انس بن مالک ؓ کہتے ہیں کہ جنگ احد کے دن جب رسول اللہ ﷺ کے سامنے کے چار دانتوں میں سے ایک دانت ٹوٹ گیا، اور سر زخمی ہوگیا، تو خون آپ کے چہرہ مبارک پر بہنے لگا، آپ ﷺ خون کو اپنے چہرہ سے پونچھتے جاتے تھے اور فرماتے جاتے تھے: وہ قوم کیسے کامیاب ہوسکتی ہے جس نے اپنے نبی کے چہرے کو خون سے رنگ دیا ہو، حالانکہ وہ انہیں اللہ کی طرف دعوت دے رہا تھا، تو اس وقت اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی: ليس لک من الأمر شيء اے نبی! آپ کو اس معاملے میں کچھ اختیار نہیں ہے (سورة آل عمران: 128) ۔
It was narrated that Anas bin Malik (RA) said: On the Day of Uhud, a molar of the Messenger of Allah ﷺ was broken and he was wounded. Blood started pouring down his face, and he started to wipe his face and say: "How can any people prosper if they soak the face of their Prophet ﷺ with blood when he is calling them to Allah?" Then Allah revealed: "Not for you is the declsion." (Sahih)
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ: (تحفة الأشراف: ٧٢٥)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/الجہاد ٣٦ (١٧٩١)، سنن الترمذی/التفسیر ٤ (٣٠٠٣)، مسند احمد (٣/١١٣) (صحیح )
انس ؓ کہتے ہیں کہ ایک دن جبرائیل (علیہ السلام) رسول اللہ ﷺ کے پاس آئے، اس وقت آپ غمگین بیٹھے ہوئے تھے، اور لہولہان تھے، اہل مکہ میں سے کچھ لوگوں نے آپ کو خشت زنی کر کے لہولہان کردیا تھا، انہوں نے کہا: آپ کو کیا ہوگیا؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا: ان لوگوں نے میرے ساتھ یہ سلوک کیا ہے ، جبرائیل (علیہ السلام) نے عرض کیا: آپ چاہتے ہیں کہ میں آپ کو کوئی نشانی دکھاؤں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ہاں دکھائیے ، پھر جبرائیل (علیہ السلام) نے وادی کے پیچھے ایک درخت کی طرف دیکھا، اور کہا: آپ اس درخت کو بلائیے، تو آپ ﷺ نے اسے آواز دی، وہ آ کر آپ کے سامنے کھڑا ہوگیا، پھر انہوں نے کہا: آپ اس سے کہیے کہ وہ واپس جائے، آپ ﷺ نے اسے واپس جانے کو کہا، تو وہ اپنی جگہ چلا گیا، (یہ دیکھ کر) رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: میرے لیے یہ نشانی (معجزہ) ہی کافی ہے ۔
It was narrated that Anas said: "One day, Jibril, came to the Messenger of Allah ﷺ when he was sitting in a sorrowful state with his face soaked with blood,because some of the people of Makkah had struck him. He said: What is the matter with you? He said: These people did such and such to me.
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف (٩٢٥، ومصباح الزجاجة: ١٤١٩)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٣/١١٣)، سنن الدارمی/المقدمة ٤ (٢٣) (صحیح )
حذیفہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: تمام مسلمانوں کی تعداد شمار کر کے مجھے بتاؤ ، ہم نے عرض کیا: اللہ کے رسول! کیا آپ ہم پر (اب بھی دشمن کی طرف سے) خطرہ محسوس کرتے ہیں، جب کہ اب ہماری تعداد چھ اور سات سو کے درمیان ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: تم لوگ نہیں جانتے شاید کہ تم آزمائے جاؤ ۔ حذیفہ ؓ کہتے ہیں: تو واقعی ہم آزمائے گئے، یہاں تک کہ ہم میں سے اگر کوئی نماز بھی پڑھتا تو چھپ کر پڑھتا۔
It was narrated from Hudhaifah that the Messenger of Allah ﷺ said: "Count for me all those who have uttered (the words of) Islam." We said: "O Messenger of Allah, do you fear for us when we number between six and seven hundred?" The Messenger of Allah ﷺ said: "You do not know, perhaps you will be tested." (Sahih) He (the narrator) said: "And we were tested, until a man among us Would only pray in secret."
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الجہاد ١٨١ (٣٠٦٠، ٣٠٦١)، صحیح مسلم/الإیمان ٦٧ (١٤٩)، (تحفة الأشراف: ٣٣٣٨)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٥/٣٨٤) (صحیح )
ابی بن کعب ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے معراج کی رات ایک خوشبو محسوس کی تو آپ ﷺ نے فرمایا: جبرائیل! یہ کیسی خوشبو ہے ؟، انہوں نے کہا: یہ اس عورت کی قبر کی خوشبو ہے جو فرعون کی بیٹی کو کنگھی کرتی تھی، اور اس کے دونوں بیٹوں اور شوہر کے قبر کی خوشبو ہے، (جنہیں ایمان لانے کی وجہ سے فرعون نے قتل کردیا تھا) اور ان کے قصے کی ابتداء اس طرح ہے کہ خضر بنی اسرائیل کے شریف لوگوں میں تھے، ان کا گزر ایک (راہب) درویش کے عبادت خانے سے ہوتا تو وہ عابد راہب اوپر سے ان کو جھانکتا، اور ان کو اسلام کی تعلیم دیتا، آخر کار جب خضر جوان ہوئے تو ان کے والد نے ایک عورت سے ان کا نکاح کردیا، خضر نے اس عورت کو اسلام کی تعلیم دی، اور اس سے عہد لے لیا کہ اس بات سے کسی کو باخبر مت کرنا، خضر عورتوں کے قریب نہیں جاتے تھے، آخر انہوں نے اس عورت کو طلاق دے دی، اس کے بعد ان کے والد نے ان کا نکاح دوسری عورت سے کردیا، خضر نے اس سے بھی نہ بتانے کا عہد لے کر اسے دین کی تعلیم دی، لیکن ان میں سے ایک عورت نے اس راز کو چھپالیا، اور دوسری نے ظاہر کردیا (کہ یہ دین کی تعلیم اسے خضر نے سکھائی ہے، فرعون نے ان کی گرفتاری کا حکم دیا یہ سنتے ہی) وہ فرار ہو کر سمندر کے ایک جزیرہ میں چھپ گئے، وہاں دو شخص لکڑیاں چننے کے لیے آئے، اور ان دونوں نے خضر کو دیکھا، ان میں سے بھی ایک نے تو ان کا حال پوشیدہ رکھا، اور دوسرے نے ظاہر کردیا اور کہا: میں نے خضر کو فلاں جزیرے میں دیکھا ہے، لوگوں نے اس سے پوچھا کہ کیا تمہارے ساتھ اور کسی شخص نے دیکھا ہے؟ اس نے کہا: فلاں شخص نے بھی دیکھا ہے، جب اس شخص سے سوال کیا گیا تو اس نے چھپایا، اور ان کا طریقہ یہ تھا کہ جو جھوٹ بولے، اسے قتل کردیا جائے، الغرض اس شخص نے اس عورت سے نکاح کرلیا، جس نے اپنا دین چھپایا تھا، (اور خضر کا نام نہیں بتایا تھا) ، اسی دوران کہ یہ عورت فرعون کی بیٹی کے سر میں کنگھی کر رہی تھی، اتنے میں اس کے ہاتھ سے کنگھی گر پڑی اور اس کی زبان سے بےاختیار نکل گیا کہ فرعون تباہ و برباد ہو (اپنی بےدینی کی وجہ سے) بیٹی نے یہ کلمہ اس کی زبان سے سن کر اسے اپنے باپ کو بتادیا، اور اس عورت کے دو بیٹے تھے، اور ایک شوہر تھا، فرعون نے ان سبھوں کو بلا بھیجا، اور عورت اور اس کے شوہر کو دین اسلام چھوڑ کر اپنے دین میں آنے کے لیے پھسلایا، ان دونوں نے انکار کیا، تو اس نے کہا: میں تم دونوں کو قتل کر دوں گا، ان دونوں نے جواب دیا: اگر تم ہمیں قتل کرنا چاہتے ہو تو ہم پر اتنا احسان کرنا کہ ہمیں ایک ہی قبر میں دفن کردینا، چناچہ فرعون نے ایسا ہی کیا، جب نبی اکرم ﷺ نے اسراء کی رات میں خوشبو محسوس کی، تو آپ ﷺ نے جبرائیل سے پوچھا تو انہوں نے آپ کو بتلایا کہ یہ انہیں لوگوں کی قبر ہے (جس سے یہ خوشبو آرہی ہے) ۔
It was narrated fron Ubayy bin ka`ab that on the night when he P.BU.H was taken on the Night Journey (Isra), the Messenger of Allah ﷺ noticed a good fragrance and said: "O Jibra`il, what is this good fragrance?" He said: "This is the fragrance of the grave of the hairdresser and her two sons and her husband." He said: "That began when Khadir, who was one of the nobles of the Children of Israel, used to pass by a monk in his cell. The monk used to meet him and he taught him Islam. When Khadir reached adolescence, his father married him to a woman. He taught her and made her promise not to teach it to anyone. He used not to touch women, so he divorced her, then his father married him to another woman, and he taught her and made her promise not to teach it to anyone. One of them kept the secret but the other disclosed it, so he fled until he came to an island in the sea. Two men came, gathering firewood, and saw him. One of them kept the secret bu t the other disclosed it and said: I have seen Khadir. It was said: Who else saw him besides you? He said: So andso. (The other man) was questioned but he kept silent. According to their religion, the liar was to be killed. The woman who had kept the secret got married, and while she was combing the hair of Pharaohs daughter, she dropped the comb and said: May Pharaoh perish! (The daughter) told her father about that. The woman had sons a husband. (Pharaoh) sent for them, and tried to make the woman and her husband give up their religion, but they refused, He said:`I am going to kill you.` They said: It would be an act of kindness on your part, if you kill, to us in one grave. So he did that. When the Prophet ﷺ was taken on the Night Journey (Isra`), he noticed a good fragrance and asked Jibril about it and he told him." (Daif)
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٥٠، ومصباح الزجاجة: ١٤٢٠) (ضعیف) (یہ سند ضعیف ہے، اس لئے کہ اس میں سعید بن بشیر ضعیف راوی ہیں )
انس بن مالک ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جتنی بڑی مصیبت ہوتی ہے اتنا ہی بڑا ثواب ہوتا ہے، اور بیشک اللہ تعالیٰ جب کسی قوم سے محبت کرتا ہے تو اسے آزماتا ہے، پھر جو کوئی اس سے راضی و خوش رہے تو وہ اس سے راضی رہتا ہے، اور جو کوئی اس سے خفا ہو تو وہ بھی اس سے خفا ہوجاتا ہے ۔
It was narrated from Anas bin Malik (RA) that the Messenger of Allah ﷺ said: "The greatest reward comes with the greatest trial. When Allah loves a people He tests them. Whoever accepts that wins His pleasure but whoever is discontent with that earns His wrath: (Hasan)
عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: وہ مومن جو لوگوں سے مل جل کر رہتا ہے، اور ان کی ایذاء پر صبر کرتا ہے، تو اس کا ثواب اس مومن سے زیادہ ہے جو لوگوں سے الگ تھلگ رہتا ہے، اور ان کی ایذاء رسانی پر صبر نہیں کرتا ہے ١ ؎۔
It Was narrated from Ibn Umar (RA) that. the Messenger of Allah ﷺ said: "The believer who mixes with people and bears their annoyance with patience will have a greater reward than the believer who does not mix with people and does not put up with their annoyance." (Sahih)
Notes · وضاحت
١ ؎: بلکہ عزلت اور تنہائی میں بسر کرتا ہے، یہ حدیث دلیل ہے ان لوگوں کی جو میل جول کو تنہائی اور گوشہ نشینی سے بہتر جانتے ہیں، بشرطیکہ میل جول کے آداب اور تقاضے کے مطابق زندگی گزارتا ہو، یعنی جمعہ، جماعت، عیدین اور جنازے میں حاضر ہو اور بیمار کی عیادت کرے اور لوگوں کو ایذا نہ دے۔
Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/صفة القیامة ٥٥ (٢٥٠٧)، (تحفة الأشراف: ٨٥٦٥)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٢/٤٣) (صحیح )
انس بن مالک ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جس میں تین باتیں ہوں گی وہ ایمان کا ذائقہ پائے گا، (بندار کی روایت میں ہے کہ وہ ایمان کی حلاوت (مٹھاس) پائے گا) ایک وہ شخص جو کسی سے صرف اللہ کے لیے محبت کرتا ہو، دوسرے وہ جسے اللہ اور اس کا رسول دنیا کی تمام چیزوں سے زیادہ محبوب ہوں، تیسرے وہ شخص جسے اللہ تعالیٰ نے کفر سے نجات دی، اس کے بعد اسے آگ میں ڈالا جانا تو پسند ہو، لیکن کفر کی طرف پلٹ جانا پسند نہ ہو ۔
It was narrated from Arias bin Mâlik that the Messenger of Allah ﷺ said: “There are three things, whoever has them has found the taste of faith (One of the narrators) Bundâr said: ‘The sweetness of faith; When he loves a man and only loves him for the sake of Allah. When Allah and His Messenger are more beloved to him than anything else; and when being thrown into the fire is dearer to him than going back to disbelief after Allah has saved him from it.” (Sahih)
ابو الدرداء ؓ کہتے ہیں کہ میرے خلیل ﷺ نے مجھ کو وصیت کی ہے کہ تم اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی کو شریک مت کرنا اگرچہ تم ٹکڑے ٹکڑے کر دئیے جاؤ، اور جلا دئیے جاؤ، اور فرض نماز کو جان بوجھ کر مت چھوڑنا، کیونکہ جس نے جان بوجھ کر اسے چھوڑا تو اس پر سے اللہ کی پناہ اٹھ گئی، اور تم شراب مت پینا، کیونکہ شراب تمام برائیوں کی کنجی ہے ۔
It was narrated from Abu Dardã’ that my close friend ﷺ advised me: “Do not associate with Allah, even if you are cut and burned. Do not neglect any prescribed prayer deliberately, for whoever neglects it deliberately no longer has the protection of Allah. And do not drink wine, for it is the key to all evil. (Hasan)
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١٠٩٨٦، ومصباح الزجاجة: ١٤٢١) (حسن) (آخری جملہ اس سند سے کتاب الأشربہ میں گزرا ہے )
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: مکر و فریب والے سال آئیں گے، ان میں جھوٹے کو سچا سمجھا جائے گا اور سچے کو جھوٹا، خائن کو امانت دار اور امانت دار کو خائن، اور اس زمانہ میں رويبضة بات کرے گا، آپ ﷺ سے سوال کیا گیا: رويبضة کیا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: حقیر اور کمینہ آدمی، وہ لوگوں کے عام انتظام میں مداخلت کرے گا ۔
It was narrated from Abu Hurairah (RA) that the Messenger of Allah ﷺ said: "There will come to the people years of treachery, when the liar will be regarded as honest, and the honest man will be regarded as a liar; the traitor will be regarded as faithful, and the faithful man will be regarded as a traitor; and the Ruwaibidah will decide matters, It was said: Who are the Ruwaibidah? He said: Vile and base men who control the affairs of the people." (Hasan)
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١٢٩٥٠، ومصباح الزجاجة: ١٤٢٣)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٢/٢٩١) (صحیح) (سند میں ابن قدامہ ضعیف، اور اسحاق بن أبی الفرات مجہول ہیں، لیکن مسند احمد ٢ / ٣٣٨ کے طریق سے تقویت پاکر یہ حسن ہے، اور انس ؓ کی حدیث مسند احمد ٣ /٢٢٠، سے تقویت پاکر صحیح ہے )
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، دنیا اس وقت تک ختم نہ ہوگی جب تک آدمی قبر پر جا کر نہ لوٹے، اور یہ تمنا نہ کرے کہ کاش! اس قبر والے کی جگہ میں دفن ہوتا، اس کا سبب دین و ایمان نہیں ہوگا، بلکہ وہ دنیا کی بلا اور فتنے کی وجہ سے یہ تمنا کرے گا ۔
It was narrated from Abu Hurairah (RA) that the Messenger Allah ﷺ said: Whose Hand is my soul, this world will not pass away until a man will pass by a grave, and will roll on it and say: Would that I were in the place of the occupant this grave! And the reason for that will not be any religious motives, rather it will be because of calamity (Sahih)
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الفتن ١٨ (١٥٧)، (تحفة الأشراف: ١٣٣٩٣)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الفتن ٢٢ (٧١١٥)، موطا امام مالک/الجنائز ١٦ (٥٣) (صحیح )
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: تم ایسے چن لیے جاؤ گے جیسے عمدہ کھجوریں ردی کھجوروں میں سے چنی جاتی ہیں، تمہارے نیک لوگ گزر جائیں گے، اور برے لوگ باقی رہ جائیں گے، تو اگر تم سے ہو سکے تو تم بھی مرجانا ۔
It was narrated from Abu Hurairah (RA) that the Messenger of Allah ﷺ said "You will be picked selected (separated am ones, So the best of you will be taken and the worst of you will be left, so die if you can," (Hasan)
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١٤٨٧٨، ومصباح الزجاجة: ١٤٢٤) (صحیح) (سند میں ابو حمید مجہول راوی ہیں، لیکن اصل حدیث رویفع بن ثابت کے شاہد سے تقویت پاکر صحیح ہے، جس کی تصحیح ابن حبان نے کی ہے، آخری جملہ فموتوا إن استطعتم ضعیف ہے، اس لئے کہ اس کا شاہد نہیں ہے )
انس بن مالک ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: دن بہ دن معاملہ سخت ہوتا چلا جائے گا، اور دنیا تباہی کی طرف بڑھتی جائے گی، اور لوگ بخیل ہوتے جائیں گے، اور قیامت بدترین لوگوں پر ہی قائم ہوگی، اور مہدی عیسیٰ بن مریم (علیہ السلام) کے علاوہ کوئی نہیں ہے ۔
It was narrated from Anas bin Malik (RA) that the Messenger of Allah ﷺ said: "Adhering to religion will only become harder and Worldly affairs will only becomemore difficult, and people only become more stingy, and the Hour will only come upon the worst of people, and the only Mahdi (after Muhammad is Eisa bin Maryam." (Daif)
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٥٤١، ومصباح الزجاجة: ١٤٢٥) (ضعیف جدا) (سند میں محمد بن خالد الجندی ضعیف راوی ہیں، اور حسن بصری مدلس ہیں، اور روایت عنعنہ سے کی ہے، لیکن ولا تقوم الساعة إلا على شرار الناس کا جملہ دوسری حدیث سے ثابت ہے )
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: میں اور قیامت دونوں اس طرح بھیجے گئے ہیں ، آپ نے اپنی دونوں انگلیاں ملا کر بتایا ١ ؎۔
It was narrated from Abu Hurairah (RA) that the Messenger of Allah ﷺ said: "I and the Hour have been sent like these two," and he held up his two fingers together. (Sahih)
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی امت محمدیہ کے بعد قیامت تک اور کوئی امت حقہ نہ ہوگی اور اسلام ہی کے خاتمہ پر دنیا کا بھی خاتمہ ہے، اس حدیث سے یہ مقصد نہیں ہے کہ مجھ میں اور قیامت میں فاصلہ نہیں ہے جیسا کہ بعضوں نے خیال کیا اور اپنے خیال کی بناء پر یہ اعتراض کیا کہ آپ ﷺ کو وفات کئے ہوئے چودہ سو برس سے زیادہ گزرے لیکن ابھی تک قیامت نہیں ہوئی اور نہ اس کی کوئی بڑی نشانی ظاہر ہوئی۔
حذیفہ بن اسید ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے ہماری طرف اپنے کمرے سے جھانکا، ہم لوگ آپس میں قیامت کا ذکر کر رہے تھے، تو آپ ﷺ نے فرمایا: جب تک دس نشانیاں ظاہر نہ ہوجائیں گی قیامت قائم نہ ہوگی، جن میں سے دجال، دھواں اور سورج کا پچھم سے نکلنا بھی ہے ١ ؎۔
Hudhaifah bin Asid said: "The Prophet ﷺ looked out at us from a room, when we were talking about the Hour. He said: The Hour will not begin until there are ten signs: Dajjal, (False Christ), the smoke, and the rising of the sun from the west.": (Sahih)
Notes · وضاحت
١ ؎: اس روایت میں صرف تین ہی نشانیاں بیان ہوئی ہیں، یہ حدیث مختصر ہے، پوری روایت حذیفہ ؓ کی ہے جسے مولف دو باب کے بعد بیان کریں گے، اس میں دس نشانیاں مذکور ہیں۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الفتن ١٣ (٢٩٠١)، سنن ابی داود/الملاحم ١٢ (٤٣١١)، سنن الترمذی/الفتن ٢١ (٢١٨٣)، (تحفة الأشراف: ٣٢٩٧)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٤/٦، ٧) (صحیح) (یہ حدیث مکرر ہے، اور بہ تمام و کمال: ٤٠٥٥ نمبر پر آرہی ہے )
عوف بن مالک اشجعی ؓ کہتے ہیں کہ میں رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا، آپ غزوہ تبوک میں چمڑے کے ایک خیمے میں ٹھہرے ہوئے تھے، میں خیمے کے صحن میں بیٹھ گیا، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: عوف! اندر آجاؤ ، میں نے عرض کیا: پورے طور سے، اللہ کے رسول؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ہاں پورے طور سے ، پھر آپ نے فرمایا: عوف! قیامت سے پہلے چھ نشانیاں ہوں گی، انہیں یاد رکھنا، ان میں سے ایک میری موت ہے ، میں یہ سن کر بہت رنجیدہ ہوا، پھر آپ ﷺ نے فرمایا: کہو ایک، دوسری بیت المقدس کی فتح ہے، تیسری ایک بیماری ہے جو تم میں ظاہر ہوگی اس کے ذریعہ اللہ تمہیں اور تمہاری اولاد کو شہید کر دے گا، اور اس کے ذریعہ تمہارے اعمال کو پاک کرے گا، چوتھی تم میں مال کی کثرت ہوگی حتیٰ کہ آدمی کو سو دینار ملیں گے تو وہ اس سے بھی راضی نہ ہوگا، پانچویں تمہارے درمیان ایک فتنہ برپا ہوگا جس سے کوئی گھر باقی نہ رہے گا جس میں وہ نہ پہنچا ہو، چھٹی تمہارے اور اہل روم کے درمیان ایک صلح ہوگی، لیکن پھر وہ لوگ تم سے دغا کریں گے، اور تمہارے مقابلہ کے لیے اسی جھنڈوں کے ساتھ فوج لے کر آئیں گے، ہر جھنڈے کے نیچے بارہ ہزار فوج ہوگی ۔
Awf bin Malik Al-Ashja`i said: “I came to the Messenger of Allah ﷺ during the campaign of Tabuk, when he was in a tent made of leather, so I sat in front of the tent. The Messenger of Allah ﷺ said: ‘Enter, O ‘Awf.’ I said, ‘All of me, O Messenger of Allah? ﷺ ’ He said: “All of you.’ Then he said: ‘O ‘Awf, remember six things (that will occur) before the Hour comes, one of which is my death.’ I was very shocked and saddened at that. He said: ‘Count that as the first. Then (will come) the conquest of Baitul Maqdis (Jerusalem); then a disease which will appear among you and cause you and your offspring to die as martyrs and will purify your deeds; then there will be (much) wealth among you, so that if a man were to be given one hundred Dinâr he would still be dissatisfied; and there will be tribulation among you that will not leave any Muslim house untouched; then there will be a treaty between you and the Romans, then they will betray you and march against you with eighty banners, under each of which will be twelve thousand (troops).” (Sahih)
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الجزیة ١٥ (٣١٧٦)، سنن ابی داود/الأدب ٩٢ (٥٠٠٠، ٥٠٠١)، (تحفة الأشراف: ١٠٩١٨)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٦/٢٢) (صحیح )
حذیفہ بن الیمان ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: قیامت قائم نہ ہوگی یہاں تک کہ تم اپنے امام کو قتل کرو گے، اور اپنی تلواریں لے کر باہم لڑو گے، اور تمہارے بدترین لوگ تمہاری دنیا کے مالک بن جائیں گے ۔
It was narrated from Hudhaifah bin Yaman that the Messenger of Allah ﷺ said: "The Hour will not begin until you kill your ruler and fight one another with swords, and your world is inherited by the worst of you." (Hasan)
Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الفتن ٩ (٢١٧٠)، (تحفة الأشراف: ٣٣٦٥)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٥/٣٨٩) (ضعیف) (سند میں عبداللہ بن عبدالرحمن انصاری اور عبدالعزیز دراوردی میں کلام ہے )
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ ایک روز لوگوں کے پاس باہر بیٹھے ہوئے تھے کہ اتنے میں ایک شخص آپ کے پاس آیا، اور اس نے عرض کیا: اللہ کے رسول! قیامت کب قائم ہوگی؟ آپ ﷺ نے فرمایا: جس سے سوال کیا گیا ہے وہ سوال کرنے والے سے زیادہ نہیں جانتا، لیکن میں تمہیں قیامت کی نشانیاں بتاتا ہوں، جب لونڈی اپنی مالکہ کو جنے، تو یہ قیامت کی نشانیوں میں سے ہے، اور جب ننگے پاؤں، ننگے بدن لوگ لوگوں کے سردار بن جائیں، تو یہ بھی اس کی نشانیوں میں سے ہے، اور جب بکریاں چرانے والے عالی شان عمارتوں پر فخر کرنے لگ جائیں، تو یہ بھی اس کی نشانیوں میں ہے، اور قیامت کا علم ان پانچ باتوں میں سے ہے جنہیں اللہ کے علاوہ کوئی نہیں جانتا، پھر رسول اللہ ﷺ نے یہ آیت تلاوت فرمائی: إن الله عنده علم الساعة وينزل الغيث ويعلم ما في الأرحام اللہ ہی کو معلوم ہے کہ قیامت کب ہوگی، وہی بارش نازل کرتا ہے، وہی جانتا ہے کہ ماں کے پیٹ میں کیا ہے (سورة لقمان: 34) ١ ؎۔
It was narrated that Abu Hurairah (RA) said: “The Messenger of Allah ﷺ i came out one day to the people, and a man came to him and said: ‘O Messenger of Allah, when will be Hour be? He said: The one who is asked about it does not know more than the one who is asking. But I will tell you of its portents. When the slave woman gives birth to her mistress, that is one of its portents. When the barefoot and naked become leaders of the people, that is one of its portents.(The Hour) is one of five (things) which no one knows except Allah. Then the Messenger of Allah ﷺ recited the words: "Verily, Allah, With Him (Alone) is the knowledge of the Hour He sends down the rains, and knows that which is in the wombs. (to the end of the Verse)." (Sahih)
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی اللہ تعالیٰ ہی کو قیامت کا وقت معلوم ہے، وہی پانی برساتا ہے، وہی جانتا ہے جو ماں کے پیٹ میں ہے اور کسی آدمی کو معلوم نہیں کل وہ کیا کرے گا اور کہاں مرے گا، بس یہ باتیں غیب مطلق ہیں ان کا علم اللہ تعالیٰ کے علاوہ کسی اور کو نہیں ہے، اور جو کوئی دعوے کرے کہ کسی نبی یا ولی کو علم غیب ہے وہ تو کافر ہے، قرآن کی بہت ساری آیتوں میں صاف صاف یہ مضمون ہے کہ اے محمد ( ﷺ ) کہئے: میں غیب نہیں جانتا۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الإیمان ٣٨ (٥٠)، صحیح مسلم/الإیمان ١ (٩)، سنن النسائی/الإیمان ٦ (٤٩٩٤)، (تحفة الأشراف: ١٤٩٢٩)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٢/٤٢٦) (صحیح) (یہ حدیث نمبر ( ٦٥ ) کا ایک ٹکڑا ہے )
انس بن مالک ؓ کہتے ہیں کہ کیا میں تم سے وہ حدیث نہ بیان کروں جو میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنی ہے، اور میرے بعد تم سے وہ حدیث کوئی بیان کرنے والا نہیں ہوگا، میں نے اسے آپ ہی سے سنا ہے کہ قیامت کی نشانیاں یہ ہیں کہ علم اٹھ جائے گا، جہالت پھیل جائے گی، زنا عام ہوجائے گا، شراب پی جانے لگے گی، مرد کم ہوجائیں گے، عورتیں زیادہ ہوں گی حتیٰ کہ پچاس عورتوں کا قيم (سرپرست و کفیل) ایک مرد ہوگا ١ ؎۔
It was narrated that Anas bin Malik (RA) said: "Shall I not tell you a Hadith that I heard from the Messenger of Allah ﷺ , which no one will tell you after me? I heard it from him (saying): Among the portents of the Hour are that knOWledge will be taken away and ignorance will prevail, illegal sex will become widespread and WIne will be drunk, and men will disappear and women will be left, until there is one man in charge of fifty women." (Sahih)
Notes · وضاحت
١ ؎: اس کی وجہ یہ ہوگی کہ اس وقت لڑائیاں بہت ہوں گی ان لڑائیوں میں مرد مارے جائیں گے اور عورتیں بکثرت باقی رہ جائیں گی۔
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: قیامت اس وقت تک قائم نہ ہوگی جب تک دریائے فرات میں سونے کے پہاڑ نہ ظاہر ہوجائیں، اور لوگ اس پر باہم جنگ کرنے لگیں، حتیٰ کہ دس آدمیوں میں سے نو قتل ہوجائیں گے، اور ایک باقی رہ جائے گا ١ ؎۔
It was narrated from Abu Hurairah (RA) that the Messenger of Allah ﷺ said: "The Hour will not begin until the Euphrates uncovers a mountain of gold and people fight over it, and out of every ten, nine will be killed.": (Daif)
Notes · وضاحت
١ ؎: دوسری روایت میں ہے کہ ہر سو میں سے ننانوے مارے جائیں گے اور ہر شخص کہے گا کہ شاید میں بچ رہوں اور سونے کے اس پہاڑ کو لوں اور لڑے گا، صحیح بخاری کی ایک حدیث ہے کہ جب یہ خزانہ نمودار ہو تو جو وہاں موجود ہو اس میں سے کچھ نہ لے، واضح رہے کہ اس خزانے کے حصول کے لیے بہت قتل و غارت ہوگی، ہر شخص یہی چاہے گا کہ یہ خزانہ اسی کو ملے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١٥٠٩٨، ومصباح الزجاجة: ١٤٢٦)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الفتن ٢٤ (٧١١٩)، صحیح مسلم/الفتن ٨ (٢٨٩٤)، سنن ابی داود/الملاحم ١٣ (٤٣١٣)، سنن الترمذی/صفة الجنة ٢٦ (٢٥٦٩)، مسند احمد (٢/٢٦١، ٣٣٢، ٣٦٠) (حسن صحیح) (من کل عشرة تسعة کا لفظ ضعیف اور شاذ ہے،من کل مئة تسعة وتسعون کا لفظ محفوظ ہے)۔