Mauwatta Imam Malik

All 1,740 hadiths in order · Page 77 of 87

1521Mauwatta Imam Malik

مدینہ منورہ کی حرمت کا بیان

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّهُ کَانَ يَقُولُ لَوْ رَأَيْتُ الظِّبَائَ بِالْمَدِينَةِ تَرْتَعُ مَا ذَعَرْتُهَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا بَيْنَ لَابَتَيْهَا حَرَامٌ

ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ وہ کہتے تھے اگر میں ہر نوں کو چرتے ہوئے دیکھوں مدینہ میں تو ہرگز نہ چھیڑوں ان کو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ مدینہ کے دونوں کنارے حرام ہیں۔

Malik related to me from Ibn Shihab from Said ibn al-Musayyab that Abu Hurayra said, "Had I seen a gazelle at Madina, I would have left it to graze and would not have frightened it. The Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, said, What is between the two tracts of black stones is a Haram. "

1522Mauwatta Imam Malik

مدینہ منورہ کی حرمت کا بیان

عَنْ أَبِي أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيِّ أَنَّهُ وَجَدَ غِلْمَانًا قَدْ أَلْجَئُوا ثَعْلَبًا إِلَی زَاوِيَةٍ فَطَرَدَهُمْ عَنْهُ قَالَ مَالِک لَا أَعْلَمُ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ أَفِي حَرَمِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصْنَعُ هَذَا عَنْ مَالِک عَنْ رَجُلٍ قَالَ دَخَلَ عَلَيَّ زَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ وَأَنَا بِالْأَسْوَافِ قَدْ اصْطَدْتُ نُهَسًا فَأَخَذَهُ مِنْ يَدِي فَأَرْسَلَهُ

ابو ایوب انصاری نے لڑکوں کو دیکھا انہوں نے ایک لومڑی کو گھیر رکھا تھا ایک کونے میں تو آپ نے لڑکوں کو ہنکا دیا اور لومڑی کو چھوڑ دیا۔ کہا مالک نے ابوایوب نے یہ کہا کیا رسول اللہ ﷺ کے حرم میں ایسا کام ہوتا ہے۔ ایک شخص سے روایت ہے کہ میرے پاس زید بن ثابت آئے اور میں اسواف میں تھا اور میں نے شکار کیا تھا ایک چڑیا کا انہوں نے میرے ہاتھ سے اس کو لے کر چھوڑ دیا۔

Malik related to me from Yunus ibn Yusuf from Ata ibn Yasar that Abu Ayyub al-Ansari found some boys who had driven a fox into a corner, and he chased them away from it.

1523Mauwatta Imam Malik

مدینہ کی وبا کا بیان

عَنْ عَائِشَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ أَنَّهَا قَالَتْ لَمَّا قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ وُعِکَ أَبُو بَکْرٍ وَبِلَالٌ قَالَتْ فَدَخَلْتُ عَلَيْهِمَا فَقُلْتُ يَا أَبَتِ کَيْفَ تَجِدُکَ وَيَا بِلَالُ کَيْفَ تَجِدُکَ قَالَتْ فَکَانَ أَبُو بَکْرٍ إِذَا أَخَذَتْهُ الْحُمَّی يَقُولُ کُلُّ امْرِئٍ مُصَبَّحٌ فِي أَهْلِهِ وَالْمَوْتُ أَدْنَی مِنْ شِرَاکِ نَعْلِهِ وَکَانَ بِلَالٌ إِذَا أُقْلِعَ عَنْهُ يَرْفَعُ عَقِيرَتَهُ فَيَقُولُ أَلَا لَيْتَ شِعْرِي هَلْ أَبِيتَنَّ لَيْلَةً بِوَادٍ وَحَوْلِي إِذْخِرٌ وَجَلِيلُ وَهَلْ أَرِدَنْ يَوْمًا مِيَاهَ مَجِنَّةٍ وَهَلْ يَبْدُوَنْ لِي شَامَةٌ وَطَفِيلُ قَالَتْ عَائِشَةُ فَجِئْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرْتُهُ فَقَالَ اللَّهُمَّ حَبِّبْ إِلَيْنَا الْمَدِينَةَ کَحُبِّنَا مَکَّةَ أَوْ أَشَدَّ وَصَحِّحْهَا وَبَارِکْ لَنَا فِي صَاعِهَا وَمُدِّهَا وَانْقُلْ حُمَّاهَا فَاجْعَلْهَا بِالْجُحْفَةِ عَنْ عَائِشَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ وَکَانَ عَامِرُ بْنُ فُهَيْرَةَ يَقُولُ قَدْ رَأَيْتُ الْمَوْتَ قَبْلَ ذَوْقِهِ إِنَّ الْجَبَانَ حَتْفُهُ مِنْ فَوْقِهِ

حضرت ام المومنین عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ جب رسول اللہ ﷺ مدینہ میں آئے تو ابوبکر اور بلال کو بخار آیا حضرت عائشہ ان کے پاس گئیں اور کہا کہ اے میرے باپ کیا حال ہے اے بلال کیا حال ہے حضرت عائشہ کہتی ہیں کہ ابوبکر کو جب بخار آتا تو وہ ایک شعر پڑھتے جس کا ترجمہ یہ ہے ہر آدمی صبح کرتا ہے اپنے گھر میں اور موت اس سے نزدیک ہوتی ہے اس کے جوتی کے تسمے سے۔ اور بلال کا جب بخار اترتا تو اپنی آواز نکالتے اور پکار کر کہتے کاش کہ مجھے معلوم ہوتا کہ میں ایک رات پھر مکہ کی وادی میں رہوں گا اور میرے گرد اذخر اور جلیل ہوں گی ( اذخر اور جلیل دونوں گھاس ہیں مکہ کی) اور کبھی میں پھر اتروں گا مجنہ کے پانی پر ( مجنہ ایک جگہ ہے کئی میل پر مکہ سے وہاں زمانہ جاہلیت میں بازار تھے) اور کبھی پھر دکھلائی دینگے مجھے شامہ طفیل (دو پہاڑ ہیں مکہ سے تیس میل پر یا دو چشمے ہیں) حضرت عائشہ نے یہ باتیں سن کر رسول اللہ ﷺ سے آکر بیان کیں آپ نے دعا فرمائی اے پروردگار محبت ڈال دے ہمارے دلوں میں مدینہ کی جتنی محبت تھی مکہ کی یا اس سے بھی زیادہ اور صحت اور تندرستی کردے مدینہ میں اور برکت دے اس کے صاع اور مد میں اور دور کردے بخار وہاں کا اور بھیج دے اس بخار کو جحفہ (ایک بستی ہے مکہ سے بیاسی میل دور وہاں یہودی رہتے تھے) میں۔ حضرت عائشہ ؓ نے کہا کہ عامر بن فہیرہ کہتے تھے کہ میں نے موت کو مرنے سے آگے دیکھ لیا نامرد کی موت اوپر سے آتی ہے۔

Yahya related to me from Malik from Hisham ibn Urwa from his father that Aisha, umm al-muminin said, "When the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, came to Madina, Abu Bakr (RA) and Bilal (RA) came down with a fever. I visited them and said, Father, how are you? Bilal (RA) , how are you?" She continued, "When Abu Bakrs fever worsened he would say, Every man is struck down among his people in the morning - death is nearer than the strap of his sandal." When it left Bilal (RA) , he raised his voice and said, Would that I knew whether I will spend a night at the valley of Makka with the idhkhir herb and jalil herb around me. Will I go one day to the waters of Majinna? Will the mountains of Shama and Tafil appear to me? " Aisha continued, "I went to the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, and informed him. He said, O Allah! Make us love Madina as much as we love Makka or even more. Make it sound and bless us in our sa and mudd. Remove its fever and put it in al-Juhfa. "

1524Mauwatta Imam Malik

مدینہ کی وبا کا بیان

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَی أَنْقَابِ الْمَدِينَةِ مَلَائِکَةٌ لَا يَدْخُلُهَا الطَّاعُونُ وَلَا الدَّجَّالُ

ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ فرمایا رسول اللہ ﷺ نے مدینہ کی راہوں پر فرشتے ہیں اس میں نہ طاعون آتا ہے نہ دجال۔

Yahya related to me from Malik from Nuaym ibn Abdullah al-Mujmir that Abu Hurayra said, "The Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, said, There are angels at the entries of Madina, and neither plague nor the Dajjal will enter it. "

1525Mauwatta Imam Malik

مدینہ سے یہودیوں کے نکالنے کا بیان

عَنْ عُمَرَ بْنَ عَبْدِ الْعَزِيزِ يَقُولُ کَانَ مِنْ آخِرِ مَا تَکَلَّمَ بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ قَالَ قَاتَلَ اللَّهُ الْيَهُودَ وَالنَّصَارَی اتَّخَذُوا قُبُورَ أَنْبِيَائِهِمْ مَسَاجِدَ لَا يَبْقَيَنَّ دِينَانِ بِأَرْضِ الْعَرَبِ

عمر بن عبدالعزیز سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے آخری کلام یہ فرمایا اللہ جل جلالہ تباہ کرے یہود اور نصاری کو انہوں نے اپنے پیغمبروں کی قبروں کو مسجدیں بنایا آگاہ رہو عرب میں دو دین نہ رہیں۔

Yahya related to me from Malik from Ismail ibn Abi Hakim that he heard Umar ibn Abdul Aziz say, "One of the last things that the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, said was, May Allah fight the jews and the christians. They took the graves of their Prophets as places of prostration . Two deens shall not co-exist in the land of the Arabs. "

1526Mauwatta Imam Malik

مدینہ سے یہودیوں کے نکالنے کا بیان

عَنْ ابْنِ شِهَابٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا يَجْتَمِعُ دِينَانِ فِي جَزِيرَةِ الْعَرَبِ

ابن شہاب سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جزیرہ عرب میں دو دین نہ رہیں۔

Yahya related to me from Malik from Ibn Shihab that the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, said, "Two deens shall not co-exist in the Arabian Peninsula." Malik said that Ibn Shihab said, Umar ibn al-Khattab searched for information about that until he was absolutely convinced that the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, had said, Two deens shall not co-exist in the Arabian Peninsula, and he therefore expelled the jews from Khaybar."

1527Mauwatta Imam Malik

مدینہ کی فضیلت کا بیان

عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ عَنْ أَبِيهِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ طَلَعَ لَهُ أُحُدٌ فَقَالَ هَذَا جَبَلٌ يُحِبُّنَا وَنُحِبُّهُ

عروہ بن زبیر سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا احد کو دیکھ کر کہ یہ پہاڑ ہم کو چاہتا ہے ہم بھی اسے چاہتے ہیں۔

Yahya related to me from Malik from Hisham ibn Urwa from his father that the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, came in view of Uhud and said, "This is a mountain which loves us and we love it."

1528Mauwatta Imam Malik

مدینہ کی فضیلت کا بیان

عَنْ مَالِک أَسْلَمَ مَوْلَی عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ أَخْبَرَهُ أَنَّهُ زَارَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَيَّاشٍ الْمَخْزُومِيَّ فَرَأَی عِنْدَهُ نَبِيذًا وَهُوَ بِطَرِيقِ مَکَّةَ فَقَالَ لَهُ أَسْلَمُ إِنَّ هَذَا الشَّرَابَ يُحِبُّهُ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ فَحَمَلَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَيَّاشٍ قَدَحًا عَظِيمًا فَجَائَ بِهِ إِلَی عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ فَوَضَعَهُ فِي يَدَيْهِ فَقَرَّبَهُ عُمَرُ إِلَی فِيهِ ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ فَقَالَ عُمَرُ إِنَّ هَذَا لَشَرَابٌ طَيِّبٌ فَشَرِبَ مِنْهُ ثُمَّ نَاوَلَهُ رَجُلًا عَنْ يَمِينِهِ فَلَمَّا أَدْبَرَ عَبْدُ اللَّهِ نَادَاهُ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ فَقَالَ أَأَنْتَ الْقَائِلُ لَمَکَّةُ خَيْرٌ مِنْ الْمَدِينَةِ فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ فَقُلْتُ هِيَ حَرَمُ اللَّهِ وَأَمْنُهُ وَفِيهَا بَيْتُهُ فَقَالَ عُمَرُ لَا أَقُولُ فِي بَيْتِ اللَّهِ وَلَا فِي حَرَمِهِ شَيْئًا ثُمَّ قَالَ عُمَرُ أَأَنْتَ الْقَائِلُ لَمَکَّةُ خَيْرٌ مِنْ الْمَدِينَةِ قَالَ فَقُلْتُ هِيَ حَرَمُ اللَّهِ وَأَمْنُهُ وَفِيهَا بَيْتُهُ فَقَالَ عُمَرُ لَا أَقُولُ فِي حَرَمِ اللَّهِ وَلَا فِي بَيْتِهِ شَيْئًا ثُمَّ انْصَرَفَ

اسلم جو مولیٰ ہیں عمر بن خطاب کے ان سے روایت ہے کہ ہم مکہ کے راستے میں عبداللہ بن عیاش کی ملاقات کو گئے، ان کے پاس نیبذ پائی اسلم نے کہا کہ اس شربت کو حضرت عمر ؓ بہت چاہتے ہیں عبداللہ بن عیاش ایک بڑا سا پیالہ بھر کر حضرت عمر ؓ کے پاس لائے اور ان کے سامنے رکھ دیا انہوں نے اس کو اٹھا کر پینا چاہا پھر سر اٹھا کر کہا یہ شربت بہت اچھا ہے پھر اس کو پیا اس کے بعد ایک شخص ان کے داہنی طرف بیٹھا تھا اس کو دے دیا جب عبداللہ بن عیاش لوٹ کر چلے تو حضرت عمر ؓ نے ان کو بلایا اور کہا تو کہتا ہے کہ مکہ بہتر ہے مدینہ سے عبداللہ بن عیاش نے کہا کہ وہ حرم ہے اللہ کا اور امن کی جگہ ہے اور وہاں اس کا گھر ہے حضرت عمر ؓ نے کہا میں اللہ کے گھر اور حرم کا نہیں پوچھتا (بلکہ ان دونوں میں کون سا افضل ہے) پھر حضرت عمر ؓ نے کہا تو کہتا ہے کہ مکہ بہتر ہے مدینہ سے، عبداللہ بن عیاش نے کہا کہ مکہ میں اللہ کا حرم ہے اور امن کی جگہ ہے وہاں اس کا گھر ہے حضرت عمر ؓ نے کہا میں اللہ کے گھر اور حرم میں کچھ نہیں کہتا پھر عبداللہ بن عیاش چلے گئے۔

Yahya related to me from Malik from Yahya ibn Said from Abd ar-Rahman ibn al-Qasim that Aslam, the mawla of Umar ibn al-Khattab informed him that he had visited Abdullah ibn Ayyash al-Makhzumi. He saw that he had some nabidh with him and he was at that moment on the way to Makka. Aslam said to him, Umar ibn al-Khattab loves this drink." Abdullah ibn Ayyash therefore carried a great drinking bowl and brought it to Umar ibn al-Khattab and placed it before him. Umar brought it near to him and then raised his head. Umar said, "This drink is good," so he drank some of it and then passed it to a man on his right. When Abdullah turned to go, Umar ibn al-Khattab called him and asked, "Are you the person who says that Makka is better than Madina?" Abdullah said, "I said that it was the Haram of Allah, and His place of security, and His House was in it." Umar said, "I am not saying anything about the House of Allah or His Haram." Then Umar repeated "Are you the person who says that Makka is better than Madina?" He replied, "I said that it was the Haram of Allah and His place of security, and His House was in it." Umar said, "I am not saying anything about the House of Allah and His Haram." Then Abdullah left.

1529Mauwatta Imam Malik

طاعون کا بیان

عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ خَرَجَ إِلَی الشَّامِ حَتَّی إِذَا کَانَ بِسَرْغَ لَقِيَهُ أُمَرَائُ الْأَجْنَادِ أَبُو عُبَيْدَةَ بْنُ الْجَرَّاحِ وَأَصْحَابُهُ فَأَخْبَرُوهُ أَنَّ الْوَبَأَ قَدْ وَقَعَ بِأَرْضِ الشَّامِ قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ فَقَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ ادْعُ لِي الْمُهَاجِرِينَ الْأَوَّلِينَ فَدَعَاهُمْ فَاسْتَشَارَهُمْ وَأَخْبَرَهُمْ أَنَّ الْوَبَأَ قَدْ وَقَعَ بِالشَّامِ فَاخْتَلَفُوا فَقَالَ بَعْضُهُمْ قَدْ خَرَجْتَ لِأَمْرٍ وَلَا نَرَی أَنْ تَرْجِعَ عَنْهُ وَقَالَ بَعْضُهُمْ مَعَکَ بَقِيَّةُ النَّاسِ وَأَصْحَابُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَا نَرَی أَنْ تُقْدِمَهُمْ عَلَی هَذَا الْوَبَإِ فَقَالَ عُمَرُ ارْتَفِعُوا عَنِّي ثُمَّ قَالَ ادْعُ لِي الْأَنْصَارَ فَدَعَوْتُهُمْ فَاسْتَشَارَهُمْ فَسَلَکُوا سَبِيلَ الْمُهَاجِرِينَ وَاخْتَلَفُوا کَاخْتِلَافِهِمْ فَقَالَ ارْتَفِعُوا عَنِّي ثُمَّ قَالَ ادْعُ لِي مَنْ کَانَ هَاهُنَا مِنْ مَشْيَخَةِ قُرَيْشٍ مِنْ مُهَاجِرَةِ الْفَتْحِ فَدَعَوْتُهُمْ فَلَمْ يَخْتَلِفْ عَلَيْهِ مِنْهُمُ رَجُلَانِ فَقَالُوا نَرَی أَنْ تَرْجِعَ بِالنَّاسِ وَلَا تُقْدِمَهُمْ عَلَی هَذَا الْوَبَإِ فَنَادَی عُمَرُ فِي النَّاسِ إِنِّي مُصْبِحٌ عَلَی ظَهْرٍ فَأَصْبِحُوا عَلَيْهِ فَقَالَ أَبُو عُبَيْدَةَ أَفِرَارًا مِنْ قَدَرِ اللَّهِ فَقَالَ عُمَرُ لَوْ غَيْرُکَ قَالَهَا يَا أَبَا عُبَيْدَةَ نَعَمْ نَفِرُّ مِنْ قَدَرِ اللَّهِ إِلَی قَدَرِ اللَّهِ أَرَأَيْتَ لَوْ کَانَ لَکَ إِبِلٌ فَهَبَطَتْ وَادِيًا لَهُ عُدْوَتَانِ إِحْدَاهُمَا خَصِبَةٌ وَالْأُخْرَی جَدْبَةٌ أَلَيْسَ إِنْ رَعَيْتَ الْخَصِبَةَ رَعَيْتَهَا بِقَدَرِ اللَّهِ وَإِنْ رَعَيْتَ الْجَدْبَةَ رَعَيْتَهَا بِقَدَرِ اللَّهِ فَجَائَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ وَکَانَ غَائِبًا فِي بَعْضِ حَاجَتِهِ فَقَالَ إِنَّ عِنْدِي مِنْ هَذَا عِلْمًا سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِذَا سَمِعْتُمْ بِهِ بِأَرْضٍ فَلَا تَقْدَمُوا عَلَيْهِ وَإِذَا وَقَعَ بِأَرْضٍ وَأَنْتُمْ بِهَا فَلَا تَخْرُجُوا فِرَارًا مِنْهُ قَالَ فَحَمِدَ اللَّهَ عُمَرُ ثُمَّ انْصَرَفَ

عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے کہ حضرت عمر ؓ شام کی طرف نکلے جب سرغ (ایک بستی ہے) میں پہنچے تو لشکر کے بڑے بڑے افسران سے ملے جیسے ابوعیبدہ بن جراح اور ان کے ساتھی انہوں نے کہا شام میں آج کل وباء ہے حضرت عمر ؓ نے کہا ابن عباس ؓ سے کہ بلاؤ بڑے بڑے مہاجرین کو جنہوں نے پہلے ہجرت کی ہے تو بلایا ان کو حضرت عمر ؓ نے ان سے مشورہ کیا اور بیان کیا ان سے کہ شام میں وباء ہو رہی ہے انہوں نے اختلاف کیا بعضوں نے کہا آپ کام کے واسطے نکلے ہیں لوٹنا مناسب نہیں ہے بعضوں نے کہا کہ آپ کے ساتھ اور لوگ بھی ہیں اور صحابہ ہیں مناسب نہیں کہ آپ ان کو اس وبا میں لے جائیں حضرت عمر ؓ نے کہا جاؤ اور کہا بلاؤ انصار کو ابن عباس کہتے ہیں میں نے انصار کو بلایا اور وہ آئے ان سے مشورہ کیا انہوں نے بھی مہاجرین کی مثل بیان کی اور اسی طرح اختلاف کیا آپ نے کہا جاؤ۔ پھر کہا قریش کے بوڑھے بوڑھے لوگوں کو جہنوں نے ہجرت کی فتح مکہ کے بعد بلاؤ، میں نے ان کو بلایا ان میں سے دو آدمیوں نے بھی اختلاف نہیں کیا بلکہ سب نے کہا ہمارے نزدیک مناسب یہ ہے کہ آپ لوٹ جائیں اور لوگوں کو اس وباء میں نہ لے جائیے جب حضرت عمر ؓ نے لوگوں میں منادی کرادی کہ صبح کو اونٹ پر سوار ہو کر چلے اور اس وقت ابوعیبدہ نے کہا کہ اللہ جل جلالہ کی تقدیر سے بھاگے جاتے ہو حضرت عمر ؓ نے کہا کاش یہ بات کسی اور نے کہی ہوتی ہاں ہم بھاگتے ہیں اللہ کی تقدیر سے اللہ کی تقدیر کی طرف کیا اگر تمہارے پاس اونٹ ہوں اور تم ایک وادی میں جاؤ جس کے دو کنارے ہوں ایک کنارہ سرسبز اور شاداب ہو اور دوسرا خشک اور خراب ہو اگر تو اپنے اونٹوں کو سرسبز اور شاداب میں چرائے تب بھی تو نے اللہ کی تقدیر سے چرایا اور جو تو نے خشک اور خراب میں چرائے تب بھی تو نے اللہ کی تقدیر سے چرایا اتنے میں عبدالرحمن بن عوف آئے اور وہ کہیں کام کو گئے ہوئے تھے انہوں نے کہا میں اس مسئلے کا عالم ہوں میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا کہ آپ ﷺ فرماتے تھے کہ جب تم سنو کہ کسی سر زمین میں وباء ہے تو وہاں نہ جاؤ اور جب کسی سر زمین میں وبا پڑے اور تم وہاں موجود ہو تو بھاگو بھی نہیں کہا ابن عباس نے کہ اس وقت حضرت عمر ؓ نے اللہ جل جلالہ کی حمد بیان کی اور لوٹ کھڑے ہوئے۔

Yahya related to me from Malik from Ibn Shihab from Abdul Hamid ibn Abd ar-Rahman ibn Zayd ibn al-Khattab from Abdullah ibn Abdullah ibn al-Harith ibn Nawfal from Abdullah ibn Abbas that Umar ibn al-Khattab set out for ash Sham and when he was at Sargh, near Tabuk, the commanders of the army, Abu Ubayda ibn al-Jarrah and his companions, met him and told him that the plague had broken out in ash-Sham. Ibn Abbas (RA) said, "Umar ibn al-Khattab said, all the first Muhajir unto me. He assembled them and asked them for advice, informing them that the plague had broken out in ash Sham. They disagreed. Some said, You have set out for something, and we do not think that you should leave it. Others said, You have the companions of the Prophet, may Allah bless him and grant him peace, and the rest of the people with you, and we do not think that you should send them towards this plague. Umar said, Leave me. Then he said, Summon the Ansar to me. They were summoned and he asked them for advice. They acted as the Muhajirun had and disagreed as they had disagreed. He said, Leave me. "Then he said, Summon to me whoever is here of the aged men of Quraysh from the Muhajirun of the conquest. He summoned them and not one of them differed. They said, We think that you should withdraw the people and not send them towards the plague. Umar called out to the people, I am leaving by camel in the morning, so they set out. Abu Ubayda said, Is it flight from the decree of Allah? Umar said, Better that someone other than you had said it, Abu Ubayda. Yes. We flee from the decree of Allah to the decree of Allah. What would you think if these camels had gone down into a valley which had two slopes, one of them fertile, and the other barren. If you pastured in the fertile part, wouldnt you pasture them by the decree of Allah? If you pastured them in the barren part, wouldnt you pasture them by the decree of Allah? Abd ar-Rahman ibn Awf arrived and he had been off doing something and he said, I have some knowledge of this. I heard the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, say, "If you hear about it in a land, do not go forward to it. If it comes upon a land and you are in it, then do not depart in flight from it." Umar praised Allah and then set off."

1530Mauwatta Imam Malik

طاعون کا بیان

عَنْ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ عَنْ أَبِيهِ أَنَّهُ سَمِعَهُ يَسْأَلُ أُسَامَةَ بْنَ زَيْدٍ مَا سَمِعْتَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الطَّاعُونِ فَقَالَ أُسَامَةُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الطَّاعُونُ رِجْزٌ أُرْسِلَ عَلَی طَائِفَةٍ مِنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ أَوْ عَلَی مَنْ کَانَ قَبْلَکُمْ فَإِذَا سَمِعْتُمْ بِهِ بِأَرْضٍ فَلَا تَدْخُلُوا عَلَيْهِ وَإِذَا وَقَعَ بِأَرْضٍ وَأَنْتُمْ بِهَا فَلَا تَخْرُجُوا فِرَارًا مِنْهُ قَالَ مَالِک قَالَ أَبُو النَّضْرِ لَا يُخْرِجُکُمْ إِلَّا فِرَارٌ مِنْهُ

سعد بن ابی وقاص نے اسامہ بن زید سے پوچھا تم نے کیا سنا ہے رسول اللہ ﷺ سے طاعون کے بارے میں انہوں نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ طاعون ایک عذاب ہے جو بھیجا گیا تھا بنی اسرائیل کے گروہ پر یا یہ کہا کہ ان پر جو تم سے پہلے تھے تو جب سنو تم کسی زمین میں طاعون ہے تو وہاں نہ جاؤ اور جب کسی زمین میں طاعون پڑے اور تم وہاں موجود ہو تو بھاگو بھی نہیں ابوالنصر نے کہا نہ نکلو بھاگنے کے قصد سے۔

Yahya related to me from Malik from Muhammad ibn al-Munkadir and from Salim ibn Abin-Nadr, the mawla of Umar ibn Ubaydullah that Amir ibn Sad ibn Abi Waqqas heard his father ask Usama ibn Zayd, "Have you heard anything from the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, about the plague?" Usama said, "The Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, said, The plague is a punishment that was sent down on a party of the Banu Israil or whoever was before them. When you hear of it in a land, do not enter it. If it comes upon a land and you are in it, do not depart in flight from it. " Malik said that Abun-Nadr said, "That is, do not depart with no other intention but flight."

1531Mauwatta Imam Malik

طاعون کا بیان

عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَامِرِ بْنِ رَبِيعَةَ أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ خَرَجَ إِلَی الشَّامِ فَلَمَّا جَائَ سَرْغَ بَلَغَهُ أَنَّ الْوَبَأَ قَدْ وَقَعَ بِالشَّامِ فَأَخْبَرَهُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِذَا سَمِعْتُمْ بِهِ بِأَرْضٍ فَلَا تَقْدَمُوا عَلَيْهِ وَإِذَا وَقَعَ بِأَرْضٍ وَأَنْتُمْ بِهَا فَلَا تَخْرُجُوا فِرَارًا مِنْهُ فَرَجَعَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ مِنْ سَرْغَ عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ إِنَّمَا رَجَعَ بِالنَّاسِ مِنْ سَرْغَ عَنْ حَدِيثِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ عَنْ مَالِک أَنَّهُ قَالَ بَلَغَنِي أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ قَالَ لَبَيْتٌ بِرُکْبَةَ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ عَشَرَةِ أَبْيَاتٍ بِالشَّامِ

عبداللہ بن عامر بن ربیعہ سے روایت ہے کہ حضرت عمر بن خطاب شام کی طرف نکلے جب سرع میں پہنچے ان کو خبر ملی شام میں وبا پڑی ہے تو عبدالرحمن بن عوف نے ان سے کہا رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جب کسی زمین میں سنو کہ وبا ہے تو وہاں نہ جاؤ اور جب وبا پڑے اس زمین میں جس میں تم ہو تو اس سے نکل نہ بھاگو یہ سن کر حضرت عمر سرغ سے لوٹ آئے۔ سالم بن عبداللہ سے روایت ہے کہ حضرت عمر سرغ سے لوٹ آئے عبدالرحمن بن عوف کی حدیث سن کر امام مالک کو پہنچا کہ حضرت عمر ؓ نے فرمایا کہ ایک گھر رکبہ میں (ایک مقام ہے درمیان میں عمرہ اور ذات عرق کے) پسند ہے مجھ کو شام میں دس گھروں سے۔

Yahya related to me from Malik from Ibn Shihab from Abdullah ibn Amir ibn Rabia that Umar ibn al-Khattab went out to ash-Sham. When he came to Sargh, near Tabuk, he heard that the plague had broken out in ash-Sham. Abd ar-Rahman ibn Awf told him that the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, said, "If you hear that a land has a plague in it, do not go forward to it. If it comes upon a land which you are in, do not depart in flight from it." Umar ibn al-Khattab came back from Sargh.

1532Mauwatta Imam Malik

تقدیر میں گفتگوں کی ممانعت

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ تَحَاجَّ آدَمُ وَمُوسَی فَحَجَّ آدَمُ مُوسَی قَالَ لَهُ مُوسَی أَنْتَ آدَمُ الَّذِي أَغْوَيْتَ النَّاسَ وَأَخْرَجْتَهُمْ مِنْ الْجَنَّةِ فَقَالَ لَهُ آدَمُ أَنْتَ مُوسَی الَّذِي أَعْطَاهُ اللَّهُ عِلْمَ کُلِّ شَيْئٍ وَاصْطَفَاهُ عَلَی النَّاسِ بِرِسَالَتِهِ قَالَ نَعَمْ قَالَ أَفَتَلُومُنِي عَلَی أَمْرٍ قَدْ قُدِّرَ عَلَيَّ قَبْلَ أَنْ أُخْلَقَ

ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ بحث کی آدم اور موسیٰ علیہما السلام نے تو غالب ہوئے آدم موسیٰ پر موسیٰ نے کہا تو وہی آدم ہے کہ گمراہ کیا تو نے لوگوں کو اور نکالا ان کو جنت سے آدم نے کہا کہ تو وہی موسیٰ ہے کہ اللہ نے تجھے علم دیا ہر چیز کا اور برگزیدہ کیا رسالت سے انہوں نے کہا ہاں پھر آدم نے کہا باوجود اس کے تو مجھے ملامت کرتا ہے ایسے کام پر جو میری تقدیر میں لکھا جا چکا تھا قبل میرے پیدا ہونے کے۔

Yahya related to me from Malik from Abuz-Zinad from al-Araj from Abu Hurayra that the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, said, "Adam and Musa argued and Adam got the better of Musa. Musa rebuked Adam, You are Adam who led people astray and brought them out of the Garden. Adam said to him, You are Musa to whom Allah gave knowledge of everything and whom he chose above people with His message. He said, Yes. He said, Do you then censure me for a matter which was decreed for me before I was created? "

1533Mauwatta Imam Malik

تقدیر میں گفتگوں کی ممانعت

عَنْ مُسْلِمِ بْنِ يَسَارٍ الْجُهَنِيِّ أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ سُئِلَ عَنْ هَذِهِ الْآيَةِ وَإِذْ أَخَذَ رَبُّکَ مِنْ بَنِي آدَمَ مِنْ ظُهُورِهِمْ ذُرِّيَّتَهُمْ وَأَشْهَدَهُمْ عَلَی أَنْفُسِهِمْ أَلَسْتُ بِرَبِّکُمْ قَالُوا بَلَی شَهِدْنَا أَنْ تَقُولُوا يَوْمَ الْقِيَامَةِ إِنَّا کُنَّا عَنْ هَذَا غَافِلِينَ فَقَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُسْأَلُ عَنْهَا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ اللَّهَ تَبَارَکَ وَتَعَالَی خَلَقَ آدَمَ ثُمَّ مَسَحَ ظَهْرَهُ بِيَمِينِهِ فَاسْتَخْرَجَ مِنْهُ ذُرِّيَّةً فَقَالَ خَلَقْتُ هَؤُلَائِ لِلْجَنَّةِ وَبِعَمَلِ أَهْلِ الْجَنَّةِ يَعْمَلُونَ ثُمَّ مَسَحَ ظَهْرَهُ فَاسْتَخْرَجَ مِنْهُ ذُرِّيَّةً فَقَالَ خَلَقْتُ هَؤُلَائِ لِلنَّارِ وَبِعَمَلِ أَهْلِ النَّارِ يَعْمَلُونَ فَقَالَ رَجُلٌ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَفِيمَ الْعَمَلُ قَالَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ اللَّهَ إِذَا خَلَقَ الْعَبْدَ لِلْجَنَّةِ اسْتَعْمَلَهُ بِعَمَلِ أَهْلِ الْجَنَّةِ حَتَّی يَمُوتَ عَلَی عَمَلٍ مِنْ أَعْمَالِ أَهْلِ الْجَنَّةِ فَيُدْخِلُهُ رَبُّهُ الْجَنَّةَ وَإِذَا خَلَقَ الْعَبْدَ لِلنَّارِ اسْتَعْمَلَهُ بِعَمَلِ أَهْلِ النَّارِ حَتَّی يَمُوتَ عَلَی عَمَلٍ مِنْ أَعْمَالِ أَهْلِ النَّارِ فَيُدْخِلُهُ رَبُّهُ النَّارَ عَنْ مَالِک أَنَّهُ بَلَغَهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ تَرَکْتُ فِيکُمْ أَمْرَيْنِ لَنْ تَضِلُّوا مَا تَمَسَّکْتُمْ بِهِمَا کِتَابَ اللَّهِ وَسُنَّةَ نَبِيِّهِ

مسلم بن یسار جہنی سے روایت ہے کہ حضرت عمر ؓ سے سوال ہوا اس آیت کے متعلق یعنی یاد کر اس وقت کو جب تیرے پروردگار نے آدم کی پیٹھ سے ان کی تمام اولاد کو نکالا اور ان کو گواہ کیا ان پر اس بات کا کیا میں نہیں ہوں پروردگار تمہارا، بولے کیوں نہیں تو پروردگار ہے ہمارا، ہم نے اس واسطے گواہ کیا کہ کہیں ایسا نہ کہو تم قیامت کے روز کہ ہم تو اس سے غافل تھے حضرت عمر ؓ نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ سے بھی اس آیت کی تفسیر کا سوال ہوا آپ ﷺ نے فرمایا اللہ جل جلالہ نے آدم کو پیدا کیا پھر ان میں اپنا داہنا ہاتھ پھیرا اور اولاد نکالی اور فرمایا میں نے ان کو جنت کے لئے پیدا کیا اور یہ لوگ جنیتوں کے کام کریں گے پھر بایاں ہاتھ پھیرا ان کی پیٹھ پر اور اولاد نکالی فرمایا میں نے ان کو جہنم کے لئے پیدا کیا اور یہ جہنموں کے کام کریں گے ایک شخص بولا یا رسول اللہ ﷺ پھر عمل کرنے سے کیا فائدہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جب پیدا کرتا ہے کسی بندے کو جنت کے واسطے تو اس سے جنیتوں کے کام کراتا ہے اور موت کے وقت بھی وہ نیک عمل کرکے مرتا ہے تو اللہ جل جلالہ اسے جنت میں داخل کرتا ہے اور جب کسی بندے کو جہنم کے لئے پیدا کرتا ہے تو اس سے جہنیموں کے کام کراتا ہے یہاں تک کہ موت بھی اسے برے کام پر آتی ہے تو اسے جہنم میں داخل کرتا ہے۔ امام مالک کو پہنچا کہ فرمایا رسول اللہ ﷺ نے کہ چھوڑے جاتا ہوں میں تم میں دو چیزوں کو نہیں گمراہ ہو گے جب تک پکڑے رہو گے ان کو، کتاب اللہ اور اس کے رسول کی سنت۔

Yahya related to me from Malik from Zayd ibn Abi Unaysa that Abdul Hamid ibn Abd ar-Rahman ibn Zayd ibn al-Khattab informed him from Muslim ibn Yasar al-Juhani that Umar ibn al-Khattab was asked about this ayat - "When your Lord took their progeny from the Banu Adam from their backs and made them testify against themselves. Am I not your Lord? They said, Yes, we bear witness Lest you should say on the Day of Rising, We were heedless of that." (Sura 7 ayat 172) Umar ibn al-Khattab said, "I heard the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, being asked about it. The Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, said, Allah, the Blessed, the Exalted, created Adam. Then He stroked his back with His right hand, and progeny issued from it. He said, "I created these for the Garden and they will act with the behaviour of the people of the Garden." Then He stroked his back again and brought forth progeny from him. He said, "I created these for the Fire and they will act with the behaviour of the people of the Fire." A man said, Messenger of Allah! Then of what value are deeds? The Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, answered, When Allah creates a slave for the Garden, he makes him use the behaviour of the people of the Garden, so that he dies on one of the actions of the people of the Garden and by it He brings him into the Garden. When He creates a slave for the Fire, He makes him use the behaviour of the people of the Fire, so that he dies on one of the actions of the people of the Fire, and by it, He brings him into the Fire. "

1534Mauwatta Imam Malik

تقدیر میں گفتگوں کی ممانعت

عَنْ طَاوُسٍ الْيَمَانِيِّ أَنَّهُ قَالَ أَدْرَکْتُ نَاسًا مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُونَ کُلُّ شَيْئٍ بِقَدَرٍ قَالَ طَاوُسٌ وَسَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کُلُّ شَيْئٍ بِقَدَرٍ حَتَّی الْعَجْزِ وَالْکَيْسِ أَوْ الْکَيْسِ وَالْعَجْزِ

طاؤس الیمانی سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا میں نے چند صحابہ کو پایا کہتے تھے کہ ہر چیز تقدیر سے ہے طاؤس نے کہا میں نے عبداللہ بن عمر سے سنا کہتے تھے کہ فرمایا رسول اللہ ﷺ نے کہ ہر چیز تقدیر سے ہے یہاں تک کہ عاجزی اور ہوشیاری بھی۔

Yahya related to me from Malik from Ziyad ibn Sad from Amr ibn Muslim that Tawus al-Yamani said, "I found some of the companions of the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, saying Everything is by decree. " Tawus added, "I heard Abdullah ibn Umar say that The Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace. said, Everything is by decree - even incapacity and ability, (or ability and incapacity)."

1535Mauwatta Imam Malik

تقدیر میں گفتگوں کی ممانعت

عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ أَنَّهُ قَالَ سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ الزُّبَيْرِ يَقُولُ فِي خُطْبَتِهِ إِنَّ اللَّهَ هُوَ الْهَادِي وَالْفَاتِنُ

عمرو بن دینار سے روایت ہے کہ میں نے عبداللہ بن زبیر سے سنا خطبہ میں فرماتے تھے کہ اللہ ہی ہدایت کرنے والا اور گمراہ کرنے والا ہے۔

Malik related to me from Ziyad ibn Sad that Amr ibn Dinar said, "I heard Abdullah ibn az-Zubayr say in a khutba, Allah - He is the Guider and the One Who Tempts Away. "

1536Mauwatta Imam Malik

تقدیر میں گفتگوں کی ممانعت

عَنْ عَمِّهِ أَبِي سُهَيْلِ بْنِ مَالِکٍ أَنَّهُ قَالَ کُنْتُ أَسِيرُ مَعَ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ فَقَالَ مَا رَأْيُکَ فِي هَؤُلَائِ الْقَدَرِيَّةِ فَقُلْتُ رَأْيِي أَنْ تَسْتَتِيبَهُمْ فَإِنْ تَابُوا وَإِلَّا عَرَضْتَهُمْ عَلَی السَّيْفِ فَقَالَ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ وَذَلِکَ رَأْيِي قَالَ مَالِک وَذَلِکَ رَأْيِي

ابی سہیل بن مالک عمر بن عبدالعزیز کے ساتھ جا رہے تھے انہوں نے پوچھا ابوسہیل سے کہ تمہاری کیا رائے ہے قدریہ کے بارے میں ابوسہیل نے کہا میری رائے یہ ہے کہ ان سے توبہ کراؤ توبہ کرلیں تو بہتر، نہیں تو قتل کئے جائیں عمر بن عبدالعزیز نے کہا میری رائے بھی یہی ہے مالک نے کہا میری بھی یہی رائے ہے ان لوگوں کے بارے میں۔

Yahya related to me from Malik that his paternal uncle, Abu Suhayl ibn Malik said, "I was a prisoner with Umar ibn Abdul Aziz. He said, What do you think about these Qadariyya (fatalists)? I said, My opinion is that one should ask them to turn from wrong action, if they will do so. If not, subject them to the sword. Umar ibn Abdul Aziz said, That is my opinion. Malik added, "That is my opinion also."

1537Mauwatta Imam Malik

قدر کے بیان میں مختلف حدیثیں

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا تَسْأَلْ الْمَرْأَةُ طَلَاقَ أُخْتِهَا لِتَسْتَفْرِغَ صَحْفَتَهَا وَلِتَنْکِحَ فَإِنَّمَا لَهَا مَا قُدِّرَ لَهَا

ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ فرمایا رسول اللہ ﷺ نے کہ نہ چاہے کوئی عورت طلاق اپنی بہن کی تاکہ خالی کرے پیالہ اس کا بلکہ نکاح کرلے کیونکہ جو اس کے مقدر میں ہے اس کو ملے گا۔

Yahya related to me from Malik from Abuz-Zinad from al-Araj from Abu Hurayra that the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, said, "A woman should not ask for the divorce of her sister to make her plate empty and in order to marry. She has what is decreed for her."

1538Mauwatta Imam Malik

قدر کے بیان میں مختلف حدیثیں

عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ کَعْبٍ الْقُرَظِيِّ قَالَ قَالَ مُعَاوِيَةُ بْنُ أَبِي سُفْيَانَ وَهُوَ عَلَی الْمِنْبَرِ أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّهُ لَا مَانِعَ لِمَا أَعْطَی اللَّهُ وَلَا مُعْطِيَ لِمَا مَنَعَ اللَّهُ وَلَا يَنْفَعُ ذَا الْجَدِّ مِنْهُ الْجَدُّ مَنْ يُرِدْ اللَّهُ بِهِ خَيْرًا يُفَقِّهْهُ فِي الدِّينِ ثُمَّ قَالَ مُعَاوِيَةُ سَمِعْتُ هَؤُلَائِ الْکَلِمَاتِ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَی هَذِهِ الْأَعْوَادِ و حَدَّثَنِي يَحْيَى عَنْ مَالِك أَنَّهُ بَلَغَهُ أَنَّهُ كَانَ يُقَالُ الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي خَلَقَ كُلَّ شَيْءٍ كَمَا يَنْبَغِي الَّذِي لَا يَعْجَلُ شَيْءٌ أَنَاهُ وَقَدَّرَهُ حَسْبِيَ اللَّهُ وَكَفَى سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ دَعَا لَيْسَ وَرَاءَ اللَّهِ مَرْمَى و حَدَّثَنِي عَنْ مَالِك أَنَّهُ بَلَغَهُ أَنَّهُ كَانَ يُقَالُ إِنَّ أَحَدًا لَنْ يَمُوتَ حَتَّى يَسْتَكْمِلَ رِزْقَهُ فَأَجْمِلُوا فِي الطَّلَبِ

محمد بن کعب قرظی سے روایت ہے کہ معاویہ بن ابی سفیان نے منبر پر کہا اے لوگوں جو اللہ جل جلالہ دے اس کو کوئی روکنے والا نہیں ہے اور جو نہ دے اس کو کوئی دینے والا نہیں ہے اور کسی طاقت والے کی طاقت کام نہیں آتی جس شخص کو اللہ بھلائی پہنچانا چاہتا ہے اس کو دین میں سمجھ دیتا ہے اور علم فقہ دیتا ہے پھر کہا معاویہ نے میں نے ان کلمات کو رسول اللہ ﷺ سے سنا انہیں لکڑیوں پر۔ امام مالک سے روایت ہے کہ پہلے زمانے میں لوگ یوں کہا کرتے تھے کہ سب خوبیاں اس اللہ کی ہیں جس نے پیدا کیا عرش کو جیسے چاہے جو وقت مقرر کردیا ہے اس سے پہلے کوئی چیز نہیں ہوسکتی کافی ہے مجھ کو اللہ اور کافی ہے ایسا کافی ہے کہ سنتا ہے اللہ جو اس کو پکارے اللہ کے سوا کوئی شخص نہیں جس سے دعا کیا جائے۔ امام مالک کو پہنچا کہ پہلے زمانے میں یوں کہا جاتا تھا کہ کوئی آدمی نہیں مرے گا جب تک کہ اس کا رزق پورا نہ ہو پس اختصار کرو طلب معاش میں۔

Yahya related to me from Malik from Yazid ibn Ziyad that Muhammad ibn Kab al-Quradhi said, Muawiya ibn Abi Sufyan said from the mimbar, O people! Nothing keeps away what Allah gives and nothing gives what Allah keeps away. The earnestness of the earnest one does not profit him. When Allah desires good for him, he gives him understanding in the deen. Then Muawiya said, I heard these words from the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, on these blocks of wood. "

1539Mauwatta Imam Malik

خوش خلقی کے بیان میں

بَاب مَا جَاءَ فِي حُسْنِ الْخُلُقِ و حَدَّثَنِي عَنْ مَالِك أَنَّ مُعَاذَ بْنَ جَبَلٍ قَالَ آخِرُ مَا أَوْصَانِي بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ وَضَعْتُ رِجْلِي فِي الْغَرْزِ أَنْ قَالَ أَحْسِنْ خُلُقَكَ لِلنَّاسِ يَا مُعَاذُ بْنَ جَبَلٍ

معاذ بن جبل سے روایت ہے کہ آخری وصیت جو رسول اللہ ﷺ نے مجھ کو کی جب میں رکاب میں پاؤں رکھنے لگا یہ تھی کہ اے معاذ خوش خلقی کر لوگوں سے۔

Yahya related to me from Malik that Muadh ibn Jabal said, "The last advice the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, gave me when I put my foot in the stirrup was that he said, Make your character good for the people, Muadh ibn Jabal! "

1540Mauwatta Imam Malik

خوش خلقی کے بیان میں

عَنْ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهَا قَالَتْ مَا خُيِّرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي أَمْرَيْنِ قَطُّ إِلَّا أَخَذَ أَيْسَرَهُمَا مَا لَمْ يَکُنْ إِثْمًا فَإِنْ کَانَ إِثْمًا کَانَ أَبْعَدَ النَّاسِ مِنْهُ وَمَا انْتَقَمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِنَفْسِهِ إِلَّا أَنْ تُنْتَهَکَ حُرْمَةُ اللَّهِ فَيَنْتَقِمُ لِلَّهِ بِهَا

حضرت عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ کو جب دنیا کے دو کاموں میں اختیار ہوا تو آپ نے آسان امر کو اختیار کیا بشرطیکہ اس میں گناہ نہ ہو اگر گناہ ہوتا تو سب سے زیادہ آپ اس سے پرہیز کرتے اور رسول اللہ ﷺ اپنی ذات کے واسطے کسی سے بدلہ نہیں لیتے تھے مگر جب اللہ کی حرمت میں خلل پڑے تو اس وقت بدلہ لیتے تھے اللہ کے واسطے۔

Yahya related to me from Malik from Ibn Shihab from Urwa ibn az-Zubayr that Aisha, the wife of the Prophet, may Allah bless him and grant him peace, said, "The Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, did not have to choose between two matters, but that he chose the easier of them as long as it was not a wrong action. If it was a wrong action, he was the furthest of people from it. The Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, did not take revenge for himself unless the limits of Allah were violated. Then he took revenge for it for Allah."