرہ ہیں حضرت خدیجہ کا سب سے بڑا امتیازی شرف یہ ہے کہ آپ تمام مردوں اور عورتوں میں سب سے پہلے اسلام لائیں ہیں۔ آپ کا انتقال ہجرت سے تین سال پہلے مکہ مکرمہ رمضان کے مہینہ میں ٦٥ سال کی عمر میں ہوا)۔ آپ نے سرکار دو عالم ﷺ سے اپنے دونوں بچوں کے بارے میں پوچھا جو زمانہ جاہلیت میں (اسلام سے پہلے) فوت ہو گے تھے (کہ وہ جنتی ہیں یا دوزخی) سرکار دو عالم ﷺ نے فرمایا کہ وہ دونوں (بچے) دوزخ میں ہیں، حضرت علی ؓ فرماتے ہیں کہ جب رسول اللہ ﷺ نے حضرت خدیجہ کے چہرہ کا رنگ (اپنے بچوں کے بارے میں سن کر) بد لا ہوا (یعنی ان کو رنجیدہ) دیکھا تو فرمایا اگر تم ان (بچوں) کے ٹھکانے اور ان کا حال دیکھو کہ وہ کس طرح اللہ کی رحمت سے دور ہیں تو تم کو ان (بچوں) سے نفرت ہوجائے، پھر حضرت خدیجہ نے عرض کیا، یا رسول اللہ! اچھا میری وہ اولاد جو آپ ﷺ سے پیدا ہوئی ہے (قاسم اور عبدا اللہ) آپ نے فرمایا وہ جنت میں ہیں، اس کے بعد رسول اللہ ﷺ نے یہ فرمایا کہ مومنین اور ان کی اولاد جنت میں ہیں اور مشرکین کی اولاد دوزخ میں ہیں، اس کے بعد آپ نے یہ آیت تلاوت فرمائی (وَالَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَاتَّبَعَتْهُمْ ذُرِّيَّ تُهُمْ بِاِيْمَانٍ اَلْحَ قْنَا بِهِمْ ذُرِّيَّتَهُمْ ) (52۔ الطور 21) ترجمہ جو لوگ ایمان لائے اور ان کی اولاد نے ان کی اطاعت کی (تو) ہم ان کی اولاد کو (جنت میں) انہیں کے ساتھ رکھیں گے۔ (مسند احمد بن حنبل)
تقدیر پر ایمان لانے کا بیان
وَعَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ قَالَ قَالَ رَسُوْلَ اﷲِ صلی اللہ علیہ وسلم لَمَّا خَلَقَ اﷲُ اٰدَمَ مَسَحَ ظَھْرَہ، فَسَقَطَ مِنْ ظَھْرِہٖ کُلُّ نَسَمَۃِ ھُوَ خَالِقُھَا مِنْ ذُرِّیَّتِہٖ اِلٰی یَوْمِ الْقِیَامَۃِ وَجَعَلَ بَیْنَ عَیْنِیْ کُلِّ اِنْسَانِ مِنْھُمْ وَبِیْصًا مِّنْ نُّوْرِ ثُمَّ عَرَ ضَھُمْ عَلٰۤی اٰدَمَ فَقَالَ اَیْ رَبِّ مَنْ ھٰۤؤُلَآ ءِ فَقَالَ ذُرِّیَّتُکَ فَرَأَی رَجُلًا مِّنْھُمْ فَاَعْجَبَہ، وَبِصْیُ مَابَیْنَ عَیْنَیْہِ قَالَ اَیْ رَبِّ مَنْ ھٰذَا قَالَ دَاؤدُ فَقَالَ اَیْ رَبِّ کَمْ جَعَلْتَ عُمْرَہ، قَالَ سِتِّیْنَ سَنَۃً قَالَ رَبِّ زِدْہُ مِنْ عُمُرِیْ اَرْبَعِیْنَ سَنَۃً قَالَ رَسُوْلُ اﷲِ صلی اللہ علیہ وسلم فَلَمَّا اِنْقَضٰی عُمْرُ اٰدَمَ اِلَّا اَرْبَعِیْنَ جَآءَ ،ہ مَلَکُ الْمَوْتِ فَقَالَ اٰدَمُ اَوَلَمْ یَبْقَ مِنْ عُمُرِیْ اَرْبَعُوْنَ سَنَۃً قَالَ اَوَلَمْ تُعْطِھَا ابْنَکَ دَاؤدَ فَجَحَدَ اٰدَمُ فَجَحَدَتْ ذُرِّیَّتُہ، وَنَسِیَ اٰدَمُ فَاَکَلَ مِنَ الشَّجَرَۃِ فَنَسِیَتْ ذُرِّیَّتُہ، وَ خَطَأَ اٰدَمُ وَخَطَأَتْ ذُرِّیَّتُہ،۔ (رواہ الجامع ترمذی)
اور حضرت ابوہریرہ راوی ہیں کہ سرکار دو عالم ﷺ نے ارشاد فرمایا جب اللہ تعالیٰ نے آدم (علیہ السلام) کو پیدا کیا (تو ان کی پیٹھ پر ہاتھ پھیرا (یعنی فرشتہ کو ہاتھ پھیرنے کا حکم دیا) چناچہ اس کی پشت سے وہ تمام جانیں نکل پڑیں جن کو آدم (علیہ السلام) کی اولاد میں اللہ تعالیٰ قیامت تک پیدا کرنے والا تھا اور ان میں سے ہر ایک آدمی کی دونوں آنکھوں کے درمیان نور کی چمک رکھی، پھر ان سب کو آدم (علیہ السلام) کے رو برو کھڑا کیا ( ان سب کو دیکھ کر) آدم (علیہ السلام) نے پوچھا، پروردگار! یہ کون ہیں؟ پروردگار نے فرمایا یہ سب تمہاری اولاد ہیں۔ آدم (علیہ السلام) نے ان میں سے ایک آدمی کو دیکھا جس کی آنکھوں کے درمیان غیر معمولی چمک ان کو بہت بھلی لگ رہی تھی، پوچھا پروردگار! یہ کون ہے؟ فرمایا یہ داؤد (علیہ السلام) ہیں۔ آدم (علیہ السلام) نے عرض کیا، میرے پروردگار! تو نے ان کی عمر کتنی مقرر کی ہے؟ فرمایا ساٹھ برس حضرت آدم (علیہ السلام) نے عرض کیا، میرے پروردگار! اس کی عمر میں میری عمر سے چالیس سال زیادہ کر دے راوی فرماتے ہیں کہ سرکار دو عالم نے فرمایا جب حضرت آدم کی عمر میں چالیس سال باقی رہ گئے تو موت کا فرشتہ ان کے پاس آیا، حضرت آدم نے اس سے کہا، کیا ابھی میری عمر میں چالیس سال باقی نہیں ہیں؟ ملک الموت نے کہا، کیا آپ ﷺ نے اپنی عمر میں سے چالیس سال اپنے بیٹے داؤد کو نہیں دیئے تھے؟ چناچہ حضرت آدم (علیہ السلام) نے اس سے انکار کیا اور ان کی اولاد بھی انکار کرتی ہے اور آدم (علیہ السلام) (اپنے عہد کو) بھول گئے اور انہوں نے شجر ممنوعہ کو کھالیا اور ان کی اولاد بھی بھولتی ہے اور حضرت آدم (علیہ السلام) نے خطاء کی تھی اور ان کی اولاد بھی خطاء کرتی ہے۔ (جامع ترمذی )
تقدیر پر ایمان لانے کا بیان
وَعَنْ اَبِی الدَّرْدَآءِ عَنِ النَّبِیِّ صلی اللہ علیہ وسلم قَالَ خَلَقَ اﷲُ اٰدَمَ حِیْنَ خَلَقَہ، فَضَرَبَ کَتِفَہُ الْیُمْنٰی فَاَخْرَجَ ذُرِّیَّۃً بَیْضَآءَ کَاَنَّھُمْ الذُّرُّ وَ ضَرَبَ کَتِفَہُ الْیُسْرٰی فَاَخْرَجَ ذُرِّیَّۃًسَوْدَآءَ کَاَنَّھُمْ الْحُمَمُ فَقَالَ لِلَّذِی فِیْ یَمِیْنِہٖ اِلَی الْجَنَّۃِ وَلَآ اُبَالِیْ وَقَالَ لِلَّذِیْ فِیْ کَتِفِہِ الْیُسْرٰی اِلَی النَّارِ وَلَآ اُبَالِیْ۔ (رواہ مسند احمد بن حنبل)
اور حضرت ابودرداء راوی ہیں کہ سرکار دو عالم ﷺ نے ارشاد فرمایا۔ جس وقت اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم (علیہ السلام) کو پیدا کیا تو ان کے داہنے مونڈھے پر ہاتھ (دست قدرت) مارا یا (مارنے کا حکم دیا) اور اس سے سفید اولاد نکالی جیسے کہ وہ چیونٹیاں تھیں، پھر بائیں مونڈھے پر ہاتھ مارا اور اس سے سیاہ اولاد نکالی جیسے کہ وہ کوئلہ تھے، پھر اللہ نے دائیں طرف والی اولاد کے بارے میں فرمایا کہ جنتی ہیں اور مجھ کو اس کی پرواہ نہیں ہے اور ان (آدم) کے بائیں مونڈھے والی اولاد کے بارے میں فرمایا کہ یہ دوزخی ہیں اور مجھ کو اس کی بھی پرواہ نہیں ہے۔ (مسند احمد بن حنبل)
تقدیر پر ایمان لانے کا بیان
وَعَنْ اَبِیْ نَضْرَۃَ اَنَّ رَجُلًا مِّنْ اَصْحَابِ النَّبِیِّ صلی اللہ علیہ وسلم یُقَالُ لَہ، اَبُوْ عَبْدِ اﷲ دَخَلَ عَلَیْہِ اَصْحَابُہ، یَعُوْدُوْنَہ، وَھُوَ یَبْکِیْ فَقَالُوْا لَہ، مَا یُبْکِیْکَ اَلَمْ یَقُلْ لَّکَ رَسُوْلُ اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم خُذْ مِنْ شَارِبِکَ ثُمَّ اَقِرَّہ، حَتّٰی تَلْقَانِی قَالَ بَلٰی وَلٰکِنْ سَمِعْتُ رَسُوْلُ اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم یَقُوْلُ اِنَّ اﷲ عَزَّوَجَلَّ قَبَضَ بِیَمِیْنِہٖ قَبْضَۃً وَاُخْرٰی بِالْیَدِ الْاُخْرٰی وَقَالَ ھٰذِہٖ لِھٰذَہٖٖ لھذہٖ وَلَآ اَدرِیْ فِیۤ اَی الْقَبْضَتَیْنِ اَنَا۔(رواہ مسند احمد بن حنبل)
اور حضرت ابونضرہ (حضرت ابونضرہ بن منذر بن مالک العبدی کا شمار بصرہ کے جلیل القدر تابعین میں ہوتا ہے آپ کا انتقال حضرت حسن بصری (رح) سے کچھ دنوں پہلے ہوا ہے)۔ راوی کہتے ہیں کہ سرکار دو عالم ﷺ کے صحابہ میں سے ایک آدمی جن کا نام عبداللہ تھا، ان کے پاس ان کے دوست ان کی عیادت کے لئے گئے (تو انہوں نے دیکھا) کہ وہ (ابوعبدا اللہ) رو رہے تھے۔ انہوں نے کہا، کہ آپ کو کس چیز نے رونے پر مجبور کیا (کیونکہ) آپ سے سرکار دو عالم ﷺ نے یہ ارشاد نہیں فرمایا تھا کہ تم اپنے لب (مونچھوں) کے بال پست کرو اور اسی پر قائم رہو یہاں تک کہ تم مجھ سے (جنت میں) ملاقات کرو۔ ابوعبداللہ نے کہا، ہاں! لیکن میں نے سرکار دو عالم ﷺ کو یہ (بھی) فرماتے سنا ہے کہ اللہ بزرگ و برتر نے اپنے داہنے ہاتھ کی مٹھی میں ایک جماعت لی اور فرمایا کہ یہ (داہنے ہاتھ کی جماعت) جنت کے لئے ہے اور بائیں ہاتھ کی جماعت دوزخ کے لئے ہے اور مجھے اس کی پرواہ نہیں ہے، یہ کہہ کر ابوعبداللہ نے فرمایا میں نہیں جانتا کہ میں کس مٹھی میں ہوں (یعنی داہنی مٹھی ہوں یا باہنی مٹھی میں ہوں)۔ (مسند احمد بن حنبل) فائدہ حضرت ابوعبداللہ صحابی بیمار ہوئے ان کے کچھ دوست و احباب مزاج پرسی کے لئے ان کی خدمت میں حاضر ہوئے تو دیکھا کہ وہ رو رہے ہیں، ان لوگوں نے یہ کیفت دیکھ کر کہا کہ آپ کو تو سرکار دو عالم ﷺ کی صحابیت کا شرف حاصل ہے اور پھر مزید یہ کہ رسول اللہ ﷺ نے آپ سے یہ فرمایا تھا کہ تم اپنی مونچھوں کو پست ہلکی کراتے رہنا اور اسی پر قائم رہنا یہاں تک کہ حوض کوثر پر یا جنت میں مجھ سے تم ملاقات کرو تو گویا آپ کو جنت میں سرکار دو عالم ﷺ سے ملاقات کی خوشخبری دی گئی ہے اور ظاہر ہے کہ جنت میں داخل ہونا اور اس عظیم سعادت سے بہرہ ور ہونا بغیر اسلام کے ہو نہیں سکتا، تو معلوم ہوا کہ آپ کا خاتمہ بالخیر ہوا اور آپ ایمان و اسلام کے ساتھ اس دنیا سے کوچ کریں گے، لہٰذا پھر رونا کیوں؟ اور یہ فکر و غم کیسا؟ اس کو جواب مرد حق آگاہ نے یہ دیا کہ صحیح اور بجا ہے اور اس خوشخبری کی صداقت کا اعتقاد بھی لیکن پروردگار عالم بےنیاز ہے وہ جو چاہتا ہے کرتا ہے، اس کی مرضی میں کسی کا دخل نہیں ہے اور پھر اللہ تعالیٰ نے خود یہ فرمایا ہے کہ میں جس کو چاہوں جنت کی سعادت سے نوازدوں اور جس کو چاہوں دوزخ کے حوالہ کر دوں اور مجھے اس کی پرواہ نہیں ہے۔ تو مجھے بھی یہ خوف کھائے جا رہا ہے کہ نامعلوم میرا کیا حشر ہو؟ اور دل اس خوف سے لرزاں اور آنکھیں ڈر سے اشک بار ہیں کہ نہ جانے اللہ نے میرے مقدر میں کیا لکھ رکھا ہے۔ یہ ان کے جواب کا حاصل تھا، لیکن یہ بھی ہوسکتا ہے کہ آخرت کے تصور اور خوف اللہ کے غلبہ سے اس خوشخبری کو بھول گئے ہوں اور انہیں اس کا احساس نہ رہا ہو کہ لسان نبوت نے مجھے اس خوشخبری جیسی عظیم سعادت سے بھی نواز رکھا ہے۔ علامہ طیبی علیہ الرحمۃ اس حدیث کی شرح میں فرماتے ہیں کہ اس حدیث میں اس طرف اشارہ ہے کہ مونچھیں ہلکی کرانا سنت موکدہ ہے اور اس عمل پر قائم رہنا اور ہمیشہ اس کو کرتے رہنا جنت میں دخول اور وہاں سرکار دو عالم ﷺ کے زیر سایہ ہونے کا ذریعہ ہے۔ لہٰذا اس سے معلوم ہوا کہ اس ایک سنت کو ترک کرنے سے یعنی مونچھیں پست و ہلکی نہ کرانے سے ایسی عظیم سعادت اور اتنی بڑی فلاح ہاتھ سے جاتی ہے چہ جائیکہ سنت کو ہمیشہ ترک کرتا رہے، اس لئے کہ ترک سنت پر اصرار، الحادو زندقہ تک پہنچاتا ہے۔ (نعوذ با اللہ )۔
تقدیر پر ایمان لانے کا بیان
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسِ عَنِ النَّبِیِّ صلی اللہ علیہ وسلم قَالَ اَخَذَ اﷲُ الْمِیْثَاقَ مِنْ ظَھْرِ اٰدَمَ بِنَعْمَانَ یَعْنِیْ عَرَفَۃَ فَاَخْرَجَ مِنْ صُلْبِہٖ کُلَّ ذُرِّیَّۃِ ذَرَأَھَا فَنَثَرَھُمْ بَیْنَ یَدَیْہِ کَالذَّرِّثُمَّ کُلَّمَھُمْ قُبُلًا قَالَ اَلَسْتُ بِرَبِّکُمْ قَالُوْا بَلٰی شَھِدْنَا اَنْ تَقُوْلُوْا یَوْمَ الْقِیَامَۃِ اِنَّا کُنَّا عَنْ ھٰذَا غَافِلِیْنَ اَوْتَقُوْلُوْا اِنَّمَآ اَشْرَکَ اٰبَآؤُنَا مِنْ قَبْلُ وَکُنَّا ذُرِّیَّۃً مِنْ بَعْدِھِمْ اَفَتُھْلِکُنَا بِمَا فَعَلَ الْمُبْطِوُنَ۔(رواہ مسند احمد بن حنبل، الاعراف١٧٢)
اور حضرت عبداللہ ابن عباس راوی ہیں کہ سرکار دوعالم ﷺ نے ارشاد فرمایا اللہ تعالیٰ نے میدان عرفہ کے قریب مقام نعمان میں آدم کی اس اولاد سے جو ان کی پشت سے نکلی تھی عہد لیا چناچہ آدم کی پشت سے ان کی ساری اولاد کو نکالا جن کو (ازل سے ابد) تک پیدا کرنا تھا اور ان سب کو چیونیٹوں کی طرح آدم کے سامنے پھیلا دیا پھر اللہ نے ان سے روبرو گفتگو کی، فرمایا کیا میں تمہارا رب نہیں ہوں؟ آدم کی اولاد نے کہا، بیشک آپ ہمارے رب ہیں پھر اللہ نے فرمایا یہ شہادت میں نے تم سے اس لئے لی ہے کہ کہیں تم قیامت کے دن یہ نہ کہنے لگو کہ ہم اس سے غافل و ناواقف تھے یا تم یہ نہ کہہ دو کہ ہمارے باپ دادا نے ہم سے پہلے شرک کیا تھا اور ہم ان کی اولاد تھے ہم نے ان کی اطاعت کی تھی، کیا تو باطل پرستوں کے اعمال کے سبب ہلاک کرتا ہے۔ (مسند احمد بن حنبل)
تشریح
اللہ تعالیٰ کے ارشاد کا مطلب یہ ہے کہ تم قیامت میں یہ دلیل نہیں دے سکتے کہ چونکہ ہمارے باپ دادا نے شرک کیا تھا اس لئے ہم بھی انہیں کے ساتھ رہے، یا ہم تو اپنے باپ دادا کے پیروکار اور ان کے تابع ہیں انہوں نے جو راستہ اختیار کیا ہوا تھا ہم بھی اسی پر چل رہے تھے لہٰذا اس کفر و شرک کے اصل ذمہ دار ہمارے باپ دادا ہیں جنہوں نے ہمیں اس راستہ پر ڈالا اس اعتبار سے مورد الزام وہ ٹھہر سکتے ہیں، ہم ان کی وجہ سے عذاب و دوزخ کے مستحق نہیں ہوسکتے اس لئے کہ عذاب کے حقیقی مستحق تو وہی لوگ ہیں جو اس راہ کے پیش رو تھے۔ پس اے شرک و کفر کرنے والو! جان لو کہ قیامت کے دن یہ حجت تمہارے لئے کار آمد نہیں ہو سکے گی کیونکہ اسی لئے ہم نے تم سے اپنی توحید کا اقرار پہلے ہی کر الیا ہے اور تم اس پر شہادت دے چکے ہو، نیز اسی عہد و اقرار کی توثیق اور اس کی یاد دہانی کے لئے ہر دور میں دنیا کے تمام حصوں اور تمام طبقوں میں انبیاء (علیہم السلام) تشریف لائے تاکہ وہ بنی نوع انسان کو اس کا اپنا عہدہ اقرار یاد دلائیں اور ان کو صحیح راستہ پر لگائیں۔
تقدیر پر ایمان لانے کا بیان
وَعَنْ اُبَیِّ بْنِ کَعْبِ فِیْ قَوْلِ اﷲِ عَزَّوَجَلَّ وَ اِذْ اَخَذَ رَبُّکَ مِنْ بَنِیْۤ اٰدَمَ مِنْ ظُھُوْرِ ِھْم ذُرِّیَّتَھُمْ قَالَ جَمَعَھُمْ فَجَعَلَھُمْ اَزْوَا جًا ثُمَّ صَوَّرْ ھُمْ فَاسْتَنْطَقَھُمْ فَتَکَلَّمُوْا ثُمَّ اَخَذَ عَلَیْھِمُ الْعَھْدَ وَالْمِیْثَاقَ وَاَشْھَدَ ھُمْ عَلٰی اَنْفُسِھِمْ اَلَسْتُ بِرَبِّکُمْ قَالُوْا بَلٰی قَالَ فَاِنِّیْۤ اُشْھِدُ عَلَیْکُمُ السَّمٰوَاتِ السَّبْعَ وَالْاَرْضِیْنَ السَّبْعَ وَاُشْھِدُ عَلَیْکُمْ اَبَاکُمْ اٰدَمَ اَنْ تَقُوْلُوْا یَوْمَ الْقِیَامَۃِ لَمْ نَعْلَمْ بِھٰذَا اِعْلَمُوْآ اَنَّہ، لَآ اِلٰہَ غَیْرِیْ وَلَا رَبَّ غَیْرِیْ وَلَا تُشْرِکُوْا بِیْ شَیْئًا اِنِّیْ سَاُرْسِلُ اِلَیْکُمْ رُسُلِیْ یُذَکِّرُوْنَکُمْ عَھْدِیْ وَمِیْثَاقِیْ وَاُنْزِلُ عَلَیْکُمْ کُتُبِیْ قَالُوْا شَھِدْنَا بِاَنَّکَ رَبُّنَا وَاِلٰھُنَا لَا رَبَّ لَنَا غَیْرُکَ وَلَا اِلٰہَ لَنَا غَیْرُکَ فَاَقَرُّوْ بِذٰلِکَ وَرُفِعَ عَلَیْھِمْ اٰدَمُ یَنْظُرُ اِلَیْھِمْ فَرَأی الْغَنِیَّ وَالْفَقِیْرَ وَ حَسَنَ الصُّوْرَۃِ وَدُوْنَ ذٰلِکَ فَقَالَ رَبِّ لَوْ لَا سَوَّیْتِ بَیْنَ عِبَادِکَ قَالَ اِنِّیْۤ اَحْبَبْتُ اَنْ اُشْکَرَوَرَأَی الْاَنْبِیَآءَ فِیْھِمْ مِّثْلَ السُّرُجِ عَلَیْھِمْ النُّوْرُ خُصُّوْا بِمِیْثَاقِ اَخِّرَفِی الرِّسَالَۃِ وَالنُّبْوَّۃِ وَھُوَ قَوْلَہ، تَبَارَکَ وَتَعَالٰی وَاِذْا اَخَذْنَا مِنَ النَّبِیِّنَ مِیْثَا قَھُمْ اِلٰی قَوْلِہٖ عِیْسَی بْنِ مَرْیَمَ کَانَ فِی تِلْکَ الْاَرْوَاحِ فَاَرْسَلَہ، اِلٰی مَرْیَمَ عَلَیْھَا السَّلَامُ فَحُدِّثَ عَنْ اُبَیِّ اَنَّہ، دَخَلَ مِنْ فِیِّھَا۔ (رواہ مسند احمد بن حنبل)
اور حضرت ابی بن کعب اس آیت (وَاِذْ اَخَذَ رَبُّكَ مِنْ بَنِيْ اٰدَمَ مِنْ ظُهُوْرِهِمْ ذُرِّيَّتَهُمْ ) 7۔ الاعراف 172) (جب تمہارے پروردگار نے اولاد آدم کی پشتوں سے ان کی اولاد نکالی)۔ کی تفسیر میں فرماتے ہیں کہ اللہ نے (اولاد آدم کو) جمع کیا اور ان کو طرح طرح کا قرار دیا (یعنی کسی کو مالدار کسی کو غریب کرنے کا ارادہ کیا پھر ان کو شکل و صورت عطا کی اور پھر گویائی بخشی اور انہوں نے باتیں کیں پھر ان سے عہد و پیمان کیا اور پھر ان کو اپنے اوپر گواہ قرار دے کر پوچھا کیا میں تمہارا رب نہیں ہوں؟ اولاد آدم نے کہا، بیشک! (آپ ہمارے رب ہیں) اللہ تعالیٰ نے فرمایا میں سات آسمانوں اور ساتوں زمینوں کو تمہارے سامنے گواہ بناتا ہوں اور تمہارے باپ آدم کو بھی شاہد قرار دیتا ہوں اس لئے کہ قیامت کے دن کہیں تم یہ نہ کہنے لگو کہ ہم اس سے ناواقف تھے (اس وقت) تم اچھی طرح جان لو کہ نہ تو میرے سوا کوئی معبود ہے اور نہ میرے سوا کوئی پروردگار ہے، (اور خبردار) کسی کو میرا شریک قرار نہ دینا، میں تمہارے پاس عنقریب اپنے رسول بھیجوں گا، جو تمہیں میرا عہد و پیماں یاد دلائیں گے اور تم پر اپنی کتابیں نازل کروں گا (یہ سن کر) اولاد آدم نے کہا، ہم اس بات کی گواہی دیتے ہیں کہ تو ہمارا رب ہے اور تو ہی ہمارا معبود ہے، تیرے سوا نہ تو ہمارا کوئی پروردگار ہے اور نہ تیرے علاوہ ہمارا کوئی معبود ہے، چناچہ آدم کی ساری اولاد نے اس کا اقرار کیا اور حضرت آدم کو ان کے اوپر بلند کردیا گیا وہ (اپنی نگاہیں بلند کئے ہوئے) اس منظر کو دیکھ رہے تھے۔ آدم (علیہ السلام) نے دیکھا کہ ان کی اولاد امیر بھی ہیں اور فقیر بھی اور خوبصورت بھی ہیں اور بد صورت بھی (یہ دیکھ کر انہوں نے عرض کیا، پروردگار اپنے تمام بندوں کو تو نے یکساں کیوں نہیں بنایا؟ اللہ تعالیٰ نے فرمایا میں اسے پسند کرتا ہوں کہ میرے بندے میرا شکر ادا کرتے ہیں پھر آدم نے انبیاء کو دیکھا جو چراغ کی مانند روشن تھے اور نور ان کے اوپر جلوہ گر تھا ان سے خصوصیت کے ساتھ رسالت و نبوت کے لئے عہدو پیماں لئے گئے جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا قول ہے آیت (واذاخذ من النبین میثاقہم ومنک ومن نوح و ابراہیم وموسی و عیسی بن مریم) (قرآن حکیم) ترجمہ اور جب ہم نے پیغمبروں سے ان کا عہد و پیمان لیا اور آپ محمد ﷺ سے اور نوح اور ابراہیم سے اور موسیٰ اور عیسیٰ بن مریم سے (بھی) عہد و پیمان لیا، ان روحوں کے درمیان حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) بھی تھے چناچہ ان کی روح کو اللہ تعالیٰ نے حضرت جبرائیل (علیہ السلام) کے ذریعہ حضرت مریم (علیہا السلام) کے پاس بھیج دیا۔ حضرت ابی بیان کرتے ہیں کہ یہ روح حضرت مریم (علیہا السلام) کے منہ کی طرف سے ان کے جسم میں داخل ہوگئی۔ (مسند احمد بن حنبل)
تشریح
حضرت آدم (علیہ السلام) نے جب ان ارواح میں فرق دیکھا کہ انہیں کی اولاد میں سے کوئی تو سرمایہ دار اور صاحب دولت ہے اور کوئی غریب و مفلس تو انہیں حیرت ہوئی اور انہوں نے بارگاہ الوہیت میں عرض کیا کہ الہ العلمین! سب میری اوالاد میں سے ہیں اور یہ سبھی تیرے بندے ہیں پھر ان میں یہ فرق کیوں؟ کوئی صاحب حیثیت ہے او کوئی لاچار، کسی کو عزت و دولت دے رکھی ہے اور کسی کو غربت و مفلسی!۔ اس کا جواب یہ دیا گیا ہے کہ ان میں فرق پیدا کرنے کی ایک حکمت ہے اور اس میں ایک مصلحت ہے اور وہ یہ کہ اگر میں سب کو یکساں پیدا کردیتا تو یہ شکر ادا نہ کرتے اور جب ایک انسان میں وہ صفات و خصائل پیدا کردیئے جائیں گے جو دوسرے انسانوں میں نہیں ہوں گے تو وہ ایک دوسرے کو دیکھ کر شکر ادا کیا کریں گے مثلاً تنگدست اور مفلس میں تقوی، اطاعت الٰہی کا مادہ، سکون قلب و دماغ اور دنیا سے بےفکری ہوتی ہے، جو کسی غنی اور مالدار میں نہیں ہوتی اسی طرح غنی و مالدار کو دولت کی فراوانی اور اسباب معیشت کی آسانیاں حاصل ہوتی ہیں جو غریب و محتاج کو میسر نہیں۔ لہٰذا! جس کے اندر جو خصائل ہوں گے اور وہ ان کی لذت سے نا آشنا ہوگا، دوسرے کے اندر اس کا فقدان دیکھ کر اس نعمت پر شکر گزار ہوگا جس کی بناء پر اللہ کی رحمت کا مستحق قرار دیا جائے گا۔
تقدیر پر ایمان لانے کا بیان
وَعَنْ اَبِیْ الدَّرْدَآءِ قَالَ بَیْنَمَا نَحْنُ عِنْدَ رَسُوْلِ اﷲِ صلی اللہ علیہ وسلم نَتَذَا کَرُمَا یَکُوْنُ اِذْقَالَ رَسُوْلُ اﷲِ صلی اللہ علیہ وسلم اِذَا سَمِعْتُمْ بِجَبَلِ زَالَ عَنْ مَکَانِہٖ فَصَدِّقُوْہُ وَاِذَا سَمِعْتُمْ بِرَجُلِ تَغَیَّرَ عَنْ خُلُقِہٖ فَلَا تُصَدِّقُوْا بِہٖ فَاِنَّہ، یَصِیْرُ اِلٰی مَاجُبِلَ عَلَیْہِ۔ (رواہ مسند احمد بن حنبل)
اور حضرت ابودرداء فرماتے ہیں کہ ہم سرکار دو عالم ﷺ کے پاس بیٹھے ہوئے آئندہ وقوع پذیر ہونے والی باتوں پر گفتگو کر رہے تھے رسول اللہ ﷺ نے (ہماری باتوں کو سن کر) فرمایا۔ جب تم سنو کہ کوئی پہاڑ اپنی جگہ سے سرک گیا ہے تو اسے سچ مان لو لیکن جب تم یہ سنو کہ کسی آدمی کی خلقت بدل گئی ہے تو اس کا عتبار نہ کرو اس لئے کہ انسان اسی چیز کی طرف جاتا ہے جس پر وہ پیدا کیا گیا ہے۔ (مسند احمد بن حنبل)
تشریح
صحابہ آپس میں بیٹھے ہوئے یہ بحث کر رہے تھے کہ جو چیز آئندہ ہونے والی یا جو باتیں وقوع پذیر ہونے والی ہیں، کیا وہ نوشتہ تقدیر کے مطابق ہوتی ہیں یا از خود بغیر قضاء قدر کے واقع ہوتی ہیں، سرکار دو عالم ﷺ بھی اس مجلس میں تشریف فرما تھے آپ ﷺ نے ان کی بحث سن کر فرمایا کہ ہر چیز نوشتہ تقدیر کے مطابق بر وقت وقوع پذیر ہوتی ہے اور مثال کے طور پر فرمایا کہ ایک انسان اپنی جس جبلت اور خلقت پر پیدا ہوتا ہے اسی پر ہمیشہ قائم رہتا ہے اور اسی کی طرف اس کا حقیقی میلان رہتا ہے۔ مثلا جس کو اللہ نے عقلمند و دانا پیدا کیا اور اس کی سرشت و فطرت میں عقل و دانش کا مادہ و دیعت فرمایا اور اس کی تقدیر میں فہم و فراست کے جوہر رکھ دیئے گئے تو وہ کبھی بیوقوف احمق نہیں ہوسکتا، اسی طرح جس آدمی کی جبلت و حماقت کے سانچے میں ڈھلی ہو اور جس کو فطرتا بیو قوف وپلید پیدا کیا گیا ہو وہ عقل مند و دانشور نہیں ہوسکتا۔ ہاں ایسے افراد جو اپنی ریاضت و مشقت اور ذاتی محنت و کوشش کی بنا پر عقل کی دولت حاصل کرلیتے ہیں یا اصحاب عقل و دانش کی صحبت اختیار کر کے ان اوصاف کے حامل ہوجاتے ہیں وہ اس سے مستثنیٰ ہیں، اس لئے کہ یہاں بحث جبلت اور خلقت کی ہے کہ جس انسان کو جس خصلت و فطرت پر پیدا کردیا گیا وہ اس سے الگ نہیں رہ سکتا اور نہ اس جبلت و خصلت میں تغیر و تبدل ممکن ہے۔ رہا اپنی ذاتی محنت و کوشش یا اصحاب عقل و فہم کی صحبت، تو یہ ایک دوسری چیز ہے کیونکہ یہ بھی نوشتہ تقدیر کے مطابق ہی ہے یعنی جس آدمی کی تقدیر میں لکھ دیا گیا ہے کہ یہ اپنی محنت و کوشش یا کسی عقل مند و دانشور کی صحبت و قربت کی بنا پر صاحب عقل بنے گا وہ یقینا اس وصف کو حاصل کرلے گا لیکن جس کی تقدیر میں بیوقوف رہنا ہی لکھ دیا گیا ہے یا جس کی جبلت میں حماقت رکھ دی گئی ہے اس میں نہ اپنی محنت و کوشش کام کرتی ہے اور نہ کسی عقل مند کی قربت و صحبت۔
تقدیر پر ایمان لانے کا بیان
وَعَنْ اُمِّ سَلَمَۃَ قَالَتْ یَا رَسُوْلَ اﷲِ صلی اللہ علیہ وسلم لاَ یَزَالُ یُصِیْبُکَ فِیْ کُلِّ عَامِ وَجَعٌ مِنَ الشَّاۃِ الْمَسْمُوْمَۃِ الَّتِیْ اکَلْت قَالَ مَآصَابَنِیْ شَیْءٌ مِّنْھَا اِلَّا وَھُوَ مَکْتُوْبٌ عَلَیَّ وَاٰدَمُ طِیْنَتِہٖ۔ (رواہ ابن ماجۃ)
اور حضرت ام سلمہ (ام المومنین ام سلمہ ؓ قریشیہ اور مخزومیہ ہیں سرکار دو عالم ﷺ کی زوجہ مطھرہ ہیں ٥٩ ھ میں آپ کا انتقال ہوا اور جنت البقیع میں دفن کی گئیں)۔ سے مروی ہے کہ انہوں نے سرکار دو عالم ﷺ سے عرض کیا کہ آپ ﷺ نے جو زہر آلود بکری کھائی تھی ( جو خیبر میں ایک یہودیہ نے کھلائی تھی) ہر سال اس کی وجہ سے آپ ﷺ کو تکلیف ہوتی ہے؟ آپ نے فرمایا جو چیز (یعنی اذیت و تکلیف یا بیماری) مجھ کو پہنچتی ہے وہ میرے لئے اسی وقت لکھی گئی تھی جب کہ آدم مٹی کے اندر تھے (یعنی میری تقدیر میں یوں ہی لکھا تھا)۔ (ابن ماجہ)